شہری شعور
ڈھنڈورا مچا ہے، رونا پیٹنا جاری ہے کہ ہماری قوم سوئی پڑی ہے، لوگ چپ ہیں، ظلم کے خلاف آواز بلند نہیں کی جارہی، احتجاج نہیں ہورہا۔۔۔ قوم کو بے حس بھی کہا جارہا ہے۔۔۔ لیکن کل ایک نکتہ میرے ذہن میں مسلسل گردش کرتا رہا کہ اصل کمی ہے “شہری شعور” کی۔ (سِوِک سینس کا ترجمہ یہی ہے نا؟)
ہماری قوم کو شہری شعور نہیں ہے۔ ہمارے کیا حقوق ہیں، کیا فرائض ہیں، کن باتوں کا کیا اثر ہوتا ہے؟ ان باتوں کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔ ہمارے تعلیمی نصاب کا تو خیر سے کیا رونا رویئے، پڑھے لکھے لوگوں کو بھی جاہل ہی رکھتا ہے۔ ہمارے پچھتر فیصد سے زیادہ مسائل کا حل صرف اور صرف “شہری شعور” کا بیدار ہونا ہے۔
یہ مسائل صرف سیاسی نہیں، بلکہ سماجی اور معاشرتی بھی ہیں۔ ٹریفک جام کا مسئلہ ہو یا مہنگائی کا، حکومت کے مظالم ہوں یا مافیا کے کارنامے، کچھ بھی ہو۔۔۔ اگر شہری شعور بیدار ہوجائے تو سمجھ لیں کہ ہم نے آگے بڑھنا شروع کردیا۔ لیکن یہ بات کہنے میں بہت آسان اور مختصر ہے، عملی زندگی میں بہت مشکل۔ (لیکن ناممکن نہیں!)
اب یہ شہری شعور بیدار کیسے ہوگا؟ یہ ایک غور طلب سوال ہے۔ میرا خیال ہے کہ مختصر اور جامع تحاریر لکھی جائیں اور ان کو تقسیم کیا جائے، سیمینارز وغیرہ کا اہتمام کیا جائے، وغیرہ وغیرہ۔۔۔ لیکن یہ سارا کام باقاعدہ طویل المدت منصوبہ بندی کے تحت کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ فی الوقت ہم قوم کی بے حسی پر جس طرح رو رہے ہیں، خدانخواستہ اگر مستقبل میں کوئی دوسری افتاد آن پڑی، تب بھی ہماری حالت اس سے زیادہ مختلف نہ ہوگی (بلکہ شاید بدتر ہی ہوجائے)۔
مجھے اس سلسلہ میں تجاویز اور آراء کا انتظار رہے گا۔ اپنے مخلص اور بیدار ہونے کا ثبوت دیجئے!
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
November 19, 2007 بوقت 7:31 am
شہری شعور کی جگہ معاشرتی شعور زیادہ مناسب رہے گا۔
جو قوم اس وقت سوئی ہوئی ہے اسی قوم نے بڑی بڑی تحریکوں کو شروع کیا ہوا ہے۔ بس نسل در نسل دھوکے کھا کر بے حس ہوتی گئی ہے۔ فکر نہ کرو ہم لوگ فکری اور عملی طور پر تمہارا ساتھ دیں گے۔
November 19, 2007 بوقت 8:31 am
منصوبہ بندی تو طویل المدتی ہی کرنی ہوگی خیر۔ چلو بھائی دیکھتے ہیں کیا صورت حال بنتی ہے۔
ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔ :idea:
November 19, 2007 بوقت 9:31 am
اشتہار لکھ کر بانٹ دینا زیادہ مشکل نہیں لوگوں کو اسے غور سے پڑھنے پر مجبور کرنا بہت مشکل ہے ۔
November 19, 2007 بوقت 10:05 pm
یار کئی جگہوں پر تو مجھے بھی بہت غصہ آتا ہے۔ آج سے چند سال قبل کراچی میں نئی بسیں چلی تھیں (اربن ٹرانسپورٹ سروس کے نام سے) میں نے خود ان نئی بسوں کے اندر لوگوں کو کھڑکیاں اور سیٹوں کے ساتھ “کھلواڑ” کرتے دیکھا ہے۔ اس کے علاوہ ٹریفک جام کا بڑا سبب بھی ہم لوگوں کی جلد بازی ہوتی ہے لیکن ان تمام واقعات سے جو بات میرے سمجھ میں آئی وہ یہ تھی کہ عوام بنیادی شہری ڈھانچے (انفرا اسٹرکچر) اور سرکاری املاک کو اپنی چیز نہیں سمجھتے اس لیے ان کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا جاتا ۔ اب یہ کام حکومت کے کرنے کا ہے کہ وہ عوام میں اپنی ایسی ساکھ بنائے اور ان میں یہ شعور اجاگر کرے کہ عوام سرکاری املاک کو بھی اپنا مال سمجھیں اور “مال مفت دل بے رحم” والا حساب نہ ہو جائے۔ بات کچھ سمجھ آئی یا نہیں؟
November 19, 2007 بوقت 10:29 pm
شکریہ نبیل بھیا۔ واقعی ماضی قریب میں بڑی بڑی تحریکوں کو قوم کا تعاون ملا لیکن ان میں سے اکثر تحاریک کے بعد قوم کو کچھ خاص فائدہ نہیں ہوا بلکہ ایک مخصوص طبقہ نے فائدہ اٹھایا۔ اسی لیے ہماری قوم اب یہ سوچ کر بیٹھی ہے کہ کچھ کرنے کا فائدہ ہی کیا ہے؟ ہمیں تو نقصان ہی ہونا ہے۔
ویسے آپ کی تجاویز بہت اہم ہیں۔ آپ کے بلاگ پر پڑھی تھی میں نے آپ کی تحریر۔۔۔ اب محفل کی طرح اس موضوع کو چھوڑنا نہیں ہے۔۔۔ پکڑے رہنا ہے۔۔!
