پارلیمنٹ سے بازارِ حسن تک
کل راہ چلتے فٹ پاتھ پر ایک بڑے میاں کافی کتابیں رکھے نظر آئے۔ ہر کتاب پینتیس روپے میں دے رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ دیکھ لی جائیں، شاید کوئی اچھی کتاب ہاتھ لگ جائے۔ زیادہ تر کتابیں شاعری اور کمپیوٹر کے حوالہ سے تھیں۔ اچانک میری نظر ایک کتاب پر پڑی جسے میں پہلے بھی کچھ جگہ دیکھ چکا تھا۔ میں نے وہ کتاب خرید لی۔ کتاب کا نام ہے: “پارلیمنٹ سے بازار حسن تک”۔
دفتر سے گھر واپسی پر، بس کا سارا سفر اسی کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے گزارا۔ اس کتاب میں پاکستان کے تمام بڑے سیاسی راہنماؤں کی خفیہ زندگی کو کھنگالا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ بظاہر شریف اور عوام کے ہمدرد نظر آنے والے سیاستدان کس طرح اپنا منہ کالا کرتے رہے ہیں اور کون کون سی خواتین، اداکارائیں، گلوکارائیں ان کے ساتھ خلوت کے لمحات گزارتی رہی ہیں۔
کتاب کے مصنف ظہیر بابر ہیں جن کے بارے میں تعارف کرایا گیا ہے کہ یہ معروف مصنف صحافی ہیں۔ کتاب کی زیادہ تر باتیں اس قدر ہوش رُبا ہیں کہ مجھے یقین کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ کیا کسی نے اس کتاب کا مطالعہ کیا ہے؟ اور کیا کوئی مجھے بتا سکتا ہے کہ یہ کتاب کس حد تک قابل اعتبار ہے؟ مجھے فی الحال اس کے اقتباسات پیش کرنے میں جھجک ہے۔
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
January 2, 2008 بوقت 4:07 pm
راہبر ابھی اس کتاب کی باتیں اس قدر کھل کر بیان نہیں کی گئیں جتنا گند ان لوگوں نے مچا رکھا تھا۔ اس کے ساتھ ایک اور کتاب تھی اسکینڈلز اس میں بھی ایسے ہی ہوشربا داستانیں تھیں۔ جن کو سبھی جھٹلاتے ہیں۔
بدتمیز’s last blog post..میں پاگل میرا دل وی پاگل
January 2, 2008 بوقت 4:09 pm
میں ابو کو کہنے لگا تھا کہ یہ اور اسکینڈلز گھر سے لیتے آئیں ابھی تک نہیں کہا کہ ابو نے کہنا ہے یہ کتب تو بچوں کو پڑھنے سے منع کیا تھا :wink: اس کے ذرا بی بی سے متعلقہ صفحات تو اگر اسکین کر کے میل کر سکو تو میں آپکا شکر گزار ہونگا۔
بدتمیز’s last blog post..میں پاگل میرا دل وی پاگل
January 2, 2008 بوقت 4:24 pm
بی۔بی سے متعلق؟ توبہ توبہ۔۔۔۔۔۔ غلط بات۔۔۔۔
ایسی ایسی باتیں منسوب ہیں کہ الامان والحفیظ۔
میں نے کل جن سیاستدانوں کے متعلق پڑھا، ان میں ایوب خان، یحی خان، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری، نواز شریف اور شہباز شریف شامل ہیں۔ آج وہ کتاب لانا بھول گیا۔۔۔ فرصت ملتے ہی بی۔بی والا حصہ اسکین کرکے یا کمپوز کرکے ای۔میل کردوں گا۔
January 2, 2008 بوقت 5:14 pm
بی بی پدھار چکی ہیں اب تو بخش دیں بد تمیز بھائی۔۔
January 2, 2008 بوقت 5:16 pm
عمار بھائی اگر باتیں کچھ ذیادہ ہی ہوش ربا ہیں تو اردو وکی پر رکھ دیں اور کچھ نہیں تو ززٹرز میں تو اضافہ ہوگا نا :lol:
January 2, 2008 بوقت 5:54 pm
یہ کتاب بین رہی ہے کافی عرصے تک اور بلیک میں بکتی رہی ہے۔ اب شاید اس کے نئے ایڈیشنز کو “شدھی” کردیا گیا ہے۔
January 2, 2008 بوقت 6:59 pm
جاناں گل! اردو وکی پر رکھنے میں تو یہ خطرہ بھی ہے کہ وزیٹرز کی تعداد میں اضافہ ہو یا نہ ہو، کہیں میری چھٹی نہ کردی جائے۔ :wink: ویسے اتنی بڑی کتاب کو کمپوز کون کرے گا؟
شاکر بھائی! شدھی بولے تو؟؟؟ کیا انکشافات کو حذف کیا گیا ہے؟
January 2, 2008 بوقت 10:32 pm
zaati zindagi beherhaal her insan ka apna masla hai.
iss k ilawa buhut kuch aisa hai jo hamare siyasat daan aur deegar bare log ker rahe hein aur jo hargiz hargiz mulk k mafaad mein nahi hai. hamein un cheezon per dhiyaan dena chahiye jo directly hum awam per asar andaaz ho rahe hein.
iss kitab ko mashhoor kerne se koi faida to nahi ho ga magar aik lahasil behas shurroo hone k qawi imkanaat hain.
