سانحہ 27 دسمبر۔ جو میں نے دیکھا

1,181 views December 31, 2007 | راہبر
No Gravatar

27 دسمبر کو مغرب کی نماز پڑھی ہی تھی کہ دفتر میں ایک صاحب کا فون آیا جنہوں نے بتایا کہ راولپنڈی میں بے نظیر کے جلسے میں دھماکہ ہوگیا ہے۔ ہم عموما مغرب پڑھ کر دفتر بند کردیتے ہیں لیکن ٢٨ دسمبر کو مجھے نواب شاہ جانا تھا، اس لیے میرا ارادہ تھا کہ ایک دو کام ختم کرکے نکلوں گا۔ فورا بی۔بی۔سی اردو اور جیو کی ویب سائٹ کھولی۔ جیو کی ویب بند تھی۔ بی۔بی۔سی پر پتا چلا کہ تقریبا بائیس (22) افراد جاں بحق ہوئے ہیں اور بے نظیر خطاب کرکے روانہ ہوچکی تھیں۔ میں نے اردو محفل پر خبر پوسٹ کی۔ دفتر میں اگلا فون آگیا اور بے نظیر کے ہلاک ہونے کی خبر سنائی گئی۔ میں نے فورا نیوز سائٹس دیکھیں۔ بے نظیر کے بارے میں متضاد اطلاعات تھیں۔ فیصلہ کیا کہ دفتر بند کردیتے ہیں۔ سو، جلدی جلدی سامان اٹھایا اور نکلے۔ دفتر بند کرتے ہوئے میں نے دوسری منزل سے جھانکا تو ریگل چوک، صدر کا علاقہ سنسان پڑا تھا۔ ہر طرف اندھیرا چھایا تھا۔ دکانیں بند۔ کچھ لوگ مختلف سمتوں میں بھاگتے دکھائی دیتے تھے۔ میں پریشان ہوگیا۔ اسی لمحے گھر سے میرے موبائل پر فون آگیا اور یہی بتایا گیا کہ جلدی نکلو، بے نظیر کو ماردیا گیا ہے۔ ہم نیچے اترے۔ سب اپنے اپنے گھر کو چلے۔ میرے ساتھ (میرا چھوٹا بھائی) اسامہ تھا۔ بس کا انتظار کرنا بے کار تھا۔ تبت سینٹر کی طرف دوڑ لگائی۔ گاڑیوں کا اژدھام اور ٹریفک جام تھا۔ فیصلہ کیا کہ گاڑی کا انتظار کرنا یا کسی بس میں بیٹھنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہوگا۔ لہذا پیدل چل پڑے۔
موبائل فون کا نیٹ ورک جام ہوچکا تھا۔ پانچ بار ایک ایس۔ایم۔ایس بھیجو تو ایک بار جاتا تھا۔ دس بار کسی نمبر پر کال کرنے کی کوشش کرو تو ایک بار لگتی تھی۔ نمائش تک خیریت سے سفر گزرا۔ عوام کا ہجوم تھا جو کہ صرف گاڑیوں میں نہیں بلکہ پیدل بھی رواں دواں تھا۔ ایک ویگن رکی ہوئی تھی۔ اس میں سے ایک صاحب پوچھنے لگے کہ بھئی ماجرا کیا ہے؟ ان کو آگاہ کیا۔ گرومندر پر ہنگامہ آرائی ہورہی تھی۔ گاڑیوں کو روک روک کر خالی کیا جارہا تھا اور ڈنڈے برسائے جارہے تھے۔ ایک بڑی بس موڑ کاٹنے لگی تو سامنے ہنگامہ ہورہا تھا۔ بس ڈرائیور کی غلطی کہ اس نے گاڑی روک لی۔ بلوائیوں کو موقع مل گیا۔ ڈنڈے پر ڈنڈے برسائے جانے لگے۔ میں رک گیا۔ بس ڈرائیور دروازہ کھول کے فرار ہوگیا۔ خدا جانے بعد میں بس کا کیا حال ہوا۔
پٹیل پاڑہ، لسبیلہ اور گولیمار کے حوالہ سے کافی خدشات تھے لیکن میں نے یہی راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا۔ پٹیل پاڑہ کا علاقہ میں تھا تو جگہ جگہ آگ جلتی نظر آنے لگی۔ عین راستہ پر بڑے بڑے ٹائر اور دوسرا سامان رکھ کر آگ لگائی ہوئی تھی۔ گاڑیوں کا انبار تھا جن کے پاس نہ آگے جانے کی راہ تھی نہ واپس ہونے کا راستہ۔ پبلک ٹرانپسورٹ میں مسافر بیٹھے تھے اور ڈرائیور فرار۔ لسبیلہ پر پہنچا تو مسجد سے عشاء کی اذان سنائی دے رہی تھی۔ حی علی الفلاح کی صدا بلند ہوچکی تھی۔ لسبیلہ پر بلوائی کھڑے تھے۔ ایک نے آواز لگاکر کہا کہ اذان ختم ہونے سے پہلے پہلے پُل تک پہنچ جاؤ ورنہ خیر نہیں ہے۔ یہ سنتے ہی موٹر سائیکل سوار گھبرا کر تیز رفتاری سے گولیمار کے پُل پر جاپہنچے۔ ہم نے بھی دوڑ لگائی۔ وہاں پہنچنے تک اذان ختم ہوچکی تھی۔ پُل پر موٹر سائیکلوں کی بھرمار تھی۔ دوسری گاڑیاں یہاں تک کم ہی پہنچی تھیں۔ اب پُل سے اترے تو گولیمار کا علاقہ تھا۔ وہیں سے ہنگامہ آرائی نظر آرہی تھی۔ سب لوگ وہیں رک گئے۔ کچھ موٹر سائیکل سواروں نے دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے گولیمار کے علاقہ میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر بلوائی فائرنگ اور پتھراؤ کرتے ہوئے پُل کی طرف دوڑ پڑے۔ سارے لوگوں نے یکدم یو۔ٹرن لیا اور واپس لسبیلہ کی طرف بھاگے۔ لسبیلہ پر بھی ہنگامہ جاری تھا۔ وہاں بھی بلوائی موجود تھی۔ یوں دونوں طرف سے گھیر لیے گئے۔ پُل پر کوئی سو سے زیادہ موٹر سائیکل موجود تھیں۔ گولیمار کی جانب سے بلوائی پُل پر چڑھ چکے تھے۔ میں لسبیلہ کی طرف بڑھا۔ کوئی راستہ نہیں تھا۔ لوگوں کی اکثریت پُل سے نیچے اتر کر گلیوں سے جانے کا راستہ تلاش کررہی تھی۔ کچھ لوگ گلیوں میں جارہے تھے تو کئی لوگ گلیوں سے واپس بھی آرہے تھے کہ وہاں سے کوئی راستہ نہیں۔ آدھ گھنٹے تک یہیں پھنسے رہے۔ پھر سنا کہ پُل کے اوپر سے راستہ کھول دیا گیا ہے۔ دوبارہ پُل کی طرف دوڑے۔ گولیمار کے علاقہ میں داخل ہوئے تو ایسا لگا کہ جیسے ہنگامہ کچھ دیر رکنے کے بعد دوبارہ شروع ہوگیا۔ اب کی بار اللہ کا نام لے کر فیصلہ کیا کہ پلٹنا نہیں ہے، اسی راستہ سے چلنا ہے۔ خطرناک ارادہ رکھنے والے چہرے نظر آرہے تھے لیکن ہم اپنی راہ چلتے رہے۔ ایک مسجد کے آگے باریش پٹھان بھائی تین چار افراد کو بتا رہے تھے کہ یہ معمولی لیڈر نہیں تھی، بہت بڑی تھی۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ گاڑی والے تیز رفتاری سے بھگاتے ہوئے لاتے اور پھر آگے دیکھ کر اسی رفتار سے واپس چلے جاتے۔ گولیمار چورنگی سے کافی فاصلہ پر ہونے کے باوجود آگ کے بلند و بالا شعلے نظر آنے لگے۔ مجھے لگا جیسے کسی عمارت وغیرہ کو آگ لگادی ہے۔ قریب پہنچے تو پتا چلا تھا کہ دو ٹرک جل رہے تھے۔ کچھ موٹر سائیکل سوار بھی وہیں پہنچ گئے تھے۔ تین چار بلوائی ان کی طرف آگئے اور دھمکی آمیز لہجے میں خبردار کیا کہ گاڑیاں بند کرکے چلو، کوئی گاڑی کو چلاکر نہیں جائے گا۔ عجیب اصول تھا۔ گاڑیاں ساتھ لے کر چلو لیکن انجن اور روشنی بند ہو۔ گولیمار چورنگی پر پہنچنا خطرناک لگتا تھا۔ ٹریفک سگنل پر ہی کافی ہنگامہ تھا۔ پیچھے سے گھوم کر گولیمار چورنگی کو خیریت سے عبور کیا۔ وقفے وقفے سے فائرنگ کی آواز سنائی دیتی تھی۔ نیشنل بینک آف پاکستان پر دھاوا بولا گیا تھا، مختلف چیزیں ٹوٹنے کی آوازیں سنائی دی رہی تھیں۔ میں آگے بڑھتا چلاگیا۔
گولیمار چورنگی پار کرلینے کے بعد آگے کا علاقہ سنسان پڑا تھا۔ نہ کوئی گاڑی، نہ روشنی، نہ ہی زیادہ لوگ۔ مجھے لگا کہ اب سکون ہوگا۔ سوچنے لگا کہ کوئی گاڑی مل جائے تو بیٹھ جاؤں لیکن وہاں کچھ نہیں تھا۔ چلتے چلتے ٹانگوں میں تکلیف کا احساس بیدار ہونے لگا تھا۔ میں اور اسامہ بات کرتے کرتے چلتے رہے۔ ناظم آباد چھ نمبر کا پل عبور کیا۔ پُل کے نیچے حالات ٹھیک نظر نہ آتے تھے اس لیے اوپر سے ہوتے ہوئے گئے۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد گھر پر ایس۔ایم۔ایس یا فون کرکے صورتحال سے آگاہ کرتا رہا۔ ابو موٹر سائیکل پر نکلے تھے۔ ان سے رابطہ کیا تو وہ سارے راستے بند پاکر بہادر آباد کی طرف جا پہنچے تھے، ان کا ارادہ تھا کہ حسن اسکوائر سے نکل کر آئیں۔
ہنگامہ کرنے والوں میں بچوں اور نو عمر لڑکوں کی بھی اکثریت تھی۔ ان کے چہرے پر کوئی غم یا دکھ کے آثار نہیں تھے۔ وہ ہنس رہے تھے۔ ڈنڈوں کی مطلوبہ تعداد میں فراہمی نہ ہونے کے سبب گنے والوں کی دکان سے گنے اٹھا لائے تھے۔ ان کی مدد ہی سے ٹریفک سگنلز، بجلی کے قمقمے اور گاڑیوں کے شیشے توڑے جارہے تھے۔ یہ صرف شغل میلہ تھا۔ میں سوچنے لگا کہ ہماری قوم بھی کتنی عجیب ہے۔ شغل میلے کا شوقین۔ ہم لوگ کھیل مستی میں ہنگامہ کرتے ہیں، آگ لگاتے ہیں، توڑ پھوڑ کرتے ہیں، فائرنگ کرتے ہیں، یہاں تک کہ اسی کھیل کھیل میں لوگوں کو قتل بھی کردیتے ہیں۔
