سانحہ 27 دسمبر۔ جو میں نے دیکھا
27 دسمبر کو مغرب کی نماز پڑھی ہی تھی کہ دفتر میں ایک صاحب کا فون آیا جنہوں نے بتایا کہ راولپنڈی میں بے نظیر کے جلسے میں دھماکہ ہوگیا ہے۔ ہم عموما مغرب پڑھ کر دفتر بند کردیتے ہیں لیکن ٢٨ دسمبر کو مجھے نواب شاہ جانا تھا، اس لیے میرا ارادہ تھا کہ ایک دو کام ختم کرکے نکلوں گا۔ فورا بی۔بی۔سی اردو اور جیو کی ویب سائٹ کھولی۔ جیو کی ویب بند تھی۔ بی۔بی۔سی پر پتا چلا کہ تقریبا بائیس (22) افراد جاں بحق ہوئے ہیں اور بے نظیر خطاب کرکے روانہ ہوچکی تھیں۔ میں نے اردو محفل پر خبر پوسٹ کی۔ دفتر میں اگلا فون آگیا اور بے نظیر کے ہلاک ہونے کی خبر سنائی گئی۔ میں نے فورا نیوز سائٹس دیکھیں۔ بے نظیر کے بارے میں متضاد اطلاعات تھیں۔ فیصلہ کیا کہ دفتر بند کردیتے ہیں۔ سو، جلدی جلدی سامان اٹھایا اور نکلے۔ دفتر بند کرتے ہوئے میں نے دوسری منزل سے جھانکا تو ریگل چوک، صدر کا علاقہ سنسان پڑا تھا۔ ہر طرف اندھیرا چھایا تھا۔ دکانیں بند۔ کچھ لوگ مختلف سمتوں میں بھاگتے دکھائی دیتے تھے۔ میں پریشان ہوگیا۔ اسی لمحے گھر سے میرے موبائل پر فون آگیا اور یہی بتایا گیا کہ جلدی نکلو، بے نظیر کو ماردیا گیا ہے۔ ہم نیچے اترے۔ سب اپنے اپنے گھر کو چلے۔ میرے ساتھ (میرا چھوٹا بھائی) اسامہ تھا۔ بس کا انتظار کرنا بے کار تھا۔ تبت سینٹر کی طرف دوڑ لگائی۔ گاڑیوں کا اژدھام اور ٹریفک جام تھا۔ فیصلہ کیا کہ گاڑی کا انتظار کرنا یا کسی بس میں بیٹھنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہوگا۔ لہذا پیدل چل پڑے۔
موبائل فون کا نیٹ ورک جام ہوچکا تھا۔ پانچ بار ایک ایس۔ایم۔ایس بھیجو تو ایک بار جاتا تھا۔ دس بار کسی نمبر پر کال کرنے کی کوشش کرو تو ایک بار لگتی تھی۔ نمائش تک خیریت سے سفر گزرا۔ عوام کا ہجوم تھا جو کہ صرف گاڑیوں میں نہیں بلکہ پیدل بھی رواں دواں تھا۔ ایک ویگن رکی ہوئی تھی۔ اس میں سے ایک صاحب پوچھنے لگے کہ بھئی ماجرا کیا ہے؟ ان کو آگاہ کیا۔ گرومندر پر ہنگامہ آرائی ہورہی تھی۔ گاڑیوں کو روک روک کر خالی کیا جارہا تھا اور ڈنڈے برسائے جارہے تھے۔ ایک بڑی بس موڑ کاٹنے لگی تو سامنے ہنگامہ ہورہا تھا۔ بس ڈرائیور کی غلطی کہ اس نے گاڑی روک لی۔ بلوائیوں کو موقع مل گیا۔ ڈنڈے پر ڈنڈے برسائے جانے لگے۔ میں رک گیا۔ بس ڈرائیور دروازہ کھول کے فرار ہوگیا۔ خدا جانے بعد میں بس کا کیا حال ہوا۔
