جناح
قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی اور تحریکِ پاکستان میں ان کے کردار پر بننے والی فلم “جناح” میں نے گذشتہ ہفتہ ہی دیکھی حالآنکہ اسے ریلیز ہوئے کئی سال گزر چکے ہیں۔ میں تلاش کے باوجود یہ نہیں جان سکا کہ اس فلم نے کتنا بزنس کیا تھا لیکن اس پر بے حد اعتراضات ضرور ہوئے تھے۔ یہ فلم 1998ء میں پاکستان اور برطانیہ میں ریلیز ہوئی۔ مجھے اپنے وطن اور اپنے عظیم رہنما سے بے حد محبت ہے۔ میں نے جب سے اس کے بارے میں جانا تھا، اس کو دیکھنے کے لیے بے تاب تھا۔ ہمارے ہاں سینیما جانے کا رواج نہیں اور اس فلم کے ریلیز ہونے کے وقت میری عمر 10، 11 سال ہی تھی۔ اس لیے اسے دیکھنے کی خواہش میرے دل میں بسی رہی اور تقریبا دس سال بعد، اب یہ فلم دیکھ سکا۔
فلم میں قائد اعظم محمد علی جناح کا کردار ہالی ووڈ کے مشہور اداکار کرسٹوفرلی نے نبھایا ہے جو کہ عرصہ تک فلموں میں کاؤنٹ ڈریکولا کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے مشہور تھا۔ یہی ایک وجہ تھی جس کی وجہ سے اس فلم پر بے شمار اعتراض ہوا اور تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ فلم کے باقی کرداروں میں شیریں جناح، ماریہ ایٹکن، ششی کپور، شکیل، ونیزہ احمد، رابرٹ ایش بے، سام ڈاسٹر وغیرہ شامل تھے۔
فلم کا پہلا منظر یہ ہے کہ قائد اعظم کو بیماری کی حالت میں بذریعہ ہوائی جہاز کراچی منتقل کیا جاتا ہے۔ ایمبولینس میں لے جایا جارہا ہوتا ہے تو ایمبولینس خراب ہوجاتی ہے۔ وہیں قائد اعظم کی طبیعت مزید بگڑ جاتی ہے اور وہ وصال کرجاتے ہیں۔ اس کے بعد کا منظر کچھ عجیب سا ہے۔ دکھایا گیا ہے جیسے مرنے کے بعد کی دنیا میں پہنچے ہیں۔ وہاں ایک آدمی سے ملاقات ہوتی ہے جو انہیں بتاتا ہے کہ وہ ان کا منتظر تھا اور کچھ معلومات کی تصدیق کرنا چاہتا ہے۔ وہ ایک کتاب دکھاتا ہے جس کے سرورق پر محمد علی جناح درج ہوتا ہے اور بتاتا ہے کہ اس میں آپ کے بارے میں ساری معلومات ہیں۔ لیکن جب وہ کتاب کھولتا ہے تو خالی ہوتی ہے اور پتا چلتا ہے کہ سارا ڈیٹا کمپیوٹر پر منتقل کردیا گیا ہے۔ کمپیوٹر پر فائل تلاش ہوتی ہے تو ملتی نہیں۔ لہذا ان معلومات کی تصدیق کے لیے قائد اعظم کے دوبارہ ان کے زمانے میں لے جایا جاتا ہے۔ اب اصل کہانی کا آغاز ہے جب قائد کی جوانی اور ان کی زندگی کے واقعات ہیں جنہیں قائد اعظم اور وہ شخص اپنے سامنے ہوتا دیکھ رہے ہیں جو قائد کو واپس اس دنیا میں لایا ہے۔
محمد علی جناح صاحب کی رتن بائی سے محبت، رتن بائی کا گھر سے فرار ہونا، اسلام قبول کرنا، پھر شادی اور اس کے بعد یہ انکشاف کے رتن بائی کو کینسر ہے جس سے رتن بائی کی موت ہوجاتی ہے۔ یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ کس طرح قائد اعظم مسلمانوں کے حقوق کے لیے ہر فورم سے آواز اٹھاتے ہیں۔ پھر ایک بار کانگریس کے جلسے میں گاندھی کی ایک قرار داد کی مخالفت کرتے ہوئے جب اپنی گفتگو میں “مسٹر گاندھی” کہتے ہیں تو سامنے سے انتہا پسند کھڑے ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ “مسٹر گاندھی نہیں، کہو: مہاتما گاندھی”۔ لیکن قائد اعظم زوردار آواز میں اپنی بات مکمل کرتے ہیں اور “مسٹر گاندھی” ہی کہتے ہیں۔