شاکر بھائی! میرا پاؤں ہاتھی کا پاؤں نہیں۔۔۔۔
اجمل صاحب! میرا خیال ہے کہ اگر ہم 100 لوگوں کو بھی پرچے دیں تو ان میں سے 50، 60 لوگ تو پڑھ ہی لیں گے (اگر پڑھے لکھے ہوئے تو۔۔۔) :wink:
فہد بھائی! ہماری پبلک ٹرانسپورٹ کا حال تو نہ ہی بیان کیجئے۔۔۔ بہت ہی اعلیٰ معیار ہے۔
November 19, 2007 بوقت 10:51 pm
میں اس کو اجتماعی زندگی کا شعور کہتا هوں جس کی ہماری قوم میں کمی ہے ـ
اور ميں اپنی تحاریر میں بهی اس کا ذکر کرتا رهتا هوں ـ
ہمیں ٹیم ورک نہیں آتا
یہاں سارے کپتان هی کهیلنا چاهتے هیں ـ
گول کیپر کوئی نہیں ـ
November 22, 2007 بوقت 5:48 am
اس شعور کا اجاگر کرنا پڑتا ہے جس کی بنیادی ذمہ داری والدین ، اساتذہ ، دانشوروں اور ذرائع ابلاغ پر عائد ہوتی ہے۔
بدقسمتی سے قوم کو بنانے والے اقدامات پر سب سے کم توجہ دی گئی ہے۔
بہرحال جو فرد بھی قوم بنانے کے عمل میں حصہ لیتا ہے ، قابل قدر ہے۔
November 22, 2007 بوقت 3:05 pm
شدید چوٹ کی صورت میں کبھی کبھار جسم تھوڑی دیر کو سُن ہو جاتا ہے۔۔اسی طرح پاکستانی عوام پے درپے اتنے دھچکوں سے گزری ہے کہ وقتی طور پر بے حس ہونا انہونی نہیں۔۔۔ سوک سینس یا معاشرتی شعور کسی بھی معاشرے کی مجموعی حالت اور سوچ کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ اس کا ماخذ بھی معاشرے کی روایات اور حالات ہیں۔۔۔ سرکاری املاک و انفرا سٹرکچر کے ساتھ عوام کا لاپروایانہ سلوک سرکار اور سیاست کے ساتھ جذباتی غیروابستگی کا اظہار ہے۔۔صورتِحال کو بہتر بنانے کے لئے ‘سوچ’ میں تبدیلی ضروری ہے۔۔
۔سیاسی و سماجی ہر دو سطح کے رہنما جب تک حالات کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے اپنا کردار ادا نہیں کریں گے تب تک کوئی بڑی تبدیلی آنا مشکل ہو گا۔
۔۔۔ تقاریر، سیمینار اور پرچے چھپوا کر تقسیم کرنا یقیناً کسی حد تک مفید ثابت ہونگے لیکن یہ بھی دیکھا جائے کہ یہ طریقہ صرف پڑھے لکھے طبقے کو فوکس کرتا ہے۔۔اصل مسئلہ ہے عوام کی وہ اکثریت جو یا تو ان پڑھ ہے یا پڑھے لکھے ہونے کے باوجود غمِ دوراں کے چکر میں اس بری طرح پھنسی ہوئی ہے کہ احتجاج،شہری حقوق اور ان کے حصول کے لئے آواز بلند کرنے کے لئے ان کے پاس کچھ وقت نہیں ہے۔۔۔
طویل المدت منصوبہ بندی کا ایک اہم عنصر نئی نسل پر توجہ دینا ہے۔۔۔ میرا ماننا ہے کہ تعلیمی نظام و نصاب میں تبدیلی ہی اجتماعی معاشرتی سوچ کو ایک نئی نہج پر چلا سکتی ہے۔۔ظاہر ہے کہ یہ عام آدمی کے دائرہ کار سے باہر ہے۔۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنا کردار اس طرح ادا کر سکتے ہیں کہ اپنے گھر کے بچوں کو معاشرے کی موجودہ بےحسی کا شکار ہونے سے بچائیں۔۔کیونکہ موجودہ نسل میں کم از کم کچھ لوگ تو ہیں جو قوم کی دگرگوں حالت پر کڑھتے ہیں لیکن اگر حالات ایسے ہی رہے تو ایک وقت آئے گا جب بےحسی اپنی انتہا پر پہنچ جائے گی۔
November 22, 2007 بوقت 10:30 pm
اتنے جامع تبصرے پر بے حد شکریہ آپ کا۔