27 مارچ 2008ء

307 views March 27, 2008 | راہبر
No Gravatar

میں جہاں کام کرتا ہوں، اس جگہ سے کچھ ہی آگے ابو کی دکان ہے تو میں اکثر صبح ابو کے ساتھ ہی بائیک پر نکل آتا ہوں۔ آج ہمیں کچھ دیر ہوگئی تھی تو گولیمار چورنگی سے ابو نے گولیمار کی طرف جانے کے بجائے گاڑی دائیں طرف موڑ لی اور پرانا گولیمار کی طرف سے نکلے۔ وہاں میں نے سیاہ بینر لگے ہوئے دیکھے جنہیں پڑھ کر مجھے بے انتہا حیرت ہوئی اور از حد افسوس بھی۔ لکھا تھا:

27 مارچ 1948ء کو بلوچستان پر پاکستان کا ناجائز قبضہ نامنظور
بلوچستان نیشنل فرنٹ

:cry:

۔۔۔۔۔۔

ایک رکشہ کے پیچھے یہ شعر لکھا ہوا دیکھا:

عدل و انصاف فقط حشر پہ موقوف نہیں
زندگی خود بھی گناہوں کی سزا دیتی ہے

مشاہدات

283 views March 27, 2008 | راہبر
No Gravatar

میرے ابو اکثر کہا کرتے ہیں کہ وہ شخص کامیاب ہوتا ہے جس کا مشاہدہ تیز ہو اور وہ اپنے مشاہدات سے سبق حاصل کرے۔ ہر آنکھ والا بے شمار مناظر دیکھتا ہے لیکن ایسے لوگوں کی تعداد زیادہ نہیں ہوتی جو اپنے اردگرد کے حالات و واقعات کو دماغ کی آنکھ سے دیکھ کر انہیں محفوظ کرلیتے ہیں۔

مشاہدات عام طور سے بہت مختصر ہوتے ہیں لیکن ان میں گہرائی بہت ہوتی ہے یا ان کے کئی اہم اور مفید پہلو ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ان پر ایک لمبی چوڑی تحریر لکھی جائے۔

آج میں اپنی بیاض پر ایک نیا زمرہ شامل کر رہا ہوں جس کا نام ہے: “مشاہدات” جس کے تحت میں اپنے مشاہدات تحریر کروں گا اور ہر تحریر کا عنوان وہ تاریخ ہوگی جب میں نے کسی امر کا مشاہدہ کیا۔ مجھے امید ہے کہ یہ سلسلہ بے حد معلوماتی اور مفید ثابت ہوگا۔

قاضی کا انصاف

282 views March 25, 2008 | راہبر
No Gravatar

یہ ایک لوک کہانی ہے۔ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ایک چور نے کسی گھر میں نقب لگائی۔ واپسی میں کھڑکی سے بھاگ رہا تھا کہ چوکھٹ اکھڑ گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چور نیچے جاگرا اور اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ اگلے دن اس نے قاضی جی کی عدالت میں مقدمہ دائر کردیا کہ یہ تو میری جان لینے کی کوشش کی گئی ہے اور میری ٹانگ بھی ٹوٹ گئی تو اب میں بے روزگار ہوگیا ہوں۔۔۔۔ اس گھر کی مالکہ ایک عورت تھی۔ قاضی نے اس عورت کو عدالت میں بلالیا اور چور کا دکھڑا کہہ سنایا۔ عورت بڑی حیران ہوئی کہ یہ عجیب قاضی ہے۔ دہائی دی کہ قاضی جی! یہ چور ہے۔۔۔ میرے گھر میں چوری کرنے گھسا تھا۔۔۔ اس کو تو سزا ملنی چاہئے۔۔۔ اچھی بات ہے کہ اس کی ٹانگ ٹوٹی۔۔۔ لیکن قاضی بہت اڑیل تھا۔ کہنے لگا کہ سزا تو تمہیں ملے گی کہ بے چارہ چور ٹانگ سے محروم ہوگیا اور ذریعہ معاش سے بھی۔ جب عورت نے اندازہ کیا کہ اس قاضی سے بحث کرنا فضول ہے تو اس نے جان چھڑانے کی ترکیب نکالی۔ کہنے لگی، قاضی جی! اصل قصور وار تو وہ بڑھئی ہے جس نے یہ کھڑکی صحیح سے نہ لگائی۔ اگر وہ ٹھیک سے لگاتا تو چوکھٹ نہ اکھڑتی اور یہ معذور نہ ہوتا۔ بات معقول تھی، قاضی نے فرمان جاری کیا کہ اس بڑھئی کو عدالت میں حاضر کیا جائے۔

