آہ مشرقی پاکستان!

251 views December 17, 2007 | راہبر
No Gravatar

مشرقی پاکستان کو ہم سے جدا ہوئے 36 برس بیت گئے ہیں۔ میں ہر بار سوچتا ہوں کہ 16 دسمبر کے موقع پر ایک لمبی چوڑی تحریر لکھوں گا، دل کے پھپھولے پھوڑوں گا لیکن اتنا کچھ سوچ کر جب بھی اس موضوع پر لکھنے بیٹھتا ہوں، ایسا لگتا ہے جیسے افسردہ افسردہ الفاظ رقم ہونا نہیں چاہتے۔ غم و دکھ بیان کرنا نہیں چاہتے، بے وفا لوگوں سے گلہ کرنا نہیں چاہتے۔
کبھی کبھی دل میں ایک عجیب سی خواہش اٹھتی ہے کہ کچھ ایسا ہو کہ دونوں بازو، مغربی و مشرقی پاکستان ایک بار پھر ایک ہوجائیں!

موبائل فون کا کم خرچ

147 views December 15, 2007 | راہبر
No Gravatar

میں بہت خوش بھی ہوں اور حیران بھی کیونکہ اس ہفتہ میرے موبائل فون پر صرف پچاس روپے خرچ ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ :) ورنہ عام طور سے یہ رقم سو روپے تک پہنچ جاتی ہے۔۔۔۔
اب سوچ رہا ہوں کہ ہر ہفتہ اسی طرح گزاروں تاکہ کچھ بچت ہوسکے۔ مہینہ کے پہلے عشرے میں، میں نے دو سو روپے بچا لیے تھے۔۔۔ ابھی حساب نہیں لگایا کہ دوسرے عشرے کے وسط میں کتنا خرچ ہوگیا ہے۔۔۔۔
اللہ مجھے کم خرچ کرنے کے مواقع عطا فرمائے۔ آمین
:razz:

یومِ ولادت

234 views December 14, 2007 | راہبر
No Gravatar

میں عموما مذہبی مسائل پر بحث یا گفتگو سے گریز کرتا ہوں کیونکہ میرا پچھلا تین/ چار سالہ تجربہ یہی بتاتا ہے کہ اس سے سوائے نفرتوں کے کچھ نہیں ملتا، کوئی فریق اپنا مؤقف اتنی آسانی سے نہیں چھوڑ دیتا چاہے اس کے سامنے دلائل کے انبار لگادیے جائیں۔
میں چھوٹا تھا، بہت چھوٹا۔ جب میں نے اپنے آس پاس لوگوں کو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا جشن مناتے دیکھا۔ پھر جب کم عمری ہی میں اس حوالہ سے کتب پڑھیں تو یہ گمان ہوتا تھا کہ جیسے جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا بہت ضروری ہے اور جو نہیں مناتے وہ نبی سے محبت نہیں کرتے وغیرہ وغیرہ۔ آگے چل کر کچھ کتب کے مطالعہ سے یہ بھی پتا چلے کہ کچھ لوگ جشن عید میلاد النبی منانے کو بدعت قرار دیتے ہیں کہ یہ دین میں ایک نیا اضافہ ہے۔ ایسی ہی ایک بات میرے بلاگ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صاحب نے تحریر کی۔
جیسے جیسے مختلف کتب کا مطالعہ کیا، ذہن کھلا تو جانا کہ جشن عید میلاد النبی منانا ایسا لازم اور واجب کے درجہ پر پہنچا تہوار نہیں کہ جو نہ منائے، اس پر فتوے دیے جائیں۔ کچھ مفتی صاحبان کو متنازعہ فتوے بازی کا زیادہ ہی شوق ہوتا ہے۔ بال کی کھال نکالنے کے ایسے انجام تو نکلا ہی کرتے ہیں کہ ایک چھوٹی سی بات بڑھ کر فتنہ فساد کا سبب بن جاتی ہے۔
دنیا بھر میں اپنا یا اپنے عزیز و اقارب و احباب کا یوم ولادت بڑے جوش و خروش اور خوشی سے منایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اس پر بھی فتوے پیش کرتے ہیں اور دلیل لاتے ہیں کہ زندگی سے ایک سال کم ہوجانے پر خوشی کیسی؟ لیکن میرے نزدیک درحقیقت یہ خوشی اس بات کی ہوتی ہے کہ رب تعالیٰ نے ہمیں اتنا پیارا بھائی یا بہن، یا ماں باپ یا دوسرے رشتے عطا کیے۔ ان رشتوں کی پیدائش کی خوشی ہوتی ہے جو کہ فطری ہے۔
یہ ہمارے رشتے جن کی ہمیں اتنی خوشی ہے اور ان کے یوم پیدائش ہم مناتے ہیں تو ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی جنہوں نے ہم تک دین اسلام پہنچانے کے لیے کئی مصائب و آلام برداشت کیے، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رو رو کر اپنی امت کے لیے دعائیں کیں، اس عظیم شخصیت کہ ہم پر جس کے بے شمار احسانات ہیں، بھلا اگر کوئی شخص اس شخصیت کی یوم پیدائش پر خوشی منائے اور ہم اسے بدعتی کہیں تو کتنی بے شرمی کی بات ہے۔
کچھ لوگ دلیل لاتے ہیں کہ یہ دین میں ایک نیا اضافہ ہے۔ کون کہتا ہے کہ آپ اسے دین میں اضافہ سمجھ کر منایئے؟ اپنی یا رشتے داروں کی سالگرہ منائی جاتی ہے تو کیا وہ دین سمجھ کر منائی جاتی ہے؟ نہیں بلکہ اپنی ذاتی خوشی کا اظہار ہوتا ہے۔۔۔ تو اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم پیدائش منانے کی جب بات آئے تو ہم تاویلیں گھڑنے لگیں، فتوے نکالنے لگیں، تب ہمیں محبت کے بجائے عقل یاد آتی ہے، دل کے بجائے دماغ یاد آتا ہے۔ حیرت ہے!
یار لوگ تو بڑی خوشی سے کرسمس منالیتے ہیں اس دلیل کے ساتھ کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یوم پیدائش ہے لیکن جب اپنے نبی کے یوم پیدائش کی بات آتی ہے تو ان کے منہ سے سوائے بدعت کے کوئی لفظ نہیں نکلتا۔ کیا کرسمس عیسائیوں کا مذہبی تہوار نہیں ہے؟ اگر کرسمس عیسائیوں کا مذہبی تہوار ہے تو آپ مسلمان ہونے کے ناطے کیوں کر مناسکتے ہیں؟ اور اگر مذہبی تہوار سمجھ کر نہیں مناتے تو پھر آیئے! عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مذہبی تہوار سمجھے بغیر منایئے! اور اگر نہیں مناتے تو آپ پر زبردستی نہیں اور ہرگز زبردستی نہیں لیکن اتنا تو لحاظ کیجئے کہ جو مناتے ہیں، ان کو بدعتی کا خود ساختہ اور گھسا پٹا طعنہ مت دیجئے۔
ہاں، کچھ لوگ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بدعت قرار دینے کے لیے اس موقع پر ہونے والے فضول اور جاہلانہ کاموں کو دلیل بناتے ہیں کہ اس میں تو یہ جاہلانہ رسم ہوتی ہے، اس میں تو فلاں غلط بات ہوتی ہے، فلاں غلط کام ہوتا ہے۔ تو میرے پیارے ساتھی! آپ کو کس نے کہا ہے کہ آپ ان رسوم و رواج میں شرکت کیجئے۔ آپ کھلے عام ان کا بائیکاٹ کیجئے۔ اگر اس تہوار کے نام پر کوئی نماز چھوڑتا ہے تو اس کو ملامت کیجئے۔ لیکن پہلے یہ بتایئے کہ آپ بھی نماز پڑھتے ہیں؟
بہرحال! میں نے پہلے بھی ایک تحریر میں لکھا تھا اور اب پھر لکھتا ہوں کہ دین کو دونوں جانب سے سخت بنانے کی پوری کوشش کی جاتی ہے، اپنی بات پر اڑ جایا جاتا ہے اور کوئی درمیانی راہ نکالنے کی نہیں سوچتا۔ اپنی مرضی ہو تو لوگ گاندھی کا جنم دن بھی منالیتے ہیں اور نہ ہو تو اپنے نبی کے یوم ولادت پر اڑ جاتے ہیں۔ فتوؤں کی بازی گری کا نہیں، اعتدال پسندی کا مظاہرہ کیجئے۔

احساس دلائیں!