Kitabon k iqtisabad urdu wiki per rakhna buhut acha khayal hai magar kitaab kausi ho yeh buhut ahem hai.
January 3, 2008 بوقت 1:06 pm
میرے خیال میں تھوڑی بہت جو میں نے ورق گرادنی کی ہے، یہ ایک سطحی سی کتاب ہے۔ جس میں تھوڑا سچ اور تھوڑآ مصالحہ لگا کر پیش کیا گیا ہے۔ ایسی غیر مسنتند کتابیں وکی پر رکھنا بیوقوفی ہی ہوگی۔
ساجداقبال’s last blog post..اپنے فلکر(Flickr) البم سے تصاویر بلاگ سائیڈبار میں شامل کریں
January 3, 2008 بوقت 1:21 pm
ایک ایسی کتاب جس میں تمام مسالے دار باتیں بغیر کسی حوالے یا ثبوت یا دلیل کے پیش کی گئی ہیں۔ میں نے آج تک صرف ان لوگوں کو یہ کتاب پڑھتے دیکھا ہے جو روزانہ “ایوننگ اسپیشل” پڑھتے ہیں جن کے نزدیک مطمع نظر “مزا” لینا ہوتا ہے (میں نے آج تک یہ کتاب نہیں پڑھی، البتہ اقتباسات سنے ہیں) ۔ بہرحال بہت ساری چیزوں سے تو صرف نظر نہیں کیا جا سکتا لیکن اگر مطالعے کے لیے وقت ہے تو ایسی کتابوں کے بجائے تاریخ کی مستند کتابیں پڑھی جائيں جن سے بہت کچھ حاصل بھی ہوسکتا ہے۔ اگر مسلم ممالک (بشمول پاکستان) کی تاریخ پڑھنے کا موڈ ہے تو ایک کتاب ملاحظہ کیجیے گا: “ملت اسلامیہ کی مختصر تاریخ” مصنف ثروت صولت، ناشر: اسلامک پبلیکیشنز لاہور۔ اردو بازار کراچی میں دستیاب ہے چھوٹی موٹی کل پانچ جلدیں ہیں۔ انتہائی مفید اور مختصر تاریخ اسلام ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ بھی خوب بیان کی گئی ہے۔ (لیکن مسالے نہیں ہیں
)
January 3, 2008 بوقت 2:03 pm
بھائیو، بہنو! یہاں اس کتاب کا ذکر کرنے کا مقصد یہی تھا کہ میں صرف اتنا جاننا چاہتا تھا، یہ کتاب واقعی مستند اور قابلِ اعتبار ہے یا نہیں؟ نہ میرا ارادہ اس کے اقتباسات پیش کرنے کا ہے اور نہ ہی وکی پر رکھنے کا۔ میری تحریر کا آخری پیرا اس موقف کو واضح کررہا ہے۔
ویسے ابوشامل! میں “ایوننگ اسپیشل” نہیں پڑھتا۔
January 3, 2008 بوقت 3:56 pm
ایک ایسی کتاب جس میں تمام مسالے دار باتیں بغیر کسی حوالے یا ثبوت یا دلیل کے پیش کی گئی ہیں۔
——————————————————
کتاب میں حوالے موجود ہیں۔ آپ کو خود ان اخبارات کو گھنگھالنا ہو گا۔ کتاب کے واقعات یعنی ان لوگوں کے کرتوت ہماری اخلاقیات اجازت نہ دے یقین کرنے پر لیکن یہ لوگ اس سے کہیں حد تک گزر چکے ہیں۔ ابھی حقانی کا ہی تو ناہید خان رو رہی تھی شإد دسمبر کے ایکسپریس میں۔ آپ اس کتاب میں دیکھ سکتے ہیں کہ حقانی کونسے ثبوت جمع کر رہا تھا اور ناہید خان کی بہن کے عشق میں کیسے گرفتار ہوا۔
کینیڈین عورت کا قتل اور متعقلہ وزیر کا معاملہ بھی تو اسی سال کا ہے جو بغیر شادی کے رہ رہے تھے۔ ایسیے ہی کوٕی ایسی کتاب نہیں لکھ سکتا۔ اکثر صحافیاں بین السطور بہت کچھ لکھتے ہیں۔ ابھی ؔہست ؔہستہ ہمارا میڈیا بہت گند سامنے لائے گا۔ پھر سب کچھ ہی ایوننگ سپیشل سا لگے گا۔
بدتمیز’s last blog post..پڑیں یا پڑھیں
January 3, 2008 بوقت 5:58 pm
اس کتاب کو پڑھنے کے بعد آئین پاکستان میں کسی فرد کے پارلیمانی رکن بننے کی اہلیت یا نا اہلیت کے بارے میں پڑھ لیں۔
الف نظامی’s last blog post..ابو الاسود دوئیلی
January 3, 2008 بوقت 6:53 pm
آئینِ پاکستان کو اب پوچھتا کون ہے؟ ہم آزاد ملک کے آزاد باسی ہیں۔

اگر آئینِ پاکستان کو دیکھیں تو پھر کوئی بھی سیاستدان پارلیمنٹ میں بیٹھنے کے قابل نہیں رہے گا۔ شاید کچھ لوگوں کو یاد ہو کہ پچھلے دنوں جب متحدہ والوں نے عمران خان کا نام اس حوالہ سے زیادہ اچھالا تھا اور گند مچائی تھی، تب عمران خان نے بھی کچھ اسی طرح کی بات کی تھی کہ اگر میں نے ثبوت پیش کردیے تو کام تمام ہوجائے گا۔ اور پھر قوم نے دیکھا کہ عمران کے خلاف جو ریفرینس گئے تھے انہیں خارج کردیا گیا۔۔۔۔
January 4, 2008 بوقت 3:43 pm
یہ کتاب ابو کی بک شلف میں موجود ہے۔ اور اس کی میں بہت پہلے ورق گردانی کر چکی ہوں۔ مجھے کتاب اس لیے اچھی نہیں لگی تھی۔ کہ میرے خیال میں ہمیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ کسی کی ذاتی زندگی میں جھانکتے پھریں۔ ہر انسان کی اپنی زندگی ہے ،اور وہ اس کو جس طرح مرضی گزارے۔ اور اس کتاب کو واقعی مرچ مصالحے لگا کر پیش کیا گیا ہے۔
ماوراء’s last blog post..نیا سال
January 4, 2008 بوقت 5:52 pm
ماوراء! بات ذاتی زندگی میں جھانکنے کی نہیں ہے۔ بات تو جرائم کی ہے۔ جو باتیں اس کتاب اور دیگر کتب میں بیان کی گئی ہیں وہ صرف ذاتی کردار تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی جرائم ہیں۔ ذاتی زندگی کہہ کر کسی کو ہر کام کی آزادی نہیں دی جاسکتی۔
January 7, 2008 بوقت 1:54 am
عمار، جرائم کی اس طرح تشہیر کرنا کوئی عقلمندی نہیں ہے۔ جرائم کا حل ڈھونڈنا ہے نہ کہ کتابوں کے ذریعے سب تک پہنچانا ہے۔ اور ان جرائم کو کنٹرول کرنا مصنفوں کا کام نہیں ہے۔ جن کا کام ہے وہ تو کچھ کرتے نہیں ہیں۔ اگر یہ لوگ اتنے ہی جرائم پیشہ ہیں تو یہ اب تک آزاد کیوں ہیں؟ ان کو تو کہیں اور ہونا چاہیے تھا۔
خیر۔۔۔اللہ سب کے کرتوتوں کو جانتا ہے۔
ماوراء’s last blog post..نیا سال
January 8, 2008 بوقت 8:18 am
میں نے ایسی کتاب کبھی کوئی پڑھی تو نہیں مگر جیسا کہ آپ بتا رہے ہیں میرا مشورہ ہے جو کچھ لکھا ہے فٹ سے مان لیں کیوں کہ یہ پاکستانی سیاستدان ہیں کبھی بھی کچھ بھی کر سکتے ہیں۔۔۔۔
March 17, 2008 بوقت 2:45 pm
ساری باتیں ایک طرف
لنک سینڈ کر دیں
ہم فیصلہ خود کر لیں گے
March 19, 2008 بوقت 6:44 pm
میں نے یہ کتاب بہت دفعہ دیکھی ہے بک اسٹالوں پر مگر لی نہیں کیونکہ مجھے اندازہ ہے کہ اس میں کیا ہوگا ویسے جو ہوگا سچ ہی ہوگا کیونکہ سیاستدان ہی نہیں بہت سے امرا اور طاقتور لوگ اس طرح کی اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔ ذمہ دار عہدوں پر فائز شخصیات کی زندگیاں قوم کی امانت ہوتی ہیں اور ان کے جرائم کا براہ راست اثر قوم پر پڑتا ہے البتہ کچھ لوگوں کو ہر حال میں ان بدکرداروں کو کلین چٹ دینے کی عادت ہو گئی ہے تاکہ یہ عذاب بن کر بار بار ہمارے سر پر آتے رہیں۔
محب علوی’s last blog post..جاپان میں اسلام سے متعلق تحقیقی سرگرمیاں