میرے ہم وطنو! احتجاج کرو
94 views November 6, 2007 | راہبرمیرے عزیز ہم وطنو!
وہ میرے اور آپ کے آباء و اجداد تھے جنہوں نے جانی و مالی قربانیاں دے کر اس پیارے ملک کو حاصل کیا تھا۔۔۔ یہ میرا پیارا وطن۔۔۔ میرے شاعرِ مشرق حکیم الامت کا خواب۔۔۔ میری قائد کی جہدِ مسلسل کا نتیجہ۔۔۔ لیکن میرے شاعرِ مشرق نے ایسے وطن کا خواب ہرگز نہ دیکھا تھا جیسا اس وطن کو کردیا گیا۔۔۔ میرے قائد نے ہرگز ایسا پاکستان نہ چاہا تھا جیسا اس ملک کے جابر و ظالم حکمرانوں نے اس ملک کا حال کیا ہے۔۔۔ آج ہم اپنی چھوٹی سے چھوٹی چیز سے پیار کرتے ہیں، اس کا خیال کرتے ہیں۔۔۔ پھر ایسا کیوں کہ دھرتی نے ہمیں گھر دیا، روزگار دیا، جینے کے مواقع فراہم کیے، اس دھرتی کے ساتھ جو چاہے، جیسا چاہے، کرتا رہے اور ہم آنکھیں پھیرے بیٹھے رہیں۔
غلطیوں کا ادراک کرنا اور اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافی پر احتجاج کرنا آپ کا حق ہے۔ میرے ہم وطنو! ظالم کو اتنی آزادی نہ دو کہ وہ خود کو مادر پدر آزاد تصور کرنے لگے۔ آج ہم میں سے ہر شخص ملکی صورتحال پر بات کرتا ہے، افسوس کا اظہار کرتا ہے۔۔۔ غصہ کرتا ہے۔۔۔ لیکن ایک پل کو آنکھیں بند کرو۔۔۔ سوچو! یہ باتیں کرکے چپ ہوجانا۔۔۔ یہ غصہ کا اظہار کرکے دوبارہ اپنی دنیا میں مگن ہوجانا۔۔۔ افسوس کرکے پھر سے زندگی میں کھوجانا۔۔۔ کیا یہ سب ہمارے مسائل کا علاج ہے؟ کیا اتنا کچھ کرکے ہم اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوگئے؟ یہ تو ہماری بے حسی کا ثبوت ہے۔۔۔ بے حس ہونے کا عملی مظاہرہ ہے۔ یاد رکھو اے پاکستانیو! یاد رکھو کہ جو شخص عملی قدم اٹھانا نہیں چاہتا۔۔۔ جو انسان عملی میدان میں آنے سے دلچسپی نہیں رکھتا۔۔۔ جو کوئی عملی طور پر کچھ کرنے سے گھبراتا ہے۔۔۔ ڈرتا ہے۔۔۔ اسے باتیں بنانے کا۔۔۔ ملکی حالات پر افسوس کرنے کا۔۔۔ غمزدہ ہونے کا۔۔۔ کوئی حق نہیں، کوئی حق نہیں، کوئی حق نہیں۔
اے میری ارضِ پاک پر بسنے والو! ظلم مت سہو۔ زندہ قومیں اس طرح نہیں کرتیں۔ زندہ قومیں اپنے اوپر ہونے والے ظلم پر۔۔۔ اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں پر احتجاج کرتی ہیں۔ اے پاکستانیو! زندہ قوم ہونے کا ثبوت دو۔۔۔ میرے ہم وطنو! احتجاج کرو۔
