بے وقوف لوگ

952 views January 15, 2008 | راہبر
No Gravatar

محرم الحرام کا مہینہ ہے۔ ایسے میں کئی سر پھرے لوگ نظر آتے ہیں۔ مجھے حیرت ان پر ہوتی ہے جن کے مذہب و مسلک میں ایسی کوئی بے کار بات نہیں جن میں وہ ملوث ہوتے ہیں۔ اہلِ تشیع اگر کرتے ہیں تو کریں کہ ان کے مذہب میں یہی ہے لیکن یہ اہلِ سنت کو کیا ہوجاتا ہے؟ گھروں میں، گاڑیوں میں مرثیے چلنے لگتے ہیں، ماتم وغیرہ کے جلوس نکلتے ہیں تو لوگ اس میں بھی ساتھ ہوجاتے ہیں اور ہزاروں خرافات۔۔۔!
آج صبح کی سنیئے، میں جس بس میں آرہا تھا اس میں بہت تیز آواز سے مرثیے چل رہے تھے۔ جن لوگوں کو اترنا ہوتا تھا، وہ دروازے پر ہاتھ مارتے رہتے لیکن ڈرائیور تک آواز پہنچنے میں کافی وقت لگتا جب تک اکثر لوگوں کے اترنے کی جگہ پیچھے رہ جاتی۔ ایک آدمی اپنے آٹھ/ دس سالہ بچے کے ساتھ تھا۔ کافی دیر تک دروازے کو پیٹتا رہا کہ ڈرائیور گاڑی روک لے مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور ڈرائیور گاڑی بھگاتا رہا یہاں تک کہ صدر آگیا۔ جب میں گاڑی سے اترا تو آگے کی طرف گیا اور گاڑی والے سے کہا، یہ تم لوگ گاڑی میں مسافروں کو لے جارہے ہو یا حسین علیہ السلام کا لاشہ لے کر جارہے ہو؟؟؟ ایک بندہ اتنی دیر سے روکنے کا کہہ رہا ہے اور تم نے اس کو صدر میں لاکر اتارا ہے، یہ جو اتنی تیز آواز میں چلایا ہوا ہے، اس کے بعد کوئی آواز آگے آئے گی تم لوگوں تک؟ وہ منمنانے لگا کہ ہاں، آواز آرہی ہوتی ہے۔ میں نے کہا آواز آرہی تھی تو روکا کیوں نہیں۔۔۔؟ کب سے وہ بندہ چینخ رہا تھا۔۔۔؟ تو وہ بس والا بوکھلا کر “پتا نہیں، پتا نہیں” کہہ کر خاموش ہوگیا۔۔۔!

اسلامی سالِ نو مبارک ہو

1,161 views January 11, 2008 | راہبر
No Gravatar

آج یکم محرم الحرام ١٤٢٩ ہجری ہے۔ اسلامی ہجری سال کا آغاز ہے۔

تمام مسلمان ساتھیوں کو نیا اسلامی سال بہت بہت مبارک ہو۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اس سال میں سکون اور خوش حالی عطا ہو، ہمارے ملک پر امن کا سایہ رہے۔ ہمیں زیادہ سے زیادہ نیک اور اچھے کام کرنے کی توفیق عطا ہو ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو راضی کرسکیں۔ آمین

ثابت ہوگیا

1,120 views January 11, 2008 | راہبر
No Gravatar

کہتے ہیں، سکھوں کے ہاں ایک موت ہوگئی۔ ان کے گھر سے شادیانے بجائے جانے لگے، ڈھول کی تھاپ سنائی دینے لگی۔ محلہ کے لوگ بڑے حیران۔ ایک آدمی ان کے گھر کو گیا، دروازہ پر دستک دی۔ ایک سکھ جی باہر آئے۔ ان سے پوچھا، بھائی جی! یہ شادیانے اور ڈھول کس لیے؟ سکھ جی بولے: میرا بھائی مرگیا ہے۔ بندہ نے پوچھا کہ بھائی کے مرنے پر یہ خوشی کیوں؟ جوابا سکھ نے کہا: ارے دنیا کہتی تھی کہ سکھوں کے پاس دماغ نہیں ہوتا، لیکن میرے بھائی کی موت کی وجہ برین ٹیومر تھی، اس لیے ہم خوشی منارہے ہیں کہ بھائی مرگیا سو مرگیا، لیکن یہ ثابت ہوگیا کہ سکھوں کے پاس بھی دماغ ہوتا ہے۔
:razz:

