No Gravatar

اب ہم (بلاگرز) جب احتجاج کے لیے تیار ہونے لگے ہیں، بلکہ تیار ہونے کے بعد جب دوسروں کو اس طرف راغب کرنے لگے ہیں تو ہم سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ آپ کے یہ پرچے، یہ ترغیبات بے فائدہ رہیں گی، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ کیا عام آدمی یہ سب باتیں پڑھ کر بیچ چوک پر جا کھڑا ہوگا اور نعرے مارنا شروع کردے گا۔۔۔ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔۔۔ لوگوں کو چاہئے پلیٹ فارم۔۔۔ جب تک پلیٹ فارم مہیا نہیں ہوگا، تب تک عام بندہ گھر سے نہیں نکلے گا۔
اسلام آباد میں رہنے والوں کے لیے قدرے آسانی ہے کہ وہاں مختلف جماعتیں احتجاجی ریلیاں نکال رہی ہیں، وہاں رہنے والے ان میں شامل ہوکر اپنا فرض ادا کرسکتے ہیں۔ لیکن کراچی، لاہور، فیصل آباد وغیرہ میں رہنے والے کیا کریں؟ یہاں تو خاموشی چھائی ہے۔ کون مہیا کرے گا پلیٹ فارم؟ سیاسی جماعتوں کی خاموشی دیکھتے ہوئے میں یہی جواب دیتا ہوں کہ ہم ہی مہیا کریں گے پلیٹ فارم بھی۔
میں اپنی ان احمقانہ باتوں اور اظہارِ خیال کے باعث پچھلے دنوں جتنا بے عزت کیا گیا ہوں اور جس قدر لوگوں نے میری حوصلہ شکنی کی ہے، شاید یہ پہلی بار ہے۔ یہاں تک کہ جس شخص نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا تھا، میرا حوصلہ بڑھایا تھا، اس نے بھی مجھے اس بار اکیلا چھوڑ دیا ہے۔۔۔۔ طعنے دیئے گئے ہیں۔۔۔ دعویٰ کیا ہے لوگوں نے کہ میں ناکام ہوجاؤں گا۔۔۔ ;)
پر، میں بھی ڈھیٹ ہوں بہت۔۔۔! کچھ نہ کچھ تو کر ہی دوں گا۔۔۔ پہلے مرحلے میں، میں نے صرف سو آدمی اکٹھے کرنے ہیں۔۔۔ اس مرحلہ میں کامیابی حاصل ہوئی تو کم سے کم فی الحال تنقید کرنے اور طعنے دینے والوں کے منہ بند کردوں گا۔۔۔ ان شاء اللہ۔
اصل میں، خامی ہماری بنیاد میں ہیں۔ لوگوں کو سیاسی شعور، سیاسی تربیت نہیں دی گئی ہے۔۔۔ ان کو اپنے فرائض، اپنے حقوق ہی سے آگہی نہیں۔۔۔ سمجھتے ہی نہیں ہیں کہ ان حالات سے ان پر کیا اثر پڑتا ہے۔۔۔ کیا فرق پڑ رہا ہے۔۔۔۔ بس کندھے اچکاکر اتنا کہہ دیتے ہیں کہ یار، جو بھی ہوتا ہے ہوا کرے، ہمیں کیا؟ :(
مجھ سے لوگ کہتے ہیں کہ سیاست ہم مڈل کلاس والوں کا کام نہیں ہے؟ کیوں؟ کیا ہم اچھوت ہیں؟ کیا ہم پر صرف براہمن حکومت کریں گے؟
کوئی کہتا ہے کہ اتنے بڑے بڑے سیاستدان ہیں، جب وہ کچھ نہیں کرسکتے تو تم کیا کرلوگے؟ میں کہتا ہوں کہ وہ کچھ نہیں کررہے، جبھی تو ہمیں کرنا ہے۔۔۔!
میں گذشتہ دو، تین دن بہت زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار رہا۔ کبھی سوچا کہ سب چھوڑ دوں، دوسروں کی طرح لاتعلق ہوجاؤں سیاست سے۔۔۔ لیکن میرا دل نہیں آتا اس طرف۔ کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی ہے۔۔۔ میں اکثر کہتا ہوں کہ مجھے جیل تو جانا ہی ہے، اس کے بغیر میں لیڈر نہیں بن سکتا۔ :)
بہرحال! اس وقت ایک ہی ضرورت ہے۔۔۔ وہ ہے ایک نئی جماعت کے قیام کی۔ ایک تحریک کی۔۔۔۔ ایک ایسی تحریک اور سیاسی جماعت کی جو کہ واقعی ہم متوسط طبقے کی اپنی تحریک ہو۔۔۔۔ جس کے راہنماؤں پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔۔۔ اور مجھے یہ قدم اٹھانا ہے جلد سے جلد۔۔۔۔
میرے جتنے قارئین اس نئی تحریک کے آغاز اور جماعت کے قیام میں دلچسپی اور اس میں شمولیت کا ارادہ رکھتے ہیں، وہ جلد از جلد مجھے آگاہ کریں تاکہ اگلا قدم اٹھایا جائے۔

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