عید الاضحی کے تین دن
لیجئے! گزری عیدوں کی طرح یہ عید الاضحیٰ بھی گزر گئی۔ کچھ خاص مصروفیات تو نہ تھیں، بس گزر ہی گئے دن۔ ٢٠ دسمبر، بروز جمعرات سے چھٹیاں ملی تھیں۔ جمعۃ المبارک کو عید تھی۔
عید کی نماز:
نہا دھو کر عید گاہ کو چلے۔تھوڑی دیر ہوگئی تھی لہذا جس عیدگاہ میں نماز پڑھنے کا ارادہ تھا، وہاں نہ جاسکے بلکہ دوسری جگہ جانا پڑا۔ آٹھ بجے کا وقت تھا اور سوا آٹھ بجے نماز عید ہونی تھی۔ مولوی صاحب نے اسی وقت وعظ شروع کیا تھا۔ وعظ ایسا تھا جیسے کہ پہلے سے کہنے کو کچھ سوچا نہ ہو، اچانک لاکر کھڑا کردیا ہو۔ عید کی نماز کا وقت ہوا تو تب جاکر ان کا وعظ باقاعدہ شروع ہوا۔ جن واقعات کو برسوں سے سنتے چلے آرہے ہیں، انہی کو دہرایا گیا۔ عید کی نماز مقررہ وقت سے تقریبا پندرہ منٹ بعد شروع ہوئی۔ مولوی صاحب نجانے کن خیالوں میں نماز کا طریقہ بتاتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ پہلی رکعت میں ثنا پڑھنے کے بعد تین زائد تکبیریں ہوں گی اور چوتھی تکبیر میں آپ رکوع میں چلے جائیں گے۔ پھر سورہ فاتحہ اور قرآن پاک کی کوئی سورت تلاوت کی جائے گی، اس کے بعد رکوع میں جائیں گے۔۔۔۔ دو مرتبہ انہوں نے یہی دہرایا۔ پھر پورا طریقہ نماز بیان کرنے کے بعد جب دوبارہ شروع سے بیان کرنے لگے تو درست بتایا۔
نماز کے دوران سارا وقت مائیک اور لاؤڈ اسپیکر کی ملی بھگت سے ہونے والی سازش کو بھگتا۔ عجیب شور و غوغا مچائے رکھا۔ بعد از نماز جب خطبہ دینا شروع کیا تو اس قدر اٹک اٹک کر پڑھا کہ گمان ہوتا تھا کہ پہلی بار پڑھ رہے ہیں۔ حالانکہ بہتر ہوتا ہے کہ پہلے سے گھر میں بار بار پڑھ کر آیا جائے تاکہ روانی آجائے۔
عبادت ہمارا فرض اور رزق خدا کے ذمہ:
جمعہ کی نماز دوسری مسجد میں پڑھی۔ جب مسجد پہنچا تو وعظ جاری تھا، ہاروت و ماروت کا واقعہ بیان کیا جارہا تھا کہ کس طرح دو فرشتوں کو زمین پر انسانی خواص کے ساتھ بھیجا گیا اور پھر ان کے ساتھ کیا پیش آیا۔ وعظ کے اختتام میں ایک دلچسپ اور سبق آموز واقعہ سننے کو ملا۔ حضرت سری سقطی رحمہ اللہ ایک دفعہ قبرستان کو تشریف لے گئے، حضرت بہلول دانا کو دیکھا۔ پوچھا، کھانے کو لادوں؟ جواب ملا: حضرت! خدا نے ہمیں دنیا میں اپنی عبادت کے لیے بھیجا ہے اور رزق کا ذمہ خود لیا ہے۔ میں اپنا فرض ادا کررہا ہوں، خدا اپنا فرض ادا کررہا ہے۔
Astrix & Oblix:
یہ بہت ہی دلچسپ اور مزاحیہ فلم ہے۔ غالبا فرانسیسی ہے۔ پہلے “اے ٹی وی” نے اس کا اردو ترجمہ دکھایا تھا۔ عید کے دن، دوپہر میں اس کا پنجابی ترجمہ دکھایا۔ بہت دلچسپ فلم ہے۔ بچوں اور بڑوں سب کے لیے۔
شارٹ سرکٹ:
عید کے دوسرے دن نانی کے گھر اس فلم کے اختتامی مناظر دیکھنے کو ملے۔ Pogo چینل پر اس کا اردو ترجمہ آرہا تھا۔ یہ ایک روبوٹ کی کہانی ہے جو کہ حقیقت جاننے کی وجہ سے دشمنوں کے عتاب کا شکار ہوتا ہے۔ فلم کی کہانی اس قدر خوبصورت ہے کہ آپ کو روبوٹ سے ہمدردی محسوس ہونے لگتی ہے اور جب روبوٹ کے دشمن اس کو ہتھوڑوں سے مارتے ہیں اور وہ درد بھری آواز میں کہتا ہے کہ میں زندہ ہوں، مجھے مت مارو، میں مرجاؤں گا تو دیکھنے والوں کے دل پر یہ آواز ایک عجیب اثر ڈالتی ہے۔
