احسان تمہارا
جون/ جولائی میں انٹرمیڈیٹ کے امتحانات ہوئے تھے، میں نے سال اول کے پرچے دیے۔ نتائج کا انتظار کرتے کرتے دسمبر آگیا اور تب اعلان ہوا۔ ابتداء میں ویب سائٹ پر صرف یہ بتایا گیا کہ کسی رول نمبر والا کتنے پرچوں میں کامیاب ہوا ہے۔ میں نے بے تابی سے اپنا نتیجہ دیکھا تو دل ڈوب گیا۔ چھ میں سے پانچ پرچوں میں کامیاب تھا۔ ناکامی اور وہ بھی میری۔۔۔ ایسا کیسے ہوگیا۔۔۔ شدید ذہنی دباؤ، پریشانی۔۔۔ میرا خیال یہی تھا کہ جس میں ناکام رہا ہوں، وہ جغرافیہ کا ہوگا کیونکہ اس کا پرچہ بہت برا ہوا تھا۔ اب کچھ دن پہلے مارکس شیٹ ملی تو میرے ہوش اُڑ گئے۔ جانتے ہیں کیوں؟ جغرافیہ کے پرچے کا نتیجہ بہت شاندار تھا۔ نظری (تھیوری) امتحان میں 75 میں سے 63 اور عملی امتحان (پریکٹیکل) میں 25 میں سے 24۔ اگر کسی کو توقع ہو کہ وہ فلاں پرچے میں ناکام ہوگا اور اس میں اس کا نتیجہ شاندار رہے تو شاید آپ توقع کرسکیں، کس قدر خوشی ہوتی ہے۔
لیکن پھر ناکامی کس میں ہوئی تھی؟ یہ کچھ طویل کہانی ہے اور افسوسناک بھی۔ اگر بور ہونے کا ارادہ ہے تو پڑھتے رہیں۔۔۔
میں نے اختیاری مضامین میں سے علم مدنیت (شہریت/ Civics) منتخب کیا تھا لیکن مارکس شیٹ ظاہر کرتی تھی کہ مدنیت کا مضمون میں نے لیا ہی نہیں ہے بلکہ میں نے معاشیات (Economics) کا مضمون لیا تھا جس کے امتحان نہیں دیا اور اس کے پرچے میں غیر حاضر رہا۔ اتنی سنگین غلطی۔۔۔!
میں بھاگم بھاگ اپنے جغرافیہ کے استاد کے پاس پہنچا۔ وہ ہمارے کالج میں شعبہ فنون (Department of Arts) کے سربراہ (Head) ہیں۔ میں نے انہیں سارا ماجرا کہہ سنایا۔ انہوں نے کہا، کوئی بات نہیں، انٹر بورڈ آفس چلے جاؤ، مسئلہ حل ہوجائے گا۔
اگلے دن (یعنی گزشتہ جمعرات) میں ابو کے ساتھ انٹرمیڈیٹ بورڈ آفس جا پہنچا۔ وہاں متعلقہ شعبے کے کمرے میں گیا، جاوید حسین صاحب سے بات ہوئی۔ ساری بات ان کے گوش گزار کی۔ انہوں نے کہا، ایک درخواست لکھ دو، کنٹرولر آف ایگزامینیشنز (ناظم امتحانات) کے نام، ساتھ میں اصل مارکس شیٹ اور ایڈمٹ کارڈ کی فوٹو کاپی بھی منسلک کردو۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ دو دن بعد یعنی سنیچر کو آنے کا حکم ہوا۔ میں تابعدار بنا، لوٹ آیا۔ سنیچر کو حاضری دی۔ کچھ دیر انتظار کروا کر کمرے میں بلایا گیا۔ درخواست نکالی گئی، جس حالت میں چھوڑ کر گیا تھا، ویسی ہی رکھی تھی۔ اس پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی تھی۔ انتہائی افسوس ہوا۔ بہر حال! جاوید صاحب نے مجھ سے ایک/ دو باتیں پوچھیں۔ پھر ایک بہت بڑا رجسٹر اٹھا لائے۔ اسے کھولا تو مجھے حیرت بھی ہوئی اور افسوس بھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ تب میں نے جانا کہ یہاں جتنا کام بھی ہوتا ہے، اس کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہونے کے بجائے اس طرح رجسٹرز پر درج ہوتا ہے۔ وہ تلاش کرتے ہوئے میرے رول نمبر تک پہنچے۔ اس کے آگے میرا نتیجہ درج تھا۔ اس میں بھی معاشیات کے پرچے میں غیر حاضر ظاہر کیا گیا تھا۔ پھر جاوید صاحب نے میرے کالج کا نام پوچھا۔ اس کے بعد وہ ایک الماری میں سے تھوڑی تلاش کے بعد ایک فائل اٹھا لائے۔ کھولا تو وہ میرے کالج کے تمام طلباء کے امتحانی فارم تھے۔ اس میں سے میرا فارم نکالا گیا اور تصدیق ہوئی کہ میں نے واقعی علم مدنیت منتخب کیا تھا، معاشیات نہیں۔ اس کے بعد میری درخواست پر Civics لکھ دیا گیا اور رجسٹر میں درج میرا نمبر بھی۔ اس کے بعد حکم ہوا کہ پیر کو آجائیں۔ ہم لوٹ آئے۔
باہر نکل کر میں ابو سے کہنے لگا کہ مجھے تو یہ دیکھ کر بہت حیرانی ہوئی ہے کہ ان کے پاس ساری معلومات اس طرح درج ہوتی ہے اور کوئی کمپیوٹرائزڈ نظام نہیں۔ اس سے بڑھ کر افسوسناک یہ کہ سب دستاویزات ایک بندہ کی دسترس میں ہیں۔ وہ چاہے تو کسی کا بھی نتیجہ تبدیل کرسکتا ہے۔ رجسٹر میں جہاں نمبرز کا اندراج ہے، اس میں تبدیلی کرسکتا ہے، مارکس شیٹ بدل سکتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
بہرحال! میں سوموار کو جا پہنچا۔ ابو کے پاس کچھ سامان تھا اس لیے وہ پارکنگ میں ہی رک گئے اور میں انٹر بورڈ آفس میں داخل ہوگیا۔ کافی طلباء و طالبات جمع تھے۔ پہلے تو جاوید صاحب نے لفٹ ہی نہیں کرائی، کافی دیر بعد جب بار بار ان کو اپنا دیدار کراتا رہا اور اس کے بعد ان سے پوچھا بھی کہ میرے معاملہ کا کیا ہوا تو پہلے انہوں نے پانچ منٹ انتظار کا کہا، دس/ پندرہ منٹ گزرنے کے بعد یاد دلایا تو مزید انتظار کا کہا۔۔۔ دوسری طرف پارکنگ میں ابو میرا انتظار کررہے تھے اور انہیں دیر بھی ہورہی تھی۔ سو، میں نے ابو کو فون کرکے کہا کہ آپ چلے جائیں کیونکہ مجھے کافی وقت لگ جائے۔ یوں ابو ایک گھنٹہ انتظار کے بعد چلے گئے۔ جاوید صاحب کا کوئی ارادہ نہیں لگتا تھا۔ وہ یا تو ساتھیوں کے ساتھ یا فون پر خوش گپیوں میں مشغول ہوجاتے یا کوئی کام کرنے بیٹھتے تو بہت سستی سے کرتے۔ آخر، انہوں نے احسان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ بھائی، کل آجانا۔ میں نے کہا کہ اتنے دن سے آ رہا ہوں، کام کب ہوگا۔ کہنے لگے، آپ کی درخواست اوپر بھیجی ہوئی ہے۔ میں پہلے ہی دیکھ چکا تھا کہ میری درخواست اسی کے میز پر پڑی ہے اس لیے میں نے کہا، میری درخواست تو یہیں رکھی ہوئی ہے۔ پہلے تو وہ تھوڑا بوکھلائے، پھر کہنے لگے کہ یار! میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ درخواست اس طرح تھوڑی بھیجی جاتی ہے، ایک پرچی پر لکھ کر دے دیا جاتا ہے کہ فلاں فلاں نمبر کا یہ مسئلہ ہے۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ خیر! لوٹ آنے کے سوا کوئی چارہ تھا ہی نہیں۔ انٹر بورڈ آفس سے کافی پیدل چلنا پڑا، تب جاکر دفتر جانے کے لیے گاڑی ملی۔
