قوم پرستی۔۔۔ مردہ باد
پاکستان پیپلز پارٹی کی چئیر پرسن بے نظیر بھٹو صاحبہ کو تقریبا آٹھ سال کی خود ساختہ جلا وطنی کے بعد پاکستان پہنچے ایک عشرہ گزر چکا ہے اور اتنے عرصہ میں ایک طرف لوگ بہت ہی خوش ہیں تو دوسری طرف کئی لوگ غم و غصہ کے گھیرے میں ہیں، ایک طرف کچھ لوگوں کے دل اجڑے ہیں تو دوسری طرف کئی لوگوں کے گھر۔
اٹھارہ اکتوبر کی صبح جہاں خوشیوں کے شادیانے بج رہے تھے، اسی رات صفِ ماتم بچھی تھی۔ لیکن ابھی مجھے نہ بی بی کی واپسی پر گفتگو کرنی ہے اور نہ اس واپسی کے محرکات پر۔ مجھے تو صرف بی بی کے بیانات پر تشویش کا اظہار اور احتجاج کرنا ہے۔ بیانات بھی وہ نہیں جو ڈاکٹر عبد القدیر خاں یا پاکستان کی سالمیت کے خلاف دیئے گئے، کیونکہ ایسے بیانات کے خلاف تو پاکستانیوں کی اکثریت انگشت بدنداں ہے۔ مجھے بحث ہے تو بی بی کے ان قوم پرستی والے بیانات اور اقدامات پر جن کے سبب پاکستان کی صرف سیاسی نہیں بلکہ عوامی فضا بھی قومیت کے نعروں سے گرد آلود ہورہی ہے۔
میں شاید اس موضوع کو اہمیت نہ دیتا اور نہ اس پر کچھ لکھتا لیکن حسن اتفاق کہئے یا سوئے اتفاق کہ کسی بلاگ پر دوست شاکر عزیز کا ایک تبصرہ نظر سے گزرا جس میں انہوں نے کچھ ایسا لکھا تھا کہ بی بی کے بیانات کی وجہ سے آج انہیں یہ یاد آیا کہ وہ پنجابی ہیں۔
شاکر بھائی اور میرے تمام پاکستانی بھائیو! خدارا ان ملک دشمن قومیت پرست لوگوں کے بیانات کے باعث ہرگز ہرگز ایسا نہ سوچئے۔ میں مانتا ہوں کہ کچھ بیانات مشتعل کرتے ہیں، ایسا سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ہمیں بھی متحدہ قومی مومنٹ کے احمق قائد کی احمقانہ حرکتوں کے سبب بہت بدنامی اٹھانی پڑتی ہے۔ لیکن دیکھئے، ملک دشمنوں نے ہمیں علاقائی اور لسانی عصبیت میں الجھا دیا ہے۔ ہم نے ان کو شکست دینی ہے۔ ہم نے ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرنی ہے۔ ہم نے بتانا ہے کہ ہم سندھی، پنجابی، بلوچی، پٹھان، مہاجر نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔ ہم پاکستانی ہیں۔۔۔ ہم مسلمان ہیں۔
قوم پرستی۔۔۔ مردہ باد!
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
October 29, 2007 بوقت 12:59 am
چھوٹے بھائی ،
آپ نے بالکل ٹھیک نبض پہ ہاتھ رکھا ۔ اور شاکر کا تجزیہ بھی بر محل ہے۔ نہ جانے میں خود بھی آج کل انہی خطوط پر کیوں سوچنے لگا ہوں کہ جن سے قوم پرستی کا تاثر ملتا ہے۔ لیکن ایسا سوچ کر میں کوئی غلط کام تو نہیں کر رہا۔ جب مجھے بار بار پاکستانی کی بجائے پنجابی کہہ کر مخاطب کیا گیا۔ میری قربانیوں اور تعاون کو بالا دستی کا نام دیا گیا تو مجھے ایسی غلط بات کہنے والوں سے بھی زیادہ غصہ اپنے بڑوں پر آیا کہ جس پاکستان کے لئیے انہوں نے اپنا سب کچھ تیاگ دیا ، اپنی عزت و آبرو تک لٹا دی ، بچے کھو دئیے اور آگ و خون کا دریا پار کر کے قائد کے پاکستان کی سر زمین کو چوم کر اس کے ہو لئیے ، اُسی کے لیڈر اور باشندے آج مجھے القابات سے نواز رہے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ جو اُجڑا اور جس نے اپنی اولاد اور پیاروں کی زندگیوں کی صورت میں قیمت ادا کی اسی کو آج بھی پاکستان کی قدر ہے اور جن کو بیٹھے بٹھائے مل گیا وہ کیا جانیں کہ اس آزادی کی کیا قیمت چکانا پڑی۔ جب زبان پہ خارش ہوئی تو پنجاب اور پنجابیوں کو گالی دے لو اور اپنی قوم پرستی کا علم بلند کر لو۔ زبان کی خارش بھی ہلکی ہو جائے گی اور قوم پرستی کے جنون کو بھی سکون مل جائے گا۔ یہاں میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا لیکن جس کو شوق ہو وہ ٹھنڈے دل سے تجزیہ کر لے۔ اور پنجاب یا پنجابیوں کو فیشن کے طور پر کوسنے سے پہلے حقائق سے آگاہی حاصل کر لے ۔ تسلی نہ ہو تو مجھ سے رابطہ کرے میں ان کے لیڈروں کی قوم پرستی کی اصل تصویر ان کو دکھاؤں گا۔
