No Gravatar

صاف ستھرے لوگ مت پڑھیں۔ :razz:

ایک آدمی عوامی بیت الخلاء چلا گیا۔ بیٹھا تو دیکھتا ہے کہ سامنے دیوار پر لکھا ہے، دائیں طرف دیکھو۔ دائیں جانب دیکھا تو لکھا تھا کہ بائیں طرف دیکھو۔ بائیں طرف چہرہ کیا تو لکھا نظر آیا کہ پیچھے دیکھو۔ حیرانگی کے عالم میں پیچھے مڑ کر دیکھا تو پیچھے دیوار پر لکھا تھا: ابے یہ ادھر ادھر کیا دیکھ رہا ہے؟ جو کام کرنے آیا ہے وہ کر اور نکل۔۔۔ :razz:

عوامی بیت الخلاء۔۔۔ پبلک ٹوائلٹ۔۔۔ دنیا کے تقریبا سبھی ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ چونکہ یہ عوام کی آسانی کے لیے ہوتے ہیں اس لیے پاکستان میں ان کی تعداد مسلسل گھٹتی چلی جارہی ہے۔ اول تو یہ بہت زیادہ فاصلے پر موجود ہیں، دوم کہ ان کی صفائی ستھرائی کا کوئی خاص خیال نہیں رکھا جاتا اور سوم یہ کہ آہستہ آہستہ ان قدیم یادگاروں میں کمی آرہی ہے۔

اگر آپ پاکستان میں ہیں تو شاید آپ نے عوامی بیت الخلاء کی شکل نہ دیکھی ہو۔ اگر نہیں دیکھی تو اچھی بات ہے۔ میری دعا ہے کہ آئندہ بھی دیکھنے کو نہ ملے۔ ویسے بھی ان کی تعداد تو اب گھٹ ہی رہی ہے اور عام طور سے صرف مساجد کے بیت الخلاء ہی رہ گئے ہیں یا کچھ شاپنگ مالز یا تفریحی مقامات پر۔ یوں اگر راہ چلتے کسی کو “ایمرجنسی” ہو جائے تو اس کے ساتھ پیش آنے والی صورتحال کا اندازہ ہم اور آپ نہیں کرسکتے۔ پھر اس کا ثمر یوں ملتا ہے کہ عمارتوں میں آکر لوگ سیڑھیوں پر غلاظت کرکے فرار ہوجاتے ہیں۔ بھگتنا وہاں کے مکینوں کو پڑتا ہے۔

اگر آپ کا اتفاق کبھی عوامی بیت الخلاء میں جانے کا ہوا ہو تو امید ہے کہ وہ بہت دلچسپ تجربہ رہا ہوگا۔ :smile: چونکہ اسے مختلف طبقات کے لوگ استعمال کرتے ہیں، اس لیے مختلف طبقات کی نمائندگی کرتی آپ کو بہت سی باتوں سے واسطہ پڑے گا۔ بہتر ہوگا کہ آپ خندہ پیشانی سے سب کچھ برداشت کریں۔

بیت الخلاء میں داخل ہوں گے تو چاروں طرف آپ کو مختلف عبارات اور تصاویر بنی نظر آئیں گی۔ اگر آپ ایک شریف انسان ہیں تو میرا مشورہ ہوگا کہ تصاویر کی طرف نظر ہرگز نہ کیجئے اور اگر عبارات پڑھنے سے بھی گریز کریں تو کیا ہی اچھا ہو۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ ایسا نہیں ہوسکتا۔ مجھے تو یہ حیرانی ہے کہ لوگوں کے پاس اتنی فرصت کیسے ہوتی ہے کہ وہ یہاں آکر لکھت پڑھت کرتے ہیں۔۔۔ ایسے پڑھاکو لوگ آپ کو دنیا میں شاید کہیں اور ڈھونڈے سے ہی نظر آئیں۔

