No Gravatar

ماہ جون کے وسط کا تذکرہ ہے۔ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ ایک ولیمہ کی تقریب میں شریک تھا، بس ہمارے ساتھ صرف ابو ہی نہیں تھے کہ وہ تھکن کے باعث گھر پر رک گئے تھے۔ رات ساڑھے بارہ، ایک بجے کا وقت ہوگا جب ہم لوگ اس تقریب سے فارغ ہوکر نکلے۔ ہم نے سڑک پار کرکے دوسری طرف جانا تھا۔ سڑکوں پر برائے نام روشنی تھی۔ ہم نے جب ایک سڑک پار کی تو پتا چلا کہ فٹ پاتھ سارا کھودا ہوا ہے، لہذا اس جگہ سے آگے نہیں جاسکتے۔ ہم نے سوچا کہ واپس ہوجاتے ہیں اور آگے سے جہاں جگہ نظر آئی، سڑک پار کرلیں گے۔ یہ سوچ کر ہم واپس ہونے کے لیے مڑے۔ میں نے دور سے آنے والی گاڑیوں کی طرف نظر ڈالی۔ ایک ہائی۔روف تھی جو کہ کافی فاصلہ پر تھی اور اس کی رفتار بھی تیز نہ تھی۔ ہم آرام سے سڑک پار کرسکتے تھے۔ میں نے سب کو کہا کہ چلو۔ اور ہم جیسے ہی آگے بڑھے تو دیکھا کہ ہائی روف کے پیچھے سے ایک دوسری تیز رفتار ہائی روف اوور ٹیک کرتی ہوئی آگے بڑھی۔ میں آگے ہوچکا تھا پر امی اور تین بہنیں ذرا پیچھے تھیں۔ افففف! کیا منظر تھا وہ۔ میرا ذہن بھک سے اڑ گیا۔ بس مجھے اتنا یاد ہے کہ میں زور سے چینخ رہا تھا تھا کہ جلدی کرو، جلدی۔۔۔۔ پہلی ہائی۔روف تو رُک گئی لیکن اوور ٹیک کرنے والی ہائی۔روف نے بریک لگاتے لگاتے ایک بہن اور امی کو زوردار ٹکر ماری اور قسمت دیکھئے کہ اس بہن کو ٹکر لگی جو کہ بہت کمزور اور نازک ہے۔ ٹکر اس قدر شدید تھی کہ بہن تقریبا دس فٹ دور جاکر گری۔ گاڑی کنٹرول کرتے کرتے ہائی۔روف والے نے پہلی ہائی۔روف کو بھی ٹکر ماردی۔ اچانک ایسی افتاد آن پڑے تو حواس معطل ہوجاتے ہیں۔ کوئی بڑا بھی ساتھ میں نہیں تھا۔ میں بہن کی طرف لپکا۔ وہ بے سدھ پڑی تھی۔ اسامہ (مجھ سے ڈیڑھ سال چھوٹا بھائی) اس ہائی۔روف والے سے الجھ گیا جس نے ٹکر ماری تھی۔ خدا کا شکر کہ پہلی والی ہائی۔روف دراصل چھیپا والوں کی ایمبولینس تھی۔ اس کے ڈرائیور نے جلدی سے میرے ساتھ مل کر بہن کو اٹھایا اور گاڑی کے اسٹریچر پر لٹادیا۔
میں، اپنی دو سب سے چھوٹی (گیارہ سالہ) بہنوں اور امی کے ساتھ ایمبولینس میں بیٹھا۔ اسامہ اور دوسری بہن کو کہا کہ وہ ہائی۔روف والے کو ساتھ لے کر آئیں، ہماری ایمبولینس کے پیچھے پیچھے۔ اس ہائی۔روف میں دو، تین لڑکے تھے۔ چونکہ ایمبولینس کو بھی لگی تھی اس لیے ڈرائیور نے کہا کہ ان کو ساتھ ہی لے کر آؤ۔
ایمبولینس نے سفر شروع کیا۔ میری حالت عجیب تھی۔ ایک طرف بہن درد کے مارے کراہ رہی تھی۔۔۔ اس کے منہ سے صرف ایک ہی بات نکل رہی تھی کہ بس، میں مرجاؤں گی، مجھے بچالو، میں مرجاؤں گی۔ دوسری طرف امی کو دیکھا تھا ان کی ناک سے بے تحاشا خون بہہ رہا تھا۔ میں نے دل سے اللہ کو پکارا۔
