No Gravatar

کل روزنامہ “ایکسپریس” کراچی کی اتوار کی اشاعت میں شامل میگزین کا مطالعہ کرتے ہوئے میری نظر سے درد بزمی (راولپنڈی) کی ایک تخلیق گذری جو واقعی بہت لاجواب اور موقع محل کی مناسبت سے ہے۔ آپ بھی لطف اندوز ہوں:

تیرے ہاتھ میں ڈور ہے آقا، کھیل تمہارا کٹھ پتلی
نام ہمارا کٹھ پتلی ہے، کام ہمارا کٹھ پتلی

جو کروانا ہے کروا لو، جو منوانا ہے منوا لو
دیس ہے سارا حبس کا مارا، ملک ہے سارا کٹھ پتلی

تم جو کہو تو شب کو کہیں دن، دن کو کہیں بن دیکھے شب
دن کا سورج، رات کا چندا، صبح کا تارا کٹھ پتلی

ہم کو لفظِ قوم کے معنی بالکل ہی معلوم نہیں
سولہ کروڑ انسانوں کا یہ مجمع سارا کٹھ پتلی

دہشت گرد کہو اب ہم کو، کل پھر کہہ لینا ہیرو
سوچ کا دریا سونا چاندی، سوچ کا دھارا کٹھ پتلی

حکم پہ تیرے ہم نے جن کو ملک بدر کرڈالا تھا
حکم سے تیرے لے آئیں گے صدر ہمارا کٹھ پتلی

دور سے بیٹھ کے تم نے ہم کو خوب غلام بنایا پھر
اس خطے کے امبر پر چمکے ہر تارا کٹھ پتلی

باغِ جناح میں درد کا قائد آنکھیں موندے روتا ہے
خود مختار چمن کا ہر پل دیکھ نظارا کٹھ پتلی

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