منگل کو ابو کے ساتھ جا پہنچا۔ جاوید صاحب نے نوید سنائی کہ آپ کا کام ہوگیا ہے، کچھ انتظار کریں۔ انتظار کرتے کرتے آدھ گھنٹہ گزر گیا۔ جاوید صاحب مختلف لوگوں سے خوش گپیوں میں مشغول رہے۔ وہاں دو لڑکے کھڑے تھے، میں نے انہیں پچھلے دن بھی دیکھا تھا۔ ان سے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے آپ لوگوں کا؟ ان میں سے ایک لڑکے نے بتایا کہ اس کو اردو کے پرچے میں غیر حاضر دکھایا ہے، حالآنکہ اس نے یہ پرچہ دیا تھا۔ میں نے پوچھا کہ پھر کیا ہوا ہے؟ کہنے لگا، چار/ پانچ دن سے چکر لگا رہا ہوں، کل صبح نو بجے آیا تھا اور شام پانچ بجے گیا، تب جاکر کام ہوا ہے، جاوید صاحب کہتے ہیں کہ پاس کردیا ہے۔ یہ حالت ہے سرکاری ملازمین کی۔ پھر وہ جاوید صاحب کسی کمرے سے کچھ کاغذات اٹھا لائے۔ تب یہ ڈھارس بندھی کہ شاید ہماری درخواستوں پر کاروائی کے لیے یہ کسی اور کی میز پر تھیں اور اب ان پر کاروائی ہوچکی ہوگی۔ کمرے میں بلایا گیا، درخواست پہچانی۔ جب درخواست دیکھی تو وہ اس وقت بھی اسی حالت میں تھی، جس حالت میں اسے سنیچر کو چھوڑا تھا۔ مجھے انتہائی مایوسی ہوئی۔ خیر، اس کے بعد جاوید صاحب نے دوبارہ باہر انتظار کرنے کو کہا۔
کافی دیر ادھر ادھر گھومتے رہے، کام کرواتے رہے۔۔۔ اس کے بعد جاکر یہ خوشخبری سننے کو ملی کہ ہاں جی! اب کام ہوگیا ہے اور حتمی مارکس شیٹ تھما دی گئی۔
میں ابو سے کہنے لگا، یہ کام کرنا ان لوگوں کا فرض ہے۔ لیکن یہ لوگ کام کرتے ہوئے لوگوں کو اتنا رُلاتے ہیں کہ ان کے فرض کی ادائیگی لوگوں کو احسان لگنے لگتی ہے اور ہزار تنگ کرنے کے باوجود جب یہ لوگ کام کرکے دیتے ہیں تو سامنے والا جذبہ تشکر سے لبریز ہوجاتا ہے اور خدا کا شکر ادا کرتا ہے کہ کام تو ہوا۔ کس قدر افسوس ناک حالت ہے۔ میں نے ابو سے یہ بھی کہا کہ ہمارے معاشرے میں ایک سوچ بن گئی ہے۔ وہ یہ کہ سرکاری نوکری حاصل کرلو تو زندگی بھر عیش کرنا ہے۔ کام کرنا نہیں پڑتا بس مفت کی تنخواہ ملتی ہے۔ اسی سوچ کے باعث جب کسی کو سرکاری نوکری ملتی ہے تو اس کے ذہن میں کام نہ کرنے والا خیال اس قدر پختہ ہوچکا ہوتا ہے کہ وہ کوئی بھی کام کرنا بے کار اور اپنی توہین سمجھتا ہے۔
سوچئے۔۔۔! یہ سوچنے کا مقام ہے۔۔۔۔!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس مایوس کن صورتحال کو بیان کرتی تحریر کے بعد اختتام میں ایک دلچسپ واقعہ۔
