بدتہذیب

315 views January 31, 2008 | راہبر
No Gravatar

ہم بے چارے معصوم پاکستانی۔۔۔ جب دنیا بھر کے لعن و طعن کا نشانہ بنتے ہیں تو بھڑکتے ہیں، چینختے ہیں، ہنگامہ کرتے ہیں لیکن حرکتیں وہی بے پڑھے لکھے لوگوں یا بد تہذیبوں جیسی کرتے ہیں۔ ہم سب کو اس بات کا احساس کرنا چاہئے کہ جب تک ہم اپنے اعمال نہیں سدھاریں گے، اسی طرح در بدر خوار ہوتے رہیں گے۔

ابو اپنی بائیک کے ہینڈل کے پاس صفائی کا ایک کپڑا پھنسا دیتے ہیں تاکہ بائیک پر بیٹھنے سے پہلے ایک بار صاف کرلیا جائے۔ لوگ اس کپڑے کو بھی اٹھا لے جاتے ہیں۔ چلو، اتنا تو سمجھ میں آتا ہے کہ بندہ کسی کی موٹر سائیکل میں سے صفائی کا کپڑا نکال کر اپنی گاڑی صاف کرلے۔ لیکن کم سے کم اس کے بعد تو کپڑا اپنی جگہ پر واپس رکھ دے۔ پر، رکھے گا کیوں؟ رکھ دیا تو مہذبانہ حرکت شمار ہوجائے گی نا۔۔۔ ایسا تو ہرگز نہیں کرنا۔

راہ چلتے اکثر لوگوں کو دیکھتا ہوں۔ اچانک چہرہ ایک طرف کریں گے اور کلکاری ماریں گے۔۔۔ اور وہاں ان کے پان کی پیک سے زمین سرخ ہوجائے گی۔ یہ کوئی تمیز ہے؟ راستہ میں جہاں چاہا، پیک تھوک دی۔ حد ہے۔۔۔! بلکہ میں نے ایک دفعہ بلڈنگ اترتے ہوئے دیکھا کہ سامنے والی دیوار کے بالکل وسط میں کسی نے پیک تھوکی تھی اور دیوار پر بہتی ہوئی پیک کے نشان ثبت ہوگئے تھے۔۔۔ جب ابو میرے ساتھ تھے تو کہنے لگے، یہ کوئی انتہائی غلیظ انسان تھا جس نے ایک کونے میں بھی تھوکنا گوارا نہیں کیا۔۔۔ کچھ لوگوں کے منہ میں پان نہیں ہوتا تو وہ ایک آواز نکالتے ہیں غغغغ خخخخ اور سارا بلغم منہ میں کھینچ کر ایک طرف تھوک دیتے ہیں۔۔۔۔ چھچھچھچھ۔۔۔۔ کیا گندگی مچائی ہوئی ہے۔۔۔۔! پھر کہتے ہیں، شہر بہت گندا ہوگیا ہے۔۔۔ ارے! گند بھی تو تمہاری ہی ہے۔

اچھا۔۔۔ اس سے بھی بڑھ کر جاہلانہ حرکت دیکھیں۔۔۔ بس میں بیٹھے ہوں گے، کھڑکی سے سر نکال کر راستے میں پان کی پیک یا بلغم تھوک دیں گے۔۔۔ اکثر تو چھینٹیں کسی راہگیر پر آ پڑتی ہیں۔۔۔ پھر اگر وہ قابو میں کرپاتا ہے تو ہاتھا پائی ہوتی ہے ورنہ بے چارہ راہ گیر لعنت دینے پر اکتفا کرتا ہے۔۔۔۔! صرف لعنت۔۔۔؟؟؟

میں تو اگر راستے میں یا بس میں بیٹھ کر کوئی چیز کھاؤں بھی تو اس کا ریپر یا کاغذ یا تھیلی بس میں یا کھڑکی سے باہر پھیکنے سے گریز کرتا ہوں اور اس کو اپنی جیب میں یا ساتھ میں بیگ ہو تو اس میں ڈال دیتا ہوں تاکہ گھر جاکر کچرے کے ڈبہ میں ڈال سکوں۔

ہمیں حب الوطنی کا بھوت اسی وقت سوار ہوتا ہے جب کوئی غیر پاکستانی ہمارے ملک کی توہین کرے۔ ہم خود جس قدر اپنے وطن کی توہین کرتے ہیں، تب تو ہمیں خیال ہی نہیں آتا۔ میں جشن آزادی کے موقع پر چھوٹی جھنڈیاں لگانے کا سختی سے مخالف ہوں۔ بعد میں بہت بے حرمتی ہوتی ہے۔ پاک پرچم پاؤں کے نیچے آرہا ہوتا ہے۔ میں نے تو خود یہ بھی دیکھا ہے کہ لوگ اپنے ہاتھوں سے کاغذ کا وہ پاک پرچم جو کہ دیواروں وغیرہ پر چسپاں ہوتا ہے، اپنے ہاتھوں سے نوچ نوچ کر راستے میں پھینک دیتے ہیں۔ خدا جانے، کیا سکون ملتا ہے؟ 14 اگست گزرنے کے بعد میں جب اپنے گھر سے نکلتا ہوں تو تیسری منزل سے نیچے اترتے ہوئے متعدد بار جھکتا ہوں اور ہر جھنڈی کو اٹھاکر چومتا ہوں اور کسی اونچی جگہ پر رکھتا ہوں۔ ایسی جھنڈیوں اور پرچموں سے اجتناب کرنا چاہئے کہ ایک دن کے جوش و جذبہ اور احساس فخر و محبت کے بعد مہینوں ان کی بے حرمتی ہوتی ہے۔

