No Gravatar

یہ ایک لوک کہانی ہے۔ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ایک چور نے کسی گھر میں نقب لگائی۔ واپسی میں کھڑکی سے بھاگ رہا تھا کہ چوکھٹ اکھڑ گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چور نیچے جاگرا اور اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ اگلے دن اس نے قاضی جی کی عدالت میں مقدمہ دائر کردیا کہ یہ تو میری جان لینے کی کوشش کی گئی ہے اور میری ٹانگ بھی ٹوٹ گئی تو اب میں بے روزگار ہوگیا ہوں۔۔۔۔ اس گھر کی مالکہ ایک عورت تھی۔ قاضی نے اس عورت کو عدالت میں بلالیا اور چور کا دکھڑا کہہ سنایا۔ عورت بڑی حیران ہوئی کہ یہ عجیب قاضی ہے۔ دہائی دی کہ قاضی جی! یہ چور ہے۔۔۔ میرے گھر میں چوری کرنے گھسا تھا۔۔۔ اس کو تو سزا ملنی چاہئے۔۔۔ اچھی بات ہے کہ اس کی ٹانگ ٹوٹی۔۔۔ لیکن قاضی بہت اڑیل تھا۔ کہنے لگا کہ سزا تو تمہیں ملے گی کہ بے چارہ چور ٹانگ سے محروم ہوگیا اور ذریعہ معاش سے بھی۔ جب عورت نے اندازہ کیا کہ اس قاضی سے بحث کرنا فضول ہے تو اس نے جان چھڑانے کی ترکیب نکالی۔ کہنے لگی، قاضی جی! اصل قصور وار تو وہ بڑھئی ہے جس نے یہ کھڑکی صحیح سے نہ لگائی۔ اگر وہ ٹھیک سے لگاتا تو چوکھٹ نہ اکھڑتی اور یہ معذور نہ ہوتا۔ بات معقول تھی، قاضی نے فرمان جاری کیا کہ اس بڑھئی کو عدالت میں حاضر کیا جائے۔

بڑھئی پیش ہوا۔۔۔ قاضی نے سارا ماجرا اس کو پیش کیا اور کہا کہ چونکہ تمہاری کام چوری اور نالائقی کی وجہ سے یہ چوکھٹ اکھڑی اور چور کی ٹانگ ٹوٹی اس لیے تمہیں سزا ملے گی۔ بڑھئی بھی بہت رویا، چلایا کہ قاضی صاحب! یہ کیسا انصاف ہے۔ لیکن قاضی جی پر اثر نہ ہوا۔ آخر بڑھئی کو بھی جان بچانے کا بہانہ سوجھا۔ بولا، قاضی صاحب! اصل قصور میرا نہیں بلکہ اس عورت کا ہے جو بے حد بھڑکیلے رنگ کے کپڑے پہنے اس وقت گلی سے گزر رہی تھی جب میں کھڑکی لگارہا تھا۔ اس کے بھڑکیلے کپڑوں کی وجہ سے میری نظر بھٹکی اور کیل غلط ٹھونک دی۔ قاضی نے حکم جاری کیا، اچھا۔۔۔ اس عورت کو تلاش کیا جائے۔۔۔!

ہرکارے دوڑے پھرے۔۔۔ بڑی بھاگ دوڑ کے بعد اس عورت کا سراغ ملا۔ لے کر عدالت پیش ہوئے۔ قاضی نے اس کو سارے معاملہ سے آگاہ کیا اور کہا کہ تیری وجہ سے ایسا ہوا۔ اگر تو نے اتنے بھڑکیلے رنگ کے کپڑے نہ پہنے ہوتے تو نہ بڑھئی کی نظر بہکتی نہ ہاتھ بھٹکتا اور نہ یہ کیل ٹیڑھی ٹھونکتا کہ چور کودا تو چوکھٹ ہی اکھڑ گئی۔ عورت بڑی ہوشیار تھی۔ سارا ماجرا سنا تو سمجھ گئی بہتر یہی ہے کہ اپنے سر سے بلا ہٹا کر دوسرے کے سر پر رکھ دی جائے۔ کہنے لگی، قاضی جی! قصور میرا نہیں، قصور تو اس رنگ ریز (کپڑا رنگنے والے) کا ہے جس نے میرے کپڑوں کو اتنا شوخ رنگ دیا جس سے لوگوں کی نظر بھٹکی۔ سو، حکم ہوا کہ اس رنگ ریز کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

غرض کہ رنگ ریز چلا آیا۔۔۔ سارا معاملہ سنا اور یہ جانا کہ الزام میرے سر آتا ہے لیکن تھا بے وقوف۔ اتنا نہ سمجھ سکا کہ اگر وہ ذرا چالاکی سے الزام کسی اور پر رکھ دے تو اس کی جان چھوٹ جائے گی۔ بے چارہ قاضی کو سمجھاتا رہا کہ یہ شوخ اور بھڑکیلے رنگ تو ہوتے ہیں عورت کے لباس کے لیے ہیں۔ اگر عورت ایسے شوخ کپڑے نہ پہنے گی تو کون پہنے گا۔۔۔ قاضی نے اس کی بات پر کان نہ دھرا اور حکم جاری کردیا کہ اس کو سزائے موت دی جائے۔

بے چارہ رنگ ریز روتا پیٹتا تختہ دار کو چلا۔ اب پھانسی دی جانے لگی تو پتا چلا کہ رنگ ریز کا تو قد ہی بہت بڑا ہے اور پھانسی دینا مشکل۔ معاملہ قاضی کے گوش گزار ہوا۔ قاضی نے کہا اس رنگ ریز کے خاندان سے کسی کو بھی اٹھا لاؤ جس کا قد مناسب ہو اور پھانسی دیدو۔ چنانچہ رنگ ریز کے خاندان سے ایک بندے کو اٹھا لائے اور پھانسی پر چڑھا دیا، یوں قاضی جی کا انصاف پورا ہوا۔

ایسی ہی ایک اور لوک کہانی ہے جس کا انجام ذرا مختلف اور زیادہ دلچسپ ہے۔ آخر میں ہوا یوں ہے کہ جب قاضی نے اس رنگ ریز کے خاندان سے ایک بندے کو پکڑ کر پھانسی دینے کا حکم صادر کیا تو قاضی کی مجلس سے ایک ذی علم بزرگ آگے بڑھے اور ہنسی خوشی کہنے لگے کہ اس شخص کے بجائے وہ پھانسی پر چڑھنا چاہیں گے۔ قاضی حیران ہوا، سبب پوچھا۔ بزرگ نے کہا، یہ ساعت بہت مبارک ہے اور اس گھڑی جو بھی پھانسی پر چڑھا وہ سیدھا جنت میں جائے گا۔ قاضی نے یہ سنا تو کہا کہ پھر آپ کیوں، میں ہی کیوں نہ جاؤں جنت۔۔۔ اور یہ کہہ کر قاضی خود پھانسی پر چڑھ گیا۔ :razz:

۔۔۔۔۔۔
اگر آپ کو اس کہانی سے کوئی سبق حاصل نہیں ہوتا تو یہ نہ سوچئے کہ بے فائدہ وقت برباد کیا۔ امید ہے کہ آپ کو کہانی پڑھتے ہوئے لطف ضرور آیا ہوگا۔

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