بیربل اور بے وقوف لوگ
ایک دفعہ اکبر بادشاہ کو کسی نے بتایا کہ فلاں علاقے کے لوگ بہت بے وقوف ہیں۔ اکبر نے بیربل کو حکم دیا کہ وہاں جاؤ اور اس بات کی صداقت کا پتا کرو۔ بیربل اپنے آدمیوں کے ساتھ اس علاقے میں جا پہنچا۔ جب وہاں کے لوگوں کو پتا چلا کہ بادشاہ کے آدمی آئے ہیں تو انہوں نے بڑی آؤ بھگت کی، قیام و طعام کا بہت اچھا بندوبست کیا، دعوتیں کیں۔۔۔ غرضیکہ بہت خاطر مدارت کی۔ بیربل اسی تلاش میں رہا کہ کوئی بے وقوفی کی بات نظر آئے تو نوٹ کرے لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔
کچھ دن بعد بیربل اپنے ساتھیوں سمیت وہاں سے روانہ ہوا تو گاؤں کے لوگوں نے بہت تحفے تحائف دے کر رخصت کیا۔ جب وہ لوگ چلے گئے تو اچانک گاؤں کے بڑے بوڑھے سردار کو ایک خیال آیا۔ اس نے کھانا بنانے والے نوجوان لڑکوں سے پوچھا کہ کیا کھانے میں گرم مصالحہ ملایا تھا؟ لڑکوں نے پریشان ہوکر کہا کہ نہیں، وہ تو بھول گئے۔ یہ سن کر بوڑھے سردار نے غصہ سے سر پیٹ لیا اور کہنے لگا، کمبختو! بیڑا غرق ہو، یہ کیا غضب کیا؟ اب گرم مصالحہ کی پڑیا بناؤ اور جاؤ ، ان کو دے کر آؤ۔ سو، گرم مصالحہ کی پڑیاں بنائی گئیں اور کئی نوجوان تیز رفتار گھوڑوں پر بیٹھ کر روانہ ہوئے۔
راستہ میں بیربل نے دیکھا کہ پیچھے سے گرد اڑ رہی ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ گھڑ سوار آرہے ہوں۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو روک دیا اور کہا کہ ذرا دیکھ لینے دو، کون آرہا ہے۔ جب قریب پہنچے تو دیکھا کہ یہ تو اسی گاؤں کے لوگ ہیں۔ وہ سارے اپنے گھوڑوں سے اترے اور بیربل کے قدموں میں گر پڑے کہ حضور، غلطی ہوگئی۔ معاف فرمادیں۔ بیربل نے پوچھا کہ بھئی، ماجرا کیا ہے؟ تب ان لوگوں نے بتایا کہ ہم آپ کی دعوت کے کھانوں میں گرم مصالحہ ڈالنا بھول گئے تھے۔ بیربل نے کہا کہ یہ ایسی کوئی بات نہیں، کچھ فرق نہیں پڑتا۔ گاؤں والے کہنے لگے کہ نہیں حضور! یہ ہم گرم مصالحہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں، لہٰذا آپ سب اس کو کھالیں۔ بیربل نے کہا کہ ارے اس کی ضرورت نہیں، ایسے کیا کھایا جائے گا؟ لیکن گاؤں والوں نے ضد جاری رکھا اور جب دیکھا کہ بیربل اور اس کے ساتھی نہیں مانتے تو ہر نوجوان بیربل اور اس کے قافلے والوں پر پل پڑا اور ایک ایک کو نیچے گرا کر اس کو اوپر چڑھ کر زبردستی اس کا منہ کھولا اور اس کے منہ میں گرم مصالحہ بھر دیا۔
اب جو بیربل بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا تو کہنے لگا کہ حضور! واقعی اس گاؤں کے لوگ بڑے ہی بے وقوف ہیں۔
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
December 27, 2007 بوقت 11:13 am
:lol: :lol: :lol: :lol: :lol:
محمد شاکر عزیز’s last blog post..ویکیا (Wikia) کے پرائیویٹ بیٹا کا اجراء
December 27, 2007 بوقت 4:10 pm
ویسے آجکل کے زمانے میں ہوتے تو یہ لوگ شان یا نیشنل کے مصالحے انہیں چٹاتے۔ :wink:
ساجداقبال’s last blog post..نیا بلاگ اور عید مبارکباد
December 27, 2007 بوقت 8:07 pm
:roll: :lol: