سال 2007ء اور میری بلاگنگ
سال 2007ء کا اختتام آن پہنچا ہے۔ اسی سال کے اوائل میں، میں نے اردو محفل میں شمولیت اختیار کی اور یوں انٹرنیٹ پر موجود ایک نئے جہان سے متعارف ہوا۔ وہیں سے بلاگز وغیرہ کی معلومات ہوئیں اور شاکر بھائی کے بلاگ پر اس بارے میں کافی تحاریر پڑھنے کو ملیں، ساتھ ہی ورڈ پریس کو فری ہوسٹس پر استعمال کرنے اور اس کو اردو کے قابل بنانے کا طریقہ بھی جانا۔ سو، میں نے کچھ دن تک مغز کھپانے کے بعد ایک فری ہوسٹ پر اپنا بلاگ شروع کیا۔ ٧ مارچ ٢٠٠٧ء کو میں نے پہلی تحریر لکھی، “میں اور بلاگ”۔پھر چند تحاریر کے بعد میرا بلاگ جب اردو سیارہ پر شامل ہوا تو اس کے قارئین میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
میرے بلاگ پر سب سے پہلا تبصرہ میری دوسری تحریر “دوغلہ پن”پر اظہر الحق صاحب نے کیا جبکہ دوسرا تبصرہ نبیل بھیا نے اسی تحریر پر کیا۔ ابتدائی چند ماہ میں نے بہت کم تحاریر لکھیں۔ مارچ میں چار، اپریل میں پانچ، مئی میں سات اور جون میں دو تحاریر لکھیں۔ 7 جولائی 2007ء کو “اتحاد بین المسلمین اور اہلِ تشیع”کے عنوان سے ایک تحریر لکھی جس پر حمایت و مخالفت، دونوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تحریر پر 12 تبصرے ہوئے جو اس وقت کسی بھی تحریر پر ہونے والے سب سے زیادہ تبصرے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میں بہت خوش ہوا تھا۔ ماہ جولائی میں دس تحاریر لکھیں۔
اگست کے مہینہ میں میرا بلاگ اردو ٹیککی سروس پر منتقل ہوگیا۔ اس مہینہ میں نے بلاگ پر خاصی توجہ دی اور 23 تحاریر بلاگ کی زینت بنیں۔ ان میں “تحفظِ حقوقِ مرداں ایک دلچسپ اور مزاحیہ تحریر تھی جس پر 14 تبصرے نازل ہوئے جبکہ مولویوں کے خلاف بولنے والوں کے لیے ایک تحریر “مولوی” لکھی۔
ماہ ستمبر میں رمضان المبارک کی آمد تھی۔ ماحول کچھ سوکھا سوکھا تھا، اس میں ایک ہلکی پھلکی تحریر “انڈہ” لکھی جو کہ بے حد پسند کی گئی۔ اسی مہینے اپنی افطاری اور جغرافیہ کے عملی امتحان کے دلچسپ تجربے پر بھی تحریر معرض وجود میں آئی۔ ستمبر میں 14 اور اکتوبر میں 10 تحاریر بلاگ پر پیش ہوئیں۔
نومبر میں 16 تحاریر لکھیں جن میں “خبرنامہ پٹھو ٹیلی ویژن” دلچسپ تحریر تھی جو کہ پی ٹی وی پر طنز تھی۔ نومبر کے اختتام میں اردو بلاگنگ کے حوالہ سے کچھ سوال اٹھائے گئے اور تجاویز وغیرہ دی گئیں۔ یوں ماہ دسمبر میں بلاگ پر کچھ تبدیلیاں واقع ہوئیں۔
دسمبر کے مہینہ میں اب تک 16 تحریریں لکھی جاچکی ہیں جبکہ یہ 17ویں تحریر ہے۔ اس مہینہ کی اہم تحریر “یومِ ولادت” تھی جو کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا جشن منانے کے جواز میں لکھی گئی تھی۔ بلاگ پر سائٹ میٹر کا اضافہ کیا اور ساتھ ہی گوگل اینالیٹکس پر بھی اپنے بلاگ کو رجسٹر کیا۔ گوگل اینالیٹکس پر 15 دسمبر سے رپورٹ وصول ہوئی جس کے مطابق اب تک 183 وزٹس ہوئے، 437 صفحات دیکھے گئے۔ 68ء31 فیصد ٹریفک مختلف سائٹس سے آیا، براہ راست آمد 25ء68 رہی جبکہ سرچ انجنز سے 6ء01 ٹریفک موصول ہوا۔
