
میں عموما مذہبی مسائل پر بحث یا گفتگو سے گریز کرتا ہوں کیونکہ میرا پچھلا تین/ چار سالہ تجربہ یہی بتاتا ہے کہ اس سے سوائے نفرتوں کے کچھ نہیں ملتا، کوئی فریق اپنا مؤقف اتنی آسانی سے نہیں چھوڑ دیتا چاہے اس کے سامنے دلائل کے انبار لگادیے جائیں۔
میں چھوٹا تھا، بہت چھوٹا۔ جب میں نے اپنے آس پاس لوگوں کو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا جشن مناتے دیکھا۔ پھر جب کم عمری ہی میں اس حوالہ سے کتب پڑھیں تو یہ گمان ہوتا تھا کہ جیسے جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا بہت ضروری ہے اور جو نہیں مناتے وہ نبی سے محبت نہیں کرتے وغیرہ وغیرہ۔ آگے چل کر کچھ کتب کے مطالعہ سے یہ بھی پتا چلے کہ کچھ لوگ جشن عید میلاد النبی منانے کو بدعت قرار دیتے ہیں کہ یہ دین میں ایک نیا اضافہ ہے۔ ایسی ہی ایک بات میرے بلاگ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صاحب نے تحریر کی۔
جیسے جیسے مختلف کتب کا مطالعہ کیا، ذہن کھلا تو جانا کہ جشن عید میلاد النبی منانا ایسا لازم اور واجب کے درجہ پر پہنچا تہوار نہیں کہ جو نہ منائے، اس پر فتوے دیے جائیں۔ کچھ مفتی صاحبان کو متنازعہ فتوے بازی کا زیادہ ہی شوق ہوتا ہے۔ بال کی کھال نکالنے کے ایسے انجام تو نکلا ہی کرتے ہیں کہ ایک چھوٹی سی بات بڑھ کر فتنہ فساد کا سبب بن جاتی ہے۔
دنیا بھر میں اپنا یا اپنے عزیز و اقارب و احباب کا یوم ولادت بڑے جوش و خروش اور خوشی سے منایا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اس پر بھی فتوے پیش کرتے ہیں اور دلیل لاتے ہیں کہ زندگی سے ایک سال کم ہوجانے پر خوشی کیسی؟ لیکن میرے نزدیک درحقیقت یہ خوشی اس بات کی ہوتی ہے کہ رب تعالیٰ نے ہمیں اتنا پیارا بھائی یا بہن، یا ماں باپ یا دوسرے رشتے عطا کیے۔ ان رشتوں کی پیدائش کی خوشی ہوتی ہے جو کہ فطری ہے۔
یہ ہمارے رشتے جن کی ہمیں اتنی خوشی ہے اور ان کے یوم پیدائش ہم مناتے ہیں تو ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی جنہوں نے ہم تک دین اسلام پہنچانے کے لیے کئی مصائب و آلام برداشت کیے، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رو رو کر اپنی امت کے لیے دعائیں کیں، اس عظیم شخصیت کہ ہم پر جس کے بے شمار احسانات ہیں، بھلا اگر کوئی شخص اس شخصیت کی یوم پیدائش پر خوشی منائے اور ہم اسے بدعتی کہیں تو کتنی بے شرمی کی بات ہے۔
کچھ لوگ دلیل لاتے ہیں کہ یہ دین میں ایک نیا اضافہ ہے۔ کون کہتا ہے کہ آپ اسے دین میں اضافہ سمجھ کر منایئے؟ اپنی یا رشتے داروں کی سالگرہ منائی جاتی ہے تو کیا وہ دین سمجھ کر منائی جاتی ہے؟ نہیں بلکہ اپنی ذاتی خوشی کا اظہار ہوتا ہے۔۔۔ تو اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم پیدائش منانے کی جب بات آئے تو ہم تاویلیں گھڑنے لگیں، فتوے نکالنے لگیں، تب ہمیں محبت کے بجائے عقل یاد آتی ہے، دل کے بجائے دماغ یاد آتا ہے۔ حیرت ہے!
یار لوگ تو بڑی خوشی سے کرسمس منالیتے ہیں اس دلیل کے ساتھ کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یوم پیدائش ہے لیکن جب اپنے نبی کے یوم پیدائش کی بات آتی ہے تو ان کے منہ سے سوائے بدعت کے کوئی لفظ نہیں نکلتا۔ کیا کرسمس عیسائیوں کا مذہبی تہوار نہیں ہے؟ اگر کرسمس عیسائیوں کا مذہبی تہوار ہے تو آپ مسلمان ہونے کے ناطے کیوں کر مناسکتے ہیں؟ اور اگر مذہبی تہوار سمجھ کر نہیں مناتے تو پھر آیئے! عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی مذہبی تہوار سمجھے بغیر منایئے! اور اگر نہیں مناتے تو آپ پر زبردستی نہیں اور ہرگز زبردستی نہیں لیکن اتنا تو لحاظ کیجئے کہ جو مناتے ہیں، ان کو بدعتی کا خود ساختہ اور گھسا پٹا طعنہ مت دیجئے۔
ہاں، کچھ لوگ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بدعت قرار دینے کے لیے اس موقع پر ہونے والے فضول اور جاہلانہ کاموں کو دلیل بناتے ہیں کہ اس میں تو یہ جاہلانہ رسم ہوتی ہے، اس میں تو فلاں غلط بات ہوتی ہے، فلاں غلط کام ہوتا ہے۔ تو میرے پیارے ساتھی! آپ کو کس نے کہا ہے کہ آپ ان رسوم و رواج میں شرکت کیجئے۔ آپ کھلے عام ان کا بائیکاٹ کیجئے۔ اگر اس تہوار کے نام پر کوئی نماز چھوڑتا ہے تو اس کو ملامت کیجئے۔ لیکن پہلے یہ بتایئے کہ آپ بھی نماز پڑھتے ہیں؟
بہرحال! میں نے پہلے بھی ایک تحریر میں لکھا تھا اور اب پھر لکھتا ہوں کہ دین کو دونوں جانب سے سخت بنانے کی پوری کوشش کی جاتی ہے، اپنی بات پر اڑ جایا جاتا ہے اور کوئی درمیانی راہ نکالنے کی نہیں سوچتا۔ اپنی مرضی ہو تو لوگ گاندھی کا جنم دن بھی منالیتے ہیں اور نہ ہو تو اپنے نبی کے یوم ولادت پر اڑ جاتے ہیں۔ فتوؤں کی بازی گری کا نہیں، اعتدال پسندی کا مظاہرہ کیجئے۔