اردو بلاگنگ اور میرے آس پاس

544 views November 30, 2007 | راہبر
No Gravatar

اچانک ہی اردو بلاگنگ پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔۔۔ لوگوں کو تشویش لاحق ہے۔۔۔ آج ہی مجھے دو/ تین جگہ اس بارے میں پڑھنے کو ملا۔۔۔ تو سوچا کہ کیوں نہ اپنی رائے کا اظہار بھی کیا جائے۔۔۔۔۔!
میں 2007ء کے اوائل میں اردو محفل پر پہنچا اور وہاں سے مجھے کئی نئی نئی باتیں پتا چلیں۔۔۔ بلاگ بھی ان ہی میں سے ایک ہے۔ اردو محفل پر اور ایک معروف بلاگر شاکر عزیز کے بلاگ سے مجھے ورڈ پریس اور اس کو اردو کے قابل بنانے کا طریقہ پتا چلا۔۔۔ یوں میں نے مارچ 2007ء میں باقاعدہ بلاگنگ کا آغاز کیا اور پھر یہ سفر چلتا ہی رہا۔
وہی، شاکر والی بات۔۔۔۔۔ کہ میں ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا۔۔۔ جس کے والد نے اپنی محنت سے خطاطی کا فن اپنایا اور پھر ہماری قوم نے یہ فن چھوڑ کر کمپیوٹر کی لکھائی کی ترجیح دی۔ یوں اپنے والد کا ہاتھ بٹانے کے لیے مجھے میٹرک کے بعد کمپیوٹر کے شعبہ میں جیسے تیسے جان کر ملازمت اختیار کرنی پڑی۔۔۔ (میرے دو تعلیمی سال بھی اس کی نذر ہوگئے۔۔۔۔) :(
خیر۔۔۔۔۔! میرے اور میرے آس پاس کے لوگوں کے کیا مسائل ہیں؟ یا وہ لوگ کس طرح سوچ رہے ہیں۔۔۔؟ عموما میری تحریروں کا مرکز یہی باتیں ہوتی ہیں۔۔۔ یا پھر سیاست۔۔۔ اور یہ صرف اسی لیے ہوتی ہیں کیونکہ مجھے اپنے آس پاس کوئی ایسا نہیں ملتا جس سے میں یہ باتیں کرکے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرسکوں۔۔۔! میرے ملنے جلنے والے لوگ انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ اگر بہت زیادہ ہے تو وہ خاندان میں تھوڑا بہت کہ دو/ تین مہینوں میں کسی سے ملاقات ہوگئی تو ٹھیک، نہیں تو نہیں۔۔۔۔۔! میرا جو کچھ ہے، وہ یہی دن بھر کی ملازمت کے بعد کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی دنیا ہے جہاں دوست بھی ہیں اور مجھے برداشت کرنے والے بھی۔۔۔!
لیکن ایسا ہر کسی کے ساتھ نہیں ہے۔۔۔ میں نے اپنے سے ڈیڑھ سال چھوٹے بھائی کو کئی مرتبہ بلاگنگ اور اردو محفل کی طرف آنے کا کہہ چکا ہوں لیکن اسے یہ سب محض بکواس لگتا ہے۔ مجھے اکثر بلاگ لکھتے ہوئے، یا دوسروں کا بلاگ پڑھتے ہوئے یا اردو محفل کے لیے کوئی کام کرتے ہوئے دیکھ کر وہ مجھے کہتا ہے کہ پاگل ہو، وقت ضائع کررہے ہو۔۔۔۔۔۔ :( میرے چچا زاد، ماموں زاد، پھوپھی زاد، سب کا یہی حال ہے۔۔۔۔ ان کے لیے ایسے کاموں سے بہتر ہے کہ وہ یوٹیوب سے ویڈیوز ڈاؤنلوڈ کریں، گانے سنیں، اورکٹ یا چیٹ رومز میں اپنا ٹائم پاس کریں (یا پھر بلیو پرنٹ۔۔۔۔)
ایسی صورتحال میں، میں کیا کرسکتا ہوں؟ چند بار اس موضوع پر بات کرنے کی کوشش بھی کی تو رد عمل یہ تھا کہ میرے بولنے کے دوران وہ لاتعلقی اور بوریت کا اظہار کرتے رہے۔۔۔ کسی کو دلچسپی ہی نہیں ہے ایسی باتوں سے۔۔۔!
دوسری بات۔۔۔۔۔ اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ اردو لکھنا اب کتنا آسان ہوگیا ہے۔۔۔۔۔ کتنی سہولیات میسر ہیں۔۔۔ بلاگنگ کیا ہے؟ کیا فوائد ہیں۔۔۔؟ کتنی آسانیاں ہیں۔۔۔۔؟
شاید ہمیں اس بات کا احساس دلانے کے لیے اورکٹ اور چیٹ رومز یا ایسی ہی دوسری چیزوں کا سہارا لینا پڑے۔۔۔۔۔!
ویسے زکریا صاحب نے لکھا ہے کہ پاکستانی بلاگرز کم نہیں، لیکن اردو میں لکھنے والے کم ہیں۔۔۔ اس افسوسناک حقیقت کی کیا وجہ ہے؟ کیا ہم پاکستانیوں کی اکثریت اردو پر انگریزی کو اس قدر ترجیح دیتی ہے؟ اس کے لیے تو ہمیں فروغِ اردو مہم چلانی پڑے گی۔۔۔۔۔۔!