پاکستان سے 97، متحدہ ہائے امریکہ سے 36، برطانیہ سے 14، ناروے سے 9، عرب امارات سے 6، سوئٹزر لینڈ، سعودی عرب، جرمنی اور کینیڈا سے 3، 3 جبکہ مصر سے 2افراد نے وزٹ کیا۔
ایک دن میں سب سے زیادہ آمد 15 دسمبر 2007ء کو ہوئی جو کہ 76 تھی اور اس کا سبب تحریر “یوم ولادت” تھی جبکہ دوسرے نمبر پر 69 ہے جو کہ بلاگ پر مختلف تبدیلیاں دیکھنے کے لیے آئے۔
سب سے اہم تبصرے اجمل صاحب کے رہے۔ بدتمیز اور قدیر کے تبصروں کا انتظار رہا۔ ME کے تبصرے اکثر و بیشتر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چلیں رہنے دیں۔ ماوراء، امن، عبید اللہ، ابوشامل اور ساجد اقبالکے تبصرے اچھے لگے۔
سیاست پر 21، نکتہ نظر کے عنوان سے 19، کمپیوٹنگ اور بلاگنگ کے حوالہ سے 12، میری باتیں کے زمرے میں 26 اور 20 ہلکی پھلکی تحاریر لکھیں جبکہ دیگر تحاریر مختلف زمروں میں شائع ہوئیں۔
اس سال بلاگ پر لکھی جانے والی تحاریر کے لحاظ سے تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا۔ پہلا دور جس میں زیادہ تر سیاسی تحاریر تھیں، دوسرا دور جس میں معاشرتی و سماجی مسائل پر لکھا جبکہ اختتام میں کچھ ہلکی پھلکی تحاریر زیادہ ہی ہوگئیں۔ شاید میں کافی تھک گیا ہوں۔
میری پسندیدہ تحاریر میں قصہ لینکس پاکستان کے دورے کا، قصہ ایک نادانی کا، تحفظِ حقوقِ مرداں، انڈہ، احساسِ ذمہ داری، انقلاب، شہری شعور اور خبرنامہ پٹھو ٹیلی ویژن شامل ہیں جبکہ معلوماتی تحریر ایک ہی نظر آتی ہے: “یوٹیوب سے ویڈیوز کیسے ڈاؤنلوڈ کریں؟”
ویسے یہ تحریر کچھ زیادہ ہی طویل ہوگئی ہے۔ مجھے نہیں پتا کہ کونسی معلومات کو راز رکھنا چاہئے اور کس کو شائع کردینا چاہئے۔ میں نے تو کھلے عام اپنے بلاگ کا سارا احوال کھول کر رکھ دیا ہے۔ توبہ توبہ!
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
December 27, 2007 بوقت 4:12 pm
مختصرآ آپ 2007 میں بلاگر بن گئے۔ ویسے میرے تبصرے آپ کو کیوں اچھے لگے جبکہ میں نے آپ کو خوش کرنے کیلیے نہیں لکھے تھے/ :wink:
ساجداقبال’s last blog post..نیا بلاگ اور عید مبارکباد
December 27, 2007 بوقت 4:40 pm
لیکن یہ تو ہوسکتا ہے کہ میں نے آپ کا نام آپ کو خوش کرنے کے لیے لکھا ہو۔
December 27, 2007 بوقت 7:55 pm
آپ نے اپنے بلاگ کا اچھا تجزیہ پیش کیا!
شعیب صفدر’s last blog post..Father of the Nation?????????.
December 30, 2007 بوقت 10:31 am
میں تو ایویں ہی بو نگیاں مار جاتا ہوں اور عمار میرے تبصروں میں کیا خاص ہوتا ہے ویسے پسند کرنے کا بہت بہت شکریہ
February 2, 2008 بوقت 12:02 am
عمارمیں اپنا بلاگ بنانا چاہتا ہوں ذرا آپ بلاگ بنانا سکھادیں پلیز :roll:
March 11, 2008 بوقت 3:40 pm
[...] بلاگنگ کے پہلے سال کا جائزہ لینے کے لیے شاید یہ تحریر کافی ہے۔ اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار [...]