سرگرمیاں
افففف۔۔۔۔ کام کا زور آخرکار ٹوٹ گیا۔ بس اب تھوڑا بہت جو کچھ ہے، وہ سنیچر یعنی آنے والی کل تک ہے پھر اس کے بعد سکون۔۔۔ وہی روز مرہ کی طرف لوٹ جانا ہے۔ لیکن تب گھر میں سرگرمیاں شروع ہوجانی ہیں۔ دو مارچ کو رشتہ طے ہونے کی باقاعدہ رسم کا فیصلہ ہوا ہے۔ سو اب اس حوالہ سے کام شروع ہوجائے گا۔ جو تیاریاں رہتی ہیں، انہیں نمٹایا جائے گا۔ کپڑے تو شاید سبھی کے بن چکے ہیں۔ نانی کو تو کہہ دیا ہے کہ منگل/ بدھ سے ہی آجائیں۔ نانی کے بھائی سے ان کا شجرہ نسب بھی منگوالیا ہے تو سوچا ہے کہ فرصت میں اس پر بھی کام کروں گا۔ اس لیے نانی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ خالہ زاد بہنوں کو بھی ایک، دو دن پہلے سے آنے کا کہا ہے۔ باقی بچا ددھیال تو اس کی عین وقت پر شرکت کرلینا ہی کافی ہے۔۔۔ اس سے زیادہ ضرورت نہیں۔
ایک دلچسپ بات۔۔۔ میرے ددھیال والے اب تک حیران ہیں کہ اچانک یہ سب کیسے ہوگیا۔۔۔ اور وہ یہی سمجھ رہے ہیں کہ یہاں پہلے سے میرا کوئی چکر تھا۔
بے چارے۔۔۔۔ اپنی دانست میں تو شاید ٹھیک ہی سوچ رہے ہیں۔۔۔ ایک تو گھر آمنے سامنے۔۔۔ پھر ملنا جلنا۔۔۔ اس کے بعد عمر کم ہونے کے باوجود اچانک اتنا کچھ ہونا۔۔۔
مجھے تو ان لوگوں کا سوچ سوچ کر ہی خوشی ہوتی ہے۔۔۔ پتا نہیں، کیا کیا سوچتے ہوں گے۔۔۔۔ 
آپ لوگ دعا کریں کہ ساری تقریب خیریت اور خوش اسلوبی سے نمٹ جائے۔
اور یہ بتائیں کہ کون کون آنا چاہتا ہے؟ (اپنے خرچے پر) :wink:
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
February 22, 2008 بوقت 8:18 pm
ہاں تو ددھیال والے کون سا غلط سوچ رہے ہیں۔ تم خود بتاؤ۔۔۔تمھارا رشتہ آنٹی نے اسی لیے نہیں جلدی کیا۔۔۔کہ ان کو تم پر شک ہو گیا تھا؟؟ اور انہوں نے سوچا کہ اس سے پہلے بچہ ہاتھ سے مکمل نکل جائے۔ ابھی سے اس کا بندوبست کر دیں۔
اب ددھیال والے یہ سمجھ رہے ہیں کہ جہاں رشتہ ہوا ہے وہیں تمھارا کوئی چکر تھا۔
(ویسے یہ بات تو مجھے بھی پتہ چل گئی تھی۔۔۔رازداں کے ساتھ رات گئے بات کرنا۔۔فون کا اتنا خرچہ۔۔۔۔میں نے تو کہا تھا ۔۔آنٹی کا فون نمبر دو۔۔۔تاکہ ان کو شکایت لگاؤں۔ لیکن ماوؤں کو بھی سارا پتہ ہوتا ہے۔
اچھا۔۔۔منگنی کی ایک تصویر ذرا بلاگ پر لگانا۔ تاکہ میں تمھاری تعریف کر سکوں۔