149 views December 11, 2007 | راہبر
No Gravatar

میں ہمیشہ اس بات کو اہمیت دیتا ہوں کہ اگر آپ کے دل میں کسی کے لیے کچھ جذبات ہیں تو اسے اس بات کا احساس دلائیں، اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے۔ وہ جذبات چاہے محبت کے ہوں یا نفرت کے، خوشی کے ہوں یا غم کے۔۔۔ کسی بھی قسم کے ہوں لیکن ان کا احساس دلایئے۔۔۔ اپنے جذبات کا اظہار کیجئے اس شخص کے سامنے کہ وہ جس سے تعلق رکھتے ہیں۔
میری تمہید سے یہ نہ سمجھئے گا کہ میں نے ابھی محبت جیسے موضوعات پر لیکچر شروع کردینا ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ میں نے ہمیشہ کی طرح معاشرہ ہی کی بات کرنی ہے۔
دو، تین ہفتے پہلے کی بات ہے۔ میں جب جمعہ کی نماز پڑھنے مسجد کو جارہا تھا تو دیکھتا ہوں عین موڑ پر ایک ہائی۔روف گاڑی کھڑی ہے اور پیچھے سے آنے والی گاڑیوں کو مشکل کا سامنا ہے۔ مجھے چونکہ جلدی تھی، سو دل ہی دل میں اس ہائی۔روف کے ڈرائیور کی عقلمندی کو کوستا ہوا آگے بڑھ گیا۔
اسی شام جب دفتر سے گھر جانے کو اترا تو دیکھتا ہوں کہ دوبارہ ایک ہائی۔روف راستہ میں اس طرح کھڑی ہے کہ پیچھے سے آنے والی گاڑیاں مشکل میں ہیں۔ اب کی بار مجھ سے رہا نہیں گیا۔ اسامہ میرے ساتھ تھا۔ میں نے اسے کہا کہ میں نے اس کو جاکر کہنا ہے کہ گاڑی کنارہ پر کرلیں۔ اسامہ کہنے لگا، پاگل مت بنو، چلتے رہو۔ میں نے ضد پکڑ لی کہ نہیں، میں نے تو کہنا ہی ہے۔ کچھ لمحہ رک کر توانائی جمع کی اور ہائی۔روف کے ڈرائیور کو جاکر کہا: “بھائی! گاڑی ذرا آگے کرلینا، پیچھے سے آنے والوں کو مشکل ہورہی ہے۔” اس نے سر ہلایا اور گاڑی ایک طرف کرلی۔ میں نے خوشی خوشی اپنی راہ لی۔
مجھے دوران سفر سگریٹ نوشی کرنے والے اچھے نہیں لگتے۔ بس کا ماحول پہلے ہی گھٹن کا ہوتا ہے، اوپر سے تمباکو نوشی۔۔۔ اففف۔۔۔۔ زہر لگتی ہے۔ پچھلے دنوں بس میں سوار ہوا تو ایک صاحب نے سگریٹ نکال کر جلالی اور پینے لگے۔ میں نے ان صاحب کو گھورا تو ایک دوسرا بندہ بھی مجھے دیکھ کر مسکرانے لگا کہ وہ بھی دھوئیں سے پریشان تھا۔ میں نے ان صاحب کو اشارہ کیا اور ہلکے سے کہا کہ بھائی سگریٹ نہ پئیں گاڑی میں۔ انہوں نے خاموشی سے سگریٹ بجھائی اور پھینک دی۔
ایک دن بس کے سفر میں گاڑی بھری ہوئی تھی۔ اس کے باوجود حرص و ہوس کا مارا ڈرائیور آواز لگا کر کنڈیکٹر کو کہنے لگا کہ لوگوں کو آگے کرو، جگہ بناؤ۔ میں نے پہلے گاڑی کا جائزہ لیا اور تصدیق کی کہ واقعی گاڑی میں جگہ نہیں ہے۔ پھر وہیں سے بیٹھے بیٹھے آواز ماری کہ تمہاری گاڑی ہے یا ہوائی جہاز کہ لوگوں کو بھرتے چلے جاتے ہو۔۔۔ وہ چپ ہوگیا۔۔۔!
ایسے کئی واقعات ہیں۔ ان واقعات کو بیان کرنے کا مقصد اپنے کارنامے گنوانا نہیں بلکہ مثال دینا ہے کہ اگر نرمی سے کسی کو صحیح بات بتادی جائے تو مناسب ہوتا ہے۔ بجائے اس کے کہ آپ دل ہی دل میں کڑھتے رہیں یا اپنی دل کی بھڑاس کسی غیر متعلقہ شخص کے سامنے نکالیں۔
یہ معاشرہ کے نچلی سطح کی امثال ہیں۔ یہی صورتحال اعلیٰ سطح کے امور کی بھی ہے۔ اپنے اردگرد ہونے والی ہر برائی کو ہم برا خیال کرکے اپنا فرض صرف اتنا سمجھتے ہیں کہ آپس میں بات کرکے چپ ہوجائیں۔۔۔ سیاسی پیمانے پر ہونے والی برائیوں اور غلطیوں پر بھی ہمارا رویہ صرف اسی قدر ہوتا ہے کہ آپس میں دل کی بھڑاس نکال لیتے ہیں، جی بھر کے دوسروں کو برا کہتے ہیں، گالیاں دیتے ہیں، پھر سمجھتے ہیں کہ چلو جی، ہم نے تو اپنا کام کردیا۔
ایسے کچھ نہیں ہوتا۔ اس طرح تبدیلیاں نہیں آیا کرتیں۔ اگر ہم واقعی غلط کو غلط کہتے اور سمجھتے ہیں تو ہماری ذمہ داری صرف اتنی نہیں کہ اس کو برا کہہ کہ چپ ہوجائیں۔ بلکہ ہمیں چاہئے کہ ہم آگے بڑھ کر اس کو ٹھیک کریں، غلطی کی تصحیح کریں اور از خود بہتری کی جانب پہلا قدم اٹھائیں۔