ہم چلے جِم!

306 views November 27, 2007 | راہبر
No Gravatar

اور ہم نے اپنے پھیلتے جسم کا آخر علاج سوچ ہی لیا۔۔۔۔ ایک مہینہ ہونے کو آیا ہے ہمیں جِم جاتے ہوئے۔۔۔ عموما لوگ باڈی بلڈنگ کرنے آتے ہیں جِم لیکن میں وہاں اپنا موٹاپا کم کرنے جاتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ دفتر سے واپسی پر شام/ رات کو جِم پہنچتا ہوں۔ آدھ/ پون گھنٹہ ورزش اور مختلف مشقیں کرتا ہوں، پھر گھر کو۔۔۔ دعا کریں جلد سے جلد اسمارٹ ہوجاؤں۔۔۔۔۔۔۔۔ ;)

موبائل فونز کی چوری

272 views November 23, 2007 | راہبر
No Gravatar

موبائل فون کا استعمال جیسے جیسے بڑھا ہے، نت نئے سیٹ آنے لگے ہیں۔۔۔ ساتھ ہی ساتھ موبائل فون کی چوری اور چھینے جانے کی وارداتیں بھی بہت عام ہوگئی ہیں۔
اوہ۔۔۔! یہ تو میں ایسے بتارہا ہوں، جیسے کوئی نئی بات ہو۔ نہیں جی! نئی بات نہیں ہے۔۔۔ بہت عرصہ سے یہ سلسلہ جاری ہے۔۔۔ گزرے 30 رمضان المبارک کو اسامہ (چھوٹا بھائی) سبزیاں وغیرہ لینے گیا تو اس کی جیب سے اس کا موبائل فون نکال لیا گیا۔۔۔ پتا ہی نہیں چلا۔۔۔ بے چارے نے کئی مہینوں تک پائی پائی جمع کرکے چار/ ساڑھے چار ہزار کا لیا تھا۔۔۔ مجھے تو یہی سوچ سوچ کر افسوس ہوتا رہا کہ اس کے دل پر کیا بیتی ہوگی۔۔۔۔۔۔ چرانے والا تو چرا لے گیا۔۔۔ کمینہ!
پچھلے ہفتہ امی بس میں آرہی تھیں۔ کسی نے ان کے پرس سے موبائل نکال لیا۔۔۔ خواتین بھی چوری، ڈکیتی میں بہت آگے ہیں یہاں۔۔۔۔ بس۔۔۔۔ کیا کریں جی۔۔۔!
کچھ عرصہ پہلے میرا چچا زاد بھائی آصف اپنے دوستوں کے ساتھ جارہا تھا۔ دو/ تین لڑکے آگئے اور موبائل مانگنے لگے۔ سب دوستوں نے دیدیئے۔ آصف کے پاس تھا ہی نہیں۔۔۔ اس نے کہہ دیا کہ بھئی میرے پاس نہیں ہے۔۔۔ وہ سمجھے، مذاق کررہا ہے تو آصف کی تلاشی لی۔ موبائل تھا ہی نہیں، نکلتا کہاں سے۔۔۔ جب نہیں ملا تو کھینچ کے گال پر چانٹا رسید کیا۔۔۔۔ اور کہنے لگے۔۔۔ ابے جب تیرے سارے دوستوں کے پاس موبائل ہے تو تیرے پاس کیوں نہیں ہے۔۔۔ یہ کہہ کر چلے گئے۔۔۔ اور بے چارہ آصف۔۔۔ گال سہلاتا رہا۔۔۔!