منگل کو سارا کام ختم ہوا اور ہم واپس جانے کے لیے پارکنگ ایریا میں پہنچے۔ وہاں چھوٹے لڑکے گاڑیاں صاف کرنے کے لیے موجود ہیں اور اس کے پانچ/ دس روپے لیتے ہیں۔ جب ہم پارکنگ ایریا میں پہنچے تو موٹر سائیکل والے ایک لڑکے کی صفائی کرنے والے کسی لڑکے سے منہ ماری ہوئی تھی۔ وہاں سے ایک بندہ گزر رہا تھا، جس کی عمر 30، 35 سال کے قریب ہوگی، دبلا جسم، درمیانہ قد، چھوٹی سی داڑھی اور سر پر ٹوپی۔ یہ بندہ اس موٹر سائیکل والے لڑکے کو کچھ کہنے لگا کہ شرم نہیں آتی، دس پانچ روپے کے لیے ایسا کرتے ہو، وغیرہ وغیرہ۔ لڑکے نے جواب دیا کہ بھئی! تم اپنے کام سے کام رکھو، کسی اور کی بات میں مت ٹانگ اڑاؤ۔ اس پر وہ بندہ کچھ الجھ گیا اور آگے بڑھنے کے بعد واپس پلٹ آیا۔ تھوڑا بھرم دیا، اس کے بعد کہنے لگا، تم جانتے نہیں ہو مجھے، بہت بول رہے ہو، میں اللہ والا ہوں۔
موٹر سائیکل والا لڑکا بولا، تم اللہ والے ہو تو میں بھی اللہ والا ہوں، شیطان والا نہیں ہوں۔
:razz:
وہ بندہ دوبارہ یہی کہنے لگا کہ سدھر جاؤ، خاموش ہوجاؤ، میں اللہ والا ہوں، تم میری طاقت جانتے نہیں ہو، اگر میرا اصل روپ دیکھ لیا نا تو تمہارا پیشاب نکل جائے گا۔۔۔۔ :lol: :lol: :lol: :lol: :lol: لڑکا دوبارہ بولا کہ میں بھی اللہ والا ہی ہوں۔۔۔ سمجھے؟ اور اللہ والے دوسروں کے معاملہ میں ٹانگ نہیں اڑاتے۔ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ آنکھیں نیچے کرکے بات کرو۔ وہ بندہ کہنے لگا، میں چاہوں تو یہاں کھڑے کھڑے تمہاری بائیک کو آگ لگادوں، تم جانتے نہیں ہو مجھے، میں طالبان ہوں، القاعدہ کا بندہ ہوں، کچھ کرسکتے ہو تم؟ ابھی تمہاری گاڑی کو آگ لگادوں گا۔ لڑکا ہنس رہا تھا۔ ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا، اچھا بھئی، میں کچھ نہیں کرسکتا، جاؤ جاؤ۔۔۔! وہ بندہ بڑبڑاتا ہوا چلا گیا۔ لڑکا ہمیں دیکھ کر مسکرانے لگا۔ میں اور ابو پارکنگ ایریا سے نکلے تو ہم مسکرارہے تھے۔۔۔۔ :wink:
۔۔۔۔۔۔
ایک اور بات۔۔۔ میری یہ تحریر بھی کچھ اسی موضوع سے منسلک اور ایک انکشاف پر مبنی ہے: جغرافیہ کا عملی امتحان اور انوکھا تجربہ
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
January 30, 2008 بوقت 6:19 pm
سرکاری آدمی جب کام میں سستی دکھائے تو سمجھو کہ رشوت مانگ رہا ہے۔ اگر آپ اسے پہلے دن ہہی دو چار سو تھما دیتے تو آپ کا کام اگلے دن ہوجاتا۔ رشوت لینا دینا اب معمول بن چکا ہے اور اب تو لوگ اسے گناہ بھی سمجھنا چھوڑ چکے ہیں۔
ہمارے ایک دوست نے کئی سال پہلے مکان خریدا اور کینٹ بورڈ میںٹرانسفر کی درخواست دے دی۔ دوست مذہبی تھا رشوت کو حرام سمجھتا تھا۔ آپ یقین نہیں کریں گے اس کا مکان پورے پانچ سال بعد ٹرانسفر ہوا لیکن بغیر رشوت کے۔ آپ تو خوش قسمت ہیں آپ کا کام پانچویں روز ہو گیا۔
بہرحال مبارک ہو امتحان میں پاس ہونے کی۔
میرا پاکستان’s last blog post..صدرمشرف کا دورۂ یورپ - قومی سرمائے کا ضیاع
January 30, 2008 بوقت 8:32 pm
آپ کو اپنا کام کروانا تھا لہذا آُ اُس سے الجھنے سے کترا رہے تھے!!
