نیا سانچہ
لیں جی۔۔۔ میری بیاض ایک بار پھر نئے سانچے سے مزین ہے۔ عجیب بے چین روح پائی ہے۔ ایک جگہ ٹک کر نہیں بیٹھا جاتا۔ ہر بار سوچتا ہوں کہ یہاں ٹھہر جاؤں گا لیکن کچھ عرصہ بعد پھر سے اندر ہی اندر کوئی چٹکیاں بھرنے لگتا ہے۔۔۔
ویسے اب میں سوچ رہا ہوں کہ یہ سانچہ کافی مناسب ہے اور تقریبا سبھی بنیادی ضروریات کو پورا کررہا ہے تو اب میں اس پر ٹک جاؤں۔۔۔ ابھی سے عادت ڈال لوں کہ اب اپنے لیے ادھر ادھر نہیں جھانکنا، دوسروں کا خیال کرنا ہے۔ :wink: واقعی۔۔۔ کافی طویل قطار ہے میرے علاوہ بھی۔۔۔!
اب دیکھیں تو سہی، میری اس بات کا کوئی یقین ہی نہیں کررہا ہے۔۔۔ ایک موصوف کہتے ہیں کہ ناممکن ہے، کچھ دن بعد پھر بدل لوگے۔۔۔ ایک صاحب نے تو بھرے بازار میں یہ کہہ دیا کہ میں یہ تھیم ایک صاحب کو عطیہ کردوں۔۔۔ اب میں نے ان سے عرض کی کہ بھئی، یہ تھیم بڑی مشکل سے مزاج کو بھائی ہے، اس کو بھی عطیہ کردوں کیا؟ تو فرمانے لگے، کیا فرق پڑتا ہے، کچھ عرصہ بعد بدل لینی ہے۔۔۔ ماوراء کی طرح۔۔۔!
اچھا۔۔۔ میں اس میدان میں اکیلا نہیں ہوں۔۔۔ اور بھی لوگ ہیں میرے ساتھ۔۔۔ lol
آج صبح ہی میں سوچ رہا تھا کہ بلاگنگ کی دنیا میں اتنے سانچے کسی نے تبدیل نہ کیے ہوں گے، جتنے اپنی ساری بلاگنگ کے مختصر سے عرصہ میں، میں نے کردیے ہیں۔ ایسا کوئی ریکارڈ محفوظ رکھا ہوتا تو شاید گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی نام درج ہوجاتا۔۔۔ بہرحال۔۔۔ کوئی بات نہیں۔۔۔
اس سانچے کو دیکھیں۔۔۔ میں نے اسے اردو میں ڈھالنے کے لیے تین/ چار گھنٹے لگائے ہیں۔۔۔ دو نشستوں میں جاکر مکمل ہوا ہے۔۔۔ اس کی دائیں جانب دیکھئے۔۔۔ میں نے اپنے بچپن کی ایک تصویر لگائی ہے جس میں میرے ہاتھ میں کاغذ اور قلم ہے جبکہ بالوں میں بم پھٹا ہوا ہے۔۔۔ یہ تصویر ظاہر کرتی ہے کہ اس بیاض کا لکھنے والا بچپن سے ہی الٹے دماغ کا حامل ہے۔۔۔ اس کے علاوہ تصویر کے ساتھ لکھی تحریر بھی “کچھ” ظاہر کررہی ہے، اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس سے کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔۔۔؟
موصوف بدتمیز کی کمال مہربانی سے اب بیاض پر گوگل کے اشتہارات بھی آویزاں ہیں۔۔۔ ان کو لگانے کے لیے ہم نے جتنی محنت کرنی تھی، کرلی۔۔۔ اب آپ کی باری ہے۔۔۔ اشتہارات لگانے کی نہیں، بلکہ یہ جو اشتہارات لگے ہوئے ہیں ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی۔۔۔۔ :wink:
اور بس آپ مجھے یہ بتائیں کہ سانچہ کیسا لگ رہا ہے۔۔۔۔؟؟؟ اچھا چلیں۔۔۔ میرے کام کی تعریف نہ کریں۔۔۔
یہ بتادیں کہ کوئی کمی تو نہیں ہے؟؟؟ ویسے آپ لوگوں نے اس کی زیادہ خامیاں گنوادیں نا تو پھر پتا ہے، کیا ہونا ہے؟؟؟؟
ہونا تو خیر سے کچھ نہیں ہے، بس میں نے سانچہ بدل لینا ہے۔۔۔۔! :lol:
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
March 22, 2008 بوقت 8:38 pm
بہت اچھا سانچا ہے۔ امید ہے اس دفعہ یہ زیادہ دیر چلے گا۔
March 23, 2008 بوقت 1:28 am
تصویر سے بلکل اندازہ نہیں ہو رہا کہ دماغ اُلٹا ہے :???: اور ساتھ لکھی تحریر سے تو بچّہ ہشیار لگتا ہے
پالیسی والی تحریر لکھی ہے کہ دل سب کے لیئے دھڑکتا ہے 
March 23, 2008 بوقت 5:52 am
شکر ہے یہ یہ الزام تم نے اپنے سر ہی لے لیا۔۔ورنہ میں سمجھ رہی تھی کہ سب سے زیادہ میں تھیم بدلتی ہوں۔
باقی تھیم واقعی بہت اچھی ہے۔ اب نہ بدلنا۔ اور یہ اشتہار کیسے لگا لیے؟؟ میرا کام تو ادھورا ہی رہ گیا تھا۔ :sad:
اور ہاں، دل بہت سے لوگوں کے لیے نہیں۔۔۔سب کے لیے دھڑکنا چاہیے۔
March 23, 2008 بوقت 1:04 pm
اسلام علیکم،
تھیم تو اچھی ہے۔
لیکن اشتہار کیسے لگائے ہیں۔ ذرا تفصیل سے لکھو
March 23, 2008 بوقت 5:36 pm
بہت بڑی کمی ہے ۔ یہ سانچہ مجھے اُردو ٹیک کے خزانہ میں نظر نہیں آیا
March 23, 2008 بوقت 9:49 pm
[...] یہ میری توقع سے زیادہ مشکل ثابت ہوا.. ویسے حال ہی میں راہبر نے بھی اپنے بلاگ کے کپڑے بدلے ہیں جو کوئی نئی بات نہیں [...]