شہری شعور

345 views November 19, 2007 | راہبر
No Gravatar

ڈھنڈورا مچا ہے، رونا پیٹنا جاری ہے کہ ہماری قوم سوئی پڑی ہے، لوگ چپ ہیں، ظلم کے خلاف آواز بلند نہیں کی جارہی، احتجاج نہیں ہورہا۔۔۔ قوم کو بے حس بھی کہا جارہا ہے۔۔۔ لیکن کل ایک نکتہ میرے ذہن میں مسلسل گردش کرتا رہا کہ اصل کمی ہے “شہری شعور” کی۔ (سِوِک سینس کا ترجمہ یہی ہے نا؟)
ہماری قوم کو شہری شعور نہیں ہے۔ ہمارے کیا حقوق ہیں، کیا فرائض ہیں، کن باتوں کا کیا اثر ہوتا ہے؟ ان باتوں کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔ ہمارے تعلیمی نصاب کا تو خیر سے کیا رونا رویئے، پڑھے لکھے لوگوں کو بھی جاہل ہی رکھتا ہے۔ ہمارے پچھتر فیصد سے زیادہ مسائل کا حل صرف اور صرف “شہری شعور” کا بیدار ہونا ہے۔
یہ مسائل صرف سیاسی نہیں، بلکہ سماجی اور معاشرتی بھی ہیں۔ ٹریفک جام کا مسئلہ ہو یا مہنگائی کا، حکومت کے مظالم ہوں یا مافیا کے کارنامے، کچھ بھی ہو۔۔۔ اگر شہری شعور بیدار ہوجائے تو سمجھ لیں کہ ہم نے آگے بڑھنا شروع کردیا۔ لیکن یہ بات کہنے میں بہت آسان اور مختصر ہے، عملی زندگی میں بہت مشکل۔ (لیکن ناممکن نہیں!)
اب یہ شہری شعور بیدار کیسے ہوگا؟ یہ ایک غور طلب سوال ہے۔ میرا خیال ہے کہ مختصر اور جامع تحاریر لکھی جائیں اور ان کو تقسیم کیا جائے، سیمینارز وغیرہ کا اہتمام کیا جائے، وغیرہ وغیرہ۔۔۔ لیکن یہ سارا کام باقاعدہ طویل المدت منصوبہ بندی کے تحت کرنے کی ضرورت ہے۔ ورنہ فی الوقت ہم قوم کی بے حسی پر جس طرح رو رہے ہیں، خدانخواستہ اگر مستقبل میں کوئی دوسری افتاد آن پڑی، تب بھی ہماری حالت اس سے زیادہ مختلف نہ ہوگی (بلکہ شاید بدتر ہی ہوجائے)۔
مجھے اس سلسلہ میں تجاویز اور آراء کا انتظار رہے گا۔ اپنے مخلص اور بیدار ہونے کا ثبوت دیجئے!

فرق پڑتا ہے۔۔۔

258 views November 19, 2007 | راہبر
No Gravatar

۔۔۔۔۔ پہلا اشتہار ۔۔۔۔۔

ٹرنگ ٹرنگ ٹرنگ ٹرنگ۔۔۔۔۔ (پسِ پردہ موسیقی)

منظر:
ایک صاحب گاڑی میں بیٹھے ہیں۔۔۔ ان سے رائے پوچھی جارہی ہے۔۔۔

ارشاد ہوتا ہے:
چند سال پہلے میں دس روپے کلو آٹا لیتا تھا۔۔۔ آج وہی آٹا بیس روپے کلو مل رہا ہے۔۔۔ ترقی ہوئی ہے۔۔۔ فرق تو پڑتا ہے۔

پسِ پردہ آواز:
فرق پڑتا ہے۔۔۔ اصل کمینوں سے۔۔۔ حقیقی خبیثوں سے۔۔۔!
جو وعدہ کیا، پورا کیا۔۔۔ غربت کو جڑ سے ختم کیا۔
بے غیرتی کا سفر۔۔۔ قدم بقدم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔ دوسرا اشتہار ۔۔۔۔۔

ٹرنگ ٹرنگ ٹرنگ ٹرنگ۔۔۔۔۔ (پسِ پردہ موسیقی)