ایمبولینس والے نے اپنے مرکز سے بذریعہ وائرلیس رابطہ کیا، ساری صورتحال اور اپنے موجودہ مقام سے آگاہ کیا تو اسے عباسی شہید ہسپتال جانے کی ہدایت ملی۔ میں اسامہ کے ساتھ رابطہ میں تھا، اس نے گھر پر ابو کو فون کرکے بتادیا تھا۔ پھر ابو نے مجھے فون کیا، صورتحال معلوم کی۔ میں نے مختصر مختصر گول مول بات کی۔ امی ایسی ہنگامی یا پریشان کن صورتحال کو سب سے چھپانے کی کوشش کرتی ہیں، اس لیے انہوں نے منع کردیا تھا کہ زیادہ تفصیل نہ بتاؤں۔ بس، ابو کو یہ کہہ دیا کہ عباسی ہستپال پہنچ جائیں اور میں نے ان کو یہ ہدایت بھی کی کہ موٹر سائیکل آرام سے چلائیے گا، اتنی کوئی جلدی نہیں ہے۔
ابھی راستہ ہی میں تھے کہ اسامہ کا فون آیا۔ پوچھنے لگا، کہاں ہو؟ میں نے کہا، راستہ میں۔ کہنے لگا، وہ ہائی۔روف والے تو ہمیں پتا نہیں کون سے ہسپتال کے سامنے اتار کر چلے گئے ہیں، اندھیرا ہے یہاں۔ افففف! ان کو کہا کہ ہسپتال کا نام دیکھو، اگر عباسی نہیں ہے تو کسی بھی طرح گاڑی پکڑو اور عباسی پہنچو۔ میں چاہتا تھا کہ ان کو گھر بھیج دوں لیکن سوچا کہ ابو نکل چکے ہوں گے اور شاید انہوں نے تالا لگاکر چابی اپنے ساتھ ہی رکھ لی ہو تو پھر یہ بھائی، بہن گھر جاکر کیا کریں گے؟
ایمبولینس والے کو بتایا کہ ہائی۔روف والے تو راستہ میں اتارکر بھاگ گئے تو اسے بھی بہت غصہ اور افسوس ہوا۔ ایمبولینس والا بے چارا حیدرآباد سے آرہا تھا۔ بہرحال! ہم عباسی شہید ہسپتال پہنچے۔ راستہ میں ایک دو رشتہ داروں کے بھی فون آگئے کیونکہ کچھ لوگوں نے شادی ہال سے نکلتے ہوئے یہ حادثہ دیکھ لیا تھا۔ (افسوس یہ ہوا کہ اس وقت فورا کوئی مدد کے لیے نہیں آیا)۔
اب ہسپتال پہنچ کر بہن کو اسٹریچر پر ڈالا۔ اندر پہنچا۔ ہائے اللہ! یہاں کرنا کیا ہے؟ کس کے پاس لے کر جاؤں؟ کیا کروں؟ مجھے تو کچھ پتا ہی نہیں تھا، پہلے کبھی ایسا نہ دیکھا، نہ سنا۔ پوچھ پوچھ کہ ایمرجنسی وارڈ میں لے پہنچا۔ ڈاکٹرز نے دیکھا، ایکسرے لکھ کر دیئے۔ پیروں اور کمر کا ایکسرے لکھا تھا شاید۔
پھر، پرچی بنوانا، اور وہ کیا ہوتا ہے؟ ایم۔ایل۔او یا ایسا ہی کچھ۔۔۔ کہ حادثہ وغیرہ ہوا ہے تو مقدمہ درج کروانے کا چکررر۔۔۔ ہم نے کہا کہ مقدمہ درج کرواکر کیا کرنا ہے؟ بھاڑ میں جائے۔ اتنے میں چاچا، چاچی اور پھوپھا، پھوپھی پہنچ گئے لیکن میں نے ان کو بٹھائے رکھا۔ خود ہی ساری بھاگ دوڑ کرتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد ابو بھی آگئے۔ اسامہ بھی بہن کے ساتھ پہنچ گیا۔
خیر۔۔۔ آگے کی کاروائی کیا بتانی۔۔۔ بس ایکسرے وغیرہ کلیئر ہوگئے۔ دوائیاں اور انجیکشن لگے۔ ہسپتال میں اگرچہ نرسنگ وغیرہ کے عملہ کی کمی محسوس ہوئی لیکن ڈاکٹرز کی جانب سے مثبت رویہ دیکھنے کو ملا۔ یوں، چار بجے ہم گھر پہنچے۔
بہن، آہستہ آہستہ صحتیاب ہوتی گئی الحمدللہ، امی کی ناک پر کوئی اندرونی چوٹ تھی۔ کئی دن تک خون اچانک بہنا شروع کردیتا، سوج بھی گئی تھی، پھر وہ بھی آہستہ آہستہ ٹھیک ہوگئی۔
