کہانی ختم
ایک نے کہا کہ سولی پر چڑھ جاؤ، دوسرے نے کہا، انتظار کس کا ہے؟ تیسرے نے کہا کہ کسی کی خاطر انکار نہ کرنا، جلدی سے ہاں کردو۔۔۔۔ اور میرے سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے سے پہلے ہی سب کچھ ہوگیا۔ امی نے میرا رشتہ طے کردیا۔ :sad:
اب خاندان میں ایک طرف سے آواز اٹھتی ہے، اتنی جلدی کیا پڑی تھی؟ دوسرا کہتا ہے کہ ابھی عمر ہی کیا ہے۔ دادی کہتی ہیں، اتنا اچانک؟ پہلے سے کوئی چکر تھا کیا؟ چاچی نے امی سے کہا، تم تو مجھے ہر بات بتاتی تھیں، پچھلے ہفتہ ہی ملاقات ہوئی تھی، تو یہ بات کیوں چھپائی؟ اب ان کو بتائیں کہ یہ سب طوفان تو چار دن ہی میں کھڑا ہوگیا ہے۔ نانا، نانی کہتے ہیں، بہت اچھا کیا، مبارک ہو۔ خالہ کہتی ہیں، خوشی کی بات ہے۔ لیکن کوئی مجھ سے نہیں پوچھتا۔
گزری منگل یا بدھ، امی کو خیال آیا کہ لوگ دیکھے بھالے ہیں، لڑکی کے رشتے بھی آئے ہوئے ہیں تو کیوں نہ وہ بھی میری بات کردیں۔۔۔ اور اگلے ہی دن امی نے وہاں جاکر یہ بات کردی۔ ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ کہنے لگے، گھر جیسی تو بات ہے۔ ان کا ارادہ تھا کہ استخارہ کریں گے۔ میں نے آس لگائی کہ شاید استخارہ میں منع ہوجائے لیکن بعد میں انہوں نے کہا کہ جب دل مطمئن ہو تو استخارہ کی کیا ضرورت۔۔۔ پھر لڑکی والوں نے کہا اچھا خاندان میں بات کرکے حتمی جواب دیں گے۔ مجھے امید تھی کہ شاید خاندان کی جانب سے انکار ہو لیکن ان کے خاندان والے بھی بڑے مطمئن۔ دیکھے بغیر کہہ دیا کہ جب گھر جیسی بات ہے تو پھر مزید انتظار کی ضرورت نہیں۔ لو جی، سنیچر کو منہ میٹھا کروادیا گیا۔۔۔۔ ایک ہفتہ سے بھی کم کی مدت میں سب کچھ طے پاگیا۔ ![]()
ہمارے ہاں ماضی قریب میں اتنی جلدی رشتہ طے ہونے کی مثال نہیں ملتی اور نہ ہی ایسی کوئی مثال ملتی ہے کہ اتنی آسانی سے ماں/ باپ کی مرضی پر کسی نے اپنی مرضی قربان کردی ہو۔۔۔۔!
اب کوئی مجھے شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور کوئی بے وفائی کا الزام لگاتا ہے۔۔۔۔
لیکن کہانی ختم ہوچکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔!
میرا یقین کیجئے، میں واقعی بہت شریف ہوں۔ ![]()
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
February 5, 2008 بوقت 12:20 pm
میری اتنی فرماں برداری۔ فٹ سولی پر چڑھ گئے۔ میرے خیال سے تو خود بھی دل میں لڈو پھوٹے ہونگے۔
:wink:
المیہ تو میرے ساتھ ہوتا ہے آپ کے ساتھ کہاں۔
پہلے لڑکی نہیں مانتی
لڑکی مان جائے تو اس کی ماں نہیں مانتی۔
وہ بھی مان جائے تو استخارہ صحیح نہین ہوتا
استخارہ صحیح ہو جائے تو خاندان نہین مانتا
لوگ مجھے شک تو کیا کسی بھی قسم کی نظر سے نہین دیکھتے اور لڑکیاں تو کسی نظر سے نہیں دیکھتی۔
لیکن میرا یقین کرو میں پھر بھی بہت شریف ہوں۔
بدتمیز’s last blog post..no one
February 5, 2008 بوقت 12:23 pm
مبارک ہو آپ کی منگنی ۔
اجمل’s last blog post..اہلیانِ جموں کشمیر کی پُکار
February 5, 2008 بوقت 12:47 pm
جناب مبارک ہو منگنی!!