پٹیل پاڑہ، لسبیلہ اور گولیمار کے حوالہ سے کافی خدشات تھے لیکن میں نے یہی راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا۔ پٹیل پاڑہ کا علاقہ میں تھا تو جگہ جگہ آگ جلتی نظر آنے لگی۔ عین راستہ پر بڑے بڑے ٹائر اور دوسرا سامان رکھ کر آگ لگائی ہوئی تھی۔ گاڑیوں کا انبار تھا جن کے پاس نہ آگے جانے کی راہ تھی نہ واپس ہونے کا راستہ۔ پبلک ٹرانپسورٹ میں مسافر بیٹھے تھے اور ڈرائیور فرار۔ لسبیلہ پر پہنچا تو مسجد سے عشاء کی اذان سنائی دے رہی تھی۔ حی علی الفلاح کی صدا بلند ہوچکی تھی۔ لسبیلہ پر بلوائی کھڑے تھے۔ ایک نے آواز لگاکر کہا کہ اذان ختم ہونے سے پہلے پہلے پُل تک پہنچ جاؤ ورنہ خیر نہیں ہے۔ یہ سنتے ہی موٹر سائیکل سوار گھبرا کر تیز رفتاری سے گولیمار کے پُل پر جاپہنچے۔ ہم نے بھی دوڑ لگائی۔ وہاں پہنچنے تک اذان ختم ہوچکی تھی۔ پُل پر موٹر سائیکلوں کی بھرمار تھی۔ دوسری گاڑیاں یہاں تک کم ہی پہنچی تھیں۔ اب پُل سے اترے تو گولیمار کا علاقہ تھا۔ وہیں سے ہنگامہ آرائی نظر آرہی تھی۔ سب لوگ وہیں رک گئے۔ کچھ موٹر سائیکل سواروں نے دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے گولیمار کے علاقہ میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر بلوائی فائرنگ اور پتھراؤ کرتے ہوئے پُل کی طرف دوڑ پڑے۔ سارے لوگوں نے یکدم یو۔ٹرن لیا اور واپس لسبیلہ کی طرف بھاگے۔ لسبیلہ پر بھی ہنگامہ جاری تھا۔ وہاں بھی بلوائی موجود تھی۔ یوں دونوں طرف سے گھیر لیے گئے۔ پُل پر کوئی سو سے زیادہ موٹر سائیکل موجود تھیں۔ گولیمار کی جانب سے بلوائی پُل پر چڑھ چکے تھے۔ میں لسبیلہ کی طرف بڑھا۔ کوئی راستہ نہیں تھا۔ لوگوں کی اکثریت پُل سے نیچے اتر کر گلیوں سے جانے کا راستہ تلاش کررہی تھی۔ کچھ لوگ گلیوں میں جارہے تھے تو کئی لوگ گلیوں سے واپس بھی آرہے تھے کہ وہاں سے کوئی راستہ نہیں۔ آدھ گھنٹے تک یہیں پھنسے رہے۔ پھر سنا کہ پُل کے اوپر سے راستہ کھول دیا گیا ہے۔ دوبارہ پُل کی طرف دوڑے۔ گولیمار کے علاقہ میں داخل ہوئے تو ایسا لگا کہ جیسے ہنگامہ کچھ دیر رکنے کے بعد دوبارہ شروع ہوگیا۔ اب کی بار اللہ کا نام لے کر فیصلہ کیا کہ پلٹنا نہیں ہے، اسی راستہ سے چلنا ہے۔ خطرناک ارادہ رکھنے والے چہرے نظر آرہے تھے لیکن ہم اپنی راہ چلتے رہے۔ ایک مسجد کے آگے باریش پٹھان بھائی تین چار افراد کو بتا رہے تھے کہ یہ معمولی لیڈر نہیں تھی، بہت بڑی تھی۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ گاڑی والے تیز رفتاری سے بھگاتے ہوئے لاتے اور پھر آگے دیکھ کر اسی رفتار سے واپس چلے جاتے۔ گولیمار چورنگی سے کافی فاصلہ پر ہونے کے باوجود آگ کے بلند و بالا شعلے نظر آنے لگے۔ مجھے لگا جیسے کسی عمارت وغیرہ کو آگ لگادی ہے۔ قریب پہنچے تو پتا چلا تھا کہ دو ٹرک جل رہے تھے۔ کچھ موٹر سائیکل سوار بھی وہیں پہنچ گئے تھے۔ تین چار بلوائی ان کی طرف آگئے اور دھمکی آمیز لہجے میں خبردار کیا کہ گاڑیاں بند کرکے چلو، کوئی گاڑی کو چلاکر نہیں جائے گا۔ عجیب اصول تھا۔ گاڑیاں ساتھ لے کر چلو لیکن انجن اور روشنی بند ہو۔ گولیمار چورنگی پر پہنچنا خطرناک لگتا تھا۔ ٹریفک سگنل پر ہی کافی ہنگامہ تھا۔ پیچھے سے گھوم کر گولیمار چورنگی کو خیریت سے عبور کیا۔ وقفے وقفے سے فائرنگ کی آواز سنائی دیتی تھی۔ نیشنل بینک آف پاکستان پر دھاوا بولا گیا تھا، مختلف چیزیں ٹوٹنے کی آوازیں سنائی دی رہی تھیں۔ میں آگے بڑھتا چلاگیا۔
گولیمار چورنگی پار کرلینے کے بعد آگے کا علاقہ سنسان پڑا تھا۔ نہ کوئی گاڑی، نہ روشنی، نہ ہی زیادہ لوگ۔ مجھے لگا کہ اب سکون ہوگا۔ سوچنے لگا کہ کوئی گاڑی مل جائے تو بیٹھ جاؤں لیکن وہاں کچھ نہیں تھا۔ چلتے چلتے ٹانگوں میں تکلیف کا احساس بیدار ہونے لگا تھا۔ میں اور اسامہ بات کرتے کرتے چلتے رہے۔ ناظم آباد چھ نمبر کا پل عبور کیا۔ پُل کے نیچے حالات ٹھیک نظر نہ آتے تھے اس لیے اوپر سے ہوتے ہوئے گئے۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد گھر پر ایس۔ایم۔ایس یا فون کرکے صورتحال سے آگاہ کرتا رہا۔ ابو موٹر سائیکل پر نکلے تھے۔ ان سے رابطہ کیا تو وہ سارے راستے بند پاکر بہادر آباد کی طرف جا پہنچے تھے، ان کا ارادہ تھا کہ حسن اسکوائر سے نکل کر آئیں۔
ہنگامہ کرنے والوں میں بچوں اور نو عمر لڑکوں کی بھی اکثریت تھی۔ ان کے چہرے پر کوئی غم یا دکھ کے آثار نہیں تھے۔ وہ ہنس رہے تھے۔ ڈنڈوں کی مطلوبہ تعداد میں فراہمی نہ ہونے کے سبب گنے والوں کی دکان سے گنے اٹھا لائے تھے۔ ان کی مدد ہی سے ٹریفک سگنلز، بجلی کے قمقمے اور گاڑیوں کے شیشے توڑے جارہے تھے۔ یہ صرف شغل میلہ تھا۔ میں سوچنے لگا کہ ہماری قوم بھی کتنی عجیب ہے۔ شغل میلے کا شوقین۔ ہم لوگ کھیل مستی میں ہنگامہ کرتے ہیں، آگ لگاتے ہیں، توڑ پھوڑ کرتے ہیں، فائرنگ کرتے ہیں، یہاں تک کہ اسی کھیل کھیل میں لوگوں کو قتل بھی کردیتے ہیں۔
یاد نہیں، کون سا علاقہ تھا جہاں اچانک فائرنگ شروع ہوگئی۔ لوگ بھاگ پڑے۔ گاڑیوں نے اچانک اپنی سمت تبدیل کرلی۔ ہم جس شاہراہ پر موجود تھے، شاید اس کی دوسری طرف ہورہی تھی۔ ہم آرام آرام سے چلتے رہے۔ دوڑنے کی ہمت بھی نہ تھی۔ ایک جگہ تل کے لڈو والا نظر آیا تو اس سے پانچ لڈو لیے تاکہ منہ میں کچھ تو جائے اور سہارا ہو۔ پھر چھیپا ایمبولینس والوں کے ایک کیبن پر پانی کا کولر نظر آیا تو وہاں سے ایک گلاس پانی پیا۔ خیال تھا کہ کچھ طاقت آئے گی لیکن فرق نہ پڑا۔ اسامہ کو کہا کہ کہیں رُک کر سستا لیتے ہیں لیکن اس کو یہ خیال تھا کہ وقت ضائع ہوگا۔ میں نے سوچا کہ کہیں لڑکھڑا کر گر ہی نہ جاؤں۔ فائیو اسٹار چورنگی پر پہنچ کر بیٹھ گئے۔ دو منٹ ہی بیٹھے ہوں گے کہ پیچھے ہسپتال پر نظر پڑی۔ وہاں میڈیکل اسٹور نظر آیا۔ فورا اس کی طرف دوڑے۔ وہاں سے سوپر بسکٹ کا ایک پیکٹ لیا اور پاکولا ملک کے دو ڈبے جو کہ گرم تھے۔ ان کو لے کر پھر چل دیئے۔ جگہ جگہ بلوائی شغل میلہ کرتے نظر آتے تھے۔ حیدری پر پہنچے تو ایک ٹرک والا تیز رفتاری سے ایک سمت کو جارہا تھا۔ اسامہ کہنے لگا کہ جاہل کو دیکھو، ان حالات میں بھی بھگارہا ہے، یہ سوچے بغیر کہ آگے کیا صورتحال ہوگی۔ تھوڑی دیر بعد وہی ٹرک اسی رفتار سے واپس بھاگا چلا آرہا تھا۔ مجھے ہنسی آگئی۔
راستے میں جو لوگ ملے، وہ بتارہے تھے کہ لوگوں کو لوٹا بھی جارہا ہے۔ پیسے اور موبائل فون چھینے جارہے ہیں۔ میرے اور اسامہ کے پاس ماہ دسمبر کی تنخواہ تھی جو کہ وقت سے کچھ پہلے مل گئی تھی۔ میں نے سوچا کہ خدانخواستہ اگر کچھ ہوگیا تو۔۔۔۔ بہرحال! چلتے ہی رہے۔ خواتین کو بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ خاص طور پر وہ لڑکیاں جو کوچنگ سینٹرز سے نکلی تھیں، نہ ہی ان کو کوئی گاڑی مل سکتی تھی، نہ ہی انہیں لینے کوئی آسکتا تھا۔ اکثریت کو تو راستوں کی بھی ٹھیک پہچان نہ تھی۔ راستہ بھر لوگوں کی ہمدردیاں اور بے حسی بھی دیکھنے کو ملی۔ کچھ گاڑی والے خود ہی بوڑھوں اور دوسرے لوگوں کو گاڑی میں بٹھانے کا رضاکارانہ پیشکش کرتے نظر آتے تھے تو دوسری طرف کچھ گاڑی والے ایسے بھی تھے کہ جن کو ہاتھ دیا جاتا تھا تو وہ اس پر کوئی توجہ دھرے بغیر بھاگے چلے جاتے تھے۔
چلتے چلتے چال ہی عجیب ہوگئی۔ سخی حسن چورنگی کا شدت سے انتظار کرنے لگا۔ چورنگی پر پہنچے تو پانچ منٹ کے لیے فٹ پاتھ پر بیٹھ گئے۔ دیگر لوگ بھی بیٹھے تھے۔ ہر ایک اپنی اپنی داستان کہہ رہا تھا۔ کوئی کہیں سے پیدل آرہا تھا تو کوئی کہیں سے۔ لیکن جب میں نے بتایا کہ میں ریگل چوک سے پیدل چلتا آرہا ہوں تو ان کے چہرے پر حیرت کی پرچھائی واضح تھی۔ مجھے اپنی ہمت پر فخر محسوس ہوا۔
شادمان کا علاقہ بہت بری طرح پار کیا۔ بالکل دل ہی نہیں کرتا تھا چلنے کا۔ ناگن چورنگی (شاہ ولی اللہ چورنگی) پر پہنچا تو سکون کا سانس لیا۔ آدم ٹاؤن کا علاقہ تو اس فرحت بخش احساس کے ساتھ گزر گیا کہ گھر آ پہنچا ہے۔ یوپی موڑ پر پہنچا تو نکڑ کا چائے کا ہوٹل کھلا تھا۔ شاید کوئی کرسی بھی خالی نہ تھی۔ لوگوں کی بڑی تعداد چائے پراٹھا کھارہی تھی۔ خدا کا شکر کہ خیر و عافیت سے میری منزل آگئی تھی۔
گھر پہنچتے ہی میں نے وزن کرنے کی مشین منگوائی۔ میرا وزن چار کلو کم ہوگیا تھا۔
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
December 31, 2007 بوقت 2:21 pm
آداب!
جناب آپنے وزن گھٹنے کی بات ازراہ مذاق فرمایاہے یاحقیقتاکہی ہے؟؟؟
دوسری بات یہ کہ آپنے جو فاصلہ طے کیا ہے وہ کتنامسافت کاہے؟ شکریہ۔
December 31, 2007 بوقت 4:28 pm
سب ٹھیل مگر ایک دن میں اس قدر پریشانی سے چار کلو وزن کم؟؟؟؟
بھائی دیکھنا کہیں مغل بادشاہ کی طرح سارے بال تو سفید نہیں ہو گئے؟؟؟
یار ریگل چوک پر آفس ہے تمھارا؟؟ اپنا فون نبمر تو میل کرنا میرا آفس ہائی کوٹ کے پاس ہے!!
شعیب صفدر’s last blog post..خودکش بمبار اور قاتل
January 1, 2008 بوقت 9:51 am
بھائی صاحب آپ نے سب سے بڑی غلطی یہ کی کہ آپ اسی وقت نکل پڑے۔ ایسے مواقع پر بالکل نہیں نکلنا چاہیے بلکہ جہاں ہیں جیسے ہیں کی بنیاد پر وہیں ٹھہرے رہیں یا قریبی کہیں کسی دوست کے گھر یا محفوظ دفتر وغیرہ میں پناہ لے لیں۔ اگر آپ کا دفتر محفوظ مقام پر ہے تو وہیں ٹھہرے رہتے خطرات مول لینا دانشمندی نہیں۔
January 1, 2008 بوقت 10:22 am
آئی لوو پاکستان! میں نے وزن گھٹنے کی بات مذاق میں نہیں کی، واقعی یہی حقیقت تھی۔ اب بعد میں دیکھا نہیں کہ وہ وزن واپس پہلے کی طرح ہوگیا یا اس کا گھٹنا ہمیشہ کے لیے تھا۔
ریگل چوک سے یوپی موڑ کا سفر کتنا ہے؟ مجھے علم نہیں۔ عام طور سے موٹر سائیکل پر 40 منٹ میں، بس کے ذریعہ 1 سے سوا گھنٹے میں طے ہوجاتا ہے۔ پیدل چلتے ہوئے یہ سفر ساڑھے تین گھنٹے میں ہوا۔
شعیب بھائی! میرا خیال ہے یہ پریشانی کی وجہ سے نہیں بلکہ بہت زیادہ چلنے کی وجہ سے ہوا۔۔۔۔ شکر ہے بال سفید نہیں ہوئے۔
ابو شامل! اس موقع پر کہیں رکنا زیادہ خطرناک تھا۔ ہر جگہ ہنگامے ہورہے تھے۔ بعد میں اتنے دن سب کچھ بند بھی رہا۔ اگر رک جاتے تو بھوکے پیاسے پھنس جاتے۔ گھر والوں کو الگ پریشانی۔
January 1, 2008 بوقت 11:03 am
کافی ہمت ہے آپ کی۔
مگر بات کچھ سمجھ میں نہیں آئی کہ 40 منٹ موٹرسائیکل کا سفر 3.5 گھنٹے میں پیدل کیسے طے ہو گیا؟ شاید 40 منٹ ٹریفک کے رش کی وجہ سے لگتے ہوں گے۔ خیر پھر بھی کافی فاصلہ ہے۔
4 کلو وزن کم ہونا پانی کی کمی کی وجہ سے ہو سکتا ہے ورنہ اتنی آسانی سے وزن نہیں گھٹتا۔
زیک’s last blog post..New Year
January 1, 2008 بوقت 11:54 am
عمار، آج صبح صبح تمھاری تحریر پڑھی تھی۔ لیکن مجھے نیند سخت آئی تھی تو کمنٹ نہیں کر سکی تھی۔ لیکن قسم سے تمھاری آخری لائن بہت مزے کی تھی۔ میں بعد میں بھی ہنستی رہی تھی۔
چار کلو وزن کم۔۔۔ :lol: ہو سکتا ہے ایسا ہی ہوا ہو۔ لیکن عام طور پر نہیں ہوتا۔
خیر۔۔۔تمھاری روداد سن کر پتہ چلتا ہے کہ حالات کتنے خراب تھے۔ حجاب بھی بتا رہی تھی کہ پٹھان راستے میں آنے جانے والے کو مار رہے ہیں۔ تو میری ہنسی چھوٹ گئی۔ میں سمجھی تھپڑ یا پتھر مار رہے ہیں۔
حجاب کہتی ہیں کہ بڑے فائرنگ کر رہے ہیں تو چھوٹے پتھر مار رہے ہیں۔ اور واقعی تمھاری بات درست ہے کہ ہماری قوم شغل زیادہ لگاتی ہے۔ لیکن شکر ہے کہ تم خیریت سے گھر پہنچ گئے۔ اب کراچی کے حالات کیسے ہیں؟