احسان تمہارا

322 views January 30, 2008 | راہبر
No Gravatar

جون/ جولائی میں انٹرمیڈیٹ کے امتحانات ہوئے تھے، میں نے سال اول کے پرچے دیے۔ نتائج کا انتظار کرتے کرتے دسمبر آگیا اور تب اعلان ہوا۔ ابتداء میں ویب سائٹ پر صرف یہ بتایا گیا کہ کسی رول نمبر والا کتنے پرچوں میں کامیاب ہوا ہے۔ میں نے بے تابی سے اپنا نتیجہ دیکھا تو دل ڈوب گیا۔ چھ میں سے پانچ پرچوں میں کامیاب تھا۔ ناکامی اور وہ بھی میری۔۔۔ ایسا کیسے ہوگیا۔۔۔ شدید ذہنی دباؤ، پریشانی۔۔۔ میرا خیال یہی تھا کہ جس میں ناکام رہا ہوں، وہ جغرافیہ کا ہوگا کیونکہ اس کا پرچہ بہت برا ہوا تھا۔ اب کچھ دن پہلے مارکس شیٹ ملی تو میرے ہوش اُڑ گئے۔ جانتے ہیں کیوں؟ جغرافیہ کے پرچے کا نتیجہ بہت شاندار تھا۔ نظری (تھیوری) امتحان میں 75 میں سے 63 اور عملی امتحان (پریکٹیکل) میں 25 میں سے 24۔ اگر کسی کو توقع ہو کہ وہ فلاں پرچے میں ناکام ہوگا اور اس میں اس کا نتیجہ شاندار رہے تو شاید آپ توقع کرسکیں، کس قدر خوشی ہوتی ہے۔
لیکن پھر ناکامی کس میں ہوئی تھی؟ یہ کچھ طویل کہانی ہے اور افسوسناک بھی۔ اگر بور ہونے کا ارادہ ہے تو پڑھتے رہیں۔۔۔
میں نے اختیاری مضامین میں سے علم مدنیت (شہریت/ Civics) منتخب کیا تھا لیکن مارکس شیٹ ظاہر کرتی تھی کہ مدنیت کا مضمون میں نے لیا ہی نہیں ہے بلکہ میں نے معاشیات (Economics) کا مضمون لیا تھا جس کے امتحان نہیں دیا اور اس کے پرچے میں غیر حاضر رہا۔ اتنی سنگین غلطی۔۔۔!
میں بھاگم بھاگ اپنے جغرافیہ کے استاد کے پاس پہنچا۔ وہ ہمارے کالج میں شعبہ فنون (Department of Arts) کے سربراہ (Head) ہیں۔ میں نے انہیں سارا ماجرا کہہ سنایا۔ انہوں نے کہا، کوئی بات نہیں، انٹر بورڈ آفس چلے جاؤ، مسئلہ حل ہوجائے گا۔
اگلے دن (یعنی گزشتہ جمعرات) میں ابو کے ساتھ انٹرمیڈیٹ بورڈ آفس جا پہنچا۔ وہاں متعلقہ شعبے کے کمرے میں گیا، جاوید حسین صاحب سے بات ہوئی۔ ساری بات ان کے گوش گزار کی۔ انہوں نے کہا، ایک درخواست لکھ دو، کنٹرولر آف ایگزامینیشنز (ناظم امتحانات) کے نام، ساتھ میں اصل مارکس شیٹ اور ایڈمٹ کارڈ کی فوٹو کاپی بھی منسلک کردو۔ میں نے ایسا ہی کیا۔ دو دن بعد یعنی سنیچر کو آنے کا حکم ہوا۔ میں تابعدار بنا، لوٹ آیا۔ سنیچر کو حاضری دی۔ کچھ دیر انتظار کروا کر کمرے میں بلایا گیا۔ درخواست نکالی گئی، جس حالت میں چھوڑ کر گیا تھا، ویسی ہی رکھی تھی۔ اس پر کوئی کاروائی نہیں ہوئی تھی۔ انتہائی افسوس ہوا۔ بہر حال! جاوید صاحب نے مجھ سے ایک/ دو باتیں پوچھیں۔ پھر ایک بہت بڑا رجسٹر اٹھا لائے۔ اسے کھولا تو مجھے حیرت بھی ہوئی اور افسوس بھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ تب میں نے جانا کہ یہاں جتنا کام بھی ہوتا ہے، اس کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہونے کے بجائے اس طرح رجسٹرز پر درج ہوتا ہے۔ وہ تلاش کرتے ہوئے میرے رول نمبر تک پہنچے۔ اس کے آگے میرا نتیجہ درج تھا۔ اس میں بھی معاشیات کے پرچے میں غیر حاضر ظاہر کیا گیا تھا۔ پھر جاوید صاحب نے میرے کالج کا نام پوچھا۔ اس کے بعد وہ ایک الماری میں سے تھوڑی تلاش کے بعد ایک فائل اٹھا لائے۔ کھولا تو وہ میرے کالج کے تمام طلباء کے امتحانی فارم تھے۔ اس میں سے میرا فارم نکالا گیا اور تصدیق ہوئی کہ میں نے واقعی علم مدنیت منتخب کیا تھا، معاشیات نہیں۔ اس کے بعد میری درخواست پر Civics لکھ دیا گیا اور رجسٹر میں درج میرا نمبر بھی۔ اس کے بعد حکم ہوا کہ پیر کو آجائیں۔ ہم لوٹ آئے۔
باہر نکل کر میں ابو سے کہنے لگا کہ مجھے تو یہ دیکھ کر بہت حیرانی ہوئی ہے کہ ان کے پاس ساری معلومات اس طرح درج ہوتی ہے اور کوئی کمپیوٹرائزڈ نظام نہیں۔ اس سے بڑھ کر افسوسناک یہ کہ سب دستاویزات ایک بندہ کی دسترس میں ہیں۔ وہ چاہے تو کسی کا بھی نتیجہ تبدیل کرسکتا ہے۔ رجسٹر میں جہاں نمبرز کا اندراج ہے، اس میں تبدیلی کرسکتا ہے، مارکس شیٹ بدل سکتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
بہرحال! میں سوموار کو جا پہنچا۔ ابو کے پاس کچھ سامان تھا اس لیے وہ پارکنگ میں ہی رک گئے اور میں انٹر بورڈ آفس میں داخل ہوگیا۔ کافی طلباء و طالبات جمع تھے۔ پہلے تو جاوید صاحب نے لفٹ ہی نہیں کرائی، کافی دیر بعد جب بار بار ان کو اپنا دیدار کراتا رہا اور اس کے بعد ان سے پوچھا بھی کہ میرے معاملہ کا کیا ہوا تو پہلے انہوں نے پانچ منٹ انتظار کا کہا، دس/ پندرہ منٹ گزرنے کے بعد یاد دلایا تو مزید انتظار کا کہا۔۔۔ دوسری طرف پارکنگ میں ابو میرا انتظار کررہے تھے اور انہیں دیر بھی ہورہی تھی۔ سو، میں نے ابو کو فون کرکے کہا کہ آپ چلے جائیں کیونکہ مجھے کافی وقت لگ جائے۔ یوں ابو ایک گھنٹہ انتظار کے بعد چلے گئے۔ جاوید صاحب کا کوئی ارادہ نہیں لگتا تھا۔ وہ یا تو ساتھیوں کے ساتھ یا فون پر خوش گپیوں میں مشغول ہوجاتے یا کوئی کام کرنے بیٹھتے تو بہت سستی سے کرتے۔ آخر، انہوں نے احسان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ بھائی، کل آجانا۔ میں نے کہا کہ اتنے دن سے آ رہا ہوں، کام کب ہوگا۔ کہنے لگے، آپ کی درخواست اوپر بھیجی ہوئی ہے۔ میں پہلے ہی دیکھ چکا تھا کہ میری درخواست اسی کے میز پر پڑی ہے اس لیے میں نے کہا، میری درخواست تو یہیں رکھی ہوئی ہے۔ پہلے تو وہ تھوڑا بوکھلائے، پھر کہنے لگے کہ یار! میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ درخواست اس طرح تھوڑی بھیجی جاتی ہے، ایک پرچی پر لکھ کر دے دیا جاتا ہے کہ فلاں فلاں نمبر کا یہ مسئلہ ہے۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ خیر! لوٹ آنے کے سوا کوئی چارہ تھا ہی نہیں۔ انٹر بورڈ آفس سے کافی پیدل چلنا پڑا، تب جاکر دفتر جانے کے لیے گاڑی ملی۔
