احمق
ایک طرف میں باغ میں بیٹھا ڈھلتے سورج کے منظر سے لطف اندوز ہورہا تھا تو دوسری طرف میرے برابر میں بیٹھا ارسلان گہری سوچوں ہی میں گم تھا۔ کچھ دیر بعد اس نے خاموشی توڑ دی۔
”تمہیں پتا ہے، تم ایک احمق انسان ہو۔“ اس نے مجھے لتاڑا۔
”ہاں تو یہ کون سا نیا انکشاف ہے بھلا؟“ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اس نے جواب میں گھورنے پر اکتفا کیا۔
”ویسے کیا میں جان سکتا ہوں کہ مجھے احمق ہونے کا اعزاز آپ نے میری کس احمقانہ حرکت پر دیا ہے؟“ میں اچھے موڈ میں تھا۔
”کیا تم جانتے ہو کہ اس وقت پاکستانی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟“ ارسلان نے میرے سوال کے جواب میں سوال دے مارا۔ میرا ایسے موضوعات پر بات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
”پاکستان کے حکمرانوں کے علاوہ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستانی عوام کے مسائل کیا ہیں؟“ میں نے بات گول کرنا چاہی لیکن وہ کچھ اور ہی سوچ رہا تھا۔
”اچھا بتاؤ تم اپنے بلاگ پر اگلی تحریر کس موضوع پر لکھنے والے ہو؟“ اس نے اچانک کچھ ہٹ کر سوال کیا۔ میں سوچنے لگا۔
”میں نے ایک تحریر سوچی ہے کہ بالی ووڈ کی فلم ”سانوریا“ کے ایک مشہور گیت کے بارے میں لکھوں گا کہ جب سے تیرے نینا میرے نینوں سے والا جو گیت ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ رب بھی دیوانہ لگے (نعوذ باللہ) یعنی خدا کے ساتھ دیوانگی منسوب کی گئی ہے جو صریح کفر ہے اور یہاں کے لوگ انجانے میں اسے گنگناتے رہتے ہیں جو انتہائی بری بات ہے۔“ میں نے عرصہ سے اس کے بارے میں لکھنے کا سوچا ہوا تھا۔ یہ سن کر ارسلان متحیر ہوکر مجھے دیکھنے لگا۔ شاید وہ خود بھی یہی گیت گنگناتا رہا تھا۔ بہرحال وہ جلد ہی اپنے پچھلے موضوع پر آگیا۔
”اور کوئی دوسری تحریر۔۔۔؟“ اس نے پوچھا۔
”ہاں۔۔۔ سوچ رہا تھا کہ کچرا پھیلانے کے حوالے سے کچھ لکھوں کہ راہ چلتے کچرا پھیلانا یا پان کی پیک تھوکنا یا چیزیں پھینکنا اچھا عمل نہیں وغیرہ وغیرہ۔“ میں نے یہ بتایا تو وہ مسکرانے لگا۔
”جب ہی تو میں کہتا ہوں کہ تم انتہائی احمق ہوں۔“ اس نے ترنت کہا۔
”ارے اس میں بھلا میرے احمق ہونے کا کون سا ثبوت ہے؟“ میں ہلکا سا چلایا۔ ارسلان نے کچھ دیر توقف کیا۔ پتا نہیں وہ میری اس حالت سے لطف اندوز ہورہا تھا یا کچھ کہنے کے لیے الفاظ اکٹھے کررہا تھا۔ پھر اس نے اپنے لب کھولے:
”تمہارے احمق ہونے کو یہی بات کافی ہے کہ اس وقت جب ساری قوم آٹے کے بحران، بجلی کی مسلسل لوڈ شیڈنگ اور آسمان کو چھوتی مہنگائی جیسے عذاب میں مبتلا ہے اور اس کو زندگی گزارنے کے لیے ہزار فکر لاحق ہے، تم اس بے چاری قوم سے کہتے ہو کہ شہری شعور سیکھو، کچرا نہ پھیلاؤ، ایسے کرو، ویسے نہ کرو۔“ اس نے فوراً اپنا دانشوارانہ بیان داغا۔
”ابے! اس میں کون سی غلط بات ہے؟ ٹھیک ہے کہ جینے میں مشکلات ہیں لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ بالکل جنگلی بن جائیں۔“ میں نے صفائی پیش کی۔
”جنگلی نہیں بنیں گے، خودکش حملہ آور بنیں گے لوگ اس حالت میں احمق! فاقوں اور غربت کے ہاتھوں تنگ آکر اپنی جانیں قربان کریں گے اور دوسروں کی جان بھی لیں گے۔“ اس نے بات کو آگے بڑھایا۔ ”جب تک شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق حاصل نہیں ہوں گے اور ان کی بنیادی ضرورتیں پوری نہیں ہوں گی، تب تک ان سے کس طرح توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اچھا شہری ہونے کا ثبوت دیں گے؟“ اس نے مجھ سے پوچھا۔
اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا، میرا موبائل فون بجنے لگا۔ میں نے اٹھا کر کان سے لگایا۔ دوسری طرف میری ماں کی گھبرائی ہوئی آواز تھی:
” کراچی میں ایک بم دھماکہ ہوا ہے۔ کہاں ہو؟ فوراً گھر پہنچو! “
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
January 17, 2008 بوقت 1:34 pm
:neutral:
January 18, 2008 بوقت 1:56 am
مجھے آپکے کزن سے اتفاق ہے، دراصل ایک بگاڑکئی اور بگاڑوںکو جنم دیگا اور یوںجب تک جڑتک نہ پہنچا جائے، مسئلہ حل نہیںہوتا۔ کام چلاؤ کی اور بات ہے ورنہ اسوقت حالات ایسے ہیںکہ صرف ملک بچانے کی اور اپنی جان بچانے کی فکر کرنی چاہیے، یقین نہ آئے تو بلوچستان، سرحد یا اندرون سندھ میںدیکھ لیں کہ کیا ہو رہا ہے اور ریاست نامی کوئی چیز بھی بچی ہے یا نہیں۔
January 18, 2008 بوقت 5:37 pm
خود لکھا ہے کیا عمار؟ اگر ہاں۔۔ تو بہت اچھا لکھا ہے۔
ماوراء’s last blog post..نیا اسلامی سال مبارک
January 21, 2008 بوقت 10:09 am
پسند کرنے کا شکریہ ماوراء! ہاں میں نے خود ہی لکھا ہے۔