No Gravatar

پاکستان میں ہنگامی حالت کا نفاذ ہوئے چار گھنٹے ہونے کو آئے ہیں۔ پاکستان کے “فوجی صدر” جنرل پرویز مشرف نے اپنے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کا ثبوت دیتے ہوئے شام چھ بجے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین معطل کردیا اور چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری کو ان کے عہدے سے برطرف کرکے ظاہر کردیا کہ ان ۔۔۔۔۔۔۔ حکمرانوں کا اصل مقصد کیا ہے۔
آج صبح روزنامہ ایکسپریس کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے شک ہو چلا تھا کہ کوئی نہ کوئی گڑبڑ بہت جلد ہونے والی ہے اور وہ ہو رہی۔ شام کو میرے موبائل پیغام کے جواب میں محب بھائی کی بھی فون کال آگئی۔ انہوں نے بھی غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ شخص چار کاندھوں ہی پر جائے گا۔
میں زبان سے کبھی گالی نہیں دیتا لیکن آج دل ہی دل میں بے شمار گالیاں بے ساختہ دی ہیں۔ یہ شخص پرویز مشرف مجھے جو تھوڑا بہت پسند تھا، اب اتنا ہی ۔۔۔۔۔ انسان لگتا ہے۔ چار کاندھوں پہ تو یہ جب جائے گا تو جائے لیکن پہلے میری طرف سے اس پر چار حرف۔ ل ع ن ت
ہنگامی حالت کے نفاذ کا جو فرمان جاری کیا گیا ہے اس میں تمام تر ذمہ داری عدلیہ ہی پر ڈالی گئی ہے کہ عدلیہ کی وجہ سے ملک کے انتظامی امور متاثر ہورہے تھے، عدلیہ دہشت گردوں کو رہا کروارہی تھی، عدلیہ سرکاری افسران کو لتاڑ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عدلیہ یہ کررہی تھی، عدلیہ وہ کررہی تھی۔۔۔۔۔۔ بکواس بھری ہے۔
شب گیارہ بجے ملک کے ۔۔۔۔۔۔ شخص پرویز مشرف پاکستانی قوم سے بکواس کرے گا۔ تمام نجی چینلز کی نشریات اکثر علاقوں ہی میں بند ہیں اور صرف ایک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پٹا ہوا پی ٹی وی ہے جو پرویزی مؤقف بیان کررہا ہے۔
میں اس وقت غیظ و غضب میں بھرا ہوں۔ کسی کو اس تحریر میں کچھ برا لگتا ہے تو لگا کرے۔
پرویز مشرف پر ایک بار پھر ل ع ن ت
اس تحریر میں بہت کچھ لکھا تھا لیکن جب امی، ابو کے سامنے ذکر کیا تو مجھے اتنی ڈانٹ پڑی کہ کوئی حد نہیں۔ ایسا ہرگز نہیں کہ انہیں پرویز مشرف یا ایسے کسی اقدام سے ہمدردی ہے بلکہ وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ مجھے کچھ نہ ہوجائے۔ حالانکہ میں نے ان سے بہت بحث کی کہ سب لوگ اب تک چپ رہتے ہیں لیکن میں بولوں گا۔۔۔۔ اس پر والد صاحب کو مزید غصہ چڑھ گیا۔۔۔۔ :(

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