شعیب صفدر’s last blog post..یوم یکجہتی کشمیر مگر۔۔۔۔۔۔
February 5, 2008 بوقت 1:21 pm
یقینآ ہومی صاحبہ ہوں گی ۔ وہی ہے یا کوئی اور ہے؟
مزے ہیں میاں ، ایک ہم ہیں کہ نہ اماں ابا کو پرواہ ہے ، نہ کوئی منہ لگاتی ہے
قدیر احمد’s last blog post..Allok Video Converter
February 5, 2008 بوقت 1:24 pm
شادی کی کیا تاریخ رکھی ہے؟
قدیر احمد’s last blog post..پاکستانی ٹی وی چینلز
February 5, 2008 بوقت 2:07 pm
واہ واہ ۔ مبارک ہو۔ اور مٹھائی کھا کر رو رہے ہو؟؟ :roll:

لگتا ہے آنٹی کو پتہ چل گیا ہو گا کہ بچہ ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے، جلدی سے اس کا کام ختم کرو۔
ویسے تم استخارہ ابھی بھی کر سکتے ہو۔ دیر کبھی نہیں ہوتی۔ اور امید ہے کہ تمھاری شادی کی جلدی نہیں کی جائے گی۔ کیونکہ میری نظر میں ابھی تم بچے ہی ہو۔
اب مجھے تو ٹریٹ لینی ہے۔ یا مٹھائی کا ٹوکرا بھجوا دو۔
ماوراء’s last blog post..موسم کا حال
February 5, 2008 بوقت 2:10 pm
اف، اتنی ٹائپنگ غلطیاں ہو گئی ہیں۔ جاب کے کمپیوٹر پر اردو لکھتے ہوئے ڈبے آ جاتے ہیں۔ اس لیے پتہ ہی نہیں چلا۔ میرے تبصرے کو ایڈیٹ کر دینا۔
کم از کم بچی کی جگہ “بچہ” لکھ دینا۔
ماوراء’s last blog post..موسم کا حال
February 5, 2008 بوقت 3:23 pm
[...] More: continued here [...]
February 5, 2008 بوقت 3:55 pm
اور ہاں، کہانی ختم نہیں۔۔۔کہانی تو ابھی شروع ہوئی ہے۔
ماوراء’s last blog post..موسم کا حال
February 5, 2008 بوقت 4:25 pm
اتنی چھوٹی عمر میںاتنی بڑی ذمہ داری، خدا آپ کا حامی و ناصر ہو۔
منگنی کی مبارکک قبول کیجئے۔
میرا پاکستان’s last blog post..بارہ مئی کا سانحہ اور سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ
February 5, 2008 بوقت 5:26 pm
اففف۔۔۔۔ دماغ اس قدر خراب تھا لیکن آپ لوگوں کے تبصرے پڑھے تو مزاج خوشگوار ہوگیا۔
انتہائی بے غیرت ہو۔۔۔ ہُمی میری کزن ہے۔۔۔۔ اور صرف دوست۔۔۔ جس سے رشتہ طے ہوا ہے، وہ کوئی اور لڑکی ہے۔
بدتمیز! آپ کی شرافت کے تو خیر کیا ہی کہنے۔ اب تو کوئی بھی یقین نہیں کرے گا۔ ویسے جو آج کل آپ کے مزاج نہیں مل رہے ہیں، کہیں اس کا سبب یہی تو نہیں کہ مجھے ملنے والی خوشی سے جلن ہورہی ہو۔۔۔
اجمل صاحب اور شعیب بھائی! بہت شکریہ۔
قدیرررررررر۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