یہاں متحدہ قومی مومنٹ کے قائد الطاف حسین کی شان میں لکھے قصیدے بھی پڑھنے کو ملیں گے اور اس کی مخالفت میں لکھی گئی ہجو بھی۔ ایک نے شاعری کرتے ہوئے پٹھانوں کو ماں بہن کی گالی دی تھی، جس کے جواب میں کسی پٹھان بھائی نے مہاجروں کو جی بھر کے گالیوں سے نوازا تھا۔ اور پھر جئے مہاجر اور جئے پٹھان کے نعرے۔۔۔۔ :razz:

یہاں ***** سے رابطہ کے نمبر بھی موجود ہوں گے۔۔۔ ایک عبارت تو بہت دلچسپ تھی۔۔۔ ایک نے ایسا ہی ایک نمبر لکھا تھا اور اس کے نیچے رابطہ کرنے کے اوقات لکھے تھے۔۔۔ اس کے بعد دوسرے نے لکھا تھا کہ نمبر اکثر اوقات بند ملتا ہے، کیا کروں؟ پھر اس کے نیچے شاید پہلے والے نے لکھا تھا کہ فلاں وقت فون کرنا۔۔۔ کافی طویل مکالمے تھے۔۔۔ ملنے کا وقت اور جگہ بھی طے کی تھی۔۔۔ حد ہوتی ہے۔۔۔۔!

لکھنے کو تو بہت کچھ لکھا ہوتا ہے لیکن سب سے زیادہ مشہور عبارت جسے کہا جائے وہ ایک ہی ہے۔۔۔ نہیں۔۔۔ ایک نہیں، دو ہیں۔۔۔ پہلی تو یہ ہے کہ: “کافر کافر، شیعہ کافر” اور دوسری یہ ہے کہ: “جو شیعہ کو کافر کہے وہ خود کافر” چلو جی۔۔۔ قصہ ختم۔۔۔ مٹی پاؤ۔۔۔!

بدقسمتی سے ہمارے ہاں تو بڑی بڑی باتوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے، یہ تو شاید بڑے لوگوں کے لیے ایک چھوٹی سی بات ہے۔ سروے کیا جائے تو اب حکومت کی جانب سے بنے عوامی بیت الخلاء تو برائے نام ہی رہ گئے ہیں۔ اس مقصد کے لیے مسجد کے بیت الخلاء ہی استعمال کیے جاتے ہیں۔۔۔ اب اگر کبھی مسجد تک پہنچنا مشکل ہو یا کسی کو وہاں تین، چار روپے دینا گوارا نہ ہوں تو وہ کیا کرے؟ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو فلیٹ ہوتے ہیں یا ایسی بلڈنگز جہاں لوگوں کی آمد و روفت کم ہو، کچھ غلیظ لوگ وہاں جاکر خاموشی سے گند مچا آتے ہیں۔۔۔

اس کے علاوہ جو ایک اہم مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ خواتین کے لیے ایسی صورتحال میں کافی پریشانی ہوجاتی ہے۔ مسجد کے بیت الخلاء جانے سے وہ کتراتی ہیں اور اس سے ہٹ کر کوئی راہ ملتی نہیں۔

اب اگر میں یہ لکھوں کہ متعلقہ حکام کو چاہئے کہ اس بابت کچھ اقدامات کریں یا عملی قدم اٹھایا جائے تو میرا یہ لکھنا شاید 100 فیصد بے کار ہوگا کیونکہ ایسا نہیں ہونے والا۔ لہٰذا اس تحریر کو یہیں ختم سمجھتے ہیں۔۔۔!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکر ہے کہ یہ تحریر مکمل ہوئی۔۔۔ ایک عرصہ سے ادھوری پڑی تھی۔۔۔ آہ۔۔۔ میں کیا بتاؤں کہ اس تحریر کو لکھنے سے پہلے میں نے صورتحال جاننے کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلے۔۔۔ :lol:

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