مگر بعض کام کسی کو شرمندہ کروا کر بھی کروائے جاسکتے ہیں!!
باقی افصل صاحب والی بات رشوت دو یا اُ کا آسرا!! کام ہو جاتا ہے!!!
شعیب صفدر’s last blog post..کراچی کی پہچان؟
January 30, 2008 بوقت 8:44 pm
انھیں پچاس کا نوٹ دکھانا تھا میاں کام اسی دن نکل آتا۔ پورے پاکستان میں یہ زبان بڑی روانی سے بولی اور سمجھی جاتی ہے۔
محمد شاکر عزیز’s last blog post..گلوبل سائنس کی مدد کیجیے
January 31, 2008 بوقت 12:49 am
بہت اچھا کیا جو پیسے دیے بغیر کام کروایا۔ اگر ہم سب یوں کریں تو انکو توقع ہی نہ ہو اور سب کا کام وقت پر ہونے لگے۔
فیصل’s last blog post..اللہ میاں کا ورکنگ سٹائل
January 31, 2008 بوقت 12:52 am
کمال ہے ساری عوام رشوت کا راستہ دکھا رہی ہے؟بے شک سب کے منہ کو حرام لگ چکا ہے لیکن پہلے کوشش ضرور کریں یہ نہیں کہ فورا رشوت دینے پر تیار۔۔
January 31, 2008 بوقت 12:56 am
آہ ۔۔پاکستان کے حالات۔۔! ایسے حالات سن، دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ اور یہ بڑے تو تمھیں رشوت دینا بھی سکھا رہے ہیں۔
میرا مشورہ یہی ہے۔۔کہ چاہے جتنے مرضی دن کام کرنے کو لگیں۔۔۔پیچھے پڑے رہو۔۔لیکن کبھی رشوت نہ دینا۔ ہم نے رشوت دے دے کر ہی تو سب کو خراب کر دیا ہے۔ کہ اگلے منہ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ کب کچھ ملے گا۔
عمار، بہت مبارک ہو۔ شکر ہے پاس ہو گئے۔ ورنہ اتنی محنت کے بعد پتہ چلتا کہ پاس نہیں ہوئے تو اور بھی برا حال ہوتا۔ اور یہ جغرافیہ کا پریکٹیکل وہی تھا۔۔جس کے بارے میں تم نے لکھا بھی تھا۔۔کہ دھاندلی ہوئی تھی۔
ہاہاہاہا۔ اور آخری واقعہ بہت دلچسپ ہے۔ کچھ لوگ بہت مزے کے ہوتے ہیں۔ :lol:
ماوراء’s last blog post..آخری تھیم؟
January 31, 2008 بوقت 10:56 am
اگرچہ اس قسم کے حالات اب پاکستان میں معمول ہیں، لیکن کوشش یہی کرنی چاہیے کے رشوت نہ دینی پڑے۔ بغیر رشوت کے کام کراونے میں وقت تو لگے گا، لیکن انشااللہ ہوجائیگا۔
باقی رہی بات سرکاری محکموں کی، تو اس کے لیے دعا کرے رہیے اور اگر کھبی خود کسی سرکاری محکمے میں کام کرنے کا موقع ملے تو اصلاح کی کوشش کریں اور یا اگر کوئی رشتے دار یا دوست کسی محکمے میں کام کررہا ہو، تو اس کو نصیحت کریں۔
معراج خٹک’s last blog post..امید
January 31, 2008 بوقت 11:27 am
:shock: بھائیو! سچ کہا۔۔۔ رشوت دی ہوتی تو کام فورا ہو بھی جاتا لیکن رشوت نہ دے کر بھی کام تو ہو ہی گیا اگرچہ رو رو کر ہوا۔ کوئی بات نہیں۔ حق پر ڈٹے رہیں تو اللہ بہتر کرتا ہے۔