شادی چونکہ ابھی نہیں کررہا، اس لیے کوئی تاریخ مقرر نہیں ہوئی۔
ماوراء! بہت بہت شکریہ۔ ہممم۔۔۔۔۔ مان لیتا ہوں تمہاری بات کہ ابھی بچہ ہوں میں۔ شادی کے لیے پریشان نہ ہو۔۔۔ تین/ چار سال بعد ہوگی۔۔۔۔۔ خوش؟ منگنی شاید مارچ کے مہینہ کے آغاز میں ہو۔ مٹھائی کا ٹوکرا کہاں بھیجوں؟
تبصرے میں زیادہ غلطیاں تو نہیں تھیں۔ بس وہ “بچی” لکھنا ذرا غلط تھا۔ :mrgreen: ٹھیک کردیا ہے میں نے۔
کہانی شروع تو ہوئی ہے لیکن ایک کہانی ختم بھی تو ہوگئی ہے۔
افضل صاحب! بہت شکریہ۔ دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔
February 5, 2008 بوقت 8:10 pm
لے دس اتنی جلدی؟
بڑے فرماں بردار ہو میاں۔ میں ہوتا تو جنگل کو نکل جاتا اس سے پہلے ہی۔
مبارک ہو۔۔۔اب میرا بھائی ذرا یہ ادھر ادھر تانکا جھانکی نہ کرنا اور بغیر “روٹ” کے ایس ایم ایس کرنا بھی بند کردے۔ ذمہ دار بچہ بن جا کہ اب تمہارا کھونٹا گاڑا جاچکا ہے۔ ادھر ادھر پھرے گا تو پچھتائے گا۔۔
محمد شاکر عزیز’s last blog post..گلوبل سائنس کی مدد کیجیے
February 5, 2008 بوقت 9:50 pm
جیلس :shock: نہ جی میں کسی سے جیلس نہیں ہوتا۔ میرے فسانے کا سب سے دردناک حصہ تو رہ گیا کہ اگر سب مان جائیں تو میری اپنی امی نہیں مانتی۔ لہذا پھر ایک نئے سرے سے تلاش :wink:
بدتمیز’s last blog post..میں کتھے جاواں میں منجی کتھے ڈاواں
February 6, 2008 بوقت 11:30 am
کیا کریں بھائی ہر “پرھیز گار” جوان کی زندگی میں یہ دن تو آتا ہی ہے ۔ ۔ ۔ مگر ایک بات سچ ہے ۔ ۔ انسان کو انسان “دوسری” انسان ہی بناتی ہے ۔ ۔ ۔”خوچہ ” مبارک ہو ۔ ۔ ۔
February 6, 2008 بوقت 12:16 pm
شاکر بھائی! یہ بغیر “روٹ” کے ایس ایم ایس کیا ہوتے ہیں؟ :?: ویسے ایس۔ایم۔ایس ابھی رکے نہیں ہیں۔۔۔ شاید آہستہ آہستہ کوئی فرق پڑے۔ :wink:
ویسے اگر آپ کے دردناک فسانے کا آخری حصہ امی کا ماننا ہے تو آپ ایسا کریں کہ امی کو منانے سے ہی شروع کریں۔۔۔ 
بدتمیز۔۔۔! مجھے تو اب بھی شبہ ہے۔
اظہر الحق صاحب! شکریہ جی شکریہ۔
February 6, 2008 بوقت 1:27 pm
میرے عزیز یہ روٹ اب تم بھابھی سے پوچھو انشاءاللہ طبیعت کی صفائی بھی ہوگی اور صراط مستقیم پر بھی آجاؤ گے۔
محمد شاکر عزیز’s last blog post..ایک بھاگا ہوا بچہ
February 6, 2008 بوقت 2:35 pm
زبردست عمار ۔۔ تم نے تو بڑے بڑوں کو پیچھے چھوڑ دیا ۔۔
بہت بہت مبارک ہو ۔۔ اتنے چھوٹے تو تم ہو ۔۔ لڑکی تو اور بھی چھوٹی ہوگی ۔۔ کتنا کیوٹ لگتا ہوگا کپل ۔۔
