آہ مشرقی پاکستان!
مشرقی پاکستان کو ہم سے جدا ہوئے 36 برس بیت گئے ہیں۔ میں ہر بار سوچتا ہوں کہ 16 دسمبر کے موقع پر ایک لمبی چوڑی تحریر لکھوں گا، دل کے پھپھولے پھوڑوں گا لیکن اتنا کچھ سوچ کر جب بھی اس موضوع پر لکھنے بیٹھتا ہوں، ایسا لگتا ہے جیسے افسردہ افسردہ الفاظ رقم ہونا نہیں چاہتے۔ غم و دکھ بیان کرنا نہیں چاہتے، بے وفا لوگوں سے گلہ کرنا نہیں چاہتے۔
کبھی کبھی دل میں ایک عجیب سی خواہش اٹھتی ہے کہ کچھ ایسا ہو کہ دونوں بازو، مغربی و مشرقی پاکستان ایک بار پھر ایک ہوجائیں!
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
December 17, 2007 بوقت 4:21 pm
donoon bazoo aik kion ho jain bhui? jo bazoo aap kay pass hai wu to chalta nahain aap say. angrayzoon ku wapis bula lain isku chalanay kay leeay.
December 17, 2007 بوقت 10:19 pm
عمار، کتنے پرانے ہو تم؟ اتنے جذباتی کیوں ہو رہے ہو؟ :roll:
میں تو اس وقت دنیا میں موجود ہی نہیں تھی اس لیے بازو کٹتے وقت تکلیف کا احساس بھی نہیں ہوا۔ :neutral:
ماوراء’s last blog post..عادتیں
December 18, 2007 بوقت 10:24 am
Me: یہ ایک محب وطن پاکستانی کی خواہش ہے۔ جن سے ملک سنبھالا نہیں جارہا، وہ کوئی اور ہیں۔
ماوراء! خیر اب اتنا پرانا تو نہیں ہوں میں کہ اس وقت بھی موجود تھا۔ لیکن بس جو کچھ پڑھا ہے، اس کی وجہ سے بہت افسوس ہوتا ہے۔
December 19, 2007 بوقت 11:02 am
راہبر میاں! “وہ” ہرگز بے وفا نہ تھے، بے وفا ہم تھے جنہوں نے ان کی وفاؤں کا صلہ ایک بدترین آپریشن کی صورت میں دیا اور 9 مہینے خاک اور خون کا کھیل “سنار بنگلہ” کہلانے والی اس سرزمین پر کھیلا۔ کہنے کو بہت کچھ ہوتا ہے اور کبھی کبھار اس کا اظہار بھی ہو جاتا ہے لیکن یقین جانو ہر سال 16 دسمبر کو کچھ لکھا نہیں جاتا ویسے بھی انسان کی فطرت ہے کہ وہ فتح سے تو بار بار سواد حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن شکست اس کو بہت بری لگتی ہے۔ میں اور آپ ورلڈ کپ 92ء کا فائنل اور سیمی فائنل دیکھنےکی خواہش آج بھی کریں گے لیکن ورلڈ کپ 96ء کے کوارٹر فائنل میں بھارت کے ہاتھوں شکست والا میچ دیکھنا کوئی پسند نہیں کرے گا۔ اس لیے ہم جنگ 65ء کو تو خوب یاد رکھتے ہیں (حالانکہ اس کے واقعات بھی درحقیقت وہ نہيں جو سامنے لآئے جاتے ہیں) لیکن 71ء کے موضوع پر گفتگو نہیں کی جاتی۔ خدا ہمیں شکست کے اسباب پر غور کرنے اور آئندہ کے لیے سبق حاصل کرنے کی توفیق دے۔
December 19, 2007 بوقت 11:34 am
فہد بھائی! بے وفا سے میری مراد ہرگز مشرقی پاکستانی نہ تھے، “بے وفا” سے مراد تو ہمارے ہی جاہل، ظالم حکمران تھے جنہوں نے محب الوطن لوگوں کی وفاؤں کا صلہ اس طرح دیا۔
December 22, 2007 بوقت 4:11 pm
قیام پاکستان کے بعد قوم کی تعمیر کے عمل کو بالکل نظرانداز کردیا گیا۔
ایک جملہ آپ کے لیے:
قوم اس وقت بنتی ہے جب اس میں قابل قدر فرد پیدا ہوتے ہیں۔
از جسٹس پیر کرم شاہ الازہری
الف نظامی’s last blog post..عید الاضحٰے