بڑھئی پیش ہوا۔۔۔ قاضی نے سارا ماجرا اس کو پیش کیا اور کہا کہ چونکہ تمہاری کام چوری اور نالائقی کی وجہ سے یہ چوکھٹ اکھڑی اور چور کی ٹانگ ٹوٹی اس لیے تمہیں سزا ملے گی۔ بڑھئی بھی بہت رویا، چلایا کہ قاضی صاحب! یہ کیسا انصاف ہے۔ لیکن قاضی جی پر اثر نہ ہوا۔ آخر بڑھئی کو بھی جان بچانے کا بہانہ سوجھا۔ بولا، قاضی صاحب! اصل قصور میرا نہیں بلکہ اس عورت کا ہے جو بے حد بھڑکیلے رنگ کے کپڑے پہنے اس وقت گلی سے گزر رہی تھی جب میں کھڑکی لگارہا تھا۔ اس کے بھڑکیلے کپڑوں کی وجہ سے میری نظر بھٹکی اور کیل غلط ٹھونک دی۔ قاضی نے حکم جاری کیا، اچھا۔۔۔ اس عورت کو تلاش کیا جائے۔۔۔!

ہرکارے دوڑے پھرے۔۔۔ بڑی بھاگ دوڑ کے بعد اس عورت کا سراغ ملا۔ لے کر عدالت پیش ہوئے۔ قاضی نے اس کو سارے معاملہ سے آگاہ کیا اور کہا کہ تیری وجہ سے ایسا ہوا۔ اگر تو نے اتنے بھڑکیلے رنگ کے کپڑے نہ پہنے ہوتے تو نہ بڑھئی کی نظر بہکتی نہ ہاتھ بھٹکتا اور نہ یہ کیل ٹیڑھی ٹھونکتا کہ چور کودا تو چوکھٹ ہی اکھڑ گئی۔ عورت بڑی ہوشیار تھی۔ سارا ماجرا سنا تو سمجھ گئی بہتر یہی ہے کہ اپنے سر سے بلا ہٹا کر دوسرے کے سر پر رکھ دی جائے۔ کہنے لگی، قاضی جی! قصور میرا نہیں، قصور تو اس رنگ ریز (کپڑا رنگنے والے) کا ہے جس نے میرے کپڑوں کو اتنا شوخ رنگ دیا جس سے لوگوں کی نظر بھٹکی۔ سو، حکم ہوا کہ اس رنگ ریز کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

غرض کہ رنگ ریز چلا آیا۔۔۔ سارا معاملہ سنا اور یہ جانا کہ الزام میرے سر آتا ہے لیکن تھا بے وقوف۔ اتنا نہ سمجھ سکا کہ اگر وہ ذرا چالاکی سے الزام کسی اور پر رکھ دے تو اس کی جان چھوٹ جائے گی۔ بے چارہ قاضی کو سمجھاتا رہا کہ یہ شوخ اور بھڑکیلے رنگ تو ہوتے ہیں عورت کے لباس کے لیے ہیں۔ اگر عورت ایسے شوخ کپڑے نہ پہنے گی تو کون پہنے گا۔۔۔ قاضی نے اس کی بات پر کان نہ دھرا اور حکم جاری کردیا کہ اس کو سزائے موت دی جائے۔

بے چارہ رنگ ریز روتا پیٹتا تختہ دار کو چلا۔ اب پھانسی دی جانے لگی تو پتا چلا کہ رنگ ریز کا تو قد ہی بہت بڑا ہے اور پھانسی دینا مشکل۔ معاملہ قاضی کے گوش گزار ہوا۔ قاضی نے کہا اس رنگ ریز کے خاندان سے کسی کو بھی اٹھا لاؤ جس کا قد مناسب ہو اور پھانسی دیدو۔ چنانچہ رنگ ریز کے خاندان سے ایک بندے کو اٹھا لائے اور پھانسی پر چڑھا دیا، یوں قاضی جی کا انصاف پورا ہوا۔