دوستو ، پورا پاکستان میرا ہے۔ میں پنجاب سے ہوں لیکن یقین کیجئیے کہ مجھے ڈھنگ سے پنجابی بولنا نہیں آتی۔ میرا بیٹا جو تیسری جماعت کا طالب علم ہے وہ ایک پورا فقرہ بھی پنجابی میں نہیں بول سکتا۔حتی کہ پنجاب کے دوستوں سے بھی فون پر بات کروں تو اردو بولنے میں آسانی محسوس کرتا ہوں۔ وجہ ؟؟؟ کہ میں نے قوم پرستی کے حوالے سے اپنی زبان اور شناخت کو کبھی نہیں پرکھا۔
چند دنوں سے میں نے یہ بات بہت شدت سے محسوس کی ہے کہ حقائق کی پرواہ کئیے بغیر کچھ لوگ اپنے نام نہاد لیڈروں کے بہکاوے میں آ کر پنجاب اور پنجابیوں کے خلاف فضول کی باتیں لکھ کر تعصب کو ہوا دے رہے ہیں۔ ان کا تعصب کیا رنگ لائے گا یہ تو ابھی نہیں کہا جا سکتا لیکن میرے جیسا کٹڑ پاکستانی بھی اب اکثر یہ سوچنے لگا ہے کہ میری اصل شناخت کیا ہے؟ پاکستانی یا پنجابی؟؟؟ :roll:
October 29, 2007 بوقت 2:08 am
:neutral:
نام نہاد لیڈروں کی بات تو رہنے ہی دیں نا بڑے بھائی! میں اپنے گھر کی بات بتاؤں تو وہ یہ ہے کہ ہر طرف پنجابیوں کے خلاف باتیں سنتے سنتے میرا چھوٹا بھائی بھی یہی راگ الاپنے لگا ہے. بات بے بات پنجابیوں کو موردِ الزام ٹھہرانا، ان پر شک کرنا.
یوں سمجھئے کہ سندھیوں کے (اور شاید مہاجروں کے بھی) دل میں پنجاب دشمنی کا زہر گھولا جاچکا ہے…..! اور اگر تعلیم یافتہ طبقہ بھی ایسی باتوں میں الجھا رہے تو تعلیم کا فائدہ ہی کیا؟ کون سی محب الوطنی؟
محب الوطنی کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہم جس علاقہ سے تعلق رکھتے ہیں، صرف اسی کو اپنا سمجھیں، اسی سے وفا دار رہیں. محب الوطنی یہ ہے کہ ہم اپنے پورے وطن سے پیار کریں، سارے وطن کو اپنا سمجھیں اور اگر ہم اپنے پیارے وطن کے کسی ایک علاقہ سے بھی دشمنی یا بغض و کینہ رکھتے ہیں تو ہم قوم پرست تو ہوسکتے ہیں، لیکن محب الوطن نہیں. ہرگز نہیں.
October 29, 2007 بوقت 6:58 am
یہ فرقہ پرست لوگ بنیادی طور پر انتہائی خودغرض ہوتے ہیں
October 29, 2007 بوقت 10:32 am
ajmal sahib, firqa parastee tu molvioon kee dain hai ju ab bar kar nasal parastee tak ja puhunchee hai…molvi log abhee bhee apnay firqay kee shariat doosroon pay zabardastee thonse rahay hain…us pay aap ko koi iteraaz nahain
October 29, 2007 بوقت 10:24 pm
آپ کی بات سے متفق ہوں اجمل صاحب!
اور Me: یہاں بات فرقہ پرستی کی نہیں، قوم پرستی کی ہے جو کہ دین کی وجہ سے نہیں. ٹھیک ہے کہ دین کو کئی فرقوں میں بانٹ دیا گیا ہے لیکن قوم پرستی ، ہرگز ہرگز فرقہ پرستی سے متاثر ہوکر نہیں شروع ہوئی بلکہ اس کی بنیادیں دورِ جاہلیت سے ملیں گی اور شاید قوم پرست لوگ اسی دور سے تعلق رکھتے ہیں.
October 30, 2007 بوقت 12:23 am
نہیں ، عمار ،
قوم پرست لوگ دورِ جاہلیت سے ہی نہیں ، آکسفورڈ سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔ تازہ مثالیں چھوڑ کر ہزاروں سال پیچھے کیوں بھاگ رہے ہو۔ کہیں ناشتے میں بطخ کا انڈہ تو نہیں کھا لیا تھا
October 30, 2007 بوقت 2:35 am
بڑے بھائی! میرا اشارہ ان کی سرشت کی طرف تھا……