غیر مستقل مزاجی

178 views December 6, 2007 | راہبر
No Gravatar

برج جوزا سے تعلق رکھنے والے اکثر افراد کی ایک خاصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ تبدیلی پسند ہوتے ہیں۔ یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ ان میں غیر مستقل مزاجی ہوتی ہے۔ یہی حال میرا سمجھئے۔ مستقل مزاجی تو جیسے مجھے چھوکر بھی نہیں گزری۔ بہت مشکل سے خود کو ایک جگہ قائم رکھتا ہوں۔۔۔ کبھی کبھی یہ خاصیت فائدہ کا سبب بھی ہوتی ہے لیکن۔۔۔۔ کبھی تو میں خود تنگ آجاتا ہوں۔۔۔۔

بیاض پر تبدیلیاں

236 views December 3, 2007 | راہبر
No Gravatar

پہلے زکریا نے اردو بلاگرز کے لیے تجاویز، غلطیاں، شکوے وغیرہ بیان کیے پھر بدتمیز نے بھی اچھی خاصی کلاس لے ڈالی۔ یوں کچھ نئی باتیں پتا چلیں اور ہم جیسے نو آموزوں کو ایک راہنمائی ملی۔ میرے لیے دونوں صاحبان کی تحاریر بالکل ایسی ہیں جیسے کوئی بڑا یا استاد صحیح بات بتائے۔ اس کے لیے میں ان کا مشکور ہوں۔
سو، اب تک سامنے آئی باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے بلاگ میں کچھ اضافے کیے ہیں (جوکہ تھیم کی تبدیلی کے سوا ہیں)۔ ;) ایک چیز یہ کہ میں نے صفحات میں رابطہ کا صفحہ بڑھایا ہے۔ اس صفحہ پر جاکر آپ مجھ سے رابطہ کرسکتے ہیں اور آپ کا پیغام مجھے بذریعہ ای۔میل موصول ہوجائے گا۔ دوسرا صفحہ Help کا ہے، جس میں ونڈوز ایکس۔پی میں اردو لکھنے کا طریقہ تصویروں کی مدد سے اردو میں سمجھایا گیا ہے۔ یہ میں نے چند مہینوں پہلے اردو محفل پر ہونے والی ایک گفتگو کے بعد لکھا تھا۔ اس میں یقینا مزید تبدیلیوں، اضافوں اور بہتری کی گنجائش ہوگی۔ اس سلسلے میں آپ مجھے تجاویز دے سکتے ہیں۔ تیسرا اضافہ سائٹ میٹر کا ہے جو بائیں طرف نیچے موجود ہے جسے یکم دسمبر 2007ء سے فعال کیا گیا ہے۔
امید ہے کہ یہ تبدیلیاں اور اضافے خوش آئند ہوں گے اور معزز قارئین کو پسند آئیں گے۔