No Gravatar

میں نے گھر میں یکم جنوری سے کیبل ٹی۔وی لگوایا ہے۔ سرکاری ٹی۔وی دیکھ دیکھ کر تنگ آگیا تھا۔ تھک ہار کر گھر لوٹتا تو اس پر وہی بوسیدہ پروگرام دیکھنے کو ملتے۔ اب ظاہر ہے کہ کیبل لگوانے کا کام میں نے کیا ہے تو اس کا خرچہ بھی میرے سر پر پڑا ہے۔ فی الحال میں نے بہت منتخب چینل ٹیون کرکے رکھے ہیں۔ ایک دو چینل خبروں کے، ایک نیشنل جیوگرافک، پیس ٹی۔وی، تین چینل بچوں کے اور چار چینل کھیلوں کے۔
کیبل لگوانے کا اصل مقصد خبریں تھیں لیکن خبریں بہت کم دیکھی جاتی ہیں۔ اگر ابو ٹی۔وی دیکھ رہے ہیں تو زیادہ تر نیشنل جیوگرافک یا پیس ٹی۔وی چل رہا ہوتا ہے۔ بہنوں وغیرہ کے لیے پی۔ٹی۔وی کے ڈرامے اور کارٹون نیٹ ورک کافی ہے۔ اسامہ بیٹھتا ہے تو زیادہ تر اسپورٹس چینل لگالیتا ہے۔۔۔ اور میں۔۔۔۔ :smile: اگر ابو بیٹھے ہوں یا کسی دوسرے چینل پر کچھ خاص نہیں آرہا ہو تو میں پیس ٹی۔وی لگالیتا ہوں۔ ورنہ میرا تو دل کرتا ہے کہ بس بچوں کے لیے کوئی اچھے سے کارٹونز یا پروگرامز آتے رہیں اور میں انہیں ہی دیکھتا رہوں۔ آج کل بس کارٹوں دیکھتا ہوں یا بچوں کی کوئی فلم۔۔۔ :razz:

(ویسے میں نے سوچا تھا کہ شروع سے ساری تاریخ بیان کروں گا کہ ہمارے گھر میں ٹی۔وی کس طرح آیا اور کیا کیا ہوا لیکن ابھی دل نہیں کررہا اور وقت بھی نہیں ہے۔ پھر کبھی بعد میں۔۔۔)

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