27 مارچ 2008ء
میں جہاں کام کرتا ہوں، اس جگہ سے کچھ ہی آگے ابو کی دکان ہے تو میں اکثر صبح ابو کے ساتھ ہی بائیک پر نکل آتا ہوں۔ آج ہمیں کچھ دیر ہوگئی تھی تو گولیمار چورنگی سے ابو نے گولیمار کی طرف جانے کے بجائے گاڑی دائیں طرف موڑ لی اور پرانا گولیمار کی طرف سے نکلے۔ وہاں میں نے سیاہ بینر لگے ہوئے دیکھے جنہیں پڑھ کر مجھے بے انتہا حیرت ہوئی اور از حد افسوس بھی۔ لکھا تھا:
27 مارچ 1948ء کو بلوچستان پر پاکستان کا ناجائز قبضہ نامنظور
بلوچستان نیشنل فرنٹ
۔۔۔۔۔۔
ایک رکشہ کے پیچھے یہ شعر لکھا ہوا دیکھا:
عدل و انصاف فقط حشر پہ موقوف نہیں
زندگی خود بھی گناہوں کی سزا دیتی ہے
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
March 27, 2008 بوقت 4:29 pm
شعر زبردست ہے ۔
بلوچستان والی بات لبمی ہے ۔ مختصر یہ کہ ہندوستان نے ساری ریاستیں فوراً ختم کر دی تھیں لیکن پاکستان نے ایسا نہ کیا تھا ۔ بلوچستان میں واقع ایک چھوٹی سی ریاست کا والی عملی طور پر انگریز تھا اور انگریزوں کا ہی فادار تھا یا قوم کا غدار تھا ۔ وہ ایک چال چل رہا تھا کہ اس کی ریاست پر ملتری آپریش ہوا ۔
آجکل جو لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں اور اس کے عوض پاکستان کے دشمنوں سے مال وصول کرتے ہیں ۔
March 27, 2008 بوقت 5:02 pm
:roll:
March 27, 2008 بوقت 7:44 pm
پتا نہیں لوگوں کو تاریخ کا علم نہیں ہوتا یا پھر وہ جان بوجھ کر تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟
تقسیم ہند کے وقت بلوچستان پر والی قلات کی حکومت تھی اور قائداعظم نے ان سے معاہدہ کیا تھا کہ بلوچستان کی خودمختاری برقرار رہے گی۔ بعد میں اپنے کیے ہوئے معاہدے سے وہ خود پھر گئے تھے۔ اس میں والی قلات کہاں سے غدار ہو گئے؟
March 27, 2008 بوقت 7:45 pm
اردو لکھنے کے لیے جاوا نہیں بلکہ جاوا سکرپٹ فعال ہونا ضروری ہے۔
March 28, 2008 بوقت 10:19 am
شکریہ آپ صاحبان کا۔ مجھے اس بارے میں قطعی معلومات نہیں اس لیے رائے زنی کرنا مشکل ہے۔
۔۔۔۔۔۔
نبیل بھیا! میں نے “جاوا اسکرپٹ” کردیا ہے۔