ایسی ہی ایک اور لوک کہانی ہے جس کا انجام ذرا مختلف اور زیادہ دلچسپ ہے۔ آخر میں ہوا یوں ہے کہ جب قاضی نے اس رنگ ریز کے خاندان سے ایک بندے کو پکڑ کر پھانسی دینے کا حکم صادر کیا تو قاضی کی مجلس سے ایک ذی علم بزرگ آگے بڑھے اور ہنسی خوشی کہنے لگے کہ اس شخص کے بجائے وہ پھانسی پر چڑھنا چاہیں گے۔ قاضی حیران ہوا، سبب پوچھا۔ بزرگ نے کہا، یہ ساعت بہت مبارک ہے اور اس گھڑی جو بھی پھانسی پر چڑھا وہ سیدھا جنت میں جائے گا۔ قاضی نے یہ سنا تو کہا کہ پھر آپ کیوں، میں ہی کیوں نہ جاؤں جنت۔۔۔ اور یہ کہہ کر قاضی خود پھانسی پر چڑھ گیا۔ :razz:

۔۔۔۔۔۔
اگر آپ کو اس کہانی سے کوئی سبق حاصل نہیں ہوتا تو یہ نہ سوچئے کہ بے فائدہ وقت برباد کیا۔ امید ہے کہ آپ کو کہانی پڑھتے ہوئے لطف ضرور آیا ہوگا۔

یہ تارا۔۔۔ وہ تارا۔۔۔ ہر تارا۔۔۔!

248 views March 25, 2008 | راہبر
No Gravatar

کیا ہمیں یہ سبق یاد کرنے کی ضرورت ہے؟

یہ تارا، وہ تارا، ہر تارا، یہ تارا، وہ تارا، ہر تارا
دیکھو جسے بھی لگے پیارا، یہ تارا، وہ تارا، ہر تارا
یہ سب ساتھ میں، جو ہیں رات میں
تو جگمگایا آسمان سارا
جگمگ تارے، دو تارے، نو تارے، سو تارے
جگمگ سارے، ہر تارا ہے شرارہ

تم نے دیکھی ہے دھنک تو، بولو رنگ کتنے ہیں؟
سات رنگ کہنے کو، پھر بھی سنگ کتنے ہیں؟
سمجھو سب سے پہلے تو، رنگ ہوتے اکیلے تو
انتر دھنش بنتا ہی نہیں
ایک نہ ہم ہوپائے تو انیائے سے لڑنے کو
ہوگی کوئی جنتا ہی نہیں
پھر نہ کہنا نربل ہے کیوں ہارا؟

یہ تارا۔۔۔ وہ تارا۔۔۔ ہر تارا۔۔۔۔!

بوند بوند ملنے سے بنتا ایک دریا ہے
بوند بوند ساگر ہے، ورنہ یہ ساگر کیا ہے
سمجھو اس پہلی کو، بوند ہو اکیلی تو
ایک بوند جیسے کچھ بھی نہیں
ہم اوروں کو چھوڑیں تو، منہ سب سے ہی موڑیں تو
تنہا رہنے جائیں دیکھو ہم کہیں
کیوں نہ بنیں مل کے ہم دھارا؟

یہ تارا۔۔۔ وہ تارا۔۔۔ ہر تارا۔۔۔!

جو کسان ہل سنبھالے، دھرتی سونا ہی اگائے
جو گوالا گیا پالے، دودھ کی ندی بہائے
جو لوہار لوہا ڈھالے، ہر اوزار ڈھل جائے
مٹی جو کمہار اٹھالے، مٹی پیالا بن جائے

سب یہ روپ ہیں محنت کے، کچھ کرنے کی چاہت کے
کسی کا کسی سے کوئی بیر نہیں
سب کے ایک ہی سپنے ہیں، سوچو تو سب اپنے ہیں
کوئی بھی کسی سے یہاں غیر نہیں
سیدھی بات ہے سمجھو یارا۔۔۔۔!

یہ تارا۔۔۔ وہ تارا۔۔۔ ہر تارا۔۔۔!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلم: سودیس
موسیقار: اے۔ آر رحمن
شاعر: جاوید اختر
گلوکار: ادت نارائن
اداکار: شاہ رخ خاں (و دیگر)