منگل کو ابو کے ساتھ جا پہنچا۔ جاوید صاحب نے نوید سنائی کہ آپ کا کام ہوگیا ہے، کچھ انتظار کریں۔ انتظار کرتے کرتے آدھ گھنٹہ گزر گیا۔ جاوید صاحب مختلف لوگوں سے خوش گپیوں میں مشغول رہے۔ وہاں دو لڑکے کھڑے تھے، میں نے انہیں پچھلے دن بھی دیکھا تھا۔ ان سے پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے آپ لوگوں کا؟ ان میں سے ایک لڑکے نے بتایا کہ اس کو اردو کے پرچے میں غیر حاضر دکھایا ہے، حالآنکہ اس نے یہ پرچہ دیا تھا۔ میں نے پوچھا کہ پھر کیا ہوا ہے؟ کہنے لگا، چار/ پانچ دن سے چکر لگا رہا ہوں، کل صبح نو بجے آیا تھا اور شام پانچ بجے گیا، تب جاکر کام ہوا ہے، جاوید صاحب کہتے ہیں کہ پاس کردیا ہے۔ یہ حالت ہے سرکاری ملازمین کی۔ پھر وہ جاوید صاحب کسی کمرے سے کچھ کاغذات اٹھا لائے۔ تب یہ ڈھارس بندھی کہ شاید ہماری درخواستوں پر کاروائی کے لیے یہ کسی اور کی میز پر تھیں اور اب ان پر کاروائی ہوچکی ہوگی۔ کمرے میں بلایا گیا، درخواست پہچانی۔ جب درخواست دیکھی تو وہ اس وقت بھی اسی حالت میں تھی، جس حالت میں اسے سنیچر کو چھوڑا تھا۔ مجھے انتہائی مایوسی ہوئی۔ خیر، اس کے بعد جاوید صاحب نے دوبارہ باہر انتظار کرنے کو کہا۔
کافی دیر ادھر ادھر گھومتے رہے، کام کرواتے رہے۔۔۔ اس کے بعد جاکر یہ خوشخبری سننے کو ملی کہ ہاں جی! اب کام ہوگیا ہے اور حتمی مارکس شیٹ تھما دی گئی۔
میں ابو سے کہنے لگا، یہ کام کرنا ان لوگوں کا فرض ہے۔ لیکن یہ لوگ کام کرتے ہوئے لوگوں کو اتنا رُلاتے ہیں کہ ان کے فرض کی ادائیگی لوگوں کو احسان لگنے لگتی ہے اور ہزار تنگ کرنے کے باوجود جب یہ لوگ کام کرکے دیتے ہیں تو سامنے والا جذبہ تشکر سے لبریز ہوجاتا ہے اور خدا کا شکر ادا کرتا ہے کہ کام تو ہوا۔ کس قدر افسوس ناک حالت ہے۔ میں نے ابو سے یہ بھی کہا کہ ہمارے معاشرے میں ایک سوچ بن گئی ہے۔ وہ یہ کہ سرکاری نوکری حاصل کرلو تو زندگی بھر عیش کرنا ہے۔ کام کرنا نہیں پڑتا بس مفت کی تنخواہ ملتی ہے۔ اسی سوچ کے باعث جب کسی کو سرکاری نوکری ملتی ہے تو اس کے ذہن میں کام نہ کرنے والا خیال اس قدر پختہ ہوچکا ہوتا ہے کہ وہ کوئی بھی کام کرنا بے کار اور اپنی توہین سمجھتا ہے۔
سوچئے۔۔۔! یہ سوچنے کا مقام ہے۔۔۔۔!!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس مایوس کن صورتحال کو بیان کرتی تحریر کے بعد اختتام میں ایک دلچسپ واقعہ۔
منگل کو سارا کام ختم ہوا اور ہم واپس جانے کے لیے پارکنگ ایریا میں پہنچے۔ وہاں چھوٹے لڑکے گاڑیاں صاف کرنے کے لیے موجود ہیں اور اس کے پانچ/ دس روپے لیتے ہیں۔ جب ہم پارکنگ ایریا میں پہنچے تو موٹر سائیکل والے ایک لڑکے کی صفائی کرنے والے کسی لڑکے سے منہ ماری ہوئی تھی۔ وہاں سے ایک بندہ گزر رہا تھا، جس کی عمر 30، 35 سال کے قریب ہوگی، دبلا جسم، درمیانہ قد، چھوٹی سی داڑھی اور سر پر ٹوپی۔ یہ بندہ اس موٹر سائیکل والے لڑکے کو کچھ کہنے لگا کہ شرم نہیں آتی، دس پانچ روپے کے لیے ایسا کرتے ہو، وغیرہ وغیرہ۔ لڑکے نے جواب دیا کہ بھئی! تم اپنے کام سے کام رکھو، کسی اور کی بات میں مت ٹانگ اڑاؤ۔ اس پر وہ بندہ کچھ الجھ گیا اور آگے بڑھنے کے بعد واپس پلٹ آیا۔ تھوڑا بھرم دیا، اس کے بعد کہنے لگا، تم جانتے نہیں ہو مجھے، بہت بول رہے ہو، میں اللہ والا ہوں۔ :smile: موٹر سائیکل والا لڑکا بولا، تم اللہ والے ہو تو میں بھی اللہ والا ہوں، شیطان والا نہیں ہوں۔ :razz: :razz: :razz: وہ بندہ دوبارہ یہی کہنے لگا کہ سدھر جاؤ، خاموش ہوجاؤ، میں اللہ والا ہوں، تم میری طاقت جانتے نہیں ہو، اگر میرا اصل روپ دیکھ لیا نا تو تمہارا پیشاب نکل جائے گا۔۔۔۔ :lol: :lol: :lol: :lol: :lol: لڑکا دوبارہ بولا کہ میں بھی اللہ والا ہی ہوں۔۔۔ سمجھے؟ اور اللہ والے دوسروں کے معاملہ میں ٹانگ نہیں اڑاتے۔ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ آنکھیں نیچے کرکے بات کرو۔ وہ بندہ کہنے لگا، میں چاہوں تو یہاں کھڑے کھڑے تمہاری بائیک کو آگ لگادوں، تم جانتے نہیں ہو مجھے، میں طالبان ہوں، القاعدہ کا بندہ ہوں، کچھ کرسکتے ہو تم؟ ابھی تمہاری گاڑی کو آگ لگادوں گا۔ لڑکا ہنس رہا تھا۔ ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا، اچھا بھئی، میں کچھ نہیں کرسکتا، جاؤ جاؤ۔۔۔! وہ بندہ بڑبڑاتا ہوا چلا گیا۔ لڑکا ہمیں دیکھ کر مسکرانے لگا۔ میں اور ابو پارکنگ ایریا سے نکلے تو ہم مسکرارہے تھے۔۔۔۔ :wink:
۔۔۔۔۔۔
ایک اور بات۔۔۔ میری یہ تحریر بھی کچھ اسی موضوع سے منسلک اور ایک انکشاف پر مبنی ہے: جغرافیہ کا عملی امتحان اور انوکھا تجربہ

