کھویا کھویا سا

307 views February 28, 2008 | راہبر
No Gravatar

واقعی۔۔۔ آج کل میرا دماغ کام نہیں کررہا ہے۔ نہ یہ سمجھ آتی ہے کہ کس سے کیا بات کرنی ہے اور نہ ہی کچھ پلے پڑتا ہے۔ بس م۔س۔ن پر یا تو بدتمیز کا دماغ کھارہا ہوتا ہوں یا زینب کا۔ اور تو اور، اتنے دن سے نہ تو بیاض پر کچھ لکھ سکا ہوں اور نہ ہی کچھ بے چاروں کے بلاگ پر تبصرہ کرسکا :razz: کھویا کھویا سا رہتا ہوں۔۔۔ نہیں۔۔۔ کسی کے خیالوں میں نہیں کھویا۔۔۔ آپ میرا یقین کریں۔۔۔ :smile: یہ غائب دماغی کسی کے خیالات کی وجہ سے نہیں ہے۔۔۔ بس ایویں ہی ہے۔۔۔

ابھی میرے پاس ایک دو اچھے موضوعات ہیں بیاض پر لکھنے کے لیے لیکن ان کو چھوڑ کر یہ اوٹ پٹانگ لکھ رہا ہوں۔ آج جمعرات ہے۔۔۔ جمعہ سے سوموار تک کی چھٹی لی ہے دفتر سے۔۔۔ اتوار کو تقریب ہے۔ مجھے نہیں پتا کہ گھر میں کتنی تیاریاں مکمل ہوگئی ہیں۔۔۔ اور تقریب کے لیے کیا کیا فائنل ہوا ہے۔۔۔ کیا کیا ہونا ہے۔۔۔ میں گھر میں ہوکر بھی نہیں ہوتا۔۔۔ کل سے کزنز آجائیں گی۔۔۔ پھر ہلا گلا، شور شرابا۔۔۔!

دفتر کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ پر بھی سوموار تک غیر حاضر رہوں گا۔ منگل کو آمد ہوگی۔ تب شاید کوئی نئی تحریر لکھ سکوں۔۔۔ تب تک کے لیے اجازت۔۔۔

دعاؤں میں یاد رکھیں۔

سرگرمیاں

294 views February 22, 2008 | راہبر
No Gravatar

افففف۔۔۔۔ کام کا زور آخرکار ٹوٹ گیا۔ بس اب تھوڑا بہت جو کچھ ہے، وہ سنیچر یعنی آنے والی کل تک ہے پھر اس کے بعد سکون۔۔۔ وہی روز مرہ کی طرف لوٹ جانا ہے۔ لیکن تب گھر میں سرگرمیاں شروع ہوجانی ہیں۔ دو مارچ کو رشتہ طے ہونے کی باقاعدہ رسم کا فیصلہ ہوا ہے۔ سو اب اس حوالہ سے کام شروع ہوجائے گا۔ جو تیاریاں رہتی ہیں، انہیں نمٹایا جائے گا۔ کپڑے تو شاید سبھی کے بن چکے ہیں۔ نانی کو تو کہہ دیا ہے کہ منگل/ بدھ سے ہی آجائیں۔ نانی کے بھائی سے ان کا شجرہ نسب بھی منگوالیا ہے تو سوچا ہے کہ فرصت میں اس پر بھی کام کروں گا۔ اس لیے نانی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ خالہ زاد بہنوں کو بھی ایک، دو دن پہلے سے آنے کا کہا ہے۔ باقی بچا ددھیال تو اس کی عین وقت پر شرکت کرلینا ہی کافی ہے۔۔۔ اس سے زیادہ ضرورت نہیں۔
ایک دلچسپ بات۔۔۔ میرے ددھیال والے اب تک حیران ہیں کہ اچانک یہ سب کیسے ہوگیا۔۔۔ اور وہ یہی سمجھ رہے ہیں کہ یہاں پہلے سے میرا کوئی چکر تھا۔ :razz: بے چارے۔۔۔۔ اپنی دانست میں تو شاید ٹھیک ہی سوچ رہے ہیں۔۔۔ ایک تو گھر آمنے سامنے۔۔۔ پھر ملنا جلنا۔۔۔ اس کے بعد عمر کم ہونے کے باوجود اچانک اتنا کچھ ہونا۔۔۔
مجھے تو ان لوگوں کا سوچ سوچ کر ہی خوشی ہوتی ہے۔۔۔ پتا نہیں، کیا کیا سوچتے ہوں گے۔۔۔۔ :smile:
آپ لوگ دعا کریں کہ ساری تقریب خیریت اور خوش اسلوبی سے نمٹ جائے۔
اور یہ بتائیں کہ کون کون آنا چاہتا ہے؟ (اپنے خرچے پر) :wink:

