No Gravatar

کل راہ چلتے فٹ پاتھ پر ایک بڑے میاں کافی کتابیں رکھے نظر آئے۔ ہر کتاب پینتیس روپے میں دے رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ دیکھ لی جائیں، شاید کوئی اچھی کتاب ہاتھ لگ جائے۔ زیادہ تر کتابیں شاعری اور کمپیوٹر کے حوالہ سے تھیں۔ اچانک میری نظر ایک کتاب پر پڑی جسے میں پہلے بھی کچھ جگہ دیکھ چکا تھا۔ میں نے وہ کتاب خرید لی۔ کتاب کا نام ہے: “پارلیمنٹ سے بازار حسن تک”۔
دفتر سے گھر واپسی پر، بس کا سارا سفر اسی کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے گزارا۔ اس کتاب میں پاکستان کے تمام بڑے سیاسی راہنماؤں کی خفیہ زندگی کو کھنگالا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ بظاہر شریف اور عوام کے ہمدرد نظر آنے والے سیاستدان کس طرح اپنا منہ کالا کرتے رہے ہیں اور کون کون سی خواتین، اداکارائیں، گلوکارائیں ان کے ساتھ خلوت کے لمحات گزارتی رہی ہیں۔
کتاب کے مصنف ظہیر بابر ہیں جن کے بارے میں تعارف کرایا گیا ہے کہ یہ معروف مصنف صحافی ہیں۔ کتاب کی زیادہ تر باتیں اس قدر ہوش رُبا ہیں کہ مجھے یقین کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ کیا کسی نے اس کتاب کا مطالعہ کیا ہے؟ اور کیا کوئی مجھے بتا سکتا ہے کہ یہ کتاب کس حد تک قابل اعتبار ہے؟ مجھے فی الحال اس کے اقتباسات پیش کرنے میں جھجک ہے۔

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