یاد نہیں، کون سا علاقہ تھا جہاں اچانک فائرنگ شروع ہوگئی۔ لوگ بھاگ پڑے۔ گاڑیوں نے اچانک اپنی سمت تبدیل کرلی۔ ہم جس شاہراہ پر موجود تھے، شاید اس کی دوسری طرف ہورہی تھی۔ ہم آرام آرام سے چلتے رہے۔ دوڑنے کی ہمت بھی نہ تھی۔ ایک جگہ تل کے لڈو والا نظر آیا تو اس سے پانچ لڈو لیے تاکہ منہ میں کچھ تو جائے اور سہارا ہو۔ پھر چھیپا ایمبولینس والوں کے ایک کیبن پر پانی کا کولر نظر آیا تو وہاں سے ایک گلاس پانی پیا۔ خیال تھا کہ کچھ طاقت آئے گی لیکن فرق نہ پڑا۔ اسامہ کو کہا کہ کہیں رُک کر سستا لیتے ہیں لیکن اس کو یہ خیال تھا کہ وقت ضائع ہوگا۔ میں نے سوچا کہ کہیں لڑکھڑا کر گر ہی نہ جاؤں۔ فائیو اسٹار چورنگی پر پہنچ کر بیٹھ گئے۔ دو منٹ ہی بیٹھے ہوں گے کہ پیچھے ہسپتال پر نظر پڑی۔ وہاں میڈیکل اسٹور نظر آیا۔ فورا اس کی طرف دوڑے۔ وہاں سے سوپر بسکٹ کا ایک پیکٹ لیا اور پاکولا ملک کے دو ڈبے جو کہ گرم تھے۔ ان کو لے کر پھر چل دیئے۔ جگہ جگہ بلوائی شغل میلہ کرتے نظر آتے تھے۔ حیدری پر پہنچے تو ایک ٹرک والا تیز رفتاری سے ایک سمت کو جارہا تھا۔ اسامہ کہنے لگا کہ جاہل کو دیکھو، ان حالات میں بھی بھگارہا ہے، یہ سوچے بغیر کہ آگے کیا صورتحال ہوگی۔ تھوڑی دیر بعد وہی ٹرک اسی رفتار سے واپس بھاگا چلا آرہا تھا۔ مجھے ہنسی آگئی۔
راستے میں جو لوگ ملے، وہ بتارہے تھے کہ لوگوں کو لوٹا بھی جارہا ہے۔ پیسے اور موبائل فون چھینے جارہے ہیں۔ میرے اور اسامہ کے پاس ماہ دسمبر کی تنخواہ تھی جو کہ وقت سے کچھ پہلے مل گئی تھی۔ میں نے سوچا کہ خدانخواستہ اگر کچھ ہوگیا تو۔۔۔۔ بہرحال! چلتے ہی رہے۔ خواتین کو بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ خاص طور پر وہ لڑکیاں جو کوچنگ سینٹرز سے نکلی تھیں، نہ ہی ان کو کوئی گاڑی مل سکتی تھی، نہ ہی انہیں لینے کوئی آسکتا تھا۔ اکثریت کو تو راستوں کی بھی ٹھیک پہچان نہ تھی۔ راستہ بھر لوگوں کی ہمدردیاں اور بے حسی بھی دیکھنے کو ملی۔ کچھ گاڑی والے خود ہی بوڑھوں اور دوسرے لوگوں کو گاڑی میں بٹھانے کا رضاکارانہ پیشکش کرتے نظر آتے تھے تو دوسری طرف کچھ گاڑی والے ایسے بھی تھے کہ جن کو ہاتھ دیا جاتا تھا تو وہ اس پر کوئی توجہ دھرے بغیر بھاگے چلے جاتے تھے۔
چلتے چلتے چال ہی عجیب ہوگئی۔ سخی حسن چورنگی کا شدت سے انتظار کرنے لگا۔ چورنگی پر پہنچے تو پانچ منٹ کے لیے فٹ پاتھ پر بیٹھ گئے۔ دیگر لوگ بھی بیٹھے تھے۔ ہر ایک اپنی اپنی داستان کہہ رہا تھا۔ کوئی کہیں سے پیدل آرہا تھا تو کوئی کہیں سے۔ لیکن جب میں نے بتایا کہ میں ریگل چوک سے پیدل چلتا آرہا ہوں تو ان کے چہرے پر حیرت کی پرچھائی واضح تھی۔ مجھے اپنی ہمت پر فخر محسوس ہوا۔
شادمان کا علاقہ بہت بری طرح پار کیا۔ بالکل دل ہی نہیں کرتا تھا چلنے کا۔ ناگن چورنگی (شاہ ولی اللہ چورنگی) پر پہنچا تو سکون کا سانس لیا۔ آدم ٹاؤن کا علاقہ تو اس فرحت بخش احساس کے ساتھ گزر گیا کہ گھر آ پہنچا ہے۔ یوپی موڑ پر پہنچا تو نکڑ کا چائے کا ہوٹل کھلا تھا۔ شاید کوئی کرسی بھی خالی نہ تھی۔ لوگوں کی بڑی تعداد چائے پراٹھا کھارہی تھی۔ خدا کا شکر کہ خیر و عافیت سے میری منزل آگئی تھی۔
گھر پہنچتے ہی میں نے وزن کرنے کی مشین منگوائی۔ میرا وزن چار کلو کم ہوگیا تھا۔