جیو تو ایسے

260 views March 24, 2008 | راہبر
No Gravatar

کل جیو ٹیلی ویژن سے ایک ڈرامہ نشر کیا گیا، نام تھا: “جیو تو ایسے”۔ یہ ڈرامہ 23 مارچ کے حوالہ سے ایوب خاور کی خصوصی تحریر تھی جس میں مرکزی کردار نعمان اعجاز نے ادا کیا۔ بہت جاندار لکھا تھا۔ کہانی کچھ یوں تھی کہ نعمان اعجاز بہت محب الوطن اور قائد اعظم کا شیدائی ہے۔ یہ لندن سے قانون کی تعلیم حاصل کرکے کئی سال بعد وطن پہنچتا ہے۔ ماں، باپ اس کی شادی کی تیاری کرتے ہیں اور اس زمین پر گھر تعمیر کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں جو انہوں نے سالوں پہلے خریدی ہوتی ہے۔ جب وہ اس زمین کو دیکھنے جاتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ اس پر تو لینڈ مافیا کا قبضہ ہوچکا ہے۔ پولیس وغیرہ کی مدد سے بلڈوزر اور کرین لے کر آتے ہیں اس غیر قانونی گھر کو ڈھانے کے لیے تو ایک وڈیرا “شاہ صاحب” اپنے کارندوں کے ساتھ پہنچ جاتا ہے اور دھمکی دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ اس زمین کی ملکیت کے اصل کاغذات اس کے پاس ہیں۔ سب کو حیرانگی ہوتی ہے۔

نعمان اعجاز اپنے بچپن کے ایک دوست کے ساتھ یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے متعلقہ محکمہ پہنچتا ہے تو اس کو یہ دیکھ کر ٹھیس پہنچتی ہے کہ ہر جگہ رشوت سے کام چل رہا ہے اور ان کو اپنی ایک فائل آگے تک پہنچانے کے لیے کئی جگہ رشوت دینی پڑتی ہے۔ اس دوران نعمان اعجاز کا دوست اس کو بتاتا ہے کہ یہاں قانون نہیں، قائد اعظم چلتے ہیں اور قائد اعظم میں بڑی طاقت ہے۔ بہرحال! جب وہ محکمہ میں اس زمین کی فائل تک رسائی حاصل کرتے ہیں تو ان پر یہ حیرت انگیز انکشاف ہوتا ہے کہ یہ زمین تو کئی لوگ خرید چکے ہیں۔۔۔ جعلی دستخط۔۔۔ انگوٹھے کا جعلی نشان۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔! آخرکار مایوسی!

نعمان اعجاز، شاہ صاحب سے ملنے جاتا ہے۔ وہ نعمان کو پیشکش کرتے ہیں کہ اس کے ماں باپ نے جو زمین تین لاکھ میں خریدی تھی، اب نعمان اس کے 7 لاکھ مزید لے لے اور اس زمین کو بھول جائے اور اگر زمین چاہئے تو دو کروڑ دے کر خرید لے۔ غیر ملک سے آیا وہ اصول پسند نوجوان یہ سن کر غصہ سے بھر جاتا ہے۔ شاہ صاحب اس کو پاکستان کے نظام کی تفصیل بہت خوبصورت انداز میں سمجھاتے ہیں اور پھر اسے کہتے ہیں کہ شام کو ان کے پاس آجائے تاکہ وہ اس کو ایک بڑے کارندے کے پاس لے جائیں۔

رات کو شاہ صاحب اسے لے کر ایک کوٹھی پر پہنچتے ہیں جہاں مجرا ہورہا ہوتا ہے اور لوگ رقاصہ پر نوٹ اچھال رہے ہوتے ہیں۔ جب نوٹ اس رقاصہ کے پاؤں کے نیچے آتا ہے تو نعمان کا دل یہ دیکھ کر ٹوٹ جاتا ہے کہ قائد اعظم کی تصویر ایک رقاصہ کے پاؤں تلے روندی جارہی ہے۔

آخرکار تنگ آکر وہ ایک عدالت میں قائد اعظم کی جانب سے مقدمہ دائر کردیتا ہے جس میں پاکستان کی 60 سالہ تاریخ کو ملزم اور وقت کو گواہ نامزد کیا جاتا ہے۔ وکیل صفائی کا کردار شبیر جان نے نبھایا۔ گو کہ عدالت آخر میں یہ مقدمہ خارج کردیتی ہے لیکن بہرحال ڈرامہ نگار نے بہت اچھی طرح ایک مثبت پیغام عوام تک پہنچایا۔ مکالمے بھی جاندار تھے۔

جس نے دیکھ لیا، اس کو مبارک اور جس نے نہیں دیکھا۔۔۔ وہ انتظار کرے کہ یہ یوٹیوب پر کوئی اپ۔لوڈ کردے۔

عوامی بیت الخلاء

326 views March 22, 2008 | راہبر
No Gravatar

صاف ستھرے لوگ مت پڑھیں۔ :razz:
مزید پڑھیں »

