No Gravatar

کل جیو ٹیلی ویژن سے ایک ڈرامہ نشر کیا گیا، نام تھا: “جیو تو ایسے”۔ یہ ڈرامہ 23 مارچ کے حوالہ سے ایوب خاور کی خصوصی تحریر تھی جس میں مرکزی کردار نعمان اعجاز نے ادا کیا۔ بہت جاندار لکھا تھا۔ کہانی کچھ یوں تھی کہ نعمان اعجاز بہت محب الوطن اور قائد اعظم کا شیدائی ہے۔ یہ لندن سے قانون کی تعلیم حاصل کرکے کئی سال بعد وطن پہنچتا ہے۔ ماں، باپ اس کی شادی کی تیاری کرتے ہیں اور اس زمین پر گھر تعمیر کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں جو انہوں نے سالوں پہلے خریدی ہوتی ہے۔ جب وہ اس زمین کو دیکھنے جاتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ اس پر تو لینڈ مافیا کا قبضہ ہوچکا ہے۔ پولیس وغیرہ کی مدد سے بلڈوزر اور کرین لے کر آتے ہیں اس غیر قانونی گھر کو ڈھانے کے لیے تو ایک وڈیرا “شاہ صاحب” اپنے کارندوں کے ساتھ پہنچ جاتا ہے اور دھمکی دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ اس زمین کی ملکیت کے اصل کاغذات اس کے پاس ہیں۔ سب کو حیرانگی ہوتی ہے۔

نعمان اعجاز اپنے بچپن کے ایک دوست کے ساتھ یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے متعلقہ محکمہ پہنچتا ہے تو اس کو یہ دیکھ کر ٹھیس پہنچتی ہے کہ ہر جگہ رشوت سے کام چل رہا ہے اور ان کو اپنی ایک فائل آگے تک پہنچانے کے لیے کئی جگہ رشوت دینی پڑتی ہے۔ اس دوران نعمان اعجاز کا دوست اس کو بتاتا ہے کہ یہاں قانون نہیں، قائد اعظم چلتے ہیں اور قائد اعظم میں بڑی طاقت ہے۔ بہرحال! جب وہ محکمہ میں اس زمین کی فائل تک رسائی حاصل کرتے ہیں تو ان پر یہ حیرت انگیز انکشاف ہوتا ہے کہ یہ زمین تو کئی لوگ خرید چکے ہیں۔۔۔ جعلی دستخط۔۔۔ انگوٹھے کا جعلی نشان۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔! آخرکار مایوسی!

نعمان اعجاز، شاہ صاحب سے ملنے جاتا ہے۔ وہ نعمان کو پیشکش کرتے ہیں کہ اس کے ماں باپ نے جو زمین تین لاکھ میں خریدی تھی، اب نعمان اس کے 7 لاکھ مزید لے لے اور اس زمین کو بھول جائے اور اگر زمین چاہئے تو دو کروڑ دے کر خرید لے۔ غیر ملک سے آیا وہ اصول پسند نوجوان یہ سن کر غصہ سے بھر جاتا ہے۔ شاہ صاحب اس کو پاکستان کے نظام کی تفصیل بہت خوبصورت انداز میں سمجھاتے ہیں اور پھر اسے کہتے ہیں کہ شام کو ان کے پاس آجائے تاکہ وہ اس کو ایک بڑے کارندے کے پاس لے جائیں۔

رات کو شاہ صاحب اسے لے کر ایک کوٹھی پر پہنچتے ہیں جہاں مجرا ہورہا ہوتا ہے اور لوگ رقاصہ پر نوٹ اچھال رہے ہوتے ہیں۔ جب نوٹ اس رقاصہ کے پاؤں کے نیچے آتا ہے تو نعمان کا دل یہ دیکھ کر ٹوٹ جاتا ہے کہ قائد اعظم کی تصویر ایک رقاصہ کے پاؤں تلے روندی جارہی ہے۔

آخرکار تنگ آکر وہ ایک عدالت میں قائد اعظم کی جانب سے مقدمہ دائر کردیتا ہے جس میں پاکستان کی 60 سالہ تاریخ کو ملزم اور وقت کو گواہ نامزد کیا جاتا ہے۔ وکیل صفائی کا کردار شبیر جان نے نبھایا۔ گو کہ عدالت آخر میں یہ مقدمہ خارج کردیتی ہے لیکن بہرحال ڈرامہ نگار نے بہت اچھی طرح ایک مثبت پیغام عوام تک پہنچایا۔ مکالمے بھی جاندار تھے۔

جس نے دیکھ لیا، اس کو مبارک اور جس نے نہیں دیکھا۔۔۔ وہ انتظار کرے کہ یہ یوٹیوب پر کوئی اپ۔لوڈ کردے۔

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