جواہر لال نہرو اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی بیگم کے ساتھ روابط اور ان کے نتیجہ میں ہونے والی گٹھ جوڑ کی کہانی بھی شامل ہے۔ پھر کس طرح علامہ اقبال لند آکرقائد اعظم سے ملتے ہیں اور ان کو انڈیا لوٹ کر مسلمانوں کی قیادت سنبھالنے کے لیے کہتے ہیں۔ اس کے باعد قیامِ پاکستان اور بعد از قیامِ پاکستان۔ مجھے تو بہت دلچسپ اور اچھی فلم لگی۔ شاید اس لیے کہ مجھے جذباتی لگاؤ بھی ہے۔ یہ اندازہ لگائیں کہ جب میں نے یہ فلم دیکھی ہے، اس کے بعد دو راتوں تک مجھے قائد اعظم محمد علی جناح ہی کے بارے میں خواب آتے رہے۔ ![]()
اس فلم کے مزید دو تین واقعات بھی ہیں جو میرا دل چاہتا ہے کہ بیان کروں لیکن اگر میں نے ہی سب کچھ بیان کردیا تو پھر آپ کیا دیکھیں گے؟ اگر یہ فلم آسانی سے مل سکے تو ضرور دیکھیں۔
اس فلم کے ڈائریکٹر جمیل دہلوی ہیں۔
مزید معلومات کے لیے یہ، یہ اور یہ
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
January 15, 2008 بوقت 6:32 pm
راہبر بھائی آپکا جذباتی پن تحریر سے بھی عیاں ہے جہاں آپ نے املا کی کچھ غلطیاں کی ہیں وہی شیریں شاہ کو بھی شیریں جناح لکھ دیا
ویسے فلم کافی اچھی ہے لیکن اس فلم نے “گاندھی” جیسا مقام نہ بنا پایا۔
January 15, 2008 بوقت 7:08 pm
جاناں گل! ہندوستان میں یہ بھی تو دیکھئے کہ ان کے راہنماؤں پر جو فلمز وغیرہ بنتی ہیں، وہاں کے لوگ ان میں بہت زیادہ دلچسپی دکھاتے ہیں۔ لیکن اگر آپ پاکستان میں دیکھیں تو یہاں اس کے برعکس ہے۔ اگر آپ پوچھنے نکلیں کہ کس کس نے یہ فلم “جناح” دیکھی ہے تو بہت مشکل سے کچھ لوگ مل سکیں گے۔
شہرت تو ہم ہی لوگوں سے حاصل ہوگی کسی فلم کو۔ یہاں کے لوگ گاندھی والی منا بھائی کی فلم “لگے رہو منا بھائی” تو دس بار بھی دیکھ لیتے ہیں لیکن اپنے قائد کی فلم کو ایک بار بھی دیکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
January 16, 2008 بوقت 2:38 pm
بہت پہلے فلم دیکھی تھی، اب تک زیادہ یاد بھی نہیں رہی۔ دوبارہ کہیں ملی تو ضرور دیکھوں گی۔
ماوراء’s last blog post..نیا اسلامی سال مبارک
January 18, 2008 بوقت 12:56 am
Jinnah sahib ku ulema-e-karaam nain kafir-e-azam qarar diayya, aap kiyyon Jinah sahib ku itnee ehmiyyat day rahay hain?
January 18, 2008 بوقت 10:25 am
ضامیل! بلاگ پر خوش آمدید۔ تبصرہ اردو میں لکھا ہوتا تو زیادہ خوشی ہوتی۔
میں کسی للو پنجو کے فتوی کفر کو نہیں مانتا۔ میرے عظیم قائد نے مسلمانوں کے لیے وہ کام کردکھایا ہے جو یہ فتاوے کفر جاری کرنے والے ہزار علماء بھی نہیں کرسکتے۔