No Gravatar

ہم بے چارے معصوم پاکستانی۔۔۔ جب دنیا بھر کے لعن و طعن کا نشانہ بنتے ہیں تو بھڑکتے ہیں، چینختے ہیں، ہنگامہ کرتے ہیں لیکن حرکتیں وہی بے پڑھے لکھے لوگوں یا بد تہذیبوں جیسی کرتے ہیں۔ ہم سب کو اس بات کا احساس کرنا چاہئے کہ جب تک ہم اپنے اعمال نہیں سدھاریں گے، اسی طرح در بدر خوار ہوتے رہیں گے۔

ابو اپنی بائیک کے ہینڈل کے پاس صفائی کا ایک کپڑا پھنسا دیتے ہیں تاکہ بائیک پر بیٹھنے سے پہلے ایک بار صاف کرلیا جائے۔ لوگ اس کپڑے کو بھی اٹھا لے جاتے ہیں۔ چلو، اتنا تو سمجھ میں آتا ہے کہ بندہ کسی کی موٹر سائیکل میں سے صفائی کا کپڑا نکال کر اپنی گاڑی صاف کرلے۔ لیکن کم سے کم اس کے بعد تو کپڑا اپنی جگہ پر واپس رکھ دے۔ پر، رکھے گا کیوں؟ رکھ دیا تو مہذبانہ حرکت شمار ہوجائے گی نا۔۔۔ ایسا تو ہرگز نہیں کرنا۔

راہ چلتے اکثر لوگوں کو دیکھتا ہوں۔ اچانک چہرہ ایک طرف کریں گے اور کلکاری ماریں گے۔۔۔ اور وہاں ان کے پان کی پیک سے زمین سرخ ہوجائے گی۔ یہ کوئی تمیز ہے؟ راستہ میں جہاں چاہا، پیک تھوک دی۔ حد ہے۔۔۔! بلکہ میں نے ایک دفعہ بلڈنگ اترتے ہوئے دیکھا کہ سامنے والی دیوار کے بالکل وسط میں کسی نے پیک تھوکی تھی اور دیوار پر بہتی ہوئی پیک کے نشان ثبت ہوگئے تھے۔۔۔ جب ابو میرے ساتھ تھے تو کہنے لگے، یہ کوئی انتہائی غلیظ انسان تھا جس نے ایک کونے میں بھی تھوکنا گوارا نہیں کیا۔۔۔ کچھ لوگوں کے منہ میں پان نہیں ہوتا تو وہ ایک آواز نکالتے ہیں غغغغ خخخخ اور سارا بلغم منہ میں کھینچ کر ایک طرف تھوک دیتے ہیں۔۔۔۔ چھچھچھچھ۔۔۔۔ کیا گندگی مچائی ہوئی ہے۔۔۔۔! پھر کہتے ہیں، شہر بہت گندا ہوگیا ہے۔۔۔ ارے! گند بھی تو تمہاری ہی ہے۔

اچھا۔۔۔ اس سے بھی بڑھ کر جاہلانہ حرکت دیکھیں۔۔۔ بس میں بیٹھے ہوں گے، کھڑکی سے سر نکال کر راستے میں پان کی پیک یا بلغم تھوک دیں گے۔۔۔ اکثر تو چھینٹیں کسی راہگیر پر آ پڑتی ہیں۔۔۔ پھر اگر وہ قابو میں کرپاتا ہے تو ہاتھا پائی ہوتی ہے ورنہ بے چارہ راہ گیر لعنت دینے پر اکتفا کرتا ہے۔۔۔۔! صرف لعنت۔۔۔؟؟؟

میں تو اگر راستے میں یا بس میں بیٹھ کر کوئی چیز کھاؤں بھی تو اس کا ریپر یا کاغذ یا تھیلی بس میں یا کھڑکی سے باہر پھیکنے سے گریز کرتا ہوں اور اس کو اپنی جیب میں یا ساتھ میں بیگ ہو تو اس میں ڈال دیتا ہوں تاکہ گھر جاکر کچرے کے ڈبہ میں ڈال سکوں۔

ہمیں حب الوطنی کا بھوت اسی وقت سوار ہوتا ہے جب کوئی غیر پاکستانی ہمارے ملک کی توہین کرے۔ ہم خود جس قدر اپنے وطن کی توہین کرتے ہیں، تب تو ہمیں خیال ہی نہیں آتا۔ میں جشن آزادی کے موقع پر چھوٹی جھنڈیاں لگانے کا سختی سے مخالف ہوں۔ بعد میں بہت بے حرمتی ہوتی ہے۔ پاک پرچم پاؤں کے نیچے آرہا ہوتا ہے۔ میں نے تو خود یہ بھی دیکھا ہے کہ لوگ اپنے ہاتھوں سے کاغذ کا وہ پاک پرچم جو کہ دیواروں وغیرہ پر چسپاں ہوتا ہے، اپنے ہاتھوں سے نوچ نوچ کر راستے میں پھینک دیتے ہیں۔ خدا جانے، کیا سکون ملتا ہے؟ 14 اگست گزرنے کے بعد میں جب اپنے گھر سے نکلتا ہوں تو تیسری منزل سے نیچے اترتے ہوئے متعدد بار جھکتا ہوں اور ہر جھنڈی کو اٹھاکر چومتا ہوں اور کسی اونچی جگہ پر رکھتا ہوں۔ ایسی جھنڈیوں اور پرچموں سے اجتناب کرنا چاہئے کہ ایک دن کے جوش و جذبہ اور احساس فخر و محبت کے بعد مہینوں ان کی بے حرمتی ہوتی ہے۔

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