غیر مستقل مزاجی
برج جوزا سے تعلق رکھنے والے اکثر افراد کی ایک خاصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ تبدیلی پسند ہوتے ہیں۔ یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ ان میں غیر مستقل مزاجی ہوتی ہے۔ یہی حال میرا سمجھئے۔ مستقل مزاجی تو جیسے مجھے چھوکر بھی نہیں گزری۔ بہت مشکل سے خود کو ایک جگہ قائم رکھتا ہوں۔۔۔ کبھی کبھی یہ خاصیت فائدہ کا سبب بھی ہوتی ہے لیکن۔۔۔۔ کبھی تو میں خود تنگ آجاتا ہوں۔۔۔۔
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
December 6, 2007 بوقت 6:28 am
میں ہوںیکم جون یعنی ایک پکا جوزا۔ ہاںمسئلہ تو اپنا بھی یہی ہے، کبھی کوئی کام پورا نہیں کیا۔
December 6, 2007 بوقت 8:15 am
یہ مسئلہ برج ”چوزہ“ کا نہیں بلکہ پاکستانیوں کا ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم عادت ہو گئی ہے کہ آج کا کام کل اور کل کا پرسوں پر چھوڑیں۔ مستقل مزاجی کیلیے پختہ عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔
آپس کی بات ہے میں بھی انتہائی غیرمستقل مزاج ہوں۔ :wink:
December 6, 2007 بوقت 11:32 am
اصل میںپاکستان 14 اگست کو بنا تھا اس حوالے سے پاکستان ہوا اسد اور اسی لیے ہم تمام پاکستانی اپنے آپ کو شیر اور پاکستان کو جنگل سمجھتے ہیں طاقت ہمارا قانون ہوتی ہے۔۔ جو شیر جتنا طاقتور اتنا بڑا بادشاہ۔۔
ویسے راہبر صاحب آپ خاطر جمع رکھیے ۔۔ یہ برج ورج کسی کو کچھ نہیںدینے کے۔۔ آپ تو راہبر ہیں آپ کو تو کام مکمل کرنا ہوگا ورنہ قافلے کا کیا ہوگا؟
December 6, 2007 بوقت 4:55 pm
میری بھی بڑی پرانی عادت ہے اگرچہ میں “چوزہ” نہیں ہوں۔
December 6, 2007 بوقت 10:28 pm
لو جی! یہاں تو سب ہی اپنے جیسے نکلے۔۔۔۔
December 7, 2007 بوقت 3:45 am
مجھے آپ کی تحریر پڑھنے کا اتنا لطف نہیں آیا جتنا جَوزا کو چُوزہ بنتے دیکھ کر آیا ہے اور میرا غصہ بھاگ گیا ہے ۔ یہ آپ نے بُرجوں پر تکیہ کیوں لگا لیا ؟ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے تقدیر آپ کی دسترس میں رکھی ہوئی ہے بُرجوں کے ساتھ نہیں لٹکائی ہوئی ۔ کوشش کریں اور حاصل کر لیں ۔ساجد اقبال صاحب نے درست لکھا ہے ۔ یہ ہموری قوم کا اجتماعی روگ ہے ۔
December 7, 2007 بوقت 12:38 pm
عمار اجمل انکل نے آپ کی کلاس بھی لے لی۔۔۔مزا آیا۔۔۔ :lol:
ہمممم مجھے ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ میں کیسی ہوں۔۔؟
مطلب مستقل مزاج یا غیر مستقل مزاج۔۔۔۔اگر کسی کام کے پیچھے پڑ جاؤں تو ہر حال میں پورا کرکے چھوڑتی ہوں۔۔۔ادھورے کاموں سے سخت چڑ ہے لیکن یکسانیت سے ایک سی روٹین سے بہت جلد گھبرا جاتی ہوں۔۔۔دل چاہتا ہے کہ ہر دن کچھ نیا ہو۔