عرصہ سے پاک سرزمین بم دھماکوں اور ہنگاموں کی لپیٹ میں ہے۔ ساتھ ساتھ قومیت کا تعصب بھی ہماری قوم میں مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔ اس صورتحال میں کچھ اندھے قوم پرست یہ شکوک و شبہات اٹھاتے تھے کہ جب پورے پاکستان میں اس قدر مخدوش صورتحال ہے تو لاہور کیوں پُرامن ہے؟ لاہور میں ایسی کوئی صورتحال پیدا کیوں نہیں ہوتی؟

سو، کل آخر چار سال بعد لاہور میں خود کش بم دھماکہ ہو ہی گیا جس میں تقریبا تئیس پولیس اہلکاروں سمیت پچیس سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔ یہ ہمارے پیارے پاکستان میں سال 2008ء کی پہلی خونی واردات تھی جو شہر لاہور کے حصہ میں آئی۔ افسوس!

انا للہ وانا الیہ راجعون!

چل جھوٹے۔۔۔!

1,173 views January 10, 2008 | راہبر
No Gravatar

“جی نادیہ۔۔۔! اس وقت پاکستان کے شمالی علاقوں سے بارش کا ایک سسٹم سندھ کے علاقے کی طرف حرکت کررہا ہے۔” محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ٹنگو ایک ٹی۔وی کے خبرنامے میں موسم کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کررہے تھے۔

“اگلے چوبیس گھنٹوں میں کراچی سمیت سندھ کے کئی علاقوں میں تیز بارش کا سلسلہ شروع ہوگا جو کہ اگلے تین دنوں تک جاری رہے گا۔”

“ابے اوئے! چل جھوٹے۔۔۔!” چاچو نے ریموٹ اٹھاکر ٹی۔وی بند کردیا۔

کراچی میں رہنے والوں کو دن بھر ہنستے رہنے کے کئی مواقع میسر آتے ہیں۔ ان ہی مواقع میں سے ایک محکمہ موسمیات کی پیشین گوئیاں ہیں جو اکثر لطیفہ ثابت ہوتی ہیں۔ عام طور سے ان کا کہا غلط ہی ہوتا ہے اور ان کی خوشگوار پیشین گوئیوں پر یقین کرنے والوں کے سپنے خاک میں مل جاتے ہیں۔

ڈاکٹر ٹنگو، ٹی۔وی پر رپورٹ پیش کرنے کے بعد اپنے کمرے میں چلے آئے۔ ابھی دو ہی سانس سکون کے لیے ہوں گے کہ موبائل فون بج اٹھا۔ دیکھا تو سیکریٹری کا فون تھا۔ فون اٹھاکر کان سے لگایا۔ دوسری جانب سیکریٹری بوکھلایا ہوا تھا:

“سر۔۔۔! ایک بڑی غلطی ہوگئی ہے۔ وہ رپورٹ غلط پیش ہوگئی۔۔۔ مسئلہ ہوگیا۔۔۔”

“ابے گدھے۔۔۔! کیا بکواس کرتا ہے؟ تُو نے ہی تو وہ رپورٹ دی تھی۔” ڈاکٹر ٹنگو کا دل دہل گیا۔

“جی سر۔۔۔ وہ۔۔۔ مگر وہ۔۔۔ غلطی۔۔۔” سیکریٹری منمنانے لگا۔ ڈاکٹر ٹنگو نے غصہ میں بھنا کر فون پٹخ دیا۔

اگلے دن دھوپ کا زور رہا۔ محکمہ موسمیات کی پیشین گوئی کو حتمی سمجھنے والے افسردہ تھے۔ رات ٹی۔وی پر خبرنامے میں موسم کی نئی رپورٹ شامل تھی۔ ڈاکٹر ٹنگو فرمارہے تھے:

“جی۔۔۔! آج موسم کی رپورٹ کے مطابق شمالی علاقوں سے آنے والا سسٹم مخالف سمت سے تیز ہوائیں چلنے کی وجہ سے اپنا رُخ بدل گیا ہے اور کراچی میں اگلے کچھ دنوں تک مطلع صاف رہے گا۔”

چاچو نے ڈاکٹر ٹنگو پر چار حرف بھیج کر چینل بدل دیا۔

محکمہ موسمیات کی پیشین گوئی کے مطابق اگلے دن مطلع صاف رہنا چاہئے تھا لیکن ڈاکٹر ٹنگو جب گھر سے دفتر جانے کے لیے نکلے تو آسمان ابر آلود تھا۔ دل ہی دل میں سیکریٹری کو عطیہ کرنے کے لیے مسلسل گالیوں کا ورد کرتے رہے۔ غصہ میں دفتر پہنچ کر اپنی کرسی سنبھالی تو کچھ جانا پہچانا شور سا سنائی دینے لگا۔ ڈاکٹر ٹنگو کو لگا کہ جیسے ان کے دل کی دھڑکن دھک دھک نہیں کررہی بلکہ “چل جھوٹے۔۔۔! چل جھوٹے۔۔۔!” کا نعرہ مار رہی ہے۔ بہت بے بسی سے کھڑکی کی طرف دیکھا۔

باہر بارش ہورہی تھی۔۔۔۔!

کرو اپنی اپنی

1,188 views January 7, 2008 | راہبر
No Gravatar

اگر آپ کراچی میں رہتے ہیں اور اپنے اردگرد ماحول پر غور کرتے ہیں تو یقینا آپ پر بہت سی چیزیں ایسی عیاں ہوں گی جو لطیفوں سے کم نہ ہوں گی یا احمقانہ پن کا جیتا جاگتا ثبوت ہوں گی۔ لیکن اگر آپ کراچی میں نہیں رہتے تو اداس نہ ہوں کہ بلاشبہ مجھ سے کئی سرپھرے یہاں موجود ہیں جو ان احمقانہ حرکتوں سے آپ کو آگاہ کرکے آپ کو بھی انٹرٹینمنٹ پہنچانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ :razz:

میرے گھر کے سامنے کی سڑک۔۔۔ آنکھوں دیکھا حال۔ پوری سڑک کھود دی گئی۔ وجہ؟ نکاسی کا نظام درست کرنا تھا۔۔۔ ہفتوں تک سڑک ادھڑی رہی۔ پھر جاکر ٹھیک ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد دوبارہ کھود دی گئی۔۔۔ خبر پڑی کہ عوام کو نئی سڑک کا تحفہ دیا جارہا ہے۔ اچھا جی، بہت شکریہ، مہربانی، نوازش۔ سڑک پر پتھر ڈال دیے گئے۔ وہاں سے لوگوں کا گزرنا دشوار ہوگیا۔ یوں سمجھئے کہ بلڈنگ کے دروازے سے پتھر پڑے تھے اور ہر طرف پتھر ہی پتھر۔ خاص کر بچوں اور عورتوں کو ان پر چلنا بہت ہی محال تھا۔ تب مجھے وہ شعر یاد آتا

ان ہی پتھروں پہ چل کر اگر آسکو تو آؤ
مِرے گھر کے راستے میں، کوئی کہکشاں نہیں ہے

واقعی اس شعر کی عملی تصویر ہماری گناہگار آنکھوں نے دیکھی۔ دو ہفتے تک وہ پتھر ویسے ہی پڑے رہے، راستہ برابر نہ کیا گیا۔ دو ہفتہ بعد مزید پتھروں کا تحفہ عنایت کردیا گیا۔۔۔ اس کے علاوہ جا بجا پتھروں کی ڈھیریاں بھی لگادی گئیں۔ اس کے ایک ہفتے بعد اسے برابر کیا گیا اور اب تک برابر کرنے پر چھوڑا ہوا ہے۔۔۔ نہ اس پر تارکول بچھایا گیا، نہ ہی کام کو اس کے انجام تک پہنچایا گیا۔ سڑک ایک بار پھر ناہموار ہوگئی ہے اور اس پر دھول اڑا کرتی ہے۔۔۔