افضل صاحب! واقعی رشوت نہ دی جائے تو لوگوں کے کام کو کئی کئی سال بھی لگ جاتے ہیں۔ اس دیس میں سب کچھ چلتا ہے۔
شعیب بھائی! الجھ جاتا تو کام مزید لٹک جاتا۔ رشوت نہیں دینی تھی اس لیے شرافت سے ہی کام کروانا پڑا۔
شاکر بھائی! رشوت تو خیر سے ہر سرکاری ادارہ میں چل رہی ہے اور وہ بھی اس طرح کہ اسے حق سمجھ کر لیا جاتا ہے۔
فیصل بھائی اور احمد! بہت شکریہ۔
ماوراء۔۔۔۔ :sad: ۔
امتحان کی مبارکباد کے لیے شکریہ۔ ہاں، جغرافیہ کا عملی امتحان وہی تھا جس میں تماشے ہوئے تھے۔۔۔ اس کا ربط بھی پوسٹ میں رکھتا ہوں۔
January 31, 2008 بوقت 5:26 pm
یار یہ تم نے کیا یاد دلا دیا :mad: ! جب میں نے ڈومیسائل بنوایا تھا تو میری اس سے بھی زیادہ خواری ہوئی تھی کہ آج بھی یاد کرتا ہوں تو
۔۔۔۔۔ ۔۔ شدید سردی کے دنوں میں صبح سویرے ایک شہر (جیکب آباد) سے دوسرے شہر (ٹھل Thull) کی ویگن پکڑنا اور دن بھر کی خواری کے بعد تھکے ہارے اور ناکام گھر لوٹنا مجھے آج بھی یاد ہے۔ درخواست جمع کرانے پر یہ سرکاری ملازمین ایسے ایسے اعتراضات سامنے لائے کہ میں حیران ہو گیا۔ ایک اعتراض تو یہ تھا کہ تم یہاں (جیکب آباد) کے نہیں لگتے، میں نے شناختی کارڈ دکھایا، دوسرا اعتراض کراچی کیوں پڑھنے گئے یہاں تعلیمی ادارے نہیں کیا؟ تیسرا اعتراض گاؤں میں تمہارا گھر کہاں ہے؟ اور بے جا بکواسیں سن سن کر میرے تو کان پک گئے۔ میرے اور والد کے جتنے کاغذات تھے سب ان کے سامنے ڈال دیے لیکن ان کے کان پر جوں بھی نہیں رینگی۔ بالآخر تنگ آ کر میں نے کہہ دیا کہ نہیں بنوانا ڈومیسائل لیکن ہمارے رشتہ داروں کا اصرار تھا کہ پیسے دے کر تو کام بن ہی جائے گا جبکہ میں نے چار آنے بھی نہ دینے کی قسم کھا رکھی تھی (ہوتے تو دیتا نا
) بہرحال 10 سے 15 دن کی زبردست خواری کے بعد میں نے اس “کام” پر لعنت بھیجی اور واپس گھر (کراچی) آگیا اور چچا کو کہا کہ اب آپ جانیں اور ڈومیسائل۔ بیچارے نجانے کتنوں کو رشوت دے کر مجھے خود کراچی ڈومیسائل دینے آئے۔ آج تک افسوس ہوتا ہے کہ آخر ہم کب سدھریں گے۔ البتہ شناختی کارڈ میں نے 2000ء میں مفت میں بنوایا تھا جب مشرف حکومت نئی نئی آئی تھی اور شناختی کارڈ دفاتر میں کافی سختی تھی۔ یقین کریں شناختی کارڈ بنا کر دینے والے کے چہرے پر کارڈ دیتے ہوئے شدید غصے کے آثار تھے :lol: :lol: :lol:
ابوشامل’s last blog post..قلعہ جنگی کی جنگ