سال 2007ء اور میری بلاگنگ

1,224 views December 27, 2007 | راہبر
No Gravatar

سال 2007ء کا اختتام آن پہنچا ہے۔ اسی سال کے اوائل میں، میں نے اردو محفل میں شمولیت اختیار کی اور یوں انٹرنیٹ پر موجود ایک نئے جہان سے متعارف ہوا۔ وہیں سے بلاگز وغیرہ کی معلومات ہوئیں اور شاکر بھائی کے بلاگ پر اس بارے میں کافی تحاریر پڑھنے کو ملیں، ساتھ ہی ورڈ پریس کو فری ہوسٹس پر استعمال کرنے اور اس کو اردو کے قابل بنانے کا طریقہ بھی جانا۔ سو، میں نے کچھ دن تک مغز کھپانے کے بعد ایک فری ہوسٹ پر اپنا بلاگ شروع کیا۔ ٧ مارچ ٢٠٠٧ء کو میں نے پہلی تحریر لکھی، “میں اور بلاگ”۔پھر چند تحاریر کے بعد میرا بلاگ جب اردو سیارہ پر شامل ہوا تو اس کے قارئین میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔
میرے بلاگ پر سب سے پہلا تبصرہ میری دوسری تحریر “دوغلہ پن”پر اظہر الحق صاحب نے کیا جبکہ دوسرا تبصرہ نبیل بھیا نے اسی تحریر پر کیا۔ ابتدائی چند ماہ میں نے بہت کم تحاریر لکھیں۔ مارچ میں چار، اپریل میں پانچ، مئی میں سات اور جون میں دو تحاریر لکھیں۔ 7 جولائی 2007ء کو “اتحاد بین المسلمین اور اہلِ تشیع”کے عنوان سے ایک تحریر لکھی جس پر حمایت و مخالفت، دونوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تحریر پر 12 تبصرے ہوئے جو اس وقت کسی بھی تحریر پر ہونے والے سب سے زیادہ تبصرے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ میں بہت خوش ہوا تھا۔ ماہ جولائی میں دس تحاریر لکھیں۔
اگست کے مہینہ میں میرا بلاگ اردو ٹیککی سروس پر منتقل ہوگیا۔ اس مہینہ میں نے بلاگ پر خاصی توجہ دی اور 23 تحاریر بلاگ کی زینت بنیں۔ ان میں “تحفظِ حقوقِ مرداں ایک دلچسپ اور مزاحیہ تحریر تھی جس پر 14 تبصرے نازل ہوئے جبکہ مولویوں کے خلاف بولنے والوں کے لیے ایک تحریر “مولوی” لکھی۔
ماہ ستمبر میں رمضان المبارک کی آمد تھی۔ ماحول کچھ سوکھا سوکھا تھا، اس میں ایک ہلکی پھلکی تحریر “انڈہ” لکھی جو کہ بے حد پسند کی گئی۔ اسی مہینے اپنی افطاری اور جغرافیہ کے عملی امتحان کے دلچسپ تجربے پر بھی تحریر معرض وجود میں آئی۔ ستمبر میں 14 اور اکتوبر میں 10 تحاریر بلاگ پر پیش ہوئیں۔
نومبر میں 16 تحاریر لکھیں جن میں “خبرنامہ پٹھو ٹیلی ویژن” دلچسپ تحریر تھی جو کہ پی ٹی وی پر طنز تھی۔ نومبر کے اختتام میں اردو بلاگنگ کے حوالہ سے کچھ سوال اٹھائے گئے اور تجاویز وغیرہ دی گئیں۔ یوں ماہ دسمبر میں بلاگ پر کچھ تبدیلیاں واقع ہوئیں۔
دسمبر کے مہینہ میں اب تک 16 تحریریں لکھی جاچکی ہیں جبکہ یہ 17ویں تحریر ہے۔ اس مہینہ کی اہم تحریر “یومِ ولادت” تھی جو کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا جشن منانے کے جواز میں لکھی گئی تھی۔ بلاگ پر سائٹ میٹر کا اضافہ کیا اور ساتھ ہی گوگل اینالیٹکس پر بھی اپنے بلاگ کو رجسٹر کیا۔ گوگل اینالیٹکس پر 15 دسمبر سے رپورٹ وصول ہوئی جس کے مطابق اب تک 183 وزٹس ہوئے، 437 صفحات دیکھے گئے۔ 68ء31 فیصد ٹریفک مختلف سائٹس سے آیا، براہ راست آمد 25ء68 رہی جبکہ سرچ انجنز سے 6ء01 ٹریفک موصول ہوا۔
پاکستان سے 97، متحدہ ہائے امریکہ سے 36، برطانیہ سے 14، ناروے سے 9، عرب امارات سے 6، سوئٹزر لینڈ، سعودی عرب، جرمنی اور کینیڈا سے 3، 3 جبکہ مصر سے 2افراد نے وزٹ کیا۔
ایک دن میں سب سے زیادہ آمد 15 دسمبر 2007ء کو ہوئی جو کہ 76 تھی اور اس کا سبب تحریر “یوم ولادت” تھی جبکہ دوسرے نمبر پر 69 ہے جو کہ بلاگ پر مختلف تبدیلیاں دیکھنے کے لیے آئے۔
سب سے اہم تبصرے اجمل صاحب کے رہے۔ بدتمیز اور قدیر کے تبصروں کا انتظار رہا۔ ME کے تبصرے اکثر و بیشتر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چلیں رہنے دیں۔ ماوراء، امن، عبید اللہ، ابوشامل اور ساجد اقبالکے تبصرے اچھے لگے۔
سیاست پر 21، نکتہ نظر کے عنوان سے 19، کمپیوٹنگ اور بلاگنگ کے حوالہ سے 12، میری باتیں کے زمرے میں 26 اور 20 ہلکی پھلکی تحاریر لکھیں جبکہ دیگر تحاریر مختلف زمروں میں شائع ہوئیں۔
اس سال بلاگ پر لکھی جانے والی تحاریر کے لحاظ سے تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا۔ پہلا دور جس میں زیادہ تر سیاسی تحاریر تھیں، دوسرا دور جس میں معاشرتی و سماجی مسائل پر لکھا جبکہ اختتام میں کچھ ہلکی پھلکی تحاریر زیادہ ہی ہوگئیں۔ شاید میں کافی تھک گیا ہوں۔
میری پسندیدہ تحاریر میں قصہ لینکس پاکستان کے دورے کا، قصہ ایک نادانی کا، تحفظِ حقوقِ مرداں، انڈہ، احساسِ ذمہ داری، انقلاب، شہری شعور اور خبرنامہ پٹھو ٹیلی ویژن شامل ہیں جبکہ معلوماتی تحریر ایک ہی نظر آتی ہے: “یوٹیوب سے ویڈیوز کیسے ڈاؤنلوڈ کریں؟”
ویسے یہ تحریر کچھ زیادہ ہی طویل ہوگئی ہے۔ مجھے نہیں پتا کہ کونسی معلومات کو راز رکھنا چاہئے اور کس کو شائع کردینا چاہئے۔ میں نے تو کھلے عام اپنے بلاگ کا سارا احوال کھول کر رکھ دیا ہے۔ توبہ توبہ!

بیربل اور بے وقوف لوگ

975 views December 27, 2007 | راہبر
No Gravatar

ایک دفعہ اکبر بادشاہ کو کسی نے بتایا کہ فلاں علاقے کے لوگ بہت بے وقوف ہیں۔ اکبر نے بیربل کو حکم دیا کہ وہاں جاؤ اور اس بات کی صداقت کا پتا کرو۔ بیربل اپنے آدمیوں کے ساتھ اس علاقے میں جا پہنچا۔ جب وہاں کے لوگوں کو پتا چلا کہ بادشاہ کے آدمی آئے ہیں تو انہوں نے بڑی آؤ بھگت کی، قیام و طعام کا بہت اچھا بندوبست کیا، دعوتیں کیں۔۔۔ غرضیکہ بہت خاطر مدارت کی۔ بیربل اسی تلاش میں رہا کہ کوئی بے وقوفی کی بات نظر آئے تو نوٹ کرے لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔
کچھ دن بعد بیربل اپنے ساتھیوں سمیت وہاں سے روانہ ہوا تو گاؤں کے لوگوں نے بہت تحفے تحائف دے کر رخصت کیا۔ جب وہ لوگ چلے گئے تو اچانک گاؤں کے بڑے بوڑھے سردار کو ایک خیال آیا۔ اس نے کھانا بنانے والے نوجوان لڑکوں سے پوچھا کہ کیا کھانے میں گرم مصالحہ ملایا تھا؟ لڑکوں نے پریشان ہوکر کہا کہ نہیں، وہ تو بھول گئے۔ یہ سن کر بوڑھے سردار نے غصہ سے سر پیٹ لیا اور کہنے لگا، کمبختو! بیڑا غرق ہو، یہ کیا غضب کیا؟ اب گرم مصالحہ کی پڑیا بناؤ اور جاؤ ، ان کو دے کر آؤ۔ سو، گرم مصالحہ کی پڑیاں بنائی گئیں اور کئی نوجوان تیز رفتار گھوڑوں پر بیٹھ کر روانہ ہوئے۔
راستہ میں بیربل نے دیکھا کہ پیچھے سے گرد اڑ رہی ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ گھڑ سوار آرہے ہوں۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو روک دیا اور کہا کہ ذرا دیکھ لینے دو، کون آرہا ہے۔ جب قریب پہنچے تو دیکھا کہ یہ تو اسی گاؤں کے لوگ ہیں۔ وہ سارے اپنے گھوڑوں سے اترے اور بیربل کے قدموں میں گر پڑے کہ حضور، غلطی ہوگئی۔ معاف فرمادیں۔ بیربل نے پوچھا کہ بھئی، ماجرا کیا ہے؟ تب ان لوگوں نے بتایا کہ ہم آپ کی دعوت کے کھانوں میں گرم مصالحہ ڈالنا بھول گئے تھے۔ بیربل نے کہا کہ یہ ایسی کوئی بات نہیں، کچھ فرق نہیں پڑتا۔ گاؤں والے کہنے لگے کہ نہیں حضور! یہ ہم گرم مصالحہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں، لہٰذا آپ سب اس کو کھالیں۔ بیربل نے کہا کہ ارے اس کی ضرورت نہیں، ایسے کیا کھایا جائے گا؟ لیکن گاؤں والوں نے ضد جاری رکھا اور جب دیکھا کہ بیربل اور اس کے ساتھی نہیں مانتے تو ہر نوجوان بیربل اور اس کے قافلے والوں پر پل پڑا اور ایک ایک کو نیچے گرا کر اس کو اوپر چڑھ کر زبردستی اس کا منہ کھولا اور اس کے منہ میں گرم مصالحہ بھر دیا۔
اب جو بیربل بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا تو کہنے لگا کہ حضور! واقعی اس گاؤں کے لوگ بڑے ہی بے وقوف ہیں۔

جب وی میٹ

997 views December 24, 2007 | راہبر
No Gravatar

“Jab We Met” شاہد کپور اور کرینہ کپور کی حال ہی میں ریلیز ہونے والی کامیاب ترین فلم ہے۔ باکس آفس انڈیا نے اس فلم کو سپر ہٹ کا درجہ دیا ہے۔ یہ کہانی ہے ایک ایسے نوجوان کی جس کا امیر باپ مر جاتا ہے اور اس کی ماں بھاگ کر کسی اور سے شادی کرلیتی ہے جس کی وجہ سے اس نوجوان لڑکے کو ہر جگہ سے طعنہ سننے کو ملتے ہیں یہاں تک کہ یہ تنگ آجاتا ہے اور سب کچھ چھوڑ کر انجانی راہوں پر گم صم چل پڑتا ہے۔ بس کے سفر کرتا ہے اور پھر اپنے خیالوں میں گم بغیر ٹکٹ لیے ٹرین میں سوار ہوجاتا ہے۔ اس کی ہم سفر ہوتی ہے ایک باتونی لڑکی جو بس بولتی چلی جاتی ہے، بولتی چلی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ کہانی آگے بڑھتی ہے۔ لڑکے کی وجہ سے لڑکی ٹرین سے نیچے اترتی ہے اور پھر اس سے ٹرین چھوٹ جاتی ہے۔ وہ سخت غصہ میں اس بات کا ذمہ دار لڑکے کو ٹھہراتی ہے اور اس کو کہتی ہے کہ اب اسے گھر پہنچائے۔۔۔ یوں ایک دلچسپ کہانی کا آغاز ہوتا ہے۔ ریلوے اسٹیشن کے باہر لوگوں کا اسے کال گرل سمجھنا، پھر ہوٹل والے سے بے وقوفانہ باتیں۔۔۔ لڑکی اس لڑکے کی خاموشی توڑنے کی کوشش کرتی ہے۔ پھر لڑکی کے گھر جانا، وہاں سے فرار ہونا، لڑکی کا غائب ہونا، دوبارہ برے حال میں ملنا۔۔۔۔ غرض کہ بہت ہی شاندار فلم ہے۔
زیادہ واہیات نہیں ہے۔ لباس بھی مناسب ہیں اور کہانی بھی۔ اگر آپ فلمیں دیکھا کرتے ہیں تو اس فلم کو ضرور دیکھئے گا۔

دو فلموں کی تلاش

901 views December 24, 2007 | راہبر
No Gravatar

مجھے سی۔ڈی یا ڈی۔وی۔ڈی پر دو فلموں کی تلاش ہے۔ پہلی فلم کا نام ہے: Short Circuit 2 اور دوسری کا نام ہے: Asterix & Obelix - contre Cesar

آج میں نے یہاں رینبو سینٹر میں بھی آدھ گھنٹہ سے زیادہ مغز ماری کی لیکن یہ فلمیں نہ مل سکیں۔ دونوں فلموں کا اردو ورژن موجود ہے تو اگر اردو میں مل جائے تو بہت ہی اچھی بات ہے۔ شارٹ سرکٹ کا اردو ورژن POGO چینل والوں نے دیکھایا ہے اور Asterix & Obelix کا اردو اور پنجابی ورژن “اے ٹی وی” والوں نے۔ یہ غالبا فرانسیسی فلم ہے۔
فلم “شارٹ سرکٹ 2″ کا ایک منظر:

فلم “Asterix & Obelix” کا ایک منظر:

عید الاضحی کے تین دن

791 views December 24, 2007 | راہبر
No Gravatar

لیجئے! گزری عیدوں کی طرح یہ عید الاضحیٰ بھی گزر گئی۔ کچھ خاص مصروفیات تو نہ تھیں، بس گزر ہی گئے دن۔ ٢٠ دسمبر، بروز جمعرات سے چھٹیاں ملی تھیں۔ جمعۃ المبارک کو عید تھی۔
عید کی نماز:
نہا دھو کر عید گاہ کو چلے۔تھوڑی دیر ہوگئی تھی لہذا جس عیدگاہ میں نماز پڑھنے کا ارادہ تھا، وہاں نہ جاسکے بلکہ دوسری جگہ جانا پڑا۔ آٹھ بجے کا وقت تھا اور سوا آٹھ بجے نماز عید ہونی تھی۔ مولوی صاحب نے اسی وقت وعظ شروع کیا تھا۔ وعظ ایسا تھا جیسے کہ پہلے سے کہنے کو کچھ سوچا نہ ہو، اچانک لاکر کھڑا کردیا ہو۔ عید کی نماز کا وقت ہوا تو تب جاکر ان کا وعظ باقاعدہ شروع ہوا۔ جن واقعات کو برسوں سے سنتے چلے آرہے ہیں، انہی کو دہرایا گیا۔ عید کی نماز مقررہ وقت سے تقریبا پندرہ منٹ بعد شروع ہوئی۔ مولوی صاحب نجانے کن خیالوں میں نماز کا طریقہ بتاتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ پہلی رکعت میں ثنا پڑھنے کے بعد تین زائد تکبیریں ہوں گی اور چوتھی تکبیر میں آپ رکوع میں چلے جائیں گے۔ پھر سورہ فاتحہ اور قرآن پاک کی کوئی سورت تلاوت کی جائے گی، اس کے بعد رکوع میں جائیں گے۔۔۔۔ دو مرتبہ انہوں نے یہی دہرایا۔ پھر پورا طریقہ نماز بیان کرنے کے بعد جب دوبارہ شروع سے بیان کرنے لگے تو درست بتایا۔
نماز کے دوران سارا وقت مائیک اور لاؤڈ اسپیکر کی ملی بھگت سے ہونے والی سازش کو بھگتا۔ عجیب شور و غوغا مچائے رکھا۔ بعد از نماز جب خطبہ دینا شروع کیا تو اس قدر اٹک اٹک کر پڑھا کہ گمان ہوتا تھا کہ پہلی بار پڑھ رہے ہیں۔ حالانکہ بہتر ہوتا ہے کہ پہلے سے گھر میں بار بار پڑھ کر آیا جائے تاکہ روانی آجائے۔
عبادت ہمارا فرض اور رزق خدا کے ذمہ:
جمعہ کی نماز دوسری مسجد میں پڑھی۔ جب مسجد پہنچا تو وعظ جاری تھا، ہاروت و ماروت کا واقعہ بیان کیا جارہا تھا کہ کس طرح دو فرشتوں کو زمین پر انسانی خواص کے ساتھ بھیجا گیا اور پھر ان کے ساتھ کیا پیش آیا۔ وعظ کے اختتام میں ایک دلچسپ اور سبق آموز واقعہ سننے کو ملا۔ حضرت سری سقطی رحمہ اللہ ایک دفعہ قبرستان کو تشریف لے گئے، حضرت بہلول دانا کو دیکھا۔ پوچھا، کھانے کو لادوں؟ جواب ملا: حضرت! خدا نے ہمیں دنیا میں اپنی عبادت کے لیے بھیجا ہے اور رزق کا ذمہ خود لیا ہے۔ میں اپنا فرض ادا کررہا ہوں، خدا اپنا فرض ادا کررہا ہے۔
Astrix & Oblix:
یہ بہت ہی دلچسپ اور مزاحیہ فلم ہے۔ غالبا فرانسیسی ہے۔ پہلے “اے ٹی وی” نے اس کا اردو ترجمہ دکھایا تھا۔ عید کے دن، دوپہر میں اس کا پنجابی ترجمہ دکھایا۔ بہت دلچسپ فلم ہے۔ بچوں اور بڑوں سب کے لیے۔
شارٹ سرکٹ:
عید کے دوسرے دن نانی کے گھر اس فلم کے اختتامی مناظر دیکھنے کو ملے۔ Pogo چینل پر اس کا اردو ترجمہ آرہا تھا۔ یہ ایک روبوٹ کی کہانی ہے جو کہ حقیقت جاننے کی وجہ سے دشمنوں کے عتاب کا شکار ہوتا ہے۔ فلم کی کہانی اس قدر خوبصورت ہے کہ آپ کو روبوٹ سے ہمدردی محسوس ہونے لگتی ہے اور جب روبوٹ کے دشمن اس کو ہتھوڑوں سے مارتے ہیں اور وہ درد بھری آواز میں کہتا ہے کہ میں زندہ ہوں، مجھے مت مارو، میں مرجاؤں گا تو دیکھنے والوں کے دل پر یہ آواز ایک عجیب اثر ڈالتی ہے۔
بچے کے سوالات اور ابا کے جوابات:
عید کے تیسرے دن دادا کے گھر سے نکلتے نکلتے رات دس بجے سے اوپر وقت ہوگیا۔ بس میں سوار ہوئے تو مجھے بیٹھنے کو جو جگہ ملی، میرے برابر میں ایک صاحب بیٹھے تھے جن کی گود میں ان کا ١٠، ١٢ سالہ بچہ تھا۔ بچہ مسلسل بولنے کا عادی لگتا تھا۔ کچھ دیر کے لیے بھی چپ ہونا اسے گوارا نہ تھا۔ شارع فیصل کے ایک طرف ریلوے لائین بچھی ہے۔ بس سے ٹرین آتی نظر آئی تو بچہ کا باپ بچے کو ٹرین دیکھانے لگا۔ جب ٹرین گزر گئی تو بچے سے پوچھا، کتنے ڈبے تھے؟ اسے پتا نہ تھا۔ اب باپ کا جواب بھی سنیں۔ کہنے لگا، دس پندہ ہوں گے۔ مجھے اس قدر ہنسی آئی کہ جب خود نے گنے نہیں تھے تو بچے سے کیوں پوچھا تھا۔ پھر بچے نے پوچھا کہ ٹرین کون چلاتا ہے؟ خود سے چلتی ہے کیا؟ باپ نے کہا، اس کا بھی ڈرائیور ہوتا ہے، وہ چلاتا ہے۔ بچے نے پوچھا، ٹرین کا ٹکٹ کتنے کا ہوتا ہے؟ باپ نے کہا، پانچ سو، ہزار روپے کا۔ کراچی میں اکثر بچوں کے لیے ٹرین نما گاڑی بھی چلتی ہے۔ سمجھ لیں کہ ایک گاڑی ہوتی ہے جس میں ایک دو چھوٹے ڈبے ہوتے ہیں، بچے اس میں گھوم کر سیر کرتے ہیں۔ بچہ شاید اسی کا بتانے لگا کہ ہمارے ہاں بھی ایک ٹرین آئی تھی نا۔۔۔ باپ نے کہا، وہ تو بچوں کی ٹرین تھی۔ بچہ فٹ سے بولا، تو کیا یہ بڑوں کی ٹرین ہوتی ہے؟ اس میں بچے نہیں جاتے؟ میں دوسری طرف منہ کرکے مسکرانے لگا۔ باپ بولا، بچے بھی جاتے ہیں اس میں۔ بچہ کہنے لگا، تو پھر صرف بڑوں کی ٹرین تو نہیں ہوئی نا یہ۔۔۔ پھر پوچھنے لگا، ٹرین میں جانے کے پیسے لگتے ہیں؟ باپ کہنے لگا، ہاں، اس کا بھی ٹکٹ ہوتا ہے۔ بچہ نے پوچھا، بچوں کا بھی ٹکٹ لیتے ہیں؟ باپ نے کہا، مفت میں لے کر تو نہیں جائیں گے نا؟ بس میں جاتے ہیں تو اس کا بھی ٹکٹ لیتے ہیں نا۔۔۔ بچہ بولا، لیکن بس میں تو بچوں کا ٹکٹ نہیں لیتے، ٹرین میں کیوں لیتے ہیں۔۔۔؟ میں مسکراتا رہا۔ بچہ نے چپ ہونے کا نام نہ لیا۔ پوچھنے لگا، ٹرین میں بچوں کا ٹکٹ کتنا ہوتا ہے؟ باپ نے کہا، سو روپیہ۔ بچہ نے پوچھا، اور بڑوں کا؟ باپ نے کہہ دیا، دو سو روپے کا۔۔۔ ہم ریلوے لائن سے کافی آگے نکل آئے تھے۔ وہ بچہ مختلف باتیں بناتا رہا۔ باپ کو “پاپا” کہتا تھا اور “تم” کہہ کر مخاطب کیا کرتا تھا۔ بچہ جتنی بدتمیزی سے بات کرتا تھا، اس سے زیادہ ادب و احترام سے تو بچہ کا باپ بچہ سے بات کررہا تھا۔
ہماری بس، جوہر موڑ سے کچھ پہلے میلینیئم شاپنگ مال پر پہنچی۔ یہ شاپنگ کا بہت اچھا اور بڑا مرکز ہے۔ اس میں اوپر چڑھنے کے لیے سیڑھیاں ہیں جن کے اطراف میں سہارے اور حفاظت کے لیے پائپ لگے ہیں۔ بچہ نے شاید کوئی ایسی جگہ دیکھی جہاں سہارے کے لیے کچھ نہ تھا۔ باپ سے کہنے لگا، یہ جو سیڑھیاں ہیں جن کے سائیڈ میں یہ نہیں لگا ہوا تو اگر ہم یہاں سے جائیں گے تو نیچے گر جائیں گے؟ باپ نے کہا، ہاں۔ بچہ پوچھنے لگا، تو کوئی ہمیں بچائے گا نہیں نیچے سے؟ باپ نے پوچھا، کون بچائے گا؟ بچہ دونوں ہاتھ پھیلا کر بولا کہ کوئی اس طرح ہمیں نیچے سے پکڑ نہیں لے گا۔ میں نے سوچا، باپ کی بھی اچھی شامت آئی ہے۔ پھر بچہ باپ سے اپنے چند رشتے داروں کے نام بتاکر کہنے لگا کہ ہم ان کے ساتھ پارک گئے تھے، اتنا مزا آیا، اتنا مزا آیا کہ کیا بتاؤں۔ اس کے بیچ میں باپ نے شاید کچھ اور کہا یا کھانسا تو بچے کو لگا، جیسے باپ نے یہ جملہ سنا نہیں ہوگا۔ اس نے یہی جملہ دہرایا کہ اتنا مزا آیا، اتنا مزا آیا کہ کیا بتاؤں، سب ٣٠، ٤٠ روپے لے گئے تھے اپنے ساتھ، میں نے امی سے ضد کی، امی نے مجھے بھی پیسے دیدیئے۔ پھر باپ سے کہنے لگا کہ اگر تم بھی چالیس، پچاس روپے اپنے ساتھ لے کر آجاتے نا تو تمہیں بھی بہت مزا آتا۔ اس طرز تخاطب پر مجھے شک پڑا جیسے کہ یہ وہ اس کا باپ نہیں۔ لیکن بچہ نے تھوڑی دیر بعد دوبارہ سے اس کو پاپا، پاپا کہہ کر بلایا۔۔۔۔۔۔۔ کراچی کی کچھ آبادیوں میں ماں، باپ کو تم کہہ کر ہی مخاطب کیا جاتا ہے۔ رامسوامی کا علاقہ اس حوالہ سے کافی مشہور ہے۔
خیر، بچہ اور اس کا باپ سہراب گوٹھ سے کچھ آگے اتر گئے۔ گھر آکر جب میں نے یہ باتیں بتائیں تو امی نے بتایا کہ اسی بچے کی امی ان سے سارا وقت لگی رہیں اور بتاتی رہیں کہ نند کی شادی ہورہی ہے، اتنی جلدی میں کررہے ہیں، اس کا جہیز تیار کرلیا ہے، ہماری شاپنگ نہیں ہوئی ہے، ابھی کارڈ دے کر آرہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ شاید بچہ کو اتنا بولنے کی عادت اپنی ماں سے منتقل ہوئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تھیں تین دن کی خاص خاص باتیں۔
میرے پاس جن جن دوستوں کے موبائل فون نمبرز ہیں، ان کو میں نے عید مبارک کے پیغامات بھیجے تھے، نیٹ ورک کے مسائل کی وجہ سے پتا نہیں، کس کس کو ملے اور کسے نہیں۔ تو ایک بار تمام دوستوں، ساتھیوں کو بہت بہت عید مبارک