عمار آپ کو کیسے لگا کہ آپ غیر مستقل مزاج ہیں؟
December 7, 2007 بوقت 6:34 pm
بالکل امن کی طرح میری عادت ہے۔
عمار، مستقل مزاجی کیا کرنی ہے؟ اس طرح تو زندگی اکتا جانے والی ہو جائے گی۔
December 7, 2007 بوقت 10:35 pm
شکر ہے اجمل صاحب کہ آپ کا غصہ بھاگ گیا تھا ورنہ میری اچھی خاصی کلاس ہوجاتی۔
جی! برجوں وغیرہ پر تکیہ کرکے تو نہیں بیٹھا ہوں میں لیکن میں نے اپنے مشاہدہ کی بات کی تھی۔ برج وغیرہ کا مکمل تو نہیں، لیکن تھوڑا بہت اثر کہیں نہ کہیں ضرور نظر آجاتا ہے۔ ویسے جہاں میرے اپنے مطلب کی بات ہوتی ہے وہاں مجھے مستقل مزاجی کو زبردستی پکڑ کر لانا ہی پڑجاتا ہے۔۔۔۔ لیکن یہ بہت مشکل ہوتا ہے۔ اس کا میرے نزدیک حل یہی ہوتا ہے کہ اگر ایک مستقل کام سے مجھے ڈر ہے کہ اس میں غیر مستقل مزاجی روڑے اٹکائے گی تو پھر میں اس کام کو مختلف تبدیلیوں کے ساتھ کرتا رہتا ہوں۔۔۔ اسی لیے میں نے شروع میں تبدیلی پسند لکھا تھا۔۔۔
جاؤ۔۔۔ میں نئی بولدا :wink:
۔۔۔۔۔۔۔
امن کی بچی! مزے سوجھ رہے ہیں تمہیں۔۔۔
مجھے کیسے لگا کہ میں غیر مستقل مزاج ہوں؟ بس حرکتوں سے پتا چل ہی جاتا ہے۔۔۔
ماوراء! یکسانیت سے ہی تو چڑ ہوجاتی ہے۔۔۔ جبھی کچھ بدلنے کو دل کرتا ہے۔۔۔۔
December 7, 2007 بوقت 10:36 pm
ویسے اس دھاگہ پر مجھے شہنشاہِ غیر مستقل مزاج جناب والا قدیر احمد رانا صاحب کا انتظار ہے۔۔۔۔۔۔۔ وہ بھی اعلی درجہ کے پہنچے ہوئے غیر مستقل مزاج شخص ہیں۔
December 8, 2007 بوقت 8:14 am
جی اور اسکا ایک نمونہ آپ جلدی دیکھیں گے جب قدیر میاں دوبارہ ورڈپریس پر نازل ہونگے۔
ویسے اگر آپ کو برج پر تھوڑا تھوڑا یقین ہے تو مجھے تھوڑا تھوڑا شک ہے کہ آپ صدر میں جہاں پیدل چلنے والوں کیلیے اوورہیڈ برج ہیں، وہاں جو طوطے سمت بیٹھے ہوتے ہیں، وہاں بھی چکر لگاتے ہونگے۔ :wink:
December 9, 2007 بوقت 10:28 pm
ارے کیا ہوگیا ساجد بھائی! اب ایسا بھی نہیں ہے۔۔۔۔
مجھے نہ طوطا فال والوں کا شوق ہے نہ ہاتھ دیکھنے والوں کا۔۔۔ برج کا بھی بس ایویں ہی تھوڑا بہت پڑھا تھا اتفاقا اسی لیے۔۔۔۔۔ ورنہ زیادہ اہمیت نہیں۔
December 11, 2007 بوقت 3:13 am
میری بیگم بھی جوزا ہے، کہیںوہ بھی تبدیلی پسند نہ ہو
December 11, 2007 بوقت 4:53 am
تبدیلی تو مجھے بھی اچھی لگتی ہے مگر جو کام اگردل سے شروع کر لوں تو پھر ادھورا کم ہی چھوڑتا ہوں
December 13, 2007 بوقت 10:33 pm
جہانزیب بھائی!
عبید! یہی عادت بہتر ہے کہ جو کام ہو، وہ ختم کرلیا جائے، چاہے اس کے بعد دل اچاٹ ہوجائے۔ :wink:
July 8, 2009 بوقت 12:17 pm
میں بھی جوزا ہوں گیارہ جون
یہاںمسئلہ تو اپنا بھی یہی ہے، کبھی کوئی کام پورا نہیں کیا۔