نیا سانچہ

318 views March 22, 2008 | راہبر
No Gravatar

لیں جی۔۔۔ میری بیاض ایک بار پھر نئے سانچے سے مزین ہے۔ عجیب بے چین روح پائی ہے۔ ایک جگہ ٹک کر نہیں بیٹھا جاتا۔ ہر بار سوچتا ہوں کہ یہاں ٹھہر جاؤں گا لیکن کچھ عرصہ بعد پھر سے اندر ہی اندر کوئی چٹکیاں بھرنے لگتا ہے۔۔۔ :razz: ویسے اب میں سوچ رہا ہوں کہ یہ سانچہ کافی مناسب ہے اور تقریبا سبھی بنیادی ضروریات کو پورا کررہا ہے تو اب میں اس پر ٹک جاؤں۔۔۔ ابھی سے عادت ڈال لوں کہ اب اپنے لیے ادھر ادھر نہیں جھانکنا، دوسروں کا خیال کرنا ہے۔ :wink: واقعی۔۔۔ کافی طویل قطار ہے میرے علاوہ بھی۔۔۔!

اب دیکھیں تو سہی، میری اس بات کا کوئی یقین ہی نہیں کررہا ہے۔۔۔ ایک موصوف کہتے ہیں کہ ناممکن ہے، کچھ دن بعد پھر بدل لوگے۔۔۔ ایک صاحب نے تو بھرے بازار میں یہ کہہ دیا کہ میں یہ تھیم ایک صاحب کو عطیہ کردوں۔۔۔ اب میں نے ان سے عرض کی کہ بھئی، یہ تھیم بڑی مشکل سے مزاج کو بھائی ہے، اس کو بھی عطیہ کردوں کیا؟ تو فرمانے لگے، کیا فرق پڑتا ہے، کچھ عرصہ بعد بدل لینی ہے۔۔۔ ماوراء کی طرح۔۔۔! :razz: اچھا۔۔۔ میں اس میدان میں اکیلا نہیں ہوں۔۔۔ اور بھی لوگ ہیں میرے ساتھ۔۔۔ lol

آج صبح ہی میں سوچ رہا تھا کہ بلاگنگ کی دنیا میں اتنے سانچے کسی نے تبدیل نہ کیے ہوں گے، جتنے اپنی ساری بلاگنگ کے مختصر سے عرصہ میں، میں نے کردیے ہیں۔ ایسا کوئی ریکارڈ محفوظ رکھا ہوتا تو شاید گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی نام درج ہوجاتا۔۔۔ بہرحال۔۔۔ کوئی بات نہیں۔۔۔

اس سانچے کو دیکھیں۔۔۔ میں نے اسے اردو میں ڈھالنے کے لیے تین/ چار گھنٹے لگائے ہیں۔۔۔ دو نشستوں میں جاکر مکمل ہوا ہے۔۔۔ اس کی دائیں جانب دیکھئے۔۔۔ میں نے اپنے بچپن کی ایک تصویر لگائی ہے جس میں میرے ہاتھ میں کاغذ اور قلم ہے جبکہ بالوں میں بم پھٹا ہوا ہے۔۔۔ یہ تصویر ظاہر کرتی ہے کہ اس بیاض کا لکھنے والا بچپن سے ہی الٹے دماغ کا حامل ہے۔۔۔ اس کے علاوہ تصویر کے ساتھ لکھی تحریر بھی “کچھ” ظاہر کررہی ہے، اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس سے کیا نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔۔۔؟

موصوف بدتمیز کی کمال مہربانی سے اب بیاض پر گوگل کے اشتہارات بھی آویزاں ہیں۔۔۔ ان کو لگانے کے لیے ہم نے جتنی محنت کرنی تھی، کرلی۔۔۔ اب آپ کی باری ہے۔۔۔ اشتہارات لگانے کی نہیں، بلکہ یہ جو اشتہارات لگے ہوئے ہیں ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی۔۔۔۔ :wink:

اور بس آپ مجھے یہ بتائیں کہ سانچہ کیسا لگ رہا ہے۔۔۔۔؟؟؟ اچھا چلیں۔۔۔ میرے کام کی تعریف نہ کریں۔۔۔ :razz: یہ بتادیں کہ کوئی کمی تو نہیں ہے؟؟؟ ویسے آپ لوگوں نے اس کی زیادہ خامیاں گنوادیں نا تو پھر پتا ہے، کیا ہونا ہے؟؟؟؟