یہاں رہتے ہوئے اس بات کا اکثر احساس ہوتا ہے کہ قومی اداروں میں باہمی رابطہ اور کوآرڈینیشن کا سلسلہ نہیں ہے۔ ایک سڑک کی مرمت ہوتی ہے یا نئے سرے سے بنائی جاتی ہے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد واٹر بورڈ والے اپنے کام کے لیے کھود ڈالتے ہیں۔۔۔ وہ ٹھیک کرکے جاتے ہیں تو سوئی گیس والے اچھی خاصی شاہراہ کو ادھیڑ کر رکھ دیتے ہیں۔۔۔ ان کا کام ختم ہوتا ہے تو کوئی نیا پنگا آجاتا ہے۔۔۔ اور یوں پنگوں سے الجھتے الجھتے جب پنگوں کا اسٹاک ختم ہوجاتا ہے تو اس سڑک کو ایک بار پھر مرمت اور نئے سرے سے تعمیر کے لیے کھود دیا جاتا ہے۔

سارا کام چل چلاؤ والا ہوتا ہے۔۔۔ اسے یہاں کہتے ہیں کہ چالو کام کیا ہے۔۔۔ یعنی عارضی طور پر ٹھیک لیکن کچھ عرصہ بعد ہی فشوںںںںں۔۔۔۔ باغِ حیوانات (چڑیا گھر) کے سامنے سڑک پر جا بجا گڑھے پڑ گئے تھے، کافی عرصہ بعد انتظامیہ کو خیال آیا کہ کیوں نہ اس شاہراہ کو ٹھیک کیا جائے۔ لہذا مشینری پہنچی اور وہ راستہ بند کردیا گیا۔ ہفتہ/ دو ہفتہ بعد وہاں کام ختم ہوا تو بارش ہوگئی۔ بارش کیا ہوئی، ٹائم مشین ثابت ہوئی۔ دو دن میں وہ شاہراہ اس سے بھی بدتر ہوگئی جیسی کہ مرمت سے پہلے تھی۔ دو ہفتے بعد اس کو دوبارہ درست کیا گیا۔

حکمرانوں کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر کچھ عرصہ بعد مہنگائی کے ہاتھوں پریشان، بے حال عوام کے منہ میں ایک نئی سڑک کی لالی پاپ رکھ کر دعویٰ کریں کہ ہمارے دور میں بے شمار ترقیاتی کام عمل میں آئے ہیں۔۔۔ تالیاں۔۔۔۔۔!

اگر تمام ادارے آپس میں باہمی تعلق کو فروغ دیں اور کوآرڈینیشن سے کام کریں تو شہریوں کو زحمت بھی کم ہوگی اور خرچہ بھی کم لیکن یہاں تو دو لوگ آپس میں باہمی رابطہ کو فروغ نہیں دیتے، دو ادارے کیسے فروغ دے سکتے ہیں۔۔۔۔ ہماری بس ایک ہی پالیسی ہے: کرو اپنی اپنی، بھگتو اپنی اپنی۔۔۔۔ بلکہ کبھی کبھی دوسروں کی بھی بھگتنی پڑ جاتی ہے۔ :smile:

نواب شاہ

1,225 views January 4, 2008 | راہبر
No Gravatar

میں کل نواب شاہ جارہا ہوں۔ ان شاء اللہ پرسوں واپسی ہوجائے گی۔ کیا آپ میں سے کوئی نواب شاہ کا رہائشی ہے؟؟؟؟ اگر ہاں تو مجھے مطلع کرے۔ شاید ملاقات ہوسکے۔