اور جس نے آنا ہے۔۔۔اس نے اپنے خرچے پر ہی تو آنا ہے۔ میں اپنے ایک خصوصی نمائندے کو منگنی کی خیر خبر لینے کے لیے بھیج رہی ہوں۔
میری نیک تمنائیں تمھارے لیے۔
ماوراء’s last blog post..الیکشن 2008
February 22, 2008 بوقت 9:13 pm
جی نہیں، جی نہیں۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ سمجھ آئی؟ امی نے ایسا اس لیے نہیں کیا کہ امی کو مجھ پر شک ہوگیا تھا، بلکہ اتنی جلدی اس لیے کیا کہ اس لڑکی کا رشتہ آیا ہوا تھا اور وہ لڑکی امی کو پسند آگئی تھی۔۔۔

اپنے نمائندہ جاسوس کو کہنا کہ تمہارا حوالہ دے کر مجھ سے مل لے تاکہ اس کو تمہارا مٹھائی کا ٹوکرا دے سکوں۔۔۔ بعد میں بھیجوں نہ بھیجوں، کیا پتہ۔۔۔ :wink:
باقی وہ رازداں والی باتیں۔۔۔ تو وہ تمہیں بتانے کی ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ میں نے خود ہی امی کو بتادیا تھا پہلے سے۔۔۔ میں جو بھی کام کرتا ہوں، امی کے علم میں لاکر کرتا ہوں۔۔۔ اچھا بچہ ہوں۔۔۔
اب ددھیال والے تو۔۔۔۔۔۔۔۔ :mrgreen: :mrgreen: :mrgreen: کیا کہوں ان کا۔۔۔۔۔۔
منگنی کی تصویر۔۔۔ ہممم۔۔۔ ہم اس تجویز پر غور فرمائیں گے۔
February 22, 2008 بوقت 9:17 pm
نیک تمناؤں کے لیے خلوصِ دل سے تمہارا شکریہ اور دعا کہ تم بھی اس بندھن میں جلد بندھو۔
اور شکریہ اس اپنائیت بھرے تبصرے کا بھی۔
February 22, 2008 بوقت 10:50 pm
محترم راہبر صاحب
السلامُ عليکُم
آپ کی حسين سرگرميوں کا پڑھ کر پتہ چلا کہ بے چارے راہبر صاحب کتنے مصرُوف رہے بہرحال ايسی حسين مصرُوفيت کے بعد ہي آپ کو من چاہي دُولہن ملنے والی ہے سو کوئ بات نہيں خُوش رہو اللہ تعاليٰ سے دُعا ہے کہ اس نئ زندگی کے ہر قدم پر آپ کو خُوشياں اور دلی خلُوص ملے،آمين کيُونکہ بندے آپ خلُوص والے ہو کيُونکہ جس طرح آپ نے مُجھے خُوش آمديد کيا تھا مُجھے بہت اچھا لگا تھا ليکن شايد پھر اپنی ذاتی مصرُوفيت کی وجہ سے ميری سائيٹ پر نا آ پاۓ ،بحرحال نئ زندگی کی شُرُوعات کے لۓ دلی پُرخلُوص دُعائيں
دُعاگو
شاہدہ اکرم
shahidaakram’s last blog post..دل اور کھلونے
February 23, 2008 بوقت 8:45 am
بیٹا زیادہ خوش نہ ہو ، انشاءاللہ جلد ہی دماغ درست ہو جائے گا تمہارا
قدیر احمد’s last blog post..پانی ختم
February 23, 2008 بوقت 11:38 am
شاہدہ اکرام صاحبہ!
