روشن پاکستان
369 views March 12, 2008 | راہبرپاکستان پر تو جیسے پے در پے بحرانوں کی برسات ہورہی ہے۔ ایک بحران ختم ہونے نہیں پاتا کہ کئی نئے بحران منہ کھولے تیار نظر آتے ہیں۔۔۔ آٹے کا۔۔۔ چینی کا۔۔۔ مہنگائی کا۔۔۔ پانی کا۔۔۔ اور وہی سال ہا سال سے چلتا بجلی کا بحران۔۔۔!
اب کے تو کراچی والوں کو ایک نیا تماشہ دیکھنے کو ملا۔ واپڈا نے وفاقی حکومت کی منظوری سے کراچی کو بجلی کی فراہمی ہی بند کردی جس سے پورا شہر بجلی سے محروم ہوگیا۔ واپڈا کا مؤقف تھا کہ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن پر 34 ارب 80 کروڑ روپے واجب الاداء ہیں جن کی ادائیگی کے لیے بارہا یاد دہانی کے باوجود کوئی خاطر خواہ قدم نہیں اٹھایا گیا۔ بعد ازاں، وفاقی حکومت ہی کے کہنے پر رحم کھایا گیا اور کراچی کو بجلی کی فراہمی شروع کردی گئی لیکن چھ مارچ کو تقریبا سارا دن کراچی کے بیشتر علاقے بجلی سے محروم رہے۔
اب واپڈا اور کے۔ای۔ایس۔سی کی جانب سے بے حد لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔ ہر تین یا چار گھنٹے کے بعد تقریبا دو گھنٹے کے لیے بجلی بند کی جاتی ہے جبکہ واپڈا نے لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ تین گھنٹے کرتے ہوئے نوید سنائی ہے کہ بجلی کی ڈیمانڈ بڑھنے پر لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ مزید بڑھا دیا جائے گا۔
ہمیں چونکہ اپنی حکومت کے اس دعوے پر یقین ہے کہ وہ ہر قدم ترقی کی سمت اٹھا رہی ہے اس لیے آنے والے دنوں میں جو صورتحال ہوگی، اس سے ہمارے ملک میں یقینا ترقی کی رفتار میں اضافہ ہوجائے گا۔ لوگوں کو پہلے سے منصوبہ بندی کی عادت پڑجائے گی اور گھروں میں بجلی کی غیر حاضری کے وقت اس طرح کی فہارس مرتب کی جائیں گی کہ جیسے ہی بجلی آئے گی تو ابو کے کپڑے اور بچوں کے یونیفارم پر استری کرنی ہے، واشنگ مشین لگا کر چند خاص خاص ضروری کپڑے دھولینے ہیں، چھوٹی کی قمیض کی سلائی ادھڑ گئی ہے، اس کو سینا ہے، وغیرہ وغیرہ۔۔۔!
گویا پہلے نعرہ لگایا جاتا تھا کہ افففف۔۔۔ بجلی چلی گئی۔۔۔ اور اب نعرہ بلند ہوگا کہ واؤوووو۔۔۔۔! بجلی آگئی۔۔۔ مبارک ہو۔۔۔ شادیانے بجیں گے۔
یقین رکھیں، یہ “روشن پاکستان” کی طرف قدم ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موضوع سے کچھ منسلک یہ بھی گزارش کرنا چاہوں گا کہ چونکہ ماہ ربیع النور ہے، جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا موقع ہے اور اس پر اکثر عاشقان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم چراغاں کرتے ہیں۔ پہلے میں سمجھتا تھا کہ یہ سب بجلی کی چوری سے ہوتا ہے لیکن پچھلے چند سالوں سے جب میں نے معلومات کی تو جانا کہ اکثر تنظیمیں اور افراد استعمال ہونے والی بجلی کا باقاعدہ خرچ ادا کرتے ہیں۔ اس کے باوجود مناسب یہ ہوگا کہ ایسا چراغاں کم سے کم ہو، کیونکہ بھلے ہی آپ پیسہ کیوں نہ دیتے ہوں لیکن بجلی تو ویسے ہی کم ہے۔۔۔ سو، چراغاں کرنا ہے تو برقی قمقموں کے بجائے دیئے وغیرہ جلائے جائیں۔ یہ میری ادنی سی رائے ہے، اس کو مذہبی تناظر میں نہ دیکھا جائے اور خدارا! اب کوئی لڑنا جھگڑنا نہ شروع کردے۔



لیکن سب سے کہا کہ بس تھوڑی تھوڑی مٹھائی کھلاؤ کیونکہ ابھی بہت سے لوگ لائن لگاکر کھڑے ہیں۔ اتنی دیر بعد میرے رشتہ داروں کو ہوش آیا تو وہ آگئے اور کہنے لگے کہ اتنی مٹھائی کھلارہے ہو بچہ کو، بس کرو۔۔۔ لیکن جب کسی نے نہیں سنا تو وہاں سے کسی “اپنے” نے مٹھائی کی پلیٹ ہی اٹھالی۔۔۔ میں نے سکھ کا سانس لیا لیکن یہ وقتی تھا۔ وہ شاید لڑکی کی خالہ تھیں جو مٹھائی کا پورا ڈبہ اٹھا کر لے آئیں اور کہنے لگیں کہ جس نے پلیٹ اٹھاکر کمال کیا ہے، وہ دیکھ لے کہ ہمارے پاس تو پورا ڈبہ ہے۔۔۔ پھر وہی کھیل شروع۔۔۔ کچھ دیر بعد ساس صاحبہ آئیں اور کان میں کہنے لگیں کہ پوری مٹھائی کھانے کے بجائے بس منہ میں رکھ کر ٹشو پیپر پر نکال لو۔۔۔ لیکن مجھے یہ کرنا مناسب نہیں لگا۔ آخر میرے ابو نے کھانا کھلوادیا۔۔۔ تب جاکر میرے گرد رش کم ہوا۔۔۔