No Gravatar

کہتے ہیں کہ موٹے لوگ بہت خوش مزاج ہوتے ہیں۔ یہ کہاوت نعیم صاحب کو دیکھ کر سچ لگتی ہے۔ یہ میرے ساتھ کام کرتے ہیں۔ انگریزی میں بولے تو کولیگ۔ اسلامی نظریات میں انتہا پسندوں سے کم اور مجھ سے کچھ زیادہ شدت ہے۔ موڈ میں ہوں تو خود کو اہلِ علم اور اہلِ نظر کہتے ہیں۔ اگر آپ ان کی بات کی حمایت کرنے لگیں تو آپ کو بھی اہلِ علم میں شمار کرنے لگیں گے۔
ان کو لنگر کھانے کا بے حد شوق ہے۔ پہلے سے علم رکھتے ہیں کہ کس جگہ کون سا پروگرام یا محفل ہے جہاں سے لنگر مل سکے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کا حجم بھی اچھا خاصا ہے۔
کچھ دن پہلے کی بات ہے، میرے ساتھ کھڑے تھے۔ اچانک غور کیا تو کہنے لگے، ارے آپ کا قد مجھ سے زیادہ بڑا ہے؟ میں نے کہا، کیا آپ پر اب انکشاف ہوا؟ بولے، ہاں! ابھی غور کیا۔ پھر کہنے لگے کہ جبھی میں سوچوں آپ کی عقل ٹخنوں میں لگتی ہے۔ میں نے کہا، میری عقل تو چلو ٹخنوں میں ہے پر ہے تو سہی، موٹوں کی عقل تو پیٹ میں چلی جاتی ہے اور جو چیز پیٹ میں چلی جائے وہ بچتی نہیں، باہر نکل جاتی ہے۔ :razz: کھی کھی کرکے ہنسنے لگے۔
اکاؤنٹنٹ کو ایک بات سے بہت چِڑ ہے۔ یہ جب بھی آتے ہیں، سیٹ کے پیچھے سے لگ کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس صورت میں سیٹ پر بیٹھنے والے سے ان کا پیٹ ٹکراتا رہتا ہے۔ اب یہ جب بھی کمرے میں داخل ہوتے ہیں، وہ کہتا ہے، پیٹ لگاکر مت کھڑے ہوجانا۔
پچھلے دنوں بتانے لگے، کچھ وظائف اور تعویذات وغیرہ کی اجازت مل گئی ہے۔ میں نے کہا، چلو بھئی اب یہ ملازمتوں کو مارو لات، گھر میں آستانہ کھولو اور شروع ہوجاؤ۔۔۔ کہنے لگے، ابھی نہیں۔ کچھ عرصہ بعد دیکھیں گے۔ ریاض صاحب بولے، کمائی بھی بہت ہوتی ہے اور عورتیں بھی آتی ہیں۔ :smile: میں نے کہا، نام یہی رکھ لینا، صوفی نعیم بابا۔
کتابیں پڑھنے اور جمع کرنے کا بے حد شوق ہے۔ گھر کا خرچ مشکل سے چلاتے ہیں لیکن کتابوں میں اکثر رقم خرچ کردیتے ہیں۔ گھر میں کتابیں رکھنے کی جگہ بھی نہیں۔ ایک دفعہ بتانے لگے، بیگم نے تنگ آکر بہت سی کتابیں ردی والے کو بیچ دی تھیں۔
بیگم سے بہت ڈرتے ہیں۔گھر میں بتائے بِنا کہیں چلے جاتے تھے اور گھر والے پریشان۔ آخر کو بیگم نے حل سوچ لیا۔ ایک دن افسردہ ہوکر بتانے لگے کہ یار، بیگم نے کہا ہے، اب روز شام کو دفتر فون کرکے معلوم کروں گی کہ کب تک نکلو گے؟ :lol: میں نے کہا، اچھا ہوا۔ ایک نہ ایک دن تو یہ نتیجہ نکلنا ہی تھا۔
کہاں تک لکھوں ان کے کارنامے۔۔۔ ڈر ہے کہ زیادہ پرسنل نہ ہوجائے۔۔۔ اس لیے فی الحال اتنا ہی۔

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