تین دن عید کے
عید آئی اور گزر گئی۔ سال کے چند ہی مواقع تو ایسے ہیں جن کا شدت سے انتظار کیا جاتا ہے اور پھر یہ آکر اتنی جلدی گزر جاتے ہیں کہ پتا ہی نہیں پڑتا۔
عید کے پہلے دن بوریت قسمت میں لکھی ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں۔ میں نے دوستی یاری پالی نہیں ہے۔ جو کچھ ہے وہ انٹرنیٹ تک محدود ہے، لیکن ہمارے ہاں ڈائل۔اپ نیٹ چلنے کے لیے نہیں، تپانے اور خون جلانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے اس کا سوچنا ہی فضول۔ کافی عرصہ سے ارادہ تھا کہ کیبل نیٹ لگوالوں گھر پر بھی لیکن جب جب کوشش کرتا ہوں، عین وقت پر یا تو امی سمجھا بجھا کر ٹھنڈا کردیتی ہیں یا گھر میں کوئی نیا خرچہ نکل آتا ہے۔۔۔ اور دل پر جبر کرکے اپنا ارادہ ملتوی کردیتا ہوں۔ :???: بے چارہ میں معصوم!
عید کے پہلے دن عصر کے بعد نانی کے گھر سارا ننھیال جمع ہوا۔ ہم بھی وہیں پہنچے۔ رات کو اگرچہ سب لوگ بشمول میرے گھر والے واپس چلے گئے لیکن میں اسامہ (اپنے بھائی) کے ساتھ وہیں رک گیا۔ حارث (میرا ماموں زاد بھائی) ٹی۔وی پر فلم دیکھنے لگا، اسامہ چھت والے کمرے میں جاکر فلم دیکھنے لگا اور میں موبائل فون پر مصروف ہوگیا۔ ٹیلی نار کے djuice نائٹ پیکج کا اپنا ہی لطف ہے۔ صبح فجر سے کچھ پہلے موبائل فون کی جان چھوڑی۔ تب تک حارث بھی چھت پر ہی چلا گیا تھا۔ میں بھی اوپر پہنچا۔ اس کے بعد اسامہ اور حارث سونے لیٹ گئے اور میں نیٹ پر بیٹھا۔ صبح آٹھ بجے کے بھی بعد سویا اور گیارہ بجے اٹھ گیا۔ ناشتہ وغیرہ کرکے نانا، نانی کے پاس جا بیٹھا تو حسبِ معمول نانی نے پرانی یادیں تازہ کیں اور میں بہت انہماک اور دلچسپی سے ماضی کے قصے سننے لگا۔ فوٹو البمز نکالے گئے۔۔۔ بہت لطف آیا۔۔۔ بس ایک شاید میں ہی ہوں جو ان باتوں میں دلچسپی لیتا ہوں ورنہ نانا، نانی کے ساتھ ماموں کے گھر والوں کا رویہ بہت افسوس ناک ہے۔ خیر اس موضوع پر پھر کبھی۔
ارادہ تھا کہ عید کے دوسرے دن گھر واپس چلے جائیں گے لیکن اسامہ نے حارث کے ساتھ کہیں گھومنے پھرنے کی بات چھیڑ دی۔ طے ہوا کہ شام میں کہیں نکلیں گے گھومنے۔ مغرب کے بعد نکلے۔ ایک موٹر سائیکل پر حارث کے ساتھ میں اور اسامہ بیٹھے۔ دوسری موٹر سائیکل پر حارث کے دو دوست تھے۔ کچھ طے نہیں تھا کہ جانا کہاں ہے۔ پہلے حارث اپنے دوستوں سے عید ملنے گیا۔ اس کے بعد بہادر آباد کا رخ کیا اور کے۔بی’ز پہنچے۔ اعلی طبقے کے لوگوں کی وہاں اکثریت تھی اور ماشاء اللہ خواتین کے لباس ایسے کہ کچھ لوگ بے شرمی سے گھورتے ہیں اور کچھ لوگ شرم کے مارے سر جھکا لیتے ہیں (اگرچہ ایسے لوگ اب اقلیت ہی میں ہیں۔ موجودہ فیشن اور ہماری خواتین کی عقل پر پڑے پردے کی بحث پھر کبھی سہی۔ بہرحال!) وہاں کھانا پینا کیا اور واپسی کو چلے۔ حارث کو راستہ معلوم نہ تھا، وہ صرف اپنے دوست کی موٹرسائیکل کا تعاقب کررہا تھا لیکن ایک پُل پر پہنچ کر دونوں موٹر سائیکلز کے درمیان فاصلہ ہوگیا، ہم لوگ ان پر نظر نہ رکھ سکے۔ وہ لوگ ایک موڑ کاٹ گئے اور ہم سیدھا نکل گئے۔ پُل سے اترنے کے بعد ہمیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو الٹے سیدھے موڑ کاٹتے ہوئے اپنی دانست میں صحیح سمت کو چلے لیکن کافی آگے چلنے کے بعد پتا چلا کہ ہم تو بالکل مخالف سمت میں بھاگ رہے ہیں۔
آاااہ! پھر واپس مڑے اور پونے دس بجے تک نانی کے گھر پہنچے۔ اب ظاہر ہے، گھر جانے کی ہمت کیا ہوتی۔ کسی نے جانے بھی نہیں دینا تھا۔ سو، رک گئے۔ حسبِ معمول رات کو حارث اور بھائی کمپیوٹر پر بیٹھے رہے اور میں موبائل پر مصروف۔ فجر کا وقت ہوا تو فون بند کیا اور نماز پڑھی، پھر سونے لیٹا۔ گیارہ بجے سے پہلے ہی آنکھ کھل گئی۔ یہ عید کا تیسرا دن تھا۔ اس دن ہمارا ددھیال دادی کے گھر جمع ہوتا ہے۔ شام کو نانی کے گھر سے نکلے اور دادی کے گھر چلے۔ وہاں سے رات بارہ بجے تک واپسی ہوئی۔ دو، تین دن کی تھکن کے باوجود ہم نے موبائل فون کی جان پھر نہیں چھوڑی۔ صبح فجر پڑھ کر تھوڑی نیند کی۔ دفتر بھی جانا تھا۔ پونے نو بجے کا الارم لگایا تھا موبائل میں۔ امی اور بہن نے ساڑھے آٹھ بجے سے اٹھانا شروع کیا اور پونے دس بجے اٹھا میں۔۔۔۔ پندرہ منٹ میں منہ ہاتھ دھویا، جسم پر پانی ڈالا، تیار ہوا، جیسا تیسا ناشتہ کیا اور ابو کے ساتھ بائیک پر دفتر پہنچا۔ یہ تھی تین دنوں کی مصروفیات۔ اب نیند اور تھکن سے بہت ہی برا حال ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر میں کچھ تذکرہ ہمارے لباس اور حلیے کا۔
اس عید پر میں نے صرف ایک ہی کرتا، پاجامہ لیا اور وہ بھی امی کے اصرار پر ورنہ میرا بچت کا پورا پورا ارادہ تھا۔ نیوی رنگ کی قمیض تھی جس کے کالر اور آستینوں پر ہلکا سا کام ہوا ہے، اور سیاہ رنگ کا پاجامہ۔ امی نے بار بار کہا تھا کہ اب کی بار تم ایک پاجامہ لے کر دیکھو، بہت اچھا لگتا ہے۔ لباس تو سبھی کو پسند آیا۔
چاند رات کو میں نے بالوں پر ویلا ہئیر اسٹریٹر کریم لگائی تھی، اس لیے عید کے دن میں نے شیمپو کیا۔ بال بھی کافی بڑھے ہوئے ہیں تو اب کی بار میرا روپ پہلے سے کافی ہٹ کر تھا۔ ددھیال میں تو کچھ کزنز نے بڑی تعریفیں کیں۔۔۔۔۔ اس لیے میں نے بھی مجبورا اسی طرح بال بنائے رکھے ورنہ بڑے بالوں میں مانگ نکالنے سے جو بال میرے چہرے یا کانوں پر آتے ہیں تو مجھے بہت الجھن ہوتی ہے اس لیے میں بال گیلے کر کے پیچھے کرلیتا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارےےےےے! سب سے اہم بات! میں ہمیشہ کی طرح اپنی سالگرہ بھول گیا۔ ہر بار سوچتا ہوں کہ اسلامی تقویم کے اعتبار سے بھی اپنی سالگرہ مناؤں گا۔۔۔ لیکن عین وقت پر ذہن سے نکل جاتا ہے۔ عید الفطر کے پہلے دن، جمعۃ المبارک کو، شام چھ بج کر دس منٹ پر میری ولادت ہوئی تھی۔ چلیں سب جلدی جلدی مجھے مبارکباد کے پیغامات بھیجیں۔