March 23, 2008 بوقت 9:50 pm
سانچہ تو کافی اچھا ہے پر مجھے نہیں لگتا کہ اس کا انجام بھی دوسروں سے زیادہ مختلف ہوگا.. :mrgreen:
ویسے میں نے بھی آج اپنے بلاگ کے کپڑے بدلے ہیں.. مگر یہ مت سمجھنا کہ جیلس ہوکر ..
March 24, 2008 بوقت 11:46 am
میرا پاکستان! شکریہ۔۔۔! خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔
ویسے سب لوگ کہتے ہیں میں شکل و صورت سے بہت معصوم سا بچہ ہوا کرتا تھا۔۔۔۔ :mrgreen:


حجاب! تصویر سے کیا اندازہ ہورہا ہے؟ کہیں معصومیت نے متاثر تو نہیں کردیا؟
ماوراء! کچھ لوگوں کے لیے یہ الزام ہے اور کچھ لوگوں کے لیے باعث فخر۔ میں مؤخر الذکر لوگوں میں شامل ہوں۔ :wink: اشتہارات لگانے کے پیچھے موصوف بدتمیز کی محنت ہے۔
دل پہلے ہی کافی لوگوں کے لیے دھڑک رہا ہے۔ مزید لوگوں کو شامل کرلیا تو پھٹ جائے گا۔
عدنان زاہد! وعلیکم السلام۔ سانچہ پسند کرنے کا شکریہ۔ اشتہارات کے بارے میں تفصیل لکھنے کے لیے موصوف سے گزارش تو کی ہے۔ دیکھتے ہیں، ان کا رد عمل کیا ہوتا ہے۔
اجمل صاحب! واقعی یہ خامی تو بہت بڑی ہے لیکن جلد ہی دور ہوجائے گی۔ میرے بلاگ پر جتنے دن چلے گی تو مجھے اندازہ ہوجائے گا کہ اس میں کہاں کہاں غلطیاں ہیں۔۔۔ تب تک میرا دل دوسرے سانچہ پر آجائے گا تو میں اس کو ٹھیک کرکے اردو ٹیک پر اپ۔لوڈ کروادوں گا۔
مکی صاحب! بلاگ کے کپڑے تو بتی بجھاکر نہیں بدلے ہوں گے؟
March 24, 2008 بوقت 9:21 pm
سانچہ تیار کرتے وقت پتہ چلا کہ بتی جلانی پڑے گی..
March 26, 2008 بوقت 1:46 pm
راہبر ، آنکھوں سے اندازہ ہورہا ہے کہ بچّہ شرارتی ہے
اس طرح کے معصوم بچّوں کو دیکھ کر دل چاہتا ہے کسی طرح سے رلا دیا جائے 
March 26, 2008 بوقت 2:34 pm
لیں۔۔۔
روگیا بچہ۔۔۔
اچھا کیا کہ آپ نے بتادیا۔ جبھی تو میں کہوں کہ ہر کوئی مجھے رلاتا کیوں رہتا ہے :sad:
April 4, 2008 بوقت 12:37 pm
بھائی تھیم تو بہت خوب ہے لیکن ادھر ہم ابھی تک منتظر ہیں، وہ تھیم اب نہیں کیجیے گا جو میں نے آپ کو کہی تھی کوئی اور سادہ سی تھیم ہی کر کے دے دیں عین نوازش ہوگی، زندگی بھر آپ کا مشکور رہوں گا
April 4, 2008 بوقت 2:38 pm
ابوشامل صاحب! آپ بھی خوب رہے۔ ابھی کل ہی ساجد اقبال نے کہا کہ ان کا کمپیوٹر خراب تھا اس لیے وہ تھیم پر کام نہیں کرسکے لہذا ان کی طرف سے ابو شامل سے معذرت کرکے ان کو بتادوں کہ ان شاء اللہ دو دن میں ان کی تھیم ان کو مل جائے گی۔۔۔ اور اب آپ اس تھیم سے انکاری ہیں۔۔۔ :neutral: کمال ہی ہوگیا۔۔۔
اچھا، سادہ سی تھیم چاہئے تو جلدی سے یہ تھیم دیکھیں
Urdu-Redie
آج ہی اپ۔لوڈ کی ہے۔۔۔!