وعلیکم السلام۔
بہت شکریہ اتنی پرخلوص دعاؤں کا۔ اور میں آپ کے بلاگ پر دوبارہ بھی آیا تھا لیکن تبصرہ اس لیے نہیں کرسکا کیونکہ تبصرہ کرنے کا اختیار آپ نے صرف رجسٹرڈ یوزرز کو دیا ہے۔ میں نے تبصرہ کرنا چاہا لیکن ایسا ممکن نہیں ہوسکا سو، صرف تحریر پڑھ کر لوٹ جانا پڑا۔
قدیر۔۔۔۔! دماغ تو اب بھی درست ہے میرا، ہاں بس تمہیں آگ لگی ہے تو۔۔۔۔۔۔۔۔
February 23, 2008 بوقت 11:39 am
بیٹا زیادہ خوش نہ ہو ، انشاءاللہ جلد ہی دماغ درست ہو جائے گا تمہارا
۔۔۔۔بات آپ نے پتے والی کی ہے۔ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ–
جیسے اس کا ہو گیا تھا۔
عمار تمہیں بہت مبارک ہو۔ اب جب کے تمہاری ذمہ داریاں بڑھ رہی ہیں تو کام پر مزید توجہ دو اور کیرئیر بنانے کی تگ و دو کرو۔
February 23, 2008 بوقت 1:52 pm
February 23, 2008 بوقت 4:21 pm
محترم راہبر صاحب
السلامُ عليکُم
اُمّيد ہے آپ بخير بھی ہوں گے اور مصرُوف بھی ليکن جيسا کہ آپ سب بھن بھائيوں نے وعدہ کيا تھا کسی بھی قسم کی مدد کی ضرُورت ہو تو ، تو آپ ميرے بلاگ پر آکر واپس لوٹ گۓ سو اس کی جو بھی وجہ ہو وہ دُور کرنے ميں ميری مدد کريں اور بتائيں کہ کيسے اور کہاں سے کيا کرنا ہے ؟اور پھر ہر تحرير پر وقت ملنے پر آرا ديں ميں مُنتظر رہُوں گی ،دُعائيں نئ خُوشيوں کی شُرُوعات کے لۓ
دُعاگو
شاہدہ اکرم
February 24, 2008 بوقت 1:08 am
سامنے والے گھر میں رہنے والا چاند کا ٹکڑا مبارک ہو
منگنی مبارک ہو راہبر ۔ 
February 24, 2008 بوقت 9:40 am
تمہیں کہا تھا نا تھوڑا سا انتظار کر و ایسی بھی کیا جلدی تھی منگنی کی لڑکی کو کچھ سوچ لینے دیتے بے چاری کو۔۔:Pہاہاہا میرا خال تھا کے 3 ہفتے ٹھر کے عیعنی 23 مارچ کو کر لیتے منگنی تاریخی کام تو پبھ اچھی تاریخ پے ہی ہونا چاہیے نا۔۔۔۔۔ کیا خیال ہے
February 25, 2008 بوقت 2:02 pm
وعلیکم السلام شاہدہ اکرام صاحبہ۔


اب تو خیر سے مصروفیت اس قدر نہیں رہی ہے۔ مجھے اپنا وعدہ یاد ہے۔ آپ اپنے بلاگ پر لاگ۔ان ہوکر اوپر مینیو میں سے آپشنز میں جائیں۔ وہاں جو صفحہ آپ کو نظر آئے گا اس میں ایک آپشن یہ بھی ہوگا:
Users must be registered and logged in to comment
میرے خیال میں آپ نے اس پر چیک لگادیا ہے۔ اس آپشن کو ان۔چیک کردیجئے تاکہ تبصرہ کرنے کے لیے لاگ۔ان ہونا ضروری نہ رہے۔
حجاب! بہت شکریہ۔
ویسے چاند کے ٹکڑے سے تشبیہہ کیسے دی جاسکتی ہے؟ ممکن ہے کہ اس سے بڑھ کر ہو۔۔۔
زینب! بہت برا خیال ہے۔
March 1, 2008 بوقت 7:38 am
عمار، تم نے تو شجرہ نسب منگوا بھی لیا ہے۔ میرے ابا جان کو پتہ نہیں یاد بھی ہے کہ نہیں۔ :roll:
۔۔۔
نیک تمناؤں کے لیے خلوصِ دل سے تمہارا شکریہ اور دعا کہ تم بھی اس بندھن میں جلد بندھو۔
۔۔
آمین۔۔ لیکن مجھے ابھی جلدی نہیں ہے۔ ابو کو بہت جلدی ہے۔ لیکن میں ہاتھ نہیں آ رہی۔ اس لیے ابھی تمھارے دعا کی قبول نہیں ہو سکتی۔
ماوراء’s last blog post..The Kite Runner