دنیا کی ایسی تیسی

303 views February 14, 2008 | راہبر
No Gravatar

“ازل”۔ پاکستانی موسیقی کی دنیا میں ایک نیا بینڈ۔ شاید سبھی ارکان کا تعلق کراچی سے ہے۔ “دنیا کی ایسی تیسی” ان کا پہلا گیت نظر آیا ہے اور بہت دلچسپ ہے۔ آپ بھی لطف اندوز ہوں۔
سننے کے لیے یہاں
دیکھنے کے لیے یہاں

Azal - Aisi Taisi
Azal - Aisi Taisi….
Hosted by eSnips

کوئی ہم کو سہارا دے، جینا ہم کو دوبارہ دے
زندگی ہے۔۔۔ کوئی نام دے!
ہوووو۔۔۔!

کوئی ہم کو سہارا دے، جینا ہم کو دوبارہ دے
چاہتوں کا ہم کو جام دے!

سسٹم کی غلامی کیوں کریں؟
ڈر ڈر کے کا ہے کو مریں؟
پیسا ہے پاس۔۔ تو کیوں اداس؟
مار ٹھوکر
دنیا کی ایسی تیسی۔۔۔!

کیسی یہ ویرانی ہے، جھوٹا آنکھ کا پانی ہے
کس کو ہم اپنا سمجھیں؟ کون اپنی دیوانی ہے؟

گھٹ گھٹ کے جینا چھوڑ دے
آنسو کو پینا چھوڑ دے
پیسا ہے پاس، تو کیوں اداس؟
مار ٹھوکر
دنیا کی ایسی تیسی۔۔۔!

کوئی ہم کو سہارا دے، جینا ہم کو دوبارہ دے
زندگی ہے۔۔۔ کوئی نام دے!
ہوووو۔۔۔!

کوئی ہم کو سہارا دے، جینا ہم کو دوبارہ دے
چاہتوں کا ہم کو جام دے!

سسٹم کی غلامی کیوں کریں؟
ڈر ڈر کے کا ہے کو مریں؟
پیسا ہے پاس۔۔ تو کیوں اداس؟
مار ٹھوکر
دنیا کی ایسی تیسی۔۔۔!

جلتی آگ ہے سینے میں، روشنی ہے گھیرے میں
کانٹوں کی یہ دلدل ہے، جینا کتنا مشکل ہے

چھڈ یارا۔۔۔ رونا چھوڑ دے
دنیا کی رسمیں توڑے
قسمت ہے ساتھ، تو کیوں اداس؟
مار ٹھوکر
دنیا کی ایسی تیسی۔۔۔!

کوئی ہم کو سہارا دے، جینا ہم کو دوبارہ دے
زندگی ہے۔۔۔ کوئی نام دے!
ہوووو۔۔۔!

کوئی ہم کو سہارا دے، جینا ہم کو دوبارہ دے
چاہتوں کا ہم کو جام دے!

سسٹم کی غلامی کیوں کریں؟
ڈر ڈر کے کا ہے کو مریں؟
پیسا ہے پاس۔۔ تو کیوں اداس؟
مار ٹھوکر
دنیا کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

مصروف

303 views February 11, 2008 | راہبر
No Gravatar

میں آج کل بے حد مصروف ہوں۔ دفتر سے رات نو/ دس بجے تک گھر واپسی ہوتی ہے۔۔۔ تب تھکن اتنی ہوتی ہے کہ کھانا کھاکر کچھ دیر ٹی۔وی کے سامنے بیٹھتا ہوں اور پھر عشاء پڑھ کر سوجاتا ہوں۔

اس لیے جن پروجیکٹس میں ہاتھ ڈالا ہوا تھا یا ٹانگ اڑائی ہوئی تھی، ان کی طرف بالکل توجہ نہیں دے پارہا ہوں اور ساتھ ساتھ بلاگنگ بھی کچھ دن تک ایسے ہی سست سست رواں رہے گی۔۔۔ ان شاء اللہ فروری کے اختتام یا مارچ کے آغاز سے دوبارہ فعال ہوسکوں گا۔