منظر:
ایک موصوفہ بس کے انتظار میں کھڑی ہیں۔۔۔ اچانک پلٹتی ہیں اور کیمرہ کی طرف دیکھ کر یوں گویا ہوتی ہیں۔۔۔۔

موصوفہ:
جی عورتوں کے حقوق ملے ہیں۔۔۔ پہلے سے زیادہ آزاد ہے۔ قمیضیں تنگ، چاک اونچے، اور پاجامے چھوٹے۔۔۔۔۔۔ فرق تو پڑا ہے۔

پسِ پردہ آواز:
فرق پڑتا ہے۔۔۔ اصل کمینوں سے۔۔۔ حقیقی خبیثوں سے۔۔۔!
جو وعدہ کیا، پورا کیا۔۔۔ (انتہا پسند) روشن خیالی کو عام کیا۔
بے غیرتی کا سفر۔۔۔ قدم بقدم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔ تیسرا اشتہار ۔۔۔۔۔

ٹرنگ ٹرنگ ٹرنگ ٹرنگ۔۔۔۔۔ (پسِ پردہ موسیقی)

منظر:
راہ چلتا ایک نوجوان کیمرہ کی طرف چہرہ کرتا ہے اور گھبرائے گھبرائے لہجے میں کہتا ہے:

نوجوان:
پچھلی حکومتوں نے کچھ نہیں کیا تھا۔۔۔ اب آپ باہر نکل کر دیکھیں۔ جگہ جگہ کھودی گئی سڑکیں اور شاہراہیں، بہتے گٹر اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس دور میں کچھ نہ کچھ تو ضرور ہورہا ہے۔

پسِ پردہ آواز:
فرق پڑتا ہے۔۔۔ اصل کمینوں سے۔۔۔ حقیقی خبیثوں سے۔۔۔!
جو وعدہ کیا، پورا کیا۔۔۔ کرپشن کو جڑ سے ختم کیا۔
بے غیرتی کا سفر۔۔۔ قدم بقدم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Protected: میری آپی

252 views November 16, 2007 | راہبر
No Gravatar

This post is password protected. To view it please enter your password below:


خبرنامہ۔ پٹھو ٹیلی ویژن (پی۔ٹی۔وی)

324 views November 14, 2007 | راہبر
No Gravatar

بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم
پٹھو ٹیلی ویژن (پی۔ٹی۔وی) کے خبرنامے میں خوش آمدید۔

ظلِ الٰہی عالم پناہ شہنشاہ پرویز مشرف نے شاہی محل میں اپنے پٹھوؤں سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ذاتی دلچسپی کے امور زیرِ بحث آئے۔ شہنشاہ نے نوید سنائی کہ عوام (یعنی شہنشاہ کے پٹھو) بہت خوش ہیں اور انہوں نے حکومت (یعنی شہنشاہ) پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔

حکومتِ پاکستان کے ملازمِ خاص المعروف وزیر اعظم شوکت وزیر نے پٹھو ٹیلی ویژن کو خصوصی انٹرویو میں اعلان کیا کہ الیکشن بالکل شفاف ہوں گے۔۔۔ اتنے شفاف کہ ان میں غیر شفاف لوگوں کو ووٹ ڈالنے کی بھی اجازت نہیں ہوگے، ووٹ صرف شفاف ترین مخلوق ڈال سکے گی یعنی فرشتے۔

پٹھو ٹیلی ویژن کے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ ہم پرویزی پٹھوؤں کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے چینل کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور عوام بے حد خوش ہے کہ ہم نے انہیں صحت مند خبریں فراہم کی ہیں جن کا آغاز شہنشاہ کے نام پاک سے اور اختتام شہنشاہ کے ملازموں کے تذکرہ پر ہوتا ہے کیونکہ ملک میں صرف یہی لوگ ہیں جو صحتمند اور شفاف ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت کے تمام پٹھو بشمول پٹھو ٹیلی ویژن عوام کو اسی طرح الو بنانے، ٹوپیاں پہنانے، گپیں سنانے کا فریضہ انجام دیتے رہیں گے۔

یہ تو تھیں اب تک کی خاص خاص خبریں۔۔۔ اب کچھ رسمی خبریں۔

کشمیر میں بھارت نے ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ باشندوں کو شہید کردیا ہے۔۔۔ (خبردار! کوئی شرپسند اس خبر کا ہمارے وطن کی فوج کی قیامِ امن کی کوششوں سے تقابل نہ کرے)