طوطا فال

361 views January 28, 2008 | راہبر
No Gravatar

کافی عرصہ سے مجھے شوق چڑھا تھا کہ تجربہ تو کروں، یہ طوطا فال والے کیا بے وقوف بناتے ہیں دنیا کو۔۔۔ ان پرچوں میں آخر لکھا کیا ہوتا ہے۔ پر مجھے تو طوطا فال والوں کے پاس بیٹھنے کا سوچ کر ہی عجیب سا محسوس ہوتا جیسے پتا نہیں کیا ہو۔
خیر، آج پیدل چلتے ہوئے راستہ میں فٹ پاتھ پر ایک طوطا فال والے بڑے میاں نظر آئے۔ میں نے سوچا کہ آج تو تجربہ ہو ہی جائے۔ ان کے پاس جا بیٹھا۔ مخاطب ہوئے، جی بیٹا۔۔۔! میں نے کہا، طوطا فال تو نکالیں۔ کہتے ہوئے بہت عجیب لگا۔ انہوں نے ایک چھوٹی سی چھڑی پنجرے میں ڈالی، اس پر طوطا بیٹھ گیا اور انہوں نے وہ اس چھڑی کو لفافوں پر سے آہستہ آہستہ کرکے گزارا۔ ایک لفافہ کو طوطے نے اپنی چونچ میں دبالیا۔ بس وہ لفافہ بڑے میاں نے اس کی چونچ سے لیا اور اسے واپس پنجرے میں بھیج دیا۔
تب مجھے تجسس ہونے لگا کہ دیکھوں تو، اس میں کیا لکھا ہوگا۔ لفافے میں سے ایک گتے کا ٹکڑا نکالا اور میری طرف بڑھا دیا۔۔۔ اس پر کچھ یوں تحریر تھا۔۔۔۔:
“اے صاحب! (اتنی عزت۔۔۔ ہمممم :smile: ) تم پانچ ہفتوں یا پانچ ماہ سے جس پریشانی اور مشکل میں شکار ہو، وہ اب ختم ہوجائے گی۔ (پانچ ہفتوں یا پانچ ماہ سے کون سی پریشانی لاحق ہے مجھے؟؟؟ میں تو یہی سوچنے لگا۔۔۔ ایک پریشانی تو کل ہی امی نے میری سپرد کی ہے۔۔۔ انہیں میرے لیے کوئی لڑکی پسند آگئی ہے :razz: میرا تو آج دماغ ہی کام نہیں کررہا ہے۔۔۔ لیکن یہ پانچ ہفتوں/ پانچ ماہ کی پریشانی۔۔۔۔ ارے ہاں! شاید یہ میرے امتحانی نتیجہ سے متعلق ہوگی۔۔۔ اس کو اب تقریبا پانچ ماہ ہونے ہی والے ہیں۔۔۔۔ اور اب پانچ ہفتے ہوئے ہوں گے کہ نتیجہ آیا ہے تو اس سے بھی ٹینشن چل ہی رہی ہے۔۔۔ طوطا تو کافی پہنچا ہوا لگتا ہے۔۔۔ :wink: خیر۔۔۔ آگے لکھا تھا:) کاروبار ترقی کرے گا (میرا تو کوئی کاروبار ہی نہیں ہے :oops: ہم جیسے لوگوں کا تو ایک گناہوں کا کاروبار ہی ہوتا ہے جس میں مسلسل ترقی ہی ہوتی رہتی ہے۔۔۔۔) کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔۔۔ (سارے مسکے ہی لگائے ہیں بابا نے۔۔۔۔!)
بہرحال! ایسی ہی کچھ اووٹ پٹانگ سی باتیں تھیں۔ پرچے پر 8 کا عدد تحریر تھا، یعنی یہ آٹھ عدد کی فال تھی۔ پھر بابا جی بولے کہ زیادہ بہتر سمجھنے کے لیے اگر کہو تو اس کو کتاب میں سے دیکھ کر بتادوں، دگنے دام ہوں گے۔ میں نے کہا، ہاں ہاں! کیوں نہیں۔ انہوں نے ایک بوسیدہ سی کتاب اٹھائی۔ اس میں آٹھ عدد پر پہنچے۔ سرخی تھی: حضرت خضر علیہ السلام میں نے جلدی سے ان کے ہاتھ سے کتاب لے لی۔ میں خود پڑھنا چاہتا تھا۔ اس میں بھی تقریبا وہی کچھ لکھا تھا کہ کامیابی نصیب ہوگی، یہ ہوگا، وہ ہوگا۔ ہاں ایک نئی بات یہ تھی کہ جہاں ہیں، وہاں سے سفر زیادہ بہتر ہے۔ لہذا میں نے یہی سوچا کہ اب فورا سفر کیا جائے اور بابا جی کے پاس سے روانہ ہوا جائے۔ بابا کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ انہوں نے مجھے پیشکش کی کہ اگر میں چاہوں تو وہ میرا ہاتھ بھی دیکھیں گے اور بتائیں گے کہ میں کیا چاہتا ہوں، اور جو چاہتا ہوں وہ ملے گا یا نہیں، وغیرہ وغیرہ۔۔۔ لیکن فی الحال میرا ارادہ اتنا دماغ خراب کرنے کا نہیں تھا۔ میں نے ان کے ہاتھ میں ان کی رقم تھمائی اور وہاں سے رفو چکر ہوگیا۔