میں نے امی کو بھی پڑھائی تمہاری کہانی ۔:razz: کیونکہ ان کے خیال میں کراچی کے لوگ جلدی شادی یا منگنی نہیں کرواتے اپنے بیٹوں کی ۔۔ ان کی طرف سے بھی مبارک ۔۔ 
February 6, 2008 بوقت 2:38 pm
اتنے ڈبے بن رہے ہیں لکھتے ہوئے ۔۔ ان ڈبوں میں غلطی تو نظر ہی نہیں آتی :sad: ۔۔ میری غلظیاں بھی ٹھیک کر دینا عمار ۔۔
February 6, 2008 بوقت 2:40 pm
اس کا مطلب طوطا فال والے کی”دلی مراد جلد پوری ہو گی”پیشن گوئی بلکل ٹھیک ثابت ہوئی۔اب جلدی سے جو جو اس بےچارے طوطے کے خلاف لکھا تھاحزف کر کے طوطا بزرگ سے معافی مانگو۔۔۔۔اور یہ بدتمیز پے احسان کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی تمہیں۔۔
ویسے مبارک ہو یار اللہ آپ کو خوش رکھے نہیں بلکے اس دعا کی لڑکی کو اشد ضرورت ہے۔۔
February 6, 2008 بوقت 3:01 pm
شاکر بھائی۔۔۔۔!
ہاں، واقعی میں کراچی والے اتنی جلدی نہیں کرتے۔۔۔ بس میری امی نے کچھ زیادہ ہی جلدی دکھائی ہے۔۔۔
تم فی الحال میرے لیے ہی دعا کرو۔ :wink:
سارہ! بلاگ پر خوش آمدید۔ بہت اچھا لگا کہ کسی بہانے تو بلاگ پر آمد ہوئی۔۔۔ زہے شرف۔۔۔
لڑکی مجھ سے دو، تین سال ہی چھوٹی ہے۔ ویسے چونکہ ماوراء کا مشورہ ہے کہ ابھی شادی نہ کروں اس لیے جب ماوراء مان لے گی کہ میں بڑا ہوگیا ہوں، تب شادی کروں گا۔ :mrgreen:
زینب! طوطا فال والے بزرگ نے جو بتایا تھا، وہ تو بالکل غلط ہوگیا۔ دو سالوں سے میرا جو سپنا تھا، وہ ٹوٹ گیا تو اب تو بابا جی کی ٹھیک سے کلاس ہونی چاہئے نا۔
مبارکباد پر شکریہ۔۔۔ اور خیر مبارک۔ لڑکی کو دعا کی ضرورت؟؟؟؟
February 6, 2008 بوقت 4:14 pm
کہانی شروع تو ہوئی ہے لیکن ایک کہانی ختم بھی تو ہوگئی ہے۔
——–
اگر بچے نہ ہوتے تو یہ کہانی بھی ختم نہ ہونے دیتے۔ تم بچے ہی ہو جو یہ کہانی ختم کر دی ہے۔ اور اب ختم کر ہی دی ہے تو ذرا اچھے بچے بنو، ورنہ سسرال والوں کو پتہ چلا کہ بچہ تو کہیں اور ایس ایم ایس کر رہا ہے تو کام الٹا ہو جائے گا۔ :neutral:
چلو، منگنی کے بعد میں تمھیں بتاتی ہوں کہ مٹھائی کا ٹوکرا کہاں بھیجنا ہے۔
ویسے زینب کی بات سے یاد آیا کہ طوطا فال نے تو واقعی کام کر دکھایا ہے۔ اسی لیے میں بھی نکلوانا چاہ رہی تھی۔
ماوراء’s last blog post..موسم کا حال
February 6, 2008 بوقت 4:46 pm
