No Gravatar

موبائل فون کا استعمال جیسے جیسے بڑھا ہے، نت نئے سیٹ آنے لگے ہیں۔۔۔ ساتھ ہی ساتھ موبائل فون کی چوری اور چھینے جانے کی وارداتیں بھی بہت عام ہوگئی ہیں۔
اوہ۔۔۔! یہ تو میں ایسے بتارہا ہوں، جیسے کوئی نئی بات ہو۔ نہیں جی! نئی بات نہیں ہے۔۔۔ بہت عرصہ سے یہ سلسلہ جاری ہے۔۔۔ گزرے 30 رمضان المبارک کو اسامہ (چھوٹا بھائی) سبزیاں وغیرہ لینے گیا تو اس کی جیب سے اس کا موبائل فون نکال لیا گیا۔۔۔ پتا ہی نہیں چلا۔۔۔ بے چارے نے کئی مہینوں تک پائی پائی جمع کرکے چار/ ساڑھے چار ہزار کا لیا تھا۔۔۔ مجھے تو یہی سوچ سوچ کر افسوس ہوتا رہا کہ اس کے دل پر کیا بیتی ہوگی۔۔۔۔۔۔ چرانے والا تو چرا لے گیا۔۔۔ کمینہ!
پچھلے ہفتہ امی بس میں آرہی تھیں۔ کسی نے ان کے پرس سے موبائل نکال لیا۔۔۔ خواتین بھی چوری، ڈکیتی میں بہت آگے ہیں یہاں۔۔۔۔ بس۔۔۔۔ کیا کریں جی۔۔۔!
کچھ عرصہ پہلے میرا چچا زاد بھائی آصف اپنے دوستوں کے ساتھ جارہا تھا۔ دو/ تین لڑکے آگئے اور موبائل مانگنے لگے۔ سب دوستوں نے دیدیئے۔ آصف کے پاس تھا ہی نہیں۔۔۔ اس نے کہہ دیا کہ بھئی میرے پاس نہیں ہے۔۔۔ وہ سمجھے، مذاق کررہا ہے تو آصف کی تلاشی لی۔ موبائل تھا ہی نہیں، نکلتا کہاں سے۔۔۔ جب نہیں ملا تو کھینچ کے گال پر چانٹا رسید کیا۔۔۔۔ اور کہنے لگے۔۔۔ ابے جب تیرے سارے دوستوں کے پاس موبائل ہے تو تیرے پاس کیوں نہیں ہے۔۔۔ یہ کہہ کر چلے گئے۔۔۔ اور بے چارہ آصف۔۔۔ گال سہلاتا رہا۔۔۔!

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