دعاؤں میں یاد رکھیں۔

Vanessa Carlton

314 views February 7, 2008 | راہبر
No Gravatar

چلیں۔۔۔ کیوں نہ آپ کو اس سے متعارف کراؤں جو میری نئی ہیروئن ہے۔ :smile: کیا ہوا؟ کچھ غلط سمجھے کیا؟ :shock: نہیں جی۔۔۔! میں تو Vanessa Carlton کی بات کررہا ہوں۔ :razz:

Vanessa Carlton ایک معروف امریکی گلوکارہ ہے۔ آج کل میں اس کا دیوانہ ہوا ہوں۔ :wink: اس لیے سوچ رہا ہوں کہ کیوں نہ اس کے بارے میں کچھ لکھوں۔

Vanessa Carlton۔ گلوکارہ اور موسیقارہ۔ موسیقی کے آلات میں کیبورڈ پیانو بجانے میں اسے مہارت حاصل ہے۔ عام طور سے اپنے گیت بھی خود ہی لکھتی ہے۔ یہ 16 اگست 1980ء کو مل فورڈ، پینسلوانیا میں پیدا ہوئی۔ اس کا باپ Ed Carlton ایک پائلٹ تھا اور ماں Heidi ایک اسکول میں موسیقی کی استاد تھی۔ Vanessa کو سب سے زیادہ مقبولیت اس کے گیت A Thousand Miles سے ملی جو اس کی پہلی البم میں شامل تھا۔ یہ پہلی البم Be Not Nobody اپریل 2002ء میں ریلیز ہوئی جس میں 11 گیت شامل تھے۔
Harmonium اس کا دوسرا البم تھا جو نومبر 2004ء میں ریلیز ہوا جس کے گیت مجھے کچھ زیادہ پسند نہیں آئے۔

Vanessa کا تیسرا البم Heroes and Theives اکتوبر 2007ء میں ریلیز ہوا اور مقبولیت کے جھنڈے گاڑے۔ خود Vanessa Carlton کا کہنا ہے کہ یہ وہ بہترین گیت ہیں جو میں نے لکھے ہیں۔ وہ کہتی ہے کہ یہ واقعی ایک حقیقی البم محسوس ہوتا ہے۔ اس البم کا پہلا گیت Nolita Fairytale دراصل اس کی زندگی ہی کی کہانی ہے جو Nolita میں گزری۔ (Nolita نیویارک سے متصل علاقہ ہے شاید)

یوٹیوب سے ویڈیوز دیکھیں:
A Thousand Miles
Ordinary Day (میرا پسندیدہ ترین گیت)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویسے میں نے اتنا لکھنے کے بعد پڑھا کہ:
Although she was not raised in any religion, she has referred to herself as “Jewish” and said she was “spiritual”.
:sad:

کہانی ختم

653 views February 5, 2008 | راہبر
No Gravatar

ایک نے کہا کہ سولی پر چڑھ جاؤ، دوسرے نے کہا، انتظار کس کا ہے؟ تیسرے نے کہا کہ کسی کی خاطر انکار نہ کرنا، جلدی سے ہاں کردو۔۔۔۔ اور میرے سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے سے پہلے ہی سب کچھ ہوگیا۔ امی نے میرا رشتہ طے کردیا۔ :sad:
اب خاندان میں ایک طرف سے آواز اٹھتی ہے، اتنی جلدی کیا پڑی تھی؟ دوسرا کہتا ہے کہ ابھی عمر ہی کیا ہے۔ دادی کہتی ہیں، اتنا اچانک؟ پہلے سے کوئی چکر تھا کیا؟ چاچی نے امی سے کہا، تم تو مجھے ہر بات بتاتی تھیں، پچھلے ہفتہ ہی ملاقات ہوئی تھی، تو یہ بات کیوں چھپائی؟ اب ان کو بتائیں کہ یہ سب طوفان تو چار دن ہی میں کھڑا ہوگیا ہے۔ نانا، نانی کہتے ہیں، بہت اچھا کیا، مبارک ہو۔ خالہ کہتی ہیں، خوشی کی بات ہے۔ لیکن کوئی مجھ سے نہیں پوچھتا۔
گزری منگل یا بدھ، امی کو خیال آیا کہ لوگ دیکھے بھالے ہیں، لڑکی کے رشتے بھی آئے ہوئے ہیں تو کیوں نہ وہ بھی میری بات کردیں۔۔۔ اور اگلے ہی دن امی نے وہاں جاکر یہ بات کردی۔ ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ کہنے لگے، گھر جیسی تو بات ہے۔ ان کا ارادہ تھا کہ استخارہ کریں گے۔ میں نے آس لگائی کہ شاید استخارہ میں منع ہوجائے لیکن بعد میں انہوں نے کہا کہ جب دل مطمئن ہو تو استخارہ کی کیا ضرورت۔۔۔ پھر لڑکی والوں نے کہا اچھا خاندان میں بات کرکے حتمی جواب دیں گے۔ مجھے امید تھی کہ شاید خاندان کی جانب سے انکار ہو لیکن ان کے خاندان والے بھی بڑے مطمئن۔ دیکھے بغیر کہہ دیا کہ جب گھر جیسی بات ہے تو پھر مزید انتظار کی ضرورت نہیں۔ لو جی، سنیچر کو منہ میٹھا کروادیا گیا۔۔۔۔ ایک ہفتہ سے بھی کم کی مدت میں سب کچھ طے پاگیا۔ :cry:
ہمارے ہاں ماضی قریب میں اتنی جلدی رشتہ طے ہونے کی مثال نہیں ملتی اور نہ ہی ایسی کوئی مثال ملتی ہے کہ اتنی آسانی سے ماں/ باپ کی مرضی پر کسی نے اپنی مرضی قربان کردی ہو۔۔۔۔!
اب کوئی مجھے شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور کوئی بے وفائی کا الزام لگاتا ہے۔۔۔۔
لیکن کہانی ختم ہوچکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔!
میرا یقین کیجئے، میں واقعی بہت شریف ہوں۔ :razz:

Protected: تیرا میرا یہ رشتہ

253 views February 1, 2008 | راہبر
No Gravatar

This post is password protected. To view it please enter your password below:


میرا موبائل فون کا استعمال

343 views February 1, 2008 | راہبر
No Gravatar

ذرا دیکھیں کہ میرا موبائل فون کس قدر استعمال ہوتا ہے۔ عین یکم دسمبر 2007ء (یعنی رات کے بارہ بجتے ہی) میں نے اپنے موبائل کا سارا ریکارڈ Reset کیا تھا۔ آج یکم فروری 2008ء ہے یعنی کہ دو مہینے ہوچکے ہیں۔ ان دو ماہ میں میرے موبائل فون کے اعداد و شمار۔

پیغامات کا حساب:
بائیس سو سے زیادہ پیغامات (ایس۔ایم۔ایس) میرے موبائل سے بھیجے گئے اور تقریبا اتنے ہی وصول بھی ہوئے۔ :smile:

کالز کا حساب:
مجموعی طور پر 72 گھنٹے سے زیادہ بات ہوئی جس میں 12 گھنٹے کے قریب کالز موصول ہوئی ہیں اور 60 گھنٹے سے زیادہ کی کالز میں نے کی ہیں۔ :razz:

کالز تو زیادہ تر رات کی ہیں۔ ٹیلی نار کے Djuice پیکج سے سہولت ہے کہ پانچ ٹیلی نار نمبرز پر رات 12 بجے سے صبح آٹھ بجے تک چار روپے فی گھنٹہ کے حساب سے بات کی جاسکتی ہے۔ اس لیے کالز زیادہ ہوجاتی ہیں۔

ایس۔ایم۔ایس۔۔۔۔! اس میں زیادہ تر حصہ اپنی کزن Humi کو کیے گئے پیغامات کا ہے۔ اس سے ہر دوسرے دن بات ہوتی ہے اور کبھی اتنے ایس۔ایم۔ایس ہوجاتے ہیں کہ ایک سیشن میں 30، 40 تک تعداد پہنچ جاتی ہیں۔ جب بات شروع ہوجائے تو 20 ایس۔ایم۔ایس تو کوئی بڑی بات ہیں ہی نہیں۔ حقیقی دنیا میں ایک وہی ہے جسے میں اپنا سب سے اچھا دوست کہہ سکتا ہوں اور جس سے سب سے زیادہ گپ شپ اور بے تکلفی ہے۔ اس لیے ایک دوسرے کے دکھڑے سنتے سنتے یہ تو ہوتا ہی ہے۔ کبھی کبھار کوئی خاص بات نہیں بھی ہوتی تب بھی بات ہوتی رہتی ہے کہ اب یہ ہورہا ہے، گھر میں فلاں یہ کررہا ہے وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔!

سوچتا ہوں، کچھ کنٹرول کروں۔۔۔ لیکن ایسا سوچنے کو تو بہت بار سوچ چکا ہوں۔۔۔۔!