اتنی طویل اور بور تحریر اگر آپ نے پوری پڑھی ہے تو آپ کا بہت بہت شکریہ اور معذرت کہ میں نے آپ کا اتنا وقت ضائع کیا۔ چلیں، اب جائیں! کوئی ڈھنگ کا کام کریں۔ ![]()
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
October 17, 2007 بوقت 4:21 am
اچھی لگی آپ کی عید کہانی۔
بچت بھی کرتے ہیں اور موبائل پر بھی ساری رات لگے رہتے ہیں۔ دو دو کام
October 17, 2007 بوقت 5:47 am
ارے ہم لوگ زیادہ خرچہ برداشت نہیں کرسکتے نا۔ اب djuice میںآسانی ہے۔ پانچ فیورٹ نمبرز پر رات 12 بجے سے صبح 8 بجے تک کال فی گھنٹہ صرف چار روپے ساٹھ پیسے ہے۔ تو اگر کبھی کسی سے طویل گفتگو کرنی ہو تو یہ وقت بہترین ہے۔ :wink:
October 17, 2007 بوقت 6:38 am
:shock: :???:
:lol:
ہم دنوں کا عید احوال کافی سے زیادہ ملتا جلتا ہے۔۔بلکہ کچھ جگہ یوں لگا جیسے آپ نے میری بات کا جواب دیا ہے۔۔جیسے عید کے دن خواتین کے لباس۔۔لیکن عمار یقین کریں۔۔اب تو یہ حال ہے کہ جو سادہ حلیے میں جانا بھی حماقت ہے۔ ہم لوگ کبھی بھی اس طرح کے موقع پر کسی پبلک پلیس نہیں گئے۔۔اس دفع اتفاقا ماموں کی فیملی کے ساتھ پروگرام بن گیا۔۔۔اور وہ بھی لاہور کی آخری حد جانے کا۔۔۔جہاں سب کا خیال تھا کہ اسی اجاڑ اور بے رونق جگہ پر رش نہیں ہوتا۔۔ورنہ ان دنوں پارکس میں جانا اپنی بے عزتی خود کروانے کے مترادف ہے۔۔۔ لوگوں کا سوک سینس، آنکھوں کی شرم و حیا پتہ نہیں کیوں ختم ہوگئی ہے۔ خیر دفع کریں۔
عمار واقعی ایسا لگ رہا ہے کہ میری پوسٹ کے جواب میں آپ نے یا آپ کی پوسٹ کے جواب میں میں نے لکھا ہے۔۔
ہممم اس دفعہ کرتہ بہت اِن تھا۔۔۔میرے بھائیوں نے بھی کرتا شلوار لی تھی۔۔: ) ہمم میاں مٹھو خود ہی اپنی تعریفیں۔۔۔
October 17, 2007 بوقت 6:40 am
اوہ ہاںںں۔۔
سالگرہ بہت بہت مبارک ہو۔
Many Happy Returns of the day
October 17, 2007 بوقت 6:44 am
اہو۔۔یہ بھی لکھنا بھول گئی۔۔۔آپ کا عید احوال پڑھ کر مزا آیا۔۔ :mrgreen:
October 17, 2007 بوقت 7:33 am
امن اگلے میسج میں خدا حافظ بھی لکھ دیں۔ :mrgreen:

اب میری باری۔۔۔۔
سب سے پہلے عمار تمہیں سالگرہ کی ”بہتتتتت“ :wink: مبارکباد۔
تمہاری عید روداد میں کچھ مسنگ تھا وہ یہ کہ تم نے گھنٹوں ڈی جوس نائٹس پیکج کا فائدہ اٹھایا لیکن یہ نہیں بتایا کہ فون کے اُس اور کون تھا/تھی؟ :lol: میں ڈی جوس اسکے لانچ کے وقت ہی سے استعمال کر رہا ہوں لیکن میسج کے علاوہ اس کا کوئی فیچر مجھے پسند نہیں تھا، اس پیکج کے آنے سے کچھ تسلی ہوئی ہے۔ :wink:
دوسرے یہ کہ میں نے محب سے تمہارا نمبر مانگا تھا تاکہ عید پر تمہیں مبارکبادی ایس ایم ایس کر سکوں لیکن لگتا ہے محب نے گھر میںبھی کوئی سرور لگا رکھا ہے جس کی بدولت وہ بروقت جواب دینے سے قاصر ہیں۔
اور آخر میں یہ کہ اپنی موجودہ تھیم کی سی ایس ایس کھولوں اور line-height والی تمام لائنیں ختم کر لو۔
اور یہ بھی کہ کسی بھی بلاگ پر شاید یہ میرا سب سے لمبا تبصرہ تھا۔ :eek:
اور سب سے آخر میں اللہ پہ امان۔
October 17, 2007 بوقت 3:31 pm
اب میری باری۔۔۔
عمار، پہلے تو مجھے یہ بتاؤ کہ یہ ساری ساری رات کہاں کال کرتے رہے ہو؟؟ (ابھی وہ ڈنڈے والا شتونگڑہ نہیں ہے جو باجو محفل پر لگاتی ہیں) ذرا آنٹی کا نمبر تو دینا۔ میں شکایت لگاؤں کہ بچہ بڑا ہو گیا ہے۔
سالگرہ مبارک محفل پر بھی کی تھی۔ ایک بار پھر سالگرہ مبارک ہو۔
تمھاری تحریر بور بالکل بھی نہیں تھی، پڑھ کر اچھا لگا۔ اور ذرا عید کے دن کی فوٹو شوٹو لگاؤ تو پتہ چلے کہ کتنے اچھے لگ رہے تھے۔

——–
ساجد، محب جب لاہور ہو تو اس سے اس قسم کی توقع رکھنا فضول ہوتی ہے۔ واپس اسلام آباد آ کر ہی جواب ملے گا آپ کو۔
October 18, 2007 بوقت 6:22 am
ہیںںںںںں :shock: یہ میرا آدھا تبصرہ کون کھا گیا۔۔۔
“”"۔۔اب تو یہ حال ہے کہ جو سادہ حلیے میں جانا بھی حماقت ہے۔ ہم لوگ کبھی بھی “”" یہاں سے اڑ گیا۔۔۔شاید میں نے ہی کچھ گڑ بڑ کی ہونی ہے۔۔ :sad:
ساجد۔۔اللہ حافظ :lol:
ماو۔۔۔یہ ٹھیک ہے۔۔آنٹی کا نمبر لیں۔۔اور پھر وہ جو کاروائی کریں گی۔۔اس کا حال یہاں ضرور موجود ہونا چاہیے۔ :lol:
October 19, 2007 بوقت 10:39 pm
آپی جی! مجھے خود بھی یہ حیرت تھی کہ ہم دونوں نے عید کے حوالہ سے جو تحاریر لکھی ہیں، ان میں کچھ یکسانیت پائی جاتی ہے۔ میری بہنیں بھی عید پر کہیں پارک وغیرہ جانے کی ضد کررہی تھیں پر ابو نے منع کردیا کہ وہاں لچے لفنگے آئے ہوتے ہیں، کوئی ضرورت نہیں۔ خیر سے روشن خیالی کی سوغات ہے یہ۔ کچھ لکھتے ہوئے بھی عجیب سا لگتا ہے لیکن فکر ناٹ، لکھوں گا ضرور۔
اپنے منہ میاں مٹھو بننے کا کوئی شوق نہیں مجھے لیکن یہاں پر کوئی اور نہیں ہے نا جو اس دن کا نقشہ کھینچ سکے اس لیے مجھے ہی بیان کرنا پڑا۔ :mrgreen:
کرتا آپ کے ہاں “ان” ہوگا، یہاں تو اب بہت حد تک آؤٹ ہوگیا ہے۔ لڑکے نیچی جینز اور اونچی شرٹ کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔
تین ٹکڑوں میں تبصرہ مکمل کرنے کا شکریہ۔۔۔۔۔۔ ابھی سوچ لیں، اور تو کچھ نہیں بچ گیا؟
اب ساجد اقبال کی باری! :wink: (آپ کی باری؟؟؟ :shock: اوہ سوری!)
فون کی دوسری جانب جو بھی تھا، اس پر ابھی پردہ رہنا بہتر ہے ورنہ میری کلاس ہوجانی ہے۔ جناب والا محب کو تو میں نے مