No Gravatar

اچانک ہی اردو بلاگنگ پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔۔۔ لوگوں کو تشویش لاحق ہے۔۔۔ آج ہی مجھے دو/ تین جگہ اس بارے میں پڑھنے کو ملا۔۔۔ تو سوچا کہ کیوں نہ اپنی رائے کا اظہار بھی کیا جائے۔۔۔۔۔!
میں 2007ء کے اوائل میں اردو محفل پر پہنچا اور وہاں سے مجھے کئی نئی نئی باتیں پتا چلیں۔۔۔ بلاگ بھی ان ہی میں سے ایک ہے۔ اردو محفل پر اور ایک معروف بلاگر شاکر عزیز کے بلاگ سے مجھے ورڈ پریس اور اس کو اردو کے قابل بنانے کا طریقہ پتا چلا۔۔۔ یوں میں نے مارچ 2007ء میں باقاعدہ بلاگنگ کا آغاز کیا اور پھر یہ سفر چلتا ہی رہا۔
وہی، شاکر والی بات۔۔۔۔۔ کہ میں ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا۔۔۔ جس کے والد نے اپنی محنت سے خطاطی کا فن اپنایا اور پھر ہماری قوم نے یہ فن چھوڑ کر کمپیوٹر کی لکھائی کی ترجیح دی۔ یوں اپنے والد کا ہاتھ بٹانے کے لیے مجھے میٹرک کے بعد کمپیوٹر کے شعبہ میں جیسے تیسے جان کر ملازمت اختیار کرنی پڑی۔۔۔ (میرے دو تعلیمی سال بھی اس کی نذر ہوگئے۔۔۔۔) :(
خیر۔۔۔۔۔! میرے اور میرے آس پاس کے لوگوں کے کیا مسائل ہیں؟ یا وہ لوگ کس طرح سوچ رہے ہیں۔۔۔؟ عموما میری تحریروں کا مرکز یہی باتیں ہوتی ہیں۔۔۔ یا پھر سیاست۔۔۔ اور یہ صرف اسی لیے ہوتی ہیں کیونکہ مجھے اپنے آس پاس کوئی ایسا نہیں ملتا جس سے میں یہ باتیں کرکے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرسکوں۔۔۔! میرے ملنے جلنے والے لوگ انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ اگر بہت زیادہ ہے تو وہ خاندان میں تھوڑا بہت کہ دو/ تین مہینوں میں کسی سے ملاقات ہوگئی تو ٹھیک، نہیں تو نہیں۔۔۔۔۔! میرا جو کچھ ہے، وہ یہی دن بھر کی ملازمت کے بعد کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی دنیا ہے جہاں دوست بھی ہیں اور مجھے برداشت کرنے والے بھی۔۔۔!
لیکن ایسا ہر کسی کے ساتھ نہیں ہے۔۔۔ میں نے اپنے سے ڈیڑھ سال چھوٹے بھائی کو کئی مرتبہ بلاگنگ اور اردو محفل کی طرف آنے کا کہہ چکا ہوں لیکن اسے یہ سب محض بکواس لگتا ہے۔ مجھے اکثر بلاگ لکھتے ہوئے، یا دوسروں کا بلاگ پڑھتے ہوئے یا اردو محفل کے لیے کوئی کام کرتے ہوئے دیکھ کر وہ مجھے کہتا ہے کہ پاگل ہو، وقت ضائع کررہے ہو۔۔۔۔۔۔ :( میرے چچا زاد، ماموں زاد، پھوپھی زاد، سب کا یہی حال ہے۔۔۔۔ ان کے لیے ایسے کاموں سے بہتر ہے کہ وہ یوٹیوب سے ویڈیوز ڈاؤنلوڈ کریں، گانے سنیں، اورکٹ یا چیٹ رومز میں اپنا ٹائم پاس کریں (یا پھر بلیو پرنٹ۔۔۔۔)
ایسی صورتحال میں، میں کیا کرسکتا ہوں؟ چند بار اس موضوع پر بات کرنے کی کوشش بھی کی تو رد عمل یہ تھا کہ میرے بولنے کے دوران وہ لاتعلقی اور بوریت کا اظہار کرتے رہے۔۔۔ کسی کو دلچسپی ہی نہیں ہے ایسی باتوں سے۔۔۔!
دوسری بات۔۔۔۔۔ اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ اردو لکھنا اب کتنا آسان ہوگیا ہے۔۔۔۔۔ کتنی سہولیات میسر ہیں۔۔۔ بلاگنگ کیا ہے؟ کیا فوائد ہیں۔۔۔؟ کتنی آسانیاں ہیں۔۔۔۔؟
شاید ہمیں اس بات کا احساس دلانے کے لیے اورکٹ اور چیٹ رومز یا ایسی ہی دوسری چیزوں کا سہارا لینا پڑے۔۔۔۔۔!
ویسے زکریا صاحب نے لکھا ہے کہ پاکستانی بلاگرز کم نہیں، لیکن اردو میں لکھنے والے کم ہیں۔۔۔ اس افسوسناک حقیقت کی کیا وجہ ہے؟ کیا ہم پاکستانیوں کی اکثریت اردو پر انگریزی کو اس قدر ترجیح دیتی ہے؟ اس کے لیے تو ہمیں فروغِ اردو مہم چلانی پڑے گی۔۔۔۔۔۔!

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