No Gravatar

جب روم تباہ ہورہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا۔ موصوف نے سوال کیا تھا کہ صدر صاحب کیا بجا رہے ہیں؟ جس پر اجمل صاحب نے لکھا تھا کہ قوم کو بجارہے ہیں۔ یہ پڑھ کر میں نے موصوف سے کہا کہ شاید وہاں ایک جملہ لکھنا میرے شایان شان نہ ہوگا لیکن میرے خیال میں صدر صاحب قوم “کو” نہیں، بلکہ قوم “کی” بجارہے ہیں۔

ممکن ہے کہ آپ اس جملہ کو گرا ہوا خیال کریں تاہم حقیقت یہ ہے کہ صرف صدر صاحب ہی نہیں، بلکہ ہر ایک اس ملک و قوم کی بجارہا ہے۔ ترقی، کامیابی، روشن مستقبل، سکون، امن و امان ۔۔۔ یہ سب جھوٹے سپنے ہیں جن سے بہلایا جاتا رہا ہے اور تاحال بہلایا جارہا ہے۔ کراچی میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ آٹھ گھنٹے لازمی لازمی ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ کبھی ابر رحمت برسے تو مزید ایک دو گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کردی جاتی ہے۔ ہر چار گھنٹے بعد دو گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ Must ہے (اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ اسے اردو کا “مست” پڑھیں یا انگریزی کا must)۔ پھر چھٹیاں۔۔۔ نہلے پر دہلہ۔۔۔ جمعرات گئے، جمعہ کو ہڑتال۔ سنیچر گئے، اتوار کی چھٹی۔ اب آج سوموار کو آئے ہیں تو شنید ہے کہ کل یعنی منگل کو ٹرانسپورٹرز کی جانب سے ہڑتال ہے اور آج کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا یہ ہڑتال صرف دو روزہ ہوگی یا غیر معینہ مدت تک۔ اگر صرف منگل کی بھی ہوئی تو بدھ کو آئیں گے، پھر جمعرات اور جمعہ کو سندھ حکومت نے عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چھٹی دی ہے۔ اس کے بعد سنیچر کو آئیں گے تو اتوار کی چھٹی ہوگی۔ علاوہ ازیں 20 مارچ سے گاڑیوں کے کرایوں میں لازمی اضافہ کردیا جائے گا کیونکہ نگران حکومت کی اعلی نگرانی کے سبب پندرہ دن میں دوسری بار پٹرولیم کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ ملک ایک کمال رفتار سے ترقی اور خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔ معروف وکیل رہنما علی احمد کرد کے انداز میں کہیں تو “دما دم مست قلندر” ہورہا ہے۔

اس وقت ہمارا قومی ایجنڈا صرف اور صرف ایک ہے۔۔۔ اور وہ یہ ہے کہ “اس ملک کی بجا کر رکھ دو”۔

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