اففف۔۔۔۔ اب تک سب لوگ ایس۔ایم۔ایس کے پیچھے پڑے ہیں۔۔۔ میری وضاحت کا یقین کریں، وہاں ایسا کوئی چکر نہیں ہے، کوئی گڑبڑ نہیں ہے۔۔۔۔ :neutral: صرف ایک کزن اور ایک دوست۔ ویسے اب اس نے اگر اتنا کچھ پڑھ لیا نا تو میری کلاس ہوجانی ہے۔۔۔

طوطا فال والے بابا نے الٹی پیشین گوئی کی تھی۔۔۔۔۔ اب مجھے ان کی کلاس لینی پڑے گی۔
February 6, 2008 بوقت 7:02 pm
آپ تو یوں ری ایکٹ کررہے ہیں جیسے سولی پر خوشی خوشی چڑھ گئے ہوں
شاید یوں بھی ہو سکتا ہے کہ سولی پر چڑھنا آسان ہو مگر اس سولی سے خدا بچائے
یہ بات تو کوئی مجھ سے پوچھے :shock:
February 6, 2008 بوقت 7:48 pm
:shock:
میں تو اتفاقاً ہی ادھر آنکلا
ورنہ مجھے تو اس حادثے کا علم ہی نہیں ہوتا۔
فڈ یار تم نے تو واقعی کافیوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے :wink:
بہت بہت مبارک ہو
اور ہاں اپنی شادی میں بلاؤ گے یا نہیں
February 7, 2008 بوقت 10:59 am
سارہ باجی کی بات سنجیدگی سے مت لینا جب تک کپل کی تصویر دیکھ کر لوگ تعریف نہ کریں۔
شازل نے کتنے مزے کا لکھا ہے۔ آپ بھی ایسے ہی ہو جائینگے۔
ایس ایم ایس کا اچھا ریکارڈ لگ چکا ہے اس کی تفصیل اب چھاپو :lol:
اور مجھ پر کونسا احسان کیا ہے
سسرال والی نصیحت غور سے سنو اور باجی کو فال نکلوا دو بابا جی کو پہلے بتا دینا کہ باجی کے لئے ہے۔ :mrgreen:
بدتمیز’s last blog post..کارٹون
February 7, 2008 بوقت 11:00 am
شازل! شکریہ۔
فہیم! خیر مبارک۔ شادی میں صرف بلاگرز کو بلاؤں گا اس لیے بلاگ لکھنا شروع کردو سیدھی شرافت سے۔
February 7, 2008 بوقت 11:38 am
بدتمیز! میں نے تو آپ کی باتوں کو بھی سنجیدہ نہیں لیا ہے۔

میں بھی سوچ رہا ہوں کہ کونسا احسان کیا ہے میں نے؟ اور یہ باجی باجی کیوں ہورہا ہے؟
February 7, 2008 بوقت 4:17 pm
عمار لگتا ہے ہے بدتمیز انکل سے آپ کی تعریف ہضم نہیں ہوئی ۔۔۔

February 7, 2008 بوقت 4:26 pm
ہاں سارہ! مجھے بھی لگ رہا ہے کہ کچھ لوگوں کو کافی جلن ہورہی ہے۔ :wink:
February 7, 2008 بوقت 9:46 pm
راہبر تمہیں ”لګ ډیر“ مبارک ہو۔ اور ہاں منگنی میں حاضر رہنا۔۔۔میری طرح نہیںجسے اپنی منگنی کی تاریخ اور دن کا نہیں پتہ تھا۔
ساجداقبال’s last blog post..ونڈوز جینوئن ایڈوانٹیج(WGA) کی سردردی سے نجات
February 8, 2008 بوقت 4:25 pm
ساجد آپ نے ” لکھ ڈھیر ” سندھی میں لکھا ہے ؟۔۔
February 8, 2008 بوقت 5:00 pm
اور ہاں میری طرح بھی نہیں کہ منگنی ہو گئی اور حضرت کو معلوم بھی نہیں کہ کھونٹے میں بندھے جا چکے ہیں۔
