دستک
برادران! السلام علیکم۔
کیا آپ جانتے ہیں؟
۔۔۔۔۔۔ آپ کے ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کرکے آپ کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کردیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔ وزیرستان کے بعد سوات میں بھی طالبان مضبوط ہورہے ہیں اور لوگ انھیں اپنا نجات دہندہ سمجھ رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔ جب آپ عید منا رہے تھے تووزیرستان میں پاکستانی فوج کی بمباری سے متاثر پاکستانی پناہ کی تلاش در در کی ٹھوکریں کھارہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔ وکلاء اور صحافی سڑکوں پر پٹ رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔ جب آپ روزی روٹی کی فکر میں مبتلا ہوتے ہیں، کچھ سرپھرے اس ملک کے بقاء کے لیے پولیس کے ڈنڈے اور گالیاں کھارہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔ معزز جج صاحبان جنہوں نے آمری حکم کے تحت حلف نہ اٹھا کر اپنے آپ سے اپنی روزی روٹی بھی چھین لی اب اپنے گھروں اور نامعلوم مقامات پر مقید ہیں۔
۔۔۔۔۔۔ جن سے انصاف کی امید پیدا ہوئی تھی وہ سپوت ہی آپ سے چھین لیے گئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔ بلوچستان اور سندھ سے سینکڑوں لوگ اس طرح غائب ہوچکے ہیں کہ ان کی لاشیں بھی نہیں ملیں۔
۔۔۔۔۔۔ عدالتیں ان مظلوموں کو ان کے خاندان تک پہنچانے کی جدوجہد کررہی تھیں لیکن ان کی پیش قدمی ایک ظالم نے روک دی۔
ڈرئیے اس وقت سے:
۔۔۔۔۔۔ جب یہ آگ آپ کے گھر تک آپہنچے۔
۔۔۔۔۔۔ جب آپ کو اپنا حق حاصل کرنے کے لیے بندوق اٹھانی پڑے۔
۔۔۔۔۔۔ جب آپ کے ”اپنے” اپنی ہی فوج کے ہاتھوں مروا کر اس کے خلاف خودکش بمبار بن جائیں۔
۔۔۔۔۔۔ جب آپ کا ملک، یہ سائبان ٹوٹ کر بکھر جائے۔
۔۔۔۔۔۔ جب آپ کے بیٹے، بھائی اور سرتاج کو ایجنسیاں اٹھا کرلے جائیں اور اس کی لاش بھی دریافت نہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔ جب امریکہ یہاں اپنی فوجیں یہ کہہ کر اتار دے کہ اس ملک کے ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔
یاد رکھیے:
۔۔۔۔۔۔ جس قوم میںانصاف نہیں رہتا وہ قوم بھی مٹ جاتی ہے اور آپ سے انصاف کی آخری امید بھی چھین لی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔ وہ جرات جو ساٹھ سال کے بعد نظامِ عدل میں پیدا ہوئی تھی فوجی بوٹوں تلے کچل دی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔ آپ کی آنکھوں پر بے خبری کے پردے تان دئیے گئے ہیں لیکن حقائق بہت تلخ ہیں۔
احتجاج کیجیے:
آمریت کے خلاف۔
ظلم کے خلاف۔
انصاف کے لیے۔
اپنے ملک کی بقاء کے لیے۔
اپنے سائبان کے تحفظ کے لیے۔
ان وکلاء کے ساتھ جو جیلوں میں سڑ رہے ہیں، گالیاں اور لاٹھیاں کھا رہے ہیں صرف آپ کے لیے۔
یاد رکھیں! احتجاج میںشامل ہونا آپ کا فرض ہے
اپنی طاقت کے مطابق احتجاج ضرور کیجیے
سڑکوں پر آکر
اپنے احباب کو تبلیغ حق کرکے
اپنے گھر پر سیاہ پرچم لہرا کر
اپنے بازو پر سیاہ پٹی باندھ کر
احساس دلائیے کہ آپ زندہ قوم ہیں
ابھی آپ بے حس نہیں ہوئے
ابھی آپ کو پیٹ کی اتنی فکر نہیں پڑی کہ اپنا ملی اور دینی فرض بھول جائیں۔
ابھی آپ میں خودی باقی ہے
یاد رکھیں آپ ہی اصل طاقت ہیں۔ اوپر بیٹھے سب ریت کا ڈھیر ہیں جو پھونکوں سے اڑ جائیں گے۔ اٹھئے کہ یہی وقت عمل ہے۔ اگر اب بھی نہ کرسکے تو کبھی نہیں کرسکیں گے۔ خدارا! اپنا حق پہچانئے، اپنا فرض پہچانئے اور دوسروں کو اس کا احساس دلائیے۔
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ والسلام
(پرچے کے لکھنے والے کو کسی بزرگ نے خواب میں آخر بشارت نہیں دی لیکن اسے اپنے رب سے یہ امید ہے کہ اس کام کے بدلے وہ اس کے
ساتھ کچھ اچھا کرے گا۔ آپ سے التماس ہے کہ اس پرچے کو چھپوا کر آگے تقسیم کریں۔ فرض کے طور پر، ثواب کے طور پر یا حق سمجھ کر)
اس تحریر کے لیے شاکر عزیز کا شکریہ۔
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
November 8, 2007 بوقت 6:41 am
اللہ ہماری قوم کو سمجھ عطا فرمائے
November 8, 2007 بوقت 10:36 am
ظالمو کے ظلم کی
جلد ہوگی
ٹھاہ
November 8, 2007 بوقت 10:38 am
سچ کہتے ہو عمار