ہونا تو خیر سے کچھ نہیں ہے، بس میں نے سانچہ بدل لینا ہے۔۔۔۔! :lol:

اطلاعآ عرض ہے

296 views March 22, 2008 | راہبر
No Gravatar

اطلاعآ عرض ہے کہ بندہ کا موبائل سِم کارڈ چند نامعلوم وجوہات کی بنا پر بند ہوگیا تھا۔۔۔ (شاید اس کو جی بھر کے استعمال کرلیا تھا :razz:) اب اگرچہ ڈپلیکیٹ سم نکلوالی ہے لیکن جتنے رابطہ نمبر محفوظ تھے، وہ سب اب میرے پاس نہیں رہے ہیں۔۔۔ :sad: اس لیے جو ساتھی اپنا رابطہ نمبر دوبارہ مجھے عطا کرنا چاہیں، وہ یا تو مجھے ای۔میل کردیں یا اردو محفل پر پیغام میں بھیج دیں۔۔۔ یا بیاض کے رابطہ والے صفحہ سے بھیج دیں۔
بہت مہربانی

بجا کے رکھ دو

786 views March 17, 2008 | راہبر
No Gravatar

جب روم تباہ ہورہا تھا تو نیرو بانسری بجا رہا تھا۔ موصوف نے سوال کیا تھا کہ صدر صاحب کیا بجا رہے ہیں؟ جس پر اجمل صاحب نے لکھا تھا کہ قوم کو بجارہے ہیں۔ یہ پڑھ کر میں نے موصوف سے کہا کہ شاید وہاں ایک جملہ لکھنا میرے شایان شان نہ ہوگا لیکن میرے خیال میں صدر صاحب قوم “کو” نہیں، بلکہ قوم “کی” بجارہے ہیں۔

ممکن ہے کہ آپ اس جملہ کو گرا ہوا خیال کریں تاہم حقیقت یہ ہے کہ صرف صدر صاحب ہی نہیں، بلکہ ہر ایک اس ملک و قوم کی بجارہا ہے۔ ترقی، کامیابی، روشن مستقبل، سکون، امن و امان ۔۔۔ یہ سب جھوٹے سپنے ہیں جن سے بہلایا جاتا رہا ہے اور تاحال بہلایا جارہا ہے۔ کراچی میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ آٹھ گھنٹے لازمی لازمی ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ کبھی ابر رحمت برسے تو مزید ایک دو گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کردی جاتی ہے۔ ہر چار گھنٹے بعد دو گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ Must ہے (اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ اسے اردو کا “مست” پڑھیں یا انگریزی کا must)۔ پھر چھٹیاں۔۔۔ نہلے پر دہلہ۔۔۔ جمعرات گئے، جمعہ کو ہڑتال۔ سنیچر گئے، اتوار کی چھٹی۔ اب آج سوموار کو آئے ہیں تو شنید ہے کہ کل یعنی منگل کو ٹرانسپورٹرز کی جانب سے ہڑتال ہے اور آج کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا یہ ہڑتال صرف دو روزہ ہوگی یا غیر معینہ مدت تک۔ اگر صرف منگل کی بھی ہوئی تو بدھ کو آئیں گے، پھر جمعرات اور جمعہ کو سندھ حکومت نے عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چھٹی دی ہے۔ اس کے بعد سنیچر کو آئیں گے تو اتوار کی چھٹی ہوگی۔ علاوہ ازیں 20 مارچ سے گاڑیوں کے کرایوں میں لازمی اضافہ کردیا جائے گا کیونکہ نگران حکومت کی اعلی نگرانی کے سبب پندرہ دن میں دوسری بار پٹرولیم کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ ملک ایک کمال رفتار سے ترقی اور خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔ معروف وکیل رہنما علی احمد کرد کے انداز میں کہیں تو “دما دم مست قلندر” ہورہا ہے۔

اس وقت ہمارا قومی ایجنڈا صرف اور صرف ایک ہے۔۔۔ اور وہ یہ ہے کہ “اس ملک کی بجا کر رکھ دو”۔

اسرائیلی ہولوکاسٹ

518 views March 15, 2008 | راہبر
No Gravatar

ایک برازیلی کارٹونسٹ Carlos Latuff نے اپنے خاکوں میں اس اسرائیلی ہولوکاسٹ کی منظر کشی کی ہے جو اسرائیل نے فلسطین کے ساتھ روا رکھا ہے۔

مزید پڑھیں »