عراق میں امن و امان کی نازک صورتحال۔ مختلف شہروں میں بم دھماکے۔ متعدد ہلاک۔ درجنوں زخمی۔
(تاہم ہمارے ملک میں چاہے ایٹم بم ہی کیوں نہ گرادیا جائے، امن و امان کی صورتحال مکمل قابو میں ہے)

افغانستان میں نیٹو فورسز کی کاروائی۔ پچیس شرپسند ہلاک۔
(اوئے! ہمارے ملک میں نیٹو فورسز کاروائی کریں تو انہیں کون سا پٹھو جارحیت اور ملکی سلامتی و خودمختاری پر آنج آنا قرار دیتا ہے؟)

اب آپ سنیں گے موسم کی صورتحال۔

موسم ہمیشہ کی طرح گرما گرم۔۔۔ خون کی برسات۔۔۔ خون کی ہولی۔۔۔ درجہ حرارت پل پل بدلتا رہا۔

اب پیش ہیں کھیلوں کی خبریں۔
اس وقت ہمارے ملک میں ایک ساتھ کئی ٹورنامنٹس کھیلے جارہے ہیں۔
واپڈا اور عوام کے درمیان آنکھ مچولی۔
وکلاء اور حکومت کے درمیان گلی ڈنڈا۔
حزبِ اقتدار و حزبِ اختلاف کے درمیان گولہ باری۔

چونکہ یہ ٹورنامنٹس بے حد طویل ہیں، اس لیے ان کی مکمل تفصیل فراہم کرنا ممکن نہیں۔۔۔ آخر وہ اشتہار بھی تو چلنا ہے نا۔۔۔ کہ فرق پڑتا ہے۔۔۔۔ اصل کمینوں سے۔۔۔ حقیقی خبیثوں سے۔۔۔!

کراچی والے رابطہ کریں

281 views November 14, 2007 | راہبر
No Gravatar

دوسرے شہر والے جو چاہے، وہ کریں۔ احتجاج کریں یا ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں لیکن کراچی سے تعلق رکھنے والے جو صاحبان پُر امن احتجاج کرنے کو تیار ہیں، وہ بذریعہ تبصرہ آگاہ کریں۔ پھر مل جل کر کوئی لائحہ عمل تیار کرتے ہیں۔ ازراہِ کرم دیر نہ کیجئے گا۔