کچھ باتیں حیرت انگیز تھیں۔ ایک یہ کہ جب ہم تقریب میں جانے کے لیے گھر سے نکلے تو میرے موبائل فون میں زیادہ رقم نہیں تھی، مجھے ضرورت بھی نہیں تھی لیکن میں نے سو روپے ڈلوالیے تھے اور یہ بہت کام آئے کہ مجھے حادثہ کے بعد کئی فون کرنے پڑے۔
دوسری بات یہ کہ حادثہ کے وقت ایمبولینس موجود تھی۔ اگر وہ نہ ہوتی تو کیا ہوتا؟؟
تیسری بات یہ کہ حادثہ کے وقت ابو کی نیند میں اچانک خلل واقع ہوا اور وہ اٹھ گئے تھے۔ اگر وہ سوتے رہتے تو ان کی نیند اتنی گہری ہے کہ فون کرنے پر مشکل ہی سے اٹھ پاتے۔
چوتھی بات یہ کہ گھر سے نکلنے سے پہلے میں نے چند سو روپے اپنی جیب میں رکھ لیے تھے، حالآنکہ عموما میں زیادہ رقم نہیں رکھتا۔
بہرحال! عیادت کرنے والوں کا تانتا بندھا رہا اور پھر ہم لوگ کچھ زیادہ ہی محتاط ہوگئے۔
اب، اس سوموار (22 اکتوبر) کا واقعہ۔
ہمیں اس رات بھی ایک ولیمہ کی تقریب میں شرکت کرنی تھی۔ میں نے شام کو دفتر سے نکلنے سے پہلے گھر فون کرکے پروگرام پوچھا تو امی نے کہا کہ تم دونوں لڑکے چلے جانا۔ میں نے کہا، آپ کیوں نہیں؟ تو کہنے لگیں کہ میں مریضہ ہوگئی ہوں۔ میں نے پوچھا، خیریت؟ تو پتا چلا کہ گاڑی والے نے ٹکر ماردی۔۔۔۔۔۔۔ اففففف!
گھر پہنچ کر تفصیل پوچھی۔ امی دوپہر میں چھوٹی بہن کو لینے اسکول جارہی تھیں۔ وہ صحیح سمت میں دیکھ رہی تھیں لیکن یہ تو پاکستان ہے نا، غلط سمت سے ایک ہائی۔روف والا اپنی گاڑی ریورس کررہا تھا اور اس نے گاڑی دے ماری۔ امی گریں اور ان کے سیدھے پاؤں پر گاڑی چڑھ گئی۔ (ویسے مجھے اب تک سمجھ نہیں آیا کہ یہ حادثہ کس طرح ہوا ہوگا)۔ پاؤں کا برا حال تھا۔ لیکن اب کی بار جن ہائی۔روف والوں سے پالا پڑا، وہ پہلے کی نسبت کچھ اچھے تھے۔ انہوں نے بہت معذرت کی، امی کو گاڑی میں ساتھ لے کر پہلے بہن کو اسکول سے لیا، پھر ڈاکٹر کے لے کر گئے۔ دوائی، پٹی وغیرہ کے اخراجات خود دیئے اور امی کے منع کرنے کے باوجود ڈاکٹر کو اضافی رقم بھی دی کہ شام کو ایک بار پھر ان کی مرہم پٹی کیجئے گا، پھر گاڑی میں گھر تک چھوڑا اور معافی مانگ کر رخصت ہوئے۔
سو، امی کے لیے چلنا پھرنا بھی دشوار۔ لیکن بہنوں کے شوق اور خواہش کے سبب امی چلنے کے لیے راضی ہوگئیں۔ واپسی میں ایک جگہ سڑک پار کرنی تھی تو میں بیان نہیں کرسکتا، میرے دل کی کیا حالت تھی۔ بس۔۔۔ مجھے ایسا خیال آتا تھا جیسے میں سب کو لے کر ایک اور حادثہ کی طرف قدم اٹھارہا ہوں لیکن خدا کا لاکھ لاکھ شکر کہ آرام سے سڑک پار کرلی۔۔۔۔
گھر آکر جب میں سونے لیٹا تو “راز داں” کو اپنے دل کی حالت بتاتے ہوئے میں بے اختیار رو پڑا اور بہت بہت رویا۔ تب جاکر مجھے کچھ سکون ملا۔
اے اللہ! سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھ۔ آمین

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