ماوراء’s last blog post..خوش آمدید 2008
January 1, 2008 بوقت 11:55 am
آج صبح نہیں۔۔۔کل صبح لکھنا تھا۔ :sad:
ماوراء’s last blog post..خوش آمدید 2008
January 1, 2008 بوقت 2:52 pm
زیک! اگر راستہ صاف ملے تو موٹر سائیکل سے آدھ گھنٹہ میں بھی پہنچا جاسکتا ہے۔ پیدل میں بھی یہ سفر کچھ جلدی طے ہوجاتا لیکن گولیمار کے پُل پر آدھ گھنٹہ گزارنا پڑا، اسی لیے مزید دیر ہوئی۔

شام ساڑھے چھ بجے نکلا تھا اور رات دس بجے پہنچا۔ وزن گھٹانے کا یہ طریقہ کچھ آسان نہیں ہے۔
ماوراء! میں جب پیدل چل رہا تھا تو ساری باتیں ذہن میں بٹھاتا جارہا تھا کہ کس طرح بلاگ پر کیا واقعہ لکھنا ہے۔ تب میرے ذہن میں خیال آیا کہ شاید میرا وزن کم ہوجائے تو سوچا گھر جاتے وزن کروں گا۔ اسی وقت یہی فیصلہ کرلیا کہ جب روداد لکھوں گا تو اس کا آخری جملہ یہی رکھوں گا۔
پٹھانوں کے اکثریتی علاقوں میں کافی خراب صورتحال تھی۔ اس طرف سے آنے والے لوگ بتارہے تھے کہ وہ خواتین سے برا سلوک کررہے تھے۔ زیورات وغیرہ بھی چھین لیے تھے۔ عموما ایسے لوگوں کے پاس ہتھیار تو ہوتے ہی ہیں۔
اللہ کا شکر ہے، اب آج کے دن صورتحال کافی بہتر ہے۔
January 1, 2008 بوقت 3:36 pm
راہبر شاید آپ درست کہہ رہے ہوں لیکن میں دو ذاتی تجربات کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں، ایک مرتبہ 18 اکتوبر کو سانحۂ کارساز کے موقع پر اور دوسری مرتبہ سانحۂ راولپنڈی، دونوں مواقع پر میں فوری طور پر نکلا لیکن باہر کی صورتحال واقعی خراب دیکھی تو کسی محفوظ مقام پر پہنچنے کو ہی بہتر جانا۔ میرا مشورہ ہرگز یہ نہیں تھا کہ آپ کسی غیر محفوظ مقام پر بیٹھ جائیں میرا کہنے کا مقصد صرف اتنا تھا کہ قریبی کسی رشتہ دار، دوست یا اپنے دفتر میں ہی قیام کریں اور جب دیکھیں کہ حالات کچھ بہتر ہوئے ہیں تو کسی بھی ذریعے سے گھر پہنچنے کی کوشش کریں۔ میں کم از کم چار مرتبہ اس طرح کے حالات سے گذر چکا ہوں اور پہلے دو واقعات سے جو سبق سیکھا وہ یہی تھا کہ واقعے کے فوری بعد جب عوامی غصہ عروج پر ہو تو خطرات سے نہیں کھیلنا چاہیے۔ اللہ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے کیونکہ وہ 28 لوگ بھی کسی کے بھائی اور بیٹے تھے جو اس روز ان ہنگاموں کی نذر ہو گئے۔
اور ہاں! ویسے یہ بتائیے کہ آخری مرتبہ وزن آپ نے کب کیا تھا؟ آپ کی دلیل میں وزن اسی وقت ہوگا جب آپ نے دفتر سے نکلنے سے پہلے وزن کیا ہو اور گھر جاتے دوبارہ
January 1, 2008 بوقت 6:11 pm
شکر ہے آپ خیریت سے گھر پہنچ گئے۔۔
January 4, 2008 بوقت 2:53 pm
نا مناسب احتجاج!
27 دسمبر کو پیپلزپارٹی کی چیرپرسن کا قتل ہوا!! ایک سانحہ تھا!! کچھ بھی ہو!! آپ کسی بھی نظریاتی و دیگر جماعت کے حامی ہو!! تعلق رکھتے ہوں! اگر جمہور…