فی امان اللہ

جب کتب خانہ کی بنیاد رکھی

1,177 views January 3, 2008 | راہبر
No Gravatar

بدتمیز نے بُش کے دیس کا حال اور اپنا دکھڑا بیان کرتے ہوئے لکھا کہ وہاں کس طرح بچوں کو کتابیں پڑھنے کی طرف راغب کیا جاتا ہے تو تبصرہ لکھتے ہوئے مجھے میرے ماضی نے سہارا دیا اور کچھ خوشگوار یادیں تازہ ہوگئیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں کتب بینی اور مطالعہ کا شوق کم سے کم ہوتا چلا جارہا ہے اور کتب خانوں (لائبریریز) کی تعداد مسلسل گھٹ رہی ہے۔ دوسری وجوہات کے ساتھ ساتھ شاید یہ وجہ بھی ہے اور اسی سبب ہمارے ہاں زندگی کا ڈھنگ اور طور طریقے، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت، سبھی کچھ متاثر ہورہا ہے۔
مجھے شروع ہی سے انوکھے کام کرنے کا شوق ہے اگرچہ اس باعث اکثر عام لوگ میرا مذاق بھی بناتے ہیں کہ کیا فضولیات پالے رکھتے ہو۔ جب میں آٹھویں جماعت میں تھا تو کمپیوٹر کے ٹیچر کے ساتھ مل کر پلان کیا تھا، اسکول میں بچوں کو پڑھنے کی طرف راغب کرنے کے لیے لائبریری بنانے کا۔ ظاہر سی بات ہے کہ فنڈز تو تھے نہیں، غریب بچوں اور کنجوس مالکان کا اسکول تھا۔ لہذا فیصلہ ہوا کہ ہم بچوں میں سے جس کے پاس جو کتابیں ہیں، کہانیوں اور دیگر معلومات وغیرہ کی، انہیں ہی رضاکارانہ طور پر اسکول کی لائبریری میں رکھ دیا جائے۔ میرے بچپن سے ابو نے مجھے کتابیں پڑھنے کی عادت ڈالی تھی۔ گھر پر ہر مہینے کہانیوں کی کئی کتابیں اور نونہال آیا کرتا تھا۔ یوں میرے پاس کتب کا اچھا خاصہ ذخیرہ جمع ہوگیا تھا۔ گھر پر کتابیں رکھنے کی کوئی مناسب جگہ بھی نہیں تھی لہذا جب فیصلہ ہوا کہ کتابیں اسکول کی لائبریری میں رکھوارہے ہیں تو امی نے سکون کا سانس لیا۔
دیگر کافی بچوں نے بھی حصہ لیا۔ میری ایک ہم جماعت جویریہ نے بھی کافی کتب لا کر رکھیں لیکن میری کتابوں کی تعداد شاید سب سے زیادہ تھی۔ لائبریری کا شعبہ مجھے تفویض ہوا اور ہیڈ آف دی لائبریری منتخب کیا گیا۔ اس کا کارڈ اب تک میرے پاس رکھا ہوا ہے۔ یہ لائبریری صرف بچوں کے لیے ہی نہیں، بلکہ اساتذہ کے لیے بھی تھی۔ اساتذہ سے رابطہ کرنے کے لیے ایک ہم جماعت صبا کو رکھا۔ لائبریری کا ہفتہ وار چندہ دو روپے تھا جو لائبریری کے ارکان سے ہر ہفتے لیا جاتا تھا۔ چندہ کی رقم اتنی کم رکھنے کا مقصد یہی تھا کہ کسی پر بوجھ نہ بنے۔ اس رقم سے ہر ہفتے مختلف رسائل خریدے جاتے تھے جن میں اخبارِ جہاں، فیملی اور ریڈرز ڈائجسٹ وغیرہ شامل تھے۔ اسی طرح ردی والوں سے پرانے اردو/ انگریزی رسائل بھی لیے۔ یوں ہم نے ایک نئی روایت ڈالی۔
سچ یہ ہے کہ وہ اسکول بے حد ناقص اور اس کا معیار انتہائی گرا ہوا تھا لیکن ہمارے ایسے اقدامات نے کافی جان ڈال دی تھی۔ میں نے ہفتہ وار ایک اخبار لکھنا بھی شروع کیا تھا جو کہ نوٹس بورڈ پر لگایا جاتا تھا۔ اس کا ذکر میں نے بلاگ پر پہلے بھی کیا تھا۔ قصہ اخبار نکالنے کا۔اس کے علاوہ تجرباتی لیب اور کمپیوٹر لیب کے لیے بھی رضاکارانہ طور پر کافی کام کیے تھے لیکن میرے نزدیک اس اسکول سے میٹرک کرنا بے وقوفی تھی۔ اس وقت تک ان کی میٹرک کی کلاسز کا آغاز نہیں ہوا تھا اور اگر ہم وہاں نویں، دسویں جماعت پڑھتے تو ہم ایسا کرنے والے اولین طالبعلم ہوتے۔ ان کے پاس اچھے اساتذہ تک موجود نہ تھے لہذا میں نے صرف آٹھویں جماعت ہی اس اسکول سے پڑھی اور پھر دوسرے اسکول میں داخلہ لے لیا۔ اس کے بعد کمپیوٹر کے جو استاد تھے، انہوں نے بھی وہ اسکول چھوڑ دیا یعنی کہ بٹا بیٹھ گیا۔ پھر کیا ہوا، کیا نہیں ہوا، ہماری لائبریری اور کتابوں کا کیا بنا، لیب کا کیا حال ہوا، یہ میں نہیں جانتا۔
ہاں! مجھے یہ خوشگوار لمحات جب بھی یاد آتے ہیں، خوشی کا احساس ہوتا ہے اور کچھ کچھ فخر کا بھی۔ میرا دل کرتا ہے کہ اسکول کے وہ لمحات مجھے کسی طرح دوبارہ میسر آسکتے اور میں پہلے سے بڑھ کر کچھ کرسکتا۔ :(

پارلیمنٹ سے بازارِ حسن تک

1,279 views January 2, 2008 | راہبر
No Gravatar

کل راہ چلتے فٹ پاتھ پر ایک بڑے میاں کافی کتابیں رکھے نظر آئے۔ ہر کتاب پینتیس روپے میں دے رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ دیکھ لی جائیں، شاید کوئی اچھی کتاب ہاتھ لگ جائے۔ زیادہ تر کتابیں شاعری اور کمپیوٹر کے حوالہ سے تھیں۔ اچانک میری نظر ایک کتاب پر پڑی جسے میں پہلے بھی کچھ جگہ دیکھ چکا تھا۔ میں نے وہ کتاب خرید لی۔ کتاب کا نام ہے: “پارلیمنٹ سے بازار حسن تک”۔
دفتر سے گھر واپسی پر، بس کا سارا سفر اسی کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے گزارا۔ اس کتاب میں پاکستان کے تمام بڑے سیاسی راہنماؤں کی خفیہ زندگی کو کھنگالا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ بظاہر شریف اور عوام کے ہمدرد نظر آنے والے سیاستدان کس طرح اپنا منہ کالا کرتے رہے ہیں اور کون کون سی خواتین، اداکارائیں، گلوکارائیں ان کے ساتھ خلوت کے لمحات گزارتی رہی ہیں۔
کتاب کے مصنف ظہیر بابر ہیں جن کے بارے میں تعارف کرایا گیا ہے کہ یہ معروف مصنف صحافی ہیں۔ کتاب کی زیادہ تر باتیں اس قدر ہوش رُبا ہیں کہ مجھے یقین کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ کیا کسی نے اس کتاب کا مطالعہ کیا ہے؟ اور کیا کوئی مجھے بتا سکتا ہے کہ یہ کتاب کس حد تک قابل اعتبار ہے؟ مجھے فی الحال اس کے اقتباسات پیش کرنے میں جھجک ہے۔

سالِ نو کی آمد مبارک

1,139 views January 1, 2008 | راہبر
No Gravatar

نیا سال 2008ء شروع ہوچکا ہے۔

اے خدا! یہ سال ہمارے لیے رحمتوں اور برکتوں والا سال بنا۔ آمین