خیر “دیر آید درست آید” کے مصداق “لکھ لکھ مبارکوں” (مادری زبان سندھی میں)
ابوشامل’s last blog post..کولمبس – تصویر کا دوسرا رخ
February 8, 2008 بوقت 5:01 pm
اور ہاں اس خوشی میں میری تھیم بھی جلدی دے دو
ابوشامل’s last blog post..کولمبس – تصویر کا دوسرا رخ
February 8, 2008 بوقت 6:20 pm
سارہ! یہ شاید ساجد بھائی نے پشتو میں لکھا ہے۔
ابوشامل! شکریہ۔ تھیم کا مجھے یاد ہے اور شرمندگی کا احساس بھی۔ :sad: بس دعا کریں کہ جلد ہی فرصت کے لمحات میسر آئیں۔
February 8, 2008 بوقت 8:13 pm
تے پھر میری ولوں بھی مبا رک با د :mrgreen: ( میر ی طرف سے بھی مبا رک با د (
February 10, 2008 بوقت 4:22 pm
عمار ایک ہی وقت میں ہنس بھی رہے ہیں اور رو بھی رہے ہیں
اور کہانی ختم ہو گئی ، لیکن کیوں ؟
February 10, 2008 بوقت 11:58 pm
اسلام علیکم
عمار آپ کو میری طرف سے بھی مبارک ہو۔ ویسے جناب کی عمر کتنی ہے؟ جو جلدی جلدی کا شور کررہے ہو۔
عدنان زاہد’s last blog post..Hello world!
February 11, 2008 بوقت 10:26 am
روسی شہری! شکریہ۔

شگفتہ آپی! بس کیا بتاؤں۔۔۔۔
عدنان زاہد! خیر مبارک۔ شکریہ۔ میری عمر۔۔۔۔۔۔۔۔ صرف 21 سال۔
February 11, 2008 بوقت 12:50 pm
کتنی معصومیت سے عمر بتا رہے ہیں صرف 21 سال۔ ہمارے گاؤں میں 21 سال کی عمر میں لڑکوں کے کم از کم دو بچے ضرور ہوتے ہیں
ابوشامل’s last blog post..کولمبس – تصویر کا دوسرا رخ
February 14, 2008 بوقت 5:07 pm
راہبر بہت بہت مبارک ہو۔
مبروک یا اخی۔
ست ست مبارکاں
الف نظامی’s last blog post..باد می گویم سخن
February 15, 2008 بوقت 5:27 pm
بہت بہت مبارک ہو راہبر بھائی
بس ایک بات کھٹکی ہے کہ جب پہلے سے لڑکی کے ہاں رشتے گئے ہوئے تھے تو کہا جاتا ہے کہ ایسے میں “دخل اندازی” نہیںکرنی چاہیئے
اللہ تعالٰی آپ کی آئیندہ زندگی میں برکت اور حلم بڑھائیں
February 15, 2008 بوقت 6:14 pm
الف نظامی اور قیصرانی بھائی جان! آپ دونوں کا بہت شکریہ۔
قیصرانی بھائی! یہاں تو میں نے ایسی کوئی بات نہیں دیکھی بلکہ عموما ہوتا ایسا ہے کہ جب کسی لڑکی کا رشتہ آتا ہے تو جس جس کو پتا چلتا ہے، اگر وہ اس لڑکی کا رشتہ چاہے تو جلد سے جلد وہ بھی رشتہ بھیج دیتا ہے تاکہ ان سب لوگوں کے بیچ میں لڑکی والے کسی کو پسند کریں اور ان کے پاس مختلف ورائٹی موجود ہو تاکہ منتخب کرنے میں آسانی رہے۔