صوفی نعیم بابا

313 views January 26, 2008 | راہبر
No Gravatar

کہتے ہیں کہ موٹے لوگ بہت خوش مزاج ہوتے ہیں۔ یہ کہاوت نعیم صاحب کو دیکھ کر سچ لگتی ہے۔ یہ میرے ساتھ کام کرتے ہیں۔ انگریزی میں بولے تو کولیگ۔ اسلامی نظریات میں انتہا پسندوں سے کم اور مجھ سے کچھ زیادہ شدت ہے۔ موڈ میں ہوں تو خود کو اہلِ علم اور اہلِ نظر کہتے ہیں۔ اگر آپ ان کی بات کی حمایت کرنے لگیں تو آپ کو بھی اہلِ علم میں شمار کرنے لگیں گے۔
ان کو لنگر کھانے کا بے حد شوق ہے۔ پہلے سے علم رکھتے ہیں کہ کس جگہ کون سا پروگرام یا محفل ہے جہاں سے لنگر مل سکے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کا حجم بھی اچھا خاصا ہے۔
کچھ دن پہلے کی بات ہے، میرے ساتھ کھڑے تھے۔ اچانک غور کیا تو کہنے لگے، ارے آپ کا قد مجھ سے زیادہ بڑا ہے؟ میں نے کہا، کیا آپ پر اب انکشاف ہوا؟ بولے، ہاں! ابھی غور کیا۔ پھر کہنے لگے کہ جبھی میں سوچوں آپ کی عقل ٹخنوں میں لگتی ہے۔ میں نے کہا، میری عقل تو چلو ٹخنوں میں ہے پر ہے تو سہی، موٹوں کی عقل تو پیٹ میں چلی جاتی ہے اور جو چیز پیٹ میں چلی جائے وہ بچتی نہیں، باہر نکل جاتی ہے۔ :razz: کھی کھی کرکے ہنسنے لگے۔
اکاؤنٹنٹ کو ایک بات سے بہت چِڑ ہے۔ یہ جب بھی آتے ہیں، سیٹ کے پیچھے سے لگ کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس صورت میں سیٹ پر بیٹھنے والے سے ان کا پیٹ ٹکراتا رہتا ہے۔ اب یہ جب بھی کمرے میں داخل ہوتے ہیں، وہ کہتا ہے، پیٹ لگاکر مت کھڑے ہوجانا۔
پچھلے دنوں بتانے لگے، کچھ وظائف اور تعویذات وغیرہ کی اجازت مل گئی ہے۔ میں نے کہا، چلو بھئی اب یہ ملازمتوں کو مارو لات، گھر میں آستانہ کھولو اور شروع ہوجاؤ۔۔۔ کہنے لگے، ابھی نہیں۔ کچھ عرصہ بعد دیکھیں گے۔ ریاض صاحب بولے، کمائی بھی بہت ہوتی ہے اور عورتیں بھی آتی ہیں۔ :smile: میں نے کہا، نام یہی رکھ لینا، صوفی نعیم بابا۔
کتابیں پڑھنے اور جمع کرنے کا بے حد شوق ہے۔ گھر کا خرچ مشکل سے چلاتے ہیں لیکن کتابوں میں اکثر رقم خرچ کردیتے ہیں۔ گھر میں کتابیں رکھنے کی جگہ بھی نہیں۔ ایک دفعہ بتانے لگے، بیگم نے تنگ آکر بہت سی کتابیں ردی والے کو بیچ دی تھیں۔
بیگم سے بہت ڈرتے ہیں۔گھر میں بتائے بِنا کہیں چلے جاتے تھے اور گھر والے پریشان۔ آخر کو بیگم نے حل سوچ لیا۔ ایک دن افسردہ ہوکر بتانے لگے کہ یار، بیگم نے کہا ہے، اب روز شام کو دفتر فون کرکے معلوم کروں گی کہ کب تک نکلو گے؟ :lol: میں نے کہا، اچھا ہوا۔ ایک نہ ایک دن تو یہ نتیجہ نکلنا ہی تھا۔
کہاں تک لکھوں ان کے کارنامے۔۔۔ ڈر ہے کہ زیادہ پرسنل نہ ہوجائے۔۔۔ اس لیے فی الحال اتنا ہی۔

کیبل ٹی۔وی اور میں۔۔۔!

459 views January 23, 2008 | راہبر
No Gravatar

میں نے گھر میں یکم جنوری سے کیبل ٹی۔وی لگوایا ہے۔ سرکاری ٹی۔وی دیکھ دیکھ کر تنگ آگیا تھا۔ تھک ہار کر گھر لوٹتا تو اس پر وہی بوسیدہ پروگرام دیکھنے کو ملتے۔ اب ظاہر ہے کہ کیبل لگوانے کا کام میں نے کیا ہے تو اس کا خرچہ بھی میرے سر پر پڑا ہے۔ فی الحال میں نے بہت منتخب چینل ٹیون کرکے رکھے ہیں۔ ایک دو چینل خبروں کے، ایک نیشنل جیوگرافک، پیس ٹی۔وی، تین چینل بچوں کے اور چار چینل کھیلوں کے۔
کیبل لگوانے کا اصل مقصد خبریں تھیں لیکن خبریں بہت کم دیکھی جاتی ہیں۔ اگر ابو ٹی۔وی دیکھ رہے ہیں تو زیادہ تر نیشنل جیوگرافک یا پیس ٹی۔وی چل رہا ہوتا ہے۔ بہنوں وغیرہ کے لیے پی۔ٹی۔وی کے ڈرامے اور کارٹون نیٹ ورک کافی ہے۔ اسامہ بیٹھتا ہے تو زیادہ تر اسپورٹس چینل لگالیتا ہے۔۔۔ اور میں۔۔۔۔ :smile: اگر ابو بیٹھے ہوں یا کسی دوسرے چینل پر کچھ خاص نہیں آرہا ہو تو میں پیس ٹی۔وی لگالیتا ہوں۔ ورنہ میرا تو دل کرتا ہے کہ بس بچوں کے لیے کوئی اچھے سے کارٹونز یا پروگرامز آتے رہیں اور میں انہیں ہی دیکھتا رہوں۔ آج کل بس کارٹوں دیکھتا ہوں یا بچوں کی کوئی فلم۔۔۔ :razz:

(ویسے میں نے سوچا تھا کہ شروع سے ساری تاریخ بیان کروں گا کہ ہمارے گھر میں ٹی۔وی کس طرح آیا اور کیا کیا ہوا لیکن ابھی دل نہیں کررہا اور وقت بھی نہیں ہے۔ پھر کبھی بعد میں۔۔۔)

یہ دھواں دھواں سا رہنے دو

453 views January 23, 2008 | راہبر
No Gravatar

آج آپ اس گیت سے لطف اندوز ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ :smile:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گیت: یہ دھواں دھواں سا
فلم: تم سا نہیں دیکھا
آواز: روپ کمار راتھوڑ، شریا گوشال
ستارے: عمران ہاشمی، دیا مرزا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ دھواں دھواں سا رہنے دو
مجھے دل کی بات کہنے دو
میں پاگل دیوانہ تیرا
مجھے عشق کی آگ میں جلنے دو

ہے ہے ہے۔۔۔ ہا ہا ہا۔۔۔ ہے ہے ہے ہے۔۔۔۔!

مجھے چھوگئی تیری نظر، مجھے ہوش بھی نہیں رہا
اس آگ میں جلنے کا ہے اپنا مزا، اپنا مزا
بھرلے مجھے آغوش میں،
آ پاس آ، میرے پاس آ
آ میرے پاس آ۔۔۔۔!

یہ دھواں دھواں سا رہنے دو
مجھے دل کی بات کہنے دو
میں پاگل دیوانہ تیرا
مجھے عشق کی آگ میں جلنے دو

ہے ہے ہے۔۔۔ ہا ہا ہا۔۔۔ ہے ہے ہے ہے۔۔۔۔!

یہ گرمیاں یہ نرمیاں، کیا بات ہے اس پیاس میں
ہر وقت میں ڈوبی رہوں تیرے پیار کے احساس میں
تپتی ہوئی اس راکھ میں،
مل جانے دے مجھے خاک میں
او میری، دل رُبا۔۔۔!

یہ دھواں دھواں سا رہنے دو
مجھے دل کی بات کہنے دو
میں پاگل دیوانہ تیرا
مجھے عشق کی آگ میں جلنے دو

ہے ہے ہے۔۔۔ ہا ہا ہا۔۔۔ ہے ہے ہے ہے۔۔۔۔!
:razz:

Geo Musharraf

603 views January 21, 2008 | راہبر
No Gravatar

A man goes for fishing, catches a big fish, comes home and asks his wife to cook the fish. Wife says she can’t as there is no gas, no electricity, no floor & no cooking oil to fry it in. Man goes and puts the fish back in the river. Fish comes up to the surface and shouts:

Geo Musharraf

لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

800 views January 18, 2008 | راہبر
No Gravatar

یار لوگوں نے دین کو کھیل بنالیا ہے۔ آج کل کچھ لوگ یا تو اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ دین بہت زیادہ آزادی دیتا ہے یا پھر علماء سے بدظن ہیں کہ انہوں نے بے جا پابندیاں عائد کرکے اسلام کا دائرہ تنگ کردیا ہے۔ دوسرا مؤقف کچھ حد تک درست تو ہے لیکن مکمل نہیں۔ درحقیقت دین نام ہی پابندیوں کا ہے۔ دین آپ کو پابند کرتا ہے کہ آپ نے زندگی کیسے گزارنی ہے، کس سے کس طرح کا برتاؤ کرنا ہے، کون سا عمل کرنا ہے اور کس سے گریز کرنا ہے۔ دین صرف اس بات کا نام نہیں ہے کہ وہ آپ کو بتادے فلاں عبادت فلاں وقت کرنی ہے اور اس طرح کرنی ہے، دن میں پانچ وقت ایسے ایسے نماز پڑھنی ہے، سال میں ایک ماہ کے روزے رکھنے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ دین صرف عبادت تک محدود نہیں ہے، خاص کر اسلام ہمیں ایک مکمل ضابطہ حیات فراہم کرتا ہے۔
عرصہ سے ایک نئی روش چلی ہے، لوگ اپنے من پسند کاموں کے لیے تاولیں گھڑلیتے ہیں، بڑی بڑی دور کی کوڑیاں لاتے ہیں اور اپنے کام کو اسلام سے ثابت کرتے ہیں۔ اگر کسی سے ایسا نہیں ہوپاتا تو وہ علمائے دین وغیرہ کو برا کہتا ہے کہ یہ ان لوگوں کی فالتو پابندیاں ہیں، اس طرح نہیں ہوسکتا، ایسا ظلم نہیں ہوسکتا۔ دین ہم لوگوں کی مرضی سے نہیں چلتا۔ کل کو کوئی کاروباری شخص کہے کہ دن میں پانچ وقت نمازیں پڑھنے سے تو کاروبار کا کافی وقت نکل جاتا ہے اور یوں نقصان اٹھانا پڑتا ہے تو اسلام ایسا ظلم تو نہیں کرسکتا کہ ہمیں کاروبار میں نقصان اٹھانا پڑے، تو آپ ایسے شخص کو کیا کہیں گے؟ عرصہ پہلے میرے ابو کی دکان پر ایک شعر لکھا رکھا ہوتا تھا کہ

یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

کچھ صاحبان اصلاح معاشرہ کا دعویٰ کرتے ہوئے اس طرح کی باتیں کرتے ہیں جس سے انتشار پھیلتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر اصلاح معاشرہ کا نعرہ بلند کرنے والوں کی کاوشوں سے انتشار پھیلے تو سمجھنا چاہئے وہ اصلاح نہیں، فساد کررہے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ کیا دین اسلام کے سارے فرائض اور اراکین ایک ہی دفعہ اتر آئے تھے؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارا دین ایک ہی وقت میں تھمادیا تھا کہ کلمہ پڑھو اور اس کے فورا بعد ایسا کرو، یہ کرو، فلاں کام سے رکو وغیرہ وغیرہ۔۔۔ نہیں۔۔۔! بلکہ آہستہ آہستہ بگڑے ہوئے معاشرہ کو اصلاح کی طرف راغب کیا۔ یونہی اگر آج کسی معاشرہ میں غلط رسوم رائج ہیں یا عقائد میں بہت زیادہ بگاڑ آگیا ہے تو ان کی دھیرے دھیرے اصلاح کی جائے گی نہ کہ بیک جنبش قلم سب کو کافر یا گمراہ کا پروانہ تھماکر کہا جائے کہ یہ کام چھوڑ دو، فلاں امر سے رک جاؤ۔
اس وقت بہت سے لوگ معاشرہ کی اصلاح کی کوشش کررہے ہیں، سب کو مبارک، سب کے لیے نیک تمنائیں، کسی کی نیت پر شک نہیں لیکن ایک مصلح کے لیے کن کن باتوں کا دھیان رکھنا ضروری ہے، اس پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ورنہ خدانخواستہ اصلاح فی الارض کا نتیجہ فساد فی الارض بھی نکل سکتا ہے۔

احمق

868 views January 17, 2008 | راہبر
No Gravatar

ایک طرف میں باغ میں بیٹھا ڈھلتے سورج کے منظر سے لطف اندوز ہورہا تھا تو دوسری طرف میرے برابر میں بیٹھا ارسلان گہری سوچوں ہی میں گم تھا۔ کچھ دیر بعد اس نے خاموشی توڑ دی۔
”تمہیں پتا ہے، تم ایک احمق انسان ہو۔“ اس نے مجھے لتاڑا۔
”ہاں تو یہ کون سا نیا انکشاف ہے بھلا؟“ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اس نے جواب میں گھورنے پر اکتفا کیا۔
”ویسے کیا میں جان سکتا ہوں کہ مجھے احمق ہونے کا اعزاز آپ نے میری کس احمقانہ حرکت پر دیا ہے؟“ میں اچھے موڈ میں تھا۔
”کیا تم جانتے ہو کہ اس وقت پاکستانی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟“ ارسلان نے میرے سوال کے جواب میں سوال دے مارا۔ میرا ایسے موضوعات پر بات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
”پاکستان کے حکمرانوں کے علاوہ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستانی عوام کے مسائل کیا ہیں؟“ میں نے بات گول کرنا چاہی لیکن وہ کچھ اور ہی سوچ رہا تھا۔
”اچھا بتاؤ تم اپنے بلاگ پر اگلی تحریر کس موضوع پر لکھنے والے ہو؟“ اس نے اچانک کچھ ہٹ کر سوال کیا۔ میں سوچنے لگا۔
”میں نے ایک تحریر سوچی ہے کہ بالی ووڈ کی فلم ”سانوریا“ کے ایک مشہور گیت کے بارے میں لکھوں گا کہ جب سے تیرے نینا میرے نینوں سے والا جو گیت ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ رب بھی دیوانہ لگے (نعوذ باللہ) یعنی خدا کے ساتھ دیوانگی منسوب کی گئی ہے جو صریح کفر ہے اور یہاں کے لوگ انجانے میں اسے گنگناتے رہتے ہیں جو انتہائی بری بات ہے۔“ میں نے عرصہ سے اس کے بارے میں لکھنے کا سوچا ہوا تھا۔ یہ سن کر ارسلان متحیر ہوکر مجھے دیکھنے لگا۔ شاید وہ خود بھی یہی گیت گنگناتا رہا تھا۔ بہرحال وہ جلد ہی اپنے پچھلے موضوع پر آگیا۔
”اور کوئی دوسری تحریر۔۔۔؟“ اس نے پوچھا۔
”ہاں۔۔۔ سوچ رہا تھا کہ کچرا پھیلانے کے حوالے سے کچھ لکھوں کہ راہ چلتے کچرا پھیلانا یا پان کی پیک تھوکنا یا چیزیں پھینکنا اچھا عمل نہیں وغیرہ وغیرہ۔“ میں نے یہ بتایا تو وہ مسکرانے لگا۔
”جب ہی تو میں کہتا ہوں کہ تم انتہائی احمق ہوں۔“ اس نے ترنت کہا۔
”ارے اس میں بھلا میرے احمق ہونے کا کون سا ثبوت ہے؟“ میں ہلکا سا چلایا۔ ارسلان نے کچھ دیر توقف کیا۔ پتا نہیں وہ میری اس حالت سے لطف اندوز ہورہا تھا یا کچھ کہنے کے لیے الفاظ اکٹھے کررہا تھا۔ پھر اس نے اپنے لب کھولے:
”تمہارے احمق ہونے کو یہی بات کافی ہے کہ اس وقت جب ساری قوم آٹے کے بحران، بجلی کی مسلسل لوڈ شیڈنگ اور آسمان کو چھوتی مہنگائی جیسے عذاب میں مبتلا ہے اور اس کو زندگی گزارنے کے لیے ہزار فکر لاحق ہے، تم اس بے چاری قوم سے کہتے ہو کہ شہری شعور سیکھو، کچرا نہ پھیلاؤ، ایسے کرو، ویسے نہ کرو۔“ اس نے فوراً اپنا دانشوارانہ بیان داغا۔
”ابے! اس میں کون سی غلط بات ہے؟ ٹھیک ہے کہ جینے میں مشکلات ہیں لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ بالکل جنگلی بن جائیں۔“ میں نے صفائی پیش کی۔
”جنگلی نہیں بنیں گے، خودکش حملہ آور بنیں گے لوگ اس حالت میں احمق! فاقوں اور غربت کے ہاتھوں تنگ آکر اپنی جانیں قربان کریں گے اور دوسروں کی جان بھی لیں گے۔“ اس نے بات کو آگے بڑھایا۔ ”جب تک شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق حاصل نہیں ہوں گے اور ان کی بنیادی ضرورتیں پوری نہیں ہوں گی، تب تک ان سے کس طرح توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اچھا شہری ہونے کا ثبوت دیں گے؟“ اس نے مجھ سے پوچھا۔
اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا، میرا موبائل فون بجنے لگا۔ میں نے اٹھا کر کان سے لگایا۔ دوسری طرف میری ماں کی گھبرائی ہوئی آواز تھی:
” کراچی میں ایک بم دھماکہ ہوا ہے۔ کہاں ہو؟ فوراً گھر پہنچو! “

