مشاہدات
میرے ابو اکثر کہا کرتے ہیں کہ وہ شخص کامیاب ہوتا ہے جس کا مشاہدہ تیز ہو اور وہ اپنے مشاہدات سے سبق حاصل کرے۔ ہر آنکھ والا بے شمار مناظر دیکھتا ہے لیکن ایسے لوگوں کی تعداد زیادہ نہیں ہوتی جو اپنے اردگرد کے حالات و واقعات کو دماغ کی آنکھ سے دیکھ کر انہیں محفوظ کرلیتے ہیں۔
مشاہدات عام طور سے بہت مختصر ہوتے ہیں لیکن ان میں گہرائی بہت ہوتی ہے یا ان کے کئی اہم اور مفید پہلو ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ان پر ایک لمبی چوڑی تحریر لکھی جائے۔
آج میں اپنی بیاض پر ایک نیا زمرہ شامل کر رہا ہوں جس کا نام ہے: “مشاہدات” جس کے تحت میں اپنے مشاہدات تحریر کروں گا اور ہر تحریر کا عنوان وہ تاریخ ہوگی جب میں نے کسی امر کا مشاہدہ کیا۔ مجھے امید ہے کہ یہ سلسلہ بے حد معلوماتی اور مفید ثابت ہوگا۔
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
March 27, 2008 بوقت 3:31 pm
جی ہاں بات تو ٹھیک ہے اب دیکھتے ہیںآپ کہ مشاہدوں سے ہم کیا کچھ سیکھتے ہیں
March 27, 2008 بوقت 4:18 pm
جلدی کیجئے حضور ۔ تاکہ رُخصت سے قبل میں بھی کچھ سیکھ لوں ۔
March 27, 2008 بوقت 5:02 pm
امید ہے اچھی تحریریں دو گے اس میں بھی۔
March 27, 2008 بوقت 8:56 pm
تمہارے والد نے بہت اچھی بات کہی ، اس میں ایک اور بات کا اضافہ کر لو ، جس پر میں عمل کرتا ہوں ۔
جب کوئی مشاہدہ کرو تو اپنے آپ کو اس جگہ پر رکھ کر سوچو کہ اگر یہ سب تمہارے ساتھ ہوتا تو تم کیا محسوس کرتے ۔
یہ ایک ایسا فعل ہے جس پر بہت کم لوگ عمل کرتے ہیں ، اگر سب لوگ اپنے متعلق ایسا سوچنے لگ جائیں تو دنیا جنت بن جائے ۔
March 28, 2008 بوقت 12:39 am
مشاہدے لکھنے کے لئے بلاگ سے زیادہ اچھی جگھ ہے ایک جیبی نوٹ بک۔ کیونکہ جتنا مشاہدہ انسان راستے میں کرتا ہے اس کا نوے فیصدے وہ راستے ہی میں بھلادیتا ہے۔ کام کی جگہوں پر اکثر ہم کافی چیزیں دیکھتے ہیں اور بھلادیتے ہیں۔ نوٹ بک تمہیں وہ یاد رکھنے میں مدد دے گی اور پھر تم انہیں تفصیل سے بلاگ پر نقل کر سکتے ہو۔ یہ سیکھنے کا ایک بہت پرانا نسخہ ہے جو اب تقریبا ناپید ہوچلا ہے۔
March 28, 2008 بوقت 10:25 am
نوائے ادب! جی بالکل۔ امید اچھی ہے مجھے بھی۔
اجمل صاحب! ہمیں تو خود آپ سے سیکھنے کو ملتا ہے۔ آپ کے مشاہدات زندگی کے کئی پہلوؤں سے روشناس کراتے ہیں۔
شاکر بھائی! نیک خواہشات کا شکریہ۔
قدیر! گرانقدر مشورے کا بے حد شکریہ۔ میں اسے گرہ میں باندھنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔
نعمان بھائی! نوٹ بک والا سلسلہ چند بار شروع کیا ہے میں نے لیکن وہ باقاعدگی سے چل نہیں سکا۔ بلاگ بنایا ہی اسی لیے تھا کہ نوٹ بک سے جان چھوٹ جائے۔ ویسے میری جیب میں کاغذ، قلم ہمیشہ رہتا ہے سو جب بھی کوئی بات دیکھتا ہوں یا کچھ خیال آتا ہے تو فورا اسے لکھ لیتا ہوں تاکہ یاد رہے۔ ویسے بھی آج کل میں بہت بھلکڑ ہوگیا ہوں۔۔۔ :sad:
March 29, 2008 بوقت 9:56 am
ایک چائینیز لیڈر کا فرمان ہے ” 100 قدم پیدل چل کر مشاہدات کے ذریعے سیکھنا ایک ہزار کتابیں پڑنے سے بہتر ہے”
اور یہ حقیقت بھی ہےکہ آپ سن کر اور دیکھ کرعملی تجربات کے ذریعے جو کچھ سیکھ سکتے ہیں وہ آپ کالج یونیورسٹی میں نہیں سیکھ سکتے۔
لیکن افسوس ہم اس قیمتی ذریعہ تعلیم سے فائدہ نہیں اٹھاتے ۔
April 1, 2008 بوقت 1:18 pm
خوش آمدید خورشید آزاد۔۔۔! آپ نے میرے بلاگ کو شرف بخشا، اچھا لگا۔ امید ہے، آتے رہیں گے۔