بچے کے سوالات اور ابا کے جوابات:
عید کے تیسرے دن دادا کے گھر سے نکلتے نکلتے رات دس بجے سے اوپر وقت ہوگیا۔ بس میں سوار ہوئے تو مجھے بیٹھنے کو جو جگہ ملی، میرے برابر میں ایک صاحب بیٹھے تھے جن کی گود میں ان کا ١٠، ١٢ سالہ بچہ تھا۔ بچہ مسلسل بولنے کا عادی لگتا تھا۔ کچھ دیر کے لیے بھی چپ ہونا اسے گوارا نہ تھا۔ شارع فیصل کے ایک طرف ریلوے لائین بچھی ہے۔ بس سے ٹرین آتی نظر آئی تو بچہ کا باپ بچے کو ٹرین دیکھانے لگا۔ جب ٹرین گزر گئی تو بچے سے پوچھا، کتنے ڈبے تھے؟ اسے پتا نہ تھا۔ اب باپ کا جواب بھی سنیں۔ کہنے لگا، دس پندہ ہوں گے۔ مجھے اس قدر ہنسی آئی کہ جب خود نے گنے نہیں تھے تو بچے سے کیوں پوچھا تھا۔ پھر بچے نے پوچھا کہ ٹرین کون چلاتا ہے؟ خود سے چلتی ہے کیا؟ باپ نے کہا، اس کا بھی ڈرائیور ہوتا ہے، وہ چلاتا ہے۔ بچے نے پوچھا، ٹرین کا ٹکٹ کتنے کا ہوتا ہے؟ باپ نے کہا، پانچ سو، ہزار روپے کا۔ کراچی میں اکثر بچوں کے لیے ٹرین نما گاڑی بھی چلتی ہے۔ سمجھ لیں کہ ایک گاڑی ہوتی ہے جس میں ایک دو چھوٹے ڈبے ہوتے ہیں، بچے اس میں گھوم کر سیر کرتے ہیں۔ بچہ شاید اسی کا بتانے لگا کہ ہمارے ہاں بھی ایک ٹرین آئی تھی نا۔۔۔ باپ نے کہا، وہ تو بچوں کی ٹرین تھی۔ بچہ فٹ سے بولا، تو کیا یہ بڑوں کی ٹرین ہوتی ہے؟ اس میں بچے نہیں جاتے؟ میں دوسری طرف منہ کرکے مسکرانے لگا۔ باپ بولا، بچے بھی جاتے ہیں اس میں۔ بچہ کہنے لگا، تو پھر صرف بڑوں کی ٹرین تو نہیں ہوئی نا یہ۔۔۔ پھر پوچھنے لگا، ٹرین میں جانے کے پیسے لگتے ہیں؟ باپ کہنے لگا، ہاں، اس کا بھی ٹکٹ ہوتا ہے۔ بچہ نے پوچھا، بچوں کا بھی ٹکٹ لیتے ہیں؟ باپ نے کہا، مفت میں لے کر تو نہیں جائیں گے نا؟ بس میں جاتے ہیں تو اس کا بھی ٹکٹ لیتے ہیں نا۔۔۔ بچہ بولا، لیکن بس میں تو بچوں کا ٹکٹ نہیں لیتے، ٹرین میں کیوں لیتے ہیں۔۔۔؟ میں مسکراتا رہا۔ بچہ نے چپ ہونے کا نام نہ لیا۔ پوچھنے لگا، ٹرین میں بچوں کا ٹکٹ کتنا ہوتا ہے؟ باپ نے کہا، سو روپیہ۔ بچہ نے پوچھا، اور بڑوں کا؟ باپ نے کہہ دیا، دو سو روپے کا۔۔۔ ہم ریلوے لائن سے کافی آگے نکل آئے تھے۔ وہ بچہ مختلف باتیں بناتا رہا۔ باپ کو “پاپا” کہتا تھا اور “تم” کہہ کر مخاطب کیا کرتا تھا۔ بچہ جتنی بدتمیزی سے بات کرتا تھا، اس سے زیادہ ادب و احترام سے تو بچہ کا باپ بچہ سے بات کررہا تھا۔
ہماری بس، جوہر موڑ سے کچھ پہلے میلینیئم شاپنگ مال پر پہنچی۔ یہ شاپنگ کا بہت اچھا اور بڑا مرکز ہے۔ اس میں اوپر چڑھنے کے لیے سیڑھیاں ہیں جن کے اطراف میں سہارے اور حفاظت کے لیے پائپ لگے ہیں۔ بچہ نے شاید کوئی ایسی جگہ دیکھی جہاں سہارے کے لیے کچھ نہ تھا۔ باپ سے کہنے لگا، یہ جو سیڑھیاں ہیں جن کے سائیڈ میں یہ نہیں لگا ہوا تو اگر ہم یہاں سے جائیں گے تو نیچے گر جائیں گے؟ باپ نے کہا، ہاں۔ بچہ پوچھنے لگا، تو کوئی ہمیں بچائے گا نہیں نیچے سے؟ باپ نے پوچھا، کون بچائے گا؟ بچہ دونوں ہاتھ پھیلا کر بولا کہ کوئی اس طرح ہمیں نیچے سے پکڑ نہیں لے گا۔ میں نے سوچا، باپ کی بھی اچھی شامت آئی ہے۔ پھر بچہ باپ سے اپنے چند رشتے داروں کے نام بتاکر کہنے لگا کہ ہم ان کے ساتھ پارک گئے تھے، اتنا مزا آیا، اتنا مزا آیا کہ کیا بتاؤں۔ اس کے بیچ میں باپ نے شاید کچھ اور کہا یا کھانسا تو بچے کو لگا، جیسے باپ نے یہ جملہ سنا نہیں ہوگا۔ اس نے یہی جملہ دہرایا کہ اتنا مزا آیا، اتنا مزا آیا کہ کیا بتاؤں، سب ٣٠، ٤٠ روپے لے گئے تھے اپنے ساتھ، میں نے امی سے ضد کی، امی نے مجھے بھی پیسے دیدیئے۔ پھر باپ سے کہنے لگا کہ اگر تم بھی چالیس، پچاس روپے اپنے ساتھ لے کر آجاتے نا تو تمہیں بھی بہت مزا آتا۔ اس طرز تخاطب پر مجھے شک پڑا جیسے کہ یہ وہ اس کا باپ نہیں۔ لیکن بچہ نے تھوڑی دیر بعد دوبارہ سے اس کو پاپا، پاپا کہہ کر بلایا۔۔۔۔۔۔۔ کراچی کی کچھ آبادیوں میں ماں، باپ کو تم کہہ کر ہی مخاطب کیا جاتا ہے۔ رامسوامی کا علاقہ اس حوالہ سے کافی مشہور ہے۔
خیر، بچہ اور اس کا باپ سہراب گوٹھ سے کچھ آگے اتر گئے۔ گھر آکر جب میں نے یہ باتیں بتائیں تو امی نے بتایا کہ اسی بچے کی امی ان سے سارا وقت لگی رہیں اور بتاتی رہیں کہ نند کی شادی ہورہی ہے، اتنی جلدی میں کررہے ہیں، اس کا جہیز تیار کرلیا ہے، ہماری شاپنگ نہیں ہوئی ہے، ابھی کارڈ دے کر آرہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ شاید بچہ کو اتنا بولنے کی عادت اپنی ماں سے منتقل ہوئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تھیں تین دن کی خاص خاص باتیں۔
میرے پاس جن جن دوستوں کے موبائل فون نمبرز ہیں، ان کو میں نے عید مبارک کے پیغامات بھیجے تھے، نیٹ ورک کے مسائل کی وجہ سے پتا نہیں، کس کس کو ملے اور کسے نہیں۔ تو ایک بار تمام دوستوں، ساتھیوں کو بہت بہت عید مبارک
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
December 24, 2007 بوقت 10:04 pm
آپ کو بھی گزشتہ عید مبارک
محمد شاکر عزیز’s last blog post..ویکیا (Wikia) کے پرائیویٹ بیٹا کا اجراء
December 25, 2007 بوقت 1:42 am
دلچسپ ۔ زیادہ باتیں کرنے والے بچے مجھے بہت اچھے لگتے ہیں۔ میں ہوتی تو میں بھی اس سے شروع ہو جاتی۔
اچھا تو تمھاری امی اس بچے کی امی کو جانتی تھیں کیا؟ تمھاری امی کو کیسے پتہ چلا کہ یہ وہی باپ بیٹا تھے جس کی ماں سے ان کی بات ہوئی تھی؟
ماوراء’s last blog post..عید تھیم
December 25, 2007 بوقت 1:48 pm
عمار مجھے تو آپکا ایس ایم ایس ایک دن پہلے مل گیا تھا
اور بچے کی باتوں کو ریکارڈ کر لیتے پھر جب کبھی موڈ خراب ہوتا تو موڈ بحال کرنے کے لئے اسے سن لیتے
December 26, 2007 بوقت 10:29 am
ماوراء! جب وہ فیملی اترنے لگی تھی تو بچے نے آگے آکر اپنی ماں کو کہا تھا کہ اترنے کا وقت آگیا ہے۔ جب گھر میں یہ واقعہ سنایا تو امی نے اسی سے پہچانا کہ اسی بچے کی ماں بھی آگے بول رہی تھیں۔
جی عبید! میرا معمول ہے کہ میں ایک دن پہلے مغرب کے بعد ایس ایم ایس بھیج دیتا ہوں سب کو۔
بچے کی باتوں کو ریکارڈ کیسے کرتا؟ ایسی کوئی چیز میرے پاس نہیں تھی۔