احتجاج کیسے؟

238 views November 10, 2007 | راہبر
No Gravatar

اب ہم (بلاگرز) جب احتجاج کے لیے تیار ہونے لگے ہیں، بلکہ تیار ہونے کے بعد جب دوسروں کو اس طرف راغب کرنے لگے ہیں تو ہم سے لوگ کہہ رہے ہیں کہ آپ کے یہ پرچے، یہ ترغیبات بے فائدہ رہیں گی، آپ کیا سمجھتے ہیں کہ کیا عام آدمی یہ سب باتیں پڑھ کر بیچ چوک پر جا کھڑا ہوگا اور نعرے مارنا شروع کردے گا۔۔۔ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔۔۔ لوگوں کو چاہئے پلیٹ فارم۔۔۔ جب تک پلیٹ فارم مہیا نہیں ہوگا، تب تک عام بندہ گھر سے نہیں نکلے گا۔
اسلام آباد میں رہنے والوں کے لیے قدرے آسانی ہے کہ وہاں مختلف جماعتیں احتجاجی ریلیاں نکال رہی ہیں، وہاں رہنے والے ان میں شامل ہوکر اپنا فرض ادا کرسکتے ہیں۔ لیکن کراچی، لاہور، فیصل آباد وغیرہ میں رہنے والے کیا کریں؟ یہاں تو خاموشی چھائی ہے۔ کون مہیا کرے گا پلیٹ فارم؟ سیاسی جماعتوں کی خاموشی دیکھتے ہوئے میں یہی جواب دیتا ہوں کہ ہم ہی مہیا کریں گے پلیٹ فارم بھی۔
میں اپنی ان احمقانہ باتوں اور اظہارِ خیال کے باعث پچھلے دنوں جتنا بے عزت کیا گیا ہوں اور جس قدر لوگوں نے میری حوصلہ شکنی کی ہے، شاید یہ پہلی بار ہے۔ یہاں تک کہ جس شخص نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا تھا، میرا حوصلہ بڑھایا تھا، اس نے بھی مجھے اس بار اکیلا چھوڑ دیا ہے۔۔۔۔ طعنے دیئے گئے ہیں۔۔۔ دعویٰ کیا ہے لوگوں نے کہ میں ناکام ہوجاؤں گا۔۔۔ ;)
پر، میں بھی ڈھیٹ ہوں بہت۔۔۔! کچھ نہ کچھ تو کر ہی دوں گا۔۔۔ پہلے مرحلے میں، میں نے صرف سو آدمی اکٹھے کرنے ہیں۔۔۔ اس مرحلہ میں کامیابی حاصل ہوئی تو کم سے کم فی الحال تنقید کرنے اور طعنے دینے والوں کے منہ بند کردوں گا۔۔۔ ان شاء اللہ۔
اصل میں، خامی ہماری بنیاد میں ہیں۔ لوگوں کو سیاسی شعور، سیاسی تربیت نہیں دی گئی ہے۔۔۔ ان کو اپنے فرائض، اپنے حقوق ہی سے آگہی نہیں۔۔۔ سمجھتے ہی نہیں ہیں کہ ان حالات سے ان پر کیا اثر پڑتا ہے۔۔۔ کیا فرق پڑ رہا ہے۔۔۔۔ بس کندھے اچکاکر اتنا کہہ دیتے ہیں کہ یار، جو بھی ہوتا ہے ہوا کرے، ہمیں کیا؟ :(
مجھ سے لوگ کہتے ہیں کہ سیاست ہم مڈل کلاس والوں کا کام نہیں ہے؟ کیوں؟ کیا ہم اچھوت ہیں؟ کیا ہم پر صرف براہمن حکومت کریں گے؟
کوئی کہتا ہے کہ اتنے بڑے بڑے سیاستدان ہیں، جب وہ کچھ نہیں کرسکتے تو تم کیا کرلوگے؟ میں کہتا ہوں کہ وہ کچھ نہیں کررہے، جبھی تو ہمیں کرنا ہے۔۔۔!
میں گذشتہ دو، تین دن بہت زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار رہا۔ کبھی سوچا کہ سب چھوڑ دوں، دوسروں کی طرح لاتعلق ہوجاؤں سیاست سے۔۔۔ لیکن میرا دل نہیں آتا اس طرف۔ کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی ہے۔۔۔ میں اکثر کہتا ہوں کہ مجھے جیل تو جانا ہی ہے، اس کے بغیر میں لیڈر نہیں بن سکتا۔ :)
بہرحال! اس وقت ایک ہی ضرورت ہے۔۔۔ وہ ہے ایک نئی جماعت کے قیام کی۔ ایک تحریک کی۔۔۔۔ ایک ایسی تحریک اور سیاسی جماعت کی جو کہ واقعی ہم متوسط طبقے کی اپنی تحریک ہو۔۔۔۔ جس کے راہنماؤں پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔۔۔ اور مجھے یہ قدم اٹھانا ہے جلد سے جلد۔۔۔۔
میرے جتنے قارئین اس نئی تحریک کے آغاز اور جماعت کے قیام میں دلچسپی اور اس میں شمولیت کا ارادہ رکھتے ہیں، وہ جلد از جلد مجھے آگاہ کریں تاکہ اگلا قدم اٹھایا جائے۔

دستک

229 views November 8, 2007 | راہبر
No Gravatar

برادران! السلام علیکم۔

کیا آپ جانتے ہیں؟
۔۔۔۔۔۔ آپ کے ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کرکے آپ کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کردیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔ وزیرستان کے بعد سوات میں بھی طالبان مضبوط ہورہے ہیں اور لوگ انھیں اپنا نجات دہندہ سمجھ رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔ جب آپ عید منا رہے تھے تووزیرستان میں پاکستانی فوج کی بمباری سے متاثر پاکستانی پناہ کی تلاش در در کی ٹھوکریں کھارہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔ وکلاء اور صحافی سڑکوں پر پٹ رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔ جب آپ روزی روٹی کی فکر میں مبتلا ہوتے ہیں، کچھ سرپھرے اس ملک کے بقاء کے لیے پولیس کے ڈنڈے اور گالیاں کھارہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔ معزز جج صاحبان جنہوں نے آمری حکم کے تحت حلف نہ اٹھا کر اپنے آپ سے اپنی روزی روٹی بھی چھین لی اب اپنے گھروں اور نامعلوم مقامات پر مقید ہیں۔
۔۔۔۔۔۔ جن سے انصاف کی امید پیدا ہوئی تھی وہ سپوت ہی آپ سے چھین لیے گئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔ بلوچستان اور سندھ سے سینکڑوں لوگ اس طرح غائب ہوچکے ہیں کہ ان کی لاشیں بھی نہیں ملیں۔
۔۔۔۔۔۔ عدالتیں ان مظلوموں کو ان کے خاندان تک پہنچانے کی جدوجہد کررہی تھیں لیکن ان کی پیش قدمی ایک ظالم نے روک دی۔