عید مبارک

650 views December 21, 2007 | راہبر
No Gravatar

تمام معزز قارئین کو بہت بہت
عید مبارک

عید کا پہلا دن تو بور ہی گزرا ہے۔۔۔۔ آج شام کو نانی کے آگیا ہوں۔ اب دیکھتے ہیں بقیہ دو دن کیسے گزریں گے۔ ایک دو موضوعات ذہن میں ہیں لیکن لکھنے کو فی الحال وقت نہیں۔ پھر کبھی سہی!

ورڈ پریس پلگ۔انز

609 views December 19, 2007 | راہبر
No Gravatar

میں نے اردو ٹیک بورڈ پر ورڈ پریس کی پلگ۔انز کے بارے میں لکھنا شروع کیا ہے جس میں ورڈ پریس کی مختلف پلگ۔انز کا تعارف اور ان کا فائدہ بتایا جائے گا۔ آپ لوگ درج ذیل ربط پر کلک کرکے ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
اردو ٹیک بورڈ۔ ورڈ پریس پلگ۔انز
اس سلسلہ میں نہ صرف آپ کی آراء اور تجاویز مفید ثابت ہوں گی بلکہ اگر آپ ورڈ پریس کی کسی پلگ۔ان کے بارے میں جانتے ہیں تو ہمیں اشتیاق ہے کہ آپ بھی وہاں اس بارے میں تحریر کریں۔
اردو ٹیک بلیٹن بورڈ پر ورڈ پریس اور بلاگز سے متعلقہ مسائل بیان کیے جاتے ہیں اور اس سے ہٹ کر بھی مختلف موضوعات پر معلوماتی گفتگو ہوتی ہے۔ آئیں! آپ بھی اردو ٹیک بلیٹن بورڈ کا حصہ بنیں۔

Protected: نور کی واپسی

422 views December 18, 2007 | راہبر
No Gravatar

This post is password protected. To view it please enter your password below:


بلاگ کا مرکزی صفحہ تبدیل کریں

415 views December 18, 2007 | راہبر
No Gravatar

جب آپ کوئی بلاگ کھولتے ہیں تو “سرورق” یا “ہوم پیج” کھلتا ہے جس پر تازہ ترین تحاریر موجود ہوتی ہیں۔ اگر آپ اس صفحہ کے بجائے کوئی خاص صفحہ کھولنا چاہتے ہیں، مثلا اپنے تعارف کا صفحہ، یا کسی اعلان پر مشتمل یا خبر دینے والا صفحہ تو اس کے لیے آپ درج ذیل طریقہ پر عمل کیجئے۔
(واضح رہے کہ یہ طریقہ ورڈ پریس کے صارفین کے لیے لکھا جارہا ہے)
1۔ اپنے بلاگ پر لاگ۔ان ہوجائیں۔
2۔ ڈیش بورڈ پر مینیو سے “آپشنز” پر کلک کریں۔
3۔ سب۔مینیو سے “ریڈنگ” (Reading) پر کلک کریں۔
5۔ Reading Options میں پہلا عمل ہی پہلے صفحہ کے بارے میں ہے۔ دیکھئے: Front Page
6۔ Front Page Display کے نام سے آپ کے سامنے ایک آپشن ہوگا جو آپ کو پیشکش کرے گا کہ آپ اپنے بلاگ کا فرنٹ پیج اپنی تازہ ترین تحاریر والا رکھیں گے یا کوئی ساکت صفحہ (A Static Page)
7۔ آپ Static Page کو منتخب کریں اور اس کے سامنے موجود لسٹ سے اپنا وہ صفحہ منتخب کرلیں جو کہ آپ پہلے صفحہ پر ظاہر کروانا چاہتے ہیں۔
8۔ Update Options کے بٹن پر کلک کردیں۔
9۔ لیجئے۔ کام مکمل! اپنا بلاگ چیک کریں۔
تصویر ملاحظہ ہو:
ImageShack

اب شاید کوئی سوچے کہ بھلا اس کا کیا فائدہ ہوگا؟
ہممم۔۔۔۔ اس کا فائدہ یہ ہوسکتا ہے کہ اگر آپ نے اپنا بلاگ مخصوص لوگوں کے لیے بنایا ہے تو آپ ایک صفحہ لکھ لیں جس میں بلاگ کے بارے میں تفصیل ہو اور اس صفحہ کو فرنٹ پیج کی حیثیت سے رکھ دیں تاکہ بلاگ پڑھنے سے پہلے قارئین بلاگ کے مندرجات سے آگاہ ہوسکیں۔
اس کے علاوہ اگر آپ کچھ عرصہ کے لیے بلاگ لکھنا بند کررہے ہیں یا اچانک کوئی اہم بات ہوگئی ہے یا کچھ خاص خبر بتانا چاہتے ہیں تو اس کا ایک صفحہ بنا کر آپ اسے فرنٹ پیج پر رکھ سکتے ہیں تاکہ آپ کے بلاگ پر آنے والے قارئین اس سے باخبر ہوجائیں۔