کیبل ٹی۔وی اور میں۔۔۔!
میں نے گھر میں یکم جنوری سے کیبل ٹی۔وی لگوایا ہے۔ سرکاری ٹی۔وی دیکھ دیکھ کر تنگ آگیا تھا۔ تھک ہار کر گھر لوٹتا تو اس پر وہی بوسیدہ پروگرام دیکھنے کو ملتے۔ اب ظاہر ہے کہ کیبل لگوانے کا کام میں نے کیا ہے تو اس کا خرچہ بھی میرے سر پر پڑا ہے۔ فی الحال میں نے بہت منتخب چینل ٹیون کرکے رکھے ہیں۔ ایک دو چینل خبروں کے، ایک نیشنل جیوگرافک، پیس ٹی۔وی، تین چینل بچوں کے اور چار چینل کھیلوں کے۔
کیبل لگوانے کا اصل مقصد خبریں تھیں لیکن خبریں بہت کم دیکھی جاتی ہیں۔ اگر ابو ٹی۔وی دیکھ رہے ہیں تو زیادہ تر نیشنل جیوگرافک یا پیس ٹی۔وی چل رہا ہوتا ہے۔ بہنوں وغیرہ کے لیے پی۔ٹی۔وی کے ڈرامے اور کارٹون نیٹ ورک کافی ہے۔ اسامہ بیٹھتا ہے تو زیادہ تر اسپورٹس چینل لگالیتا ہے۔۔۔ اور میں۔۔۔۔
اگر ابو بیٹھے ہوں یا کسی دوسرے چینل پر کچھ خاص نہیں آرہا ہو تو میں پیس ٹی۔وی لگالیتا ہوں۔ ورنہ میرا تو دل کرتا ہے کہ بس بچوں کے لیے کوئی اچھے سے کارٹونز یا پروگرامز آتے رہیں اور میں انہیں ہی دیکھتا رہوں۔ آج کل بس کارٹوں دیکھتا ہوں یا بچوں کی کوئی فلم۔۔۔
(ویسے میں نے سوچا تھا کہ شروع سے ساری تاریخ بیان کروں گا کہ ہمارے گھر میں ٹی۔وی کس طرح آیا اور کیا کیا ہوا لیکن ابھی دل نہیں کررہا اور وقت بھی نہیں ہے۔ پھر کبھی بعد میں۔۔۔)
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
January 25, 2008 بوقت 9:09 pm
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا :mrgreen:
January 28, 2008 بوقت 11:04 am
سب سے پہلا کام تو یہ کریں کہ تمام فضول چینل (خصوصاً انگریزی اور چند بھارتی چینل) سیٹ ہی نہ کرو اور جو چینل دیکھنے ہیں صرف وہی سیٹ کرو۔ علاوہ ازیں نیشنل جیوگرافک اور ڈسکوری چینلز کے چند پروگرامات بہت شاندار ہوتے ہيں ان کے اوقات اور دن ذہن میں رکھو اور لازمی دیکھا کرو، معلومات میں کافی اضافہ ہوتا ہے۔ بچوں کے حوالے سے Pogo سب سے شاندار ہے، Takeshi’s Castle دیکھنا مت بھولنا Just for Laughs بھی شاندار ہے۔ پاکستانی چینلوں میں سب بے ڈھنگے ہیں سوائے نیوز کے کوئی کام کی چیز نہیں آتی۔
January 28, 2008 بوقت 12:10 pm
ہاں میں نے ایسے کوئی چینل سیٹ ہی نہیں کیے ہیں۔ صرف نیوز چینلز ہیں، اسپورٹس اور بچوں کے۔۔۔ سارا دن تو میں گھر سے باہر ہوتا ہوں اس لیے احتیاط تو کرنی ہی پڑتی ہے نا۔۔۔۔۔