ڈرئیے اس وقت سے:
۔۔۔۔۔۔ جب یہ آگ آپ کے گھر تک آپہنچے۔
۔۔۔۔۔۔ جب آپ کو اپنا حق حاصل کرنے کے لیے بندوق اٹھانی پڑے۔
۔۔۔۔۔۔ جب آپ کے ”اپنے” اپنی ہی فوج کے ہاتھوں مروا کر اس کے خلاف خودکش بمبار بن جائیں۔
۔۔۔۔۔۔ جب آپ کا ملک، یہ سائبان ٹوٹ کر بکھر جائے۔
۔۔۔۔۔۔ جب آپ کے بیٹے، بھائی اور سرتاج کو ایجنسیاں اٹھا کرلے جائیں اور اس کی لاش بھی دریافت نہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔ جب امریکہ یہاں اپنی فوجیں یہ کہہ کر اتار دے کہ اس ملک کے ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔
یاد رکھیے:
۔۔۔۔۔۔ جس قوم میںانصاف نہیں رہتا وہ قوم بھی مٹ جاتی ہے اور آپ سے انصاف کی آخری امید بھی چھین لی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔ وہ جرات جو ساٹھ سال کے بعد نظامِ عدل میں پیدا ہوئی تھی فوجی بوٹوں تلے کچل دی گئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔ آپ کی آنکھوں پر بے خبری کے پردے تان دئیے گئے ہیں لیکن حقائق بہت تلخ ہیں۔

احتجاج کیجیے:
آمریت کے خلاف۔
ظلم کے خلاف۔
انصاف کے لیے۔
اپنے ملک کی بقاء کے لیے۔
اپنے سائبان کے تحفظ کے لیے۔
ان وکلاء کے ساتھ جو جیلوں میں سڑ رہے ہیں، گالیاں اور لاٹھیاں کھا رہے ہیں صرف آپ کے لیے۔

یاد رکھیں! احتجاج میںشامل ہونا آپ کا فرض ہے
اپنی طاقت کے مطابق احتجاج ضرور کیجیے

سڑکوں پر آکر
اپنے احباب کو تبلیغ حق کرکے
اپنے گھر پر سیاہ پرچم لہرا کر
اپنے بازو پر سیاہ پٹی باندھ کر
احساس دلائیے کہ آپ زندہ قوم ہیں
ابھی آپ بے حس نہیں ہوئے
ابھی آپ کو پیٹ کی اتنی فکر نہیں پڑی کہ اپنا ملی اور دینی فرض بھول جائیں۔
ابھی آپ میں خودی باقی ہے

یاد رکھیں آپ ہی اصل طاقت ہیں۔ اوپر بیٹھے سب ریت کا ڈھیر ہیں جو پھونکوں سے اڑ جائیں گے۔ اٹھئے کہ یہی وقت عمل ہے۔ اگر اب بھی نہ کرسکے تو کبھی نہیں کرسکیں گے۔ خدارا! اپنا حق پہچانئے، اپنا فرض پہچانئے اور دوسروں کو اس کا احساس دلائیے۔
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ والسلام
(پرچے کے لکھنے والے کو کسی بزرگ نے خواب میں آخر بشارت نہیں دی لیکن اسے اپنے رب سے یہ امید ہے کہ اس کام کے بدلے وہ اس کے
ساتھ کچھ اچھا کرے گا۔ آپ سے التماس ہے کہ اس پرچے کو چھپوا کر آگے تقسیم کریں۔ فرض کے طور پر، ثواب کے طور پر یا حق سمجھ کر)

اس تحریر کے لیے شاکر عزیز کا شکریہ۔