No Gravatar

کافی عرصہ سے مجھے شوق چڑھا تھا کہ تجربہ تو کروں، یہ طوطا فال والے کیا بے وقوف بناتے ہیں دنیا کو۔۔۔ ان پرچوں میں آخر لکھا کیا ہوتا ہے۔ پر مجھے تو طوطا فال والوں کے پاس بیٹھنے کا سوچ کر ہی عجیب سا محسوس ہوتا جیسے پتا نہیں کیا ہو۔
خیر، آج پیدل چلتے ہوئے راستہ میں فٹ پاتھ پر ایک طوطا فال والے بڑے میاں نظر آئے۔ میں نے سوچا کہ آج تو تجربہ ہو ہی جائے۔ ان کے پاس جا بیٹھا۔ مخاطب ہوئے، جی بیٹا۔۔۔! میں نے کہا، طوطا فال تو نکالیں۔ کہتے ہوئے بہت عجیب لگا۔ انہوں نے ایک چھوٹی سی چھڑی پنجرے میں ڈالی، اس پر طوطا بیٹھ گیا اور انہوں نے وہ اس چھڑی کو لفافوں پر سے آہستہ آہستہ کرکے گزارا۔ ایک لفافہ کو طوطے نے اپنی چونچ میں دبالیا۔ بس وہ لفافہ بڑے میاں نے اس کی چونچ سے لیا اور اسے واپس پنجرے میں بھیج دیا۔
تب مجھے تجسس ہونے لگا کہ دیکھوں تو، اس میں کیا لکھا ہوگا۔ لفافے میں سے ایک گتے کا ٹکڑا نکالا اور میری طرف بڑھا دیا۔۔۔ اس پر کچھ یوں تحریر تھا۔۔۔۔:
“اے صاحب! (اتنی عزت۔۔۔ ہمممم :smile: ) تم پانچ ہفتوں یا پانچ ماہ سے جس پریشانی اور مشکل میں شکار ہو، وہ اب ختم ہوجائے گی۔ (پانچ ہفتوں یا پانچ ماہ سے کون سی پریشانی لاحق ہے مجھے؟؟؟ میں تو یہی سوچنے لگا۔۔۔ ایک پریشانی تو کل ہی امی نے میری سپرد کی ہے۔۔۔ انہیں میرے لیے کوئی لڑکی پسند آگئی ہے :razz: میرا تو آج دماغ ہی کام نہیں کررہا ہے۔۔۔ لیکن یہ پانچ ہفتوں/ پانچ ماہ کی پریشانی۔۔۔۔ ارے ہاں! شاید یہ میرے امتحانی نتیجہ سے متعلق ہوگی۔۔۔ اس کو اب تقریبا پانچ ماہ ہونے ہی والے ہیں۔۔۔۔ اور اب پانچ ہفتے ہوئے ہوں گے کہ نتیجہ آیا ہے تو اس سے بھی ٹینشن چل ہی رہی ہے۔۔۔ طوطا تو کافی پہنچا ہوا لگتا ہے۔۔۔ :wink: خیر۔۔۔ آگے لکھا تھا:) کاروبار ترقی کرے گا (میرا تو کوئی کاروبار ہی نہیں ہے :oops: ہم جیسے لوگوں کا تو ایک گناہوں کا کاروبار ہی ہوتا ہے جس میں مسلسل ترقی ہی ہوتی رہتی ہے۔۔۔۔) کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔۔۔ (سارے مسکے ہی لگائے ہیں بابا نے۔۔۔۔!)
بہرحال! ایسی ہی کچھ اووٹ پٹانگ سی باتیں تھیں۔ پرچے پر 8 کا عدد تحریر تھا، یعنی یہ آٹھ عدد کی فال تھی۔ پھر بابا جی بولے کہ زیادہ بہتر سمجھنے کے لیے اگر کہو تو اس کو کتاب میں سے دیکھ کر بتادوں، دگنے دام ہوں گے۔ میں نے کہا، ہاں ہاں! کیوں نہیں۔ انہوں نے ایک بوسیدہ سی کتاب اٹھائی۔ اس میں آٹھ عدد پر پہنچے۔ سرخی تھی: حضرت خضر علیہ السلام میں نے جلدی سے ان کے ہاتھ سے کتاب لے لی۔ میں خود پڑھنا چاہتا تھا۔ اس میں بھی تقریبا وہی کچھ لکھا تھا کہ کامیابی نصیب ہوگی، یہ ہوگا، وہ ہوگا۔ ہاں ایک نئی بات یہ تھی کہ جہاں ہیں، وہاں سے سفر زیادہ بہتر ہے۔ لہذا میں نے یہی سوچا کہ اب فورا سفر کیا جائے اور بابا جی کے پاس سے روانہ ہوا جائے۔ بابا کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ انہوں نے مجھے پیشکش کی کہ اگر میں چاہوں تو وہ میرا ہاتھ بھی دیکھیں گے اور بتائیں گے کہ میں کیا چاہتا ہوں، اور جو چاہتا ہوں وہ ملے گا یا نہیں، وغیرہ وغیرہ۔۔۔ لیکن فی الحال میرا ارادہ اتنا دماغ خراب کرنے کا نہیں تھا۔ میں نے ان کے ہاتھ میں ان کی رقم تھمائی اور وہاں سے رفو چکر ہوگیا۔

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