جناح

1,110 views January 15, 2008 | راہبر
No Gravatar

قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی اور تحریکِ پاکستان میں ان کے کردار پر بننے والی فلم “جناح” میں نے گذشتہ ہفتہ ہی دیکھی حالآنکہ اسے ریلیز ہوئے کئی سال گزر چکے ہیں۔ میں تلاش کے باوجود یہ نہیں جان سکا کہ اس فلم نے کتنا بزنس کیا تھا لیکن اس پر بے حد اعتراضات ضرور ہوئے تھے۔ یہ فلم 1998ء میں پاکستان اور برطانیہ میں ریلیز ہوئی۔ مجھے اپنے وطن اور اپنے عظیم رہنما سے بے حد محبت ہے۔ میں نے جب سے اس کے بارے میں جانا تھا، اس کو دیکھنے کے لیے بے تاب تھا۔ ہمارے ہاں سینیما جانے کا رواج نہیں اور اس فلم کے ریلیز ہونے کے وقت میری عمر 10، 11 سال ہی تھی۔ اس لیے اسے دیکھنے کی خواہش میرے دل میں بسی رہی اور تقریبا دس سال بعد، اب یہ فلم دیکھ سکا۔
فلم میں قائد اعظم محمد علی جناح کا کردار ہالی ووڈ کے مشہور اداکار کرسٹوفرلی نے نبھایا ہے جو کہ عرصہ تک فلموں میں کاؤنٹ ڈریکولا کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے مشہور تھا۔ یہی ایک وجہ تھی جس کی وجہ سے اس فلم پر بے شمار اعتراض ہوا اور تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ فلم کے باقی کرداروں میں شیریں جناح، ماریہ ایٹکن، ششی کپور، شکیل، ونیزہ احمد، رابرٹ ایش بے، سام ڈاسٹر وغیرہ شامل تھے۔
فلم کا پہلا منظر یہ ہے کہ قائد اعظم کو بیماری کی حالت میں بذریعہ ہوائی جہاز کراچی منتقل کیا جاتا ہے۔ ایمبولینس میں لے جایا جارہا ہوتا ہے تو ایمبولینس خراب ہوجاتی ہے۔ وہیں قائد اعظم کی طبیعت مزید بگڑ جاتی ہے اور وہ وصال کرجاتے ہیں۔ اس کے بعد کا منظر کچھ عجیب سا ہے۔ دکھایا گیا ہے جیسے مرنے کے بعد کی دنیا میں پہنچے ہیں۔ وہاں ایک آدمی سے ملاقات ہوتی ہے جو انہیں بتاتا ہے کہ وہ ان کا منتظر تھا اور کچھ معلومات کی تصدیق کرنا چاہتا ہے۔ وہ ایک کتاب دکھاتا ہے جس کے سرورق پر محمد علی جناح درج ہوتا ہے اور بتاتا ہے کہ اس میں آپ کے بارے میں ساری معلومات ہیں۔ لیکن جب وہ کتاب کھولتا ہے تو خالی ہوتی ہے اور پتا چلتا ہے کہ سارا ڈیٹا کمپیوٹر پر منتقل کردیا گیا ہے۔ کمپیوٹر پر فائل تلاش ہوتی ہے تو ملتی نہیں۔ لہذا ان معلومات کی تصدیق کے لیے قائد اعظم کے دوبارہ ان کے زمانے میں لے جایا جاتا ہے۔ اب اصل کہانی کا آغاز ہے جب قائد کی جوانی اور ان کی زندگی کے واقعات ہیں جنہیں قائد اعظم اور وہ شخص اپنے سامنے ہوتا دیکھ رہے ہیں جو قائد کو واپس اس دنیا میں لایا ہے۔
محمد علی جناح صاحب کی رتن بائی سے محبت، رتن بائی کا گھر سے فرار ہونا، اسلام قبول کرنا، پھر شادی اور اس کے بعد یہ انکشاف کے رتن بائی کو کینسر ہے جس سے رتن بائی کی موت ہوجاتی ہے۔ یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ کس طرح قائد اعظم مسلمانوں کے حقوق کے لیے ہر فورم سے آواز اٹھاتے ہیں۔ پھر ایک بار کانگریس کے جلسے میں گاندھی کی ایک قرار داد کی مخالفت کرتے ہوئے جب اپنی گفتگو میں “مسٹر گاندھی” کہتے ہیں تو سامنے سے انتہا پسند کھڑے ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ “مسٹر گاندھی نہیں، کہو: مہاتما گاندھی”۔ لیکن قائد اعظم زوردار آواز میں اپنی بات مکمل کرتے ہیں اور “مسٹر گاندھی” ہی کہتے ہیں۔
جواہر لال نہرو اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی بیگم کے ساتھ روابط اور ان کے نتیجہ میں ہونے والی گٹھ جوڑ کی کہانی بھی شامل ہے۔ پھر کس طرح علامہ اقبال لند آکرقائد اعظم سے ملتے ہیں اور ان کو انڈیا لوٹ کر مسلمانوں کی قیادت سنبھالنے کے لیے کہتے ہیں۔ اس کے باعد قیامِ پاکستان اور بعد از قیامِ پاکستان۔ مجھے تو بہت دلچسپ اور اچھی فلم لگی۔ شاید اس لیے کہ مجھے جذباتی لگاؤ بھی ہے۔ یہ اندازہ لگائیں کہ جب میں نے یہ فلم دیکھی ہے، اس کے بعد دو راتوں تک مجھے قائد اعظم محمد علی جناح ہی کے بارے میں خواب آتے رہے۔ :razz:
اس فلم کے مزید دو تین واقعات بھی ہیں جو میرا دل چاہتا ہے کہ بیان کروں لیکن اگر میں نے ہی سب کچھ بیان کردیا تو پھر آپ کیا دیکھیں گے؟ اگر یہ فلم آسانی سے مل سکے تو ضرور دیکھیں۔
اس فلم کے ڈائریکٹر جمیل دہلوی ہیں۔
مزید معلومات کے لیے یہ، یہ اور یہ