لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
یار لوگوں نے دین کو کھیل بنالیا ہے۔ آج کل کچھ لوگ یا تو اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ دین بہت زیادہ آزادی دیتا ہے یا پھر علماء سے بدظن ہیں کہ انہوں نے بے جا پابندیاں عائد کرکے اسلام کا دائرہ تنگ کردیا ہے۔ دوسرا مؤقف کچھ حد تک درست تو ہے لیکن مکمل نہیں۔ درحقیقت دین نام ہی پابندیوں کا ہے۔ دین آپ کو پابند کرتا ہے کہ آپ نے زندگی کیسے گزارنی ہے، کس سے کس طرح کا برتاؤ کرنا ہے، کون سا عمل کرنا ہے اور کس سے گریز کرنا ہے۔ دین صرف اس بات کا نام نہیں ہے کہ وہ آپ کو بتادے فلاں عبادت فلاں وقت کرنی ہے اور اس طرح کرنی ہے، دن میں پانچ وقت ایسے ایسے نماز پڑھنی ہے، سال میں ایک ماہ کے روزے رکھنے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ دین صرف عبادت تک محدود نہیں ہے، خاص کر اسلام ہمیں ایک مکمل ضابطہ حیات فراہم کرتا ہے۔
عرصہ سے ایک نئی روش چلی ہے، لوگ اپنے من پسند کاموں کے لیے تاولیں گھڑلیتے ہیں، بڑی بڑی دور کی کوڑیاں لاتے ہیں اور اپنے کام کو اسلام سے ثابت کرتے ہیں۔ اگر کسی سے ایسا نہیں ہوپاتا تو وہ علمائے دین وغیرہ کو برا کہتا ہے کہ یہ ان لوگوں کی فالتو پابندیاں ہیں، اس طرح نہیں ہوسکتا، ایسا ظلم نہیں ہوسکتا۔ دین ہم لوگوں کی مرضی سے نہیں چلتا۔ کل کو کوئی کاروباری شخص کہے کہ دن میں پانچ وقت نمازیں پڑھنے سے تو کاروبار کا کافی وقت نکل جاتا ہے اور یوں نقصان اٹھانا پڑتا ہے تو اسلام ایسا ظلم تو نہیں کرسکتا کہ ہمیں کاروبار میں نقصان اٹھانا پڑے، تو آپ ایسے شخص کو کیا کہیں گے؟ عرصہ پہلے میرے ابو کی دکان پر ایک شعر لکھا رکھا ہوتا تھا کہ
یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
کچھ صاحبان اصلاح معاشرہ کا دعویٰ کرتے ہوئے اس طرح کی باتیں کرتے ہیں جس سے انتشار پھیلتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر اصلاح معاشرہ کا نعرہ بلند کرنے والوں کی کاوشوں سے انتشار پھیلے تو سمجھنا چاہئے وہ اصلاح نہیں، فساد کررہے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ کیا دین اسلام کے سارے فرائض اور اراکین ایک ہی دفعہ اتر آئے تھے؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا دین ایک ہی وقت میں تھمادیا تھا کہ کلمہ پڑھو اور اس کے فورا بعد ایسا کرو، یہ کرو، فلاں کام سے رکو وغیرہ وغیرہ۔۔۔ نہیں۔۔۔! بلکہ آہستہ آہستہ بگڑے ہوئے معاشرہ کو اصلاح کی طرف راغب کیا۔ یونہی اگر آج کسی معاشرہ میں غلط رسوم رائج ہیں یا عقائد میں بہت زیادہ بگاڑ آگیا ہے تو ان کی دھیرے دھیرے اصلاح کی جائے گی نہ کہ بیک جنبش قلم سب کو کافر یا گمراہ کا پروانہ تھماکر کہا جائے کہ یہ کام چھوڑ دو، فلاں امر سے رک جاؤ۔
اس وقت بہت سے لوگ معاشرہ کی اصلاح کی کوشش کررہے ہیں، سب کو مبارک، سب کے لیے نیک تمنائیں، کسی کی نیت پر شک نہیں لیکن ایک مصلح کے لیے کن کن باتوں کا دھیان رکھنا ضروری ہے، اس پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ورنہ خدانخواستہ اصلاح فی الارض کا نتیجہ فساد فی الارض بھی نکل سکتا ہے۔
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
January 18, 2008 بوقت 8:05 pm
آپ کی رائے سے ہم متفق ہیں اور ہمیشہ اسی بات کا رونا روتے آئے ہیں کہ مصلح حضرات قوم کی اصلاح کیلے نئی نئی جماعتیں بنا کر دین میںمزید فرقے پیدا کر رہے ھیں۔
January 18, 2008 بوقت 9:02 pm
ہم اسلام کو دین کے بجائے مذہب سمجھتے ہیں!
دین ایک وسیع لفظ ہے اور اسللام دین ہے!! مذہب سے آگے،
باقی در حقیقت مواملہ کچھ یوں کہ
“لوگ احسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا”
شعیب صفدر’s last blog post..تم کیسی محبت کرتے ہو؟
January 19, 2008 بوقت 11:21 am
جزاک اللہ ۔ آج سے دو سال قبل میں اس موضوع پر اپے روزنامچہ پر لکھ چکا ہوں اور پھر ایک اور انداز سے لکھنے کا سوچ رہا ہوں ۔ انشاء اللہ جلد لکھوں گا ۔
کوئی بھی لائحہ حیات ہو پابندیاں اس کا لازمی جزو ہوتی ہیں ۔ وہ پابندیاں لوگ بخوشی قبول کرتے ہیں لیکن دین کی پابندی انہیں کھَلتی ہے ۔
شعیب صفدر صاحب نے صحیح لکھا ہے کہ اسلام مذہب نہیں ۔ یہ بھی میں تفصیل سے لکھ چکا ہوں ۔ اسلام دین ہے جس کا مطلب ہے دستور ۔ آئین ۔ لائحہ حیات ۔
January 21, 2008 بوقت 10:10 am
بہت شکریہ میرا پاکستان اور شعیب صفدر۔ آپ نے بالکل صحیح لکھا۔
اس موضوع پر آپ کی اگلی تحریر کا بھی انتظار رہے گا۔
اجمل صاحب! آپ نے اپنے روزنامچے میں کافی سارے موضوعات کا احاطہ پہلے ہی کیا ہوا ہے۔
January 21, 2008 بوقت 10:51 am
بہت خوب راہبر! ہمارے باہمی انتشار کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہم اپنی ذاتی پسند و نا پسند کی بنیاد پر جو کچھ بھی عمل کرتے ہیں اس کی تاویل اسلام سے پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ اگر کوئی شخص کچھ غلط کرے اور ساتھ اس امر کا برملا اظہار بھی کرے کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے وہ دراصل اسلام نہیں بلکہ اس کے خلاف ہے اور میرا یہ عمل غلط ہے تو اس کے اس اقرار پر کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ لیکن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم اپنے ناقص عمل کے لیے اسلام سے توجیہ لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس حوالے سے مصر کے معروف عالم دین سید قطب شہید کی کتاب “اسلام اور جدید ذہن کے شبہات” پڑھنے کے قابل ہے۔ یہ کتاب مندرجہ ذیل ربط سے مفت (پی ڈي ایف) ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے۔ امید ہے کئی افراد کی رہنمائی کا سبب بنے گی:
http://www.quranurdu.com/books/urdu_books/34%20Islam%20aur%20jadeed%20zehn%20kay%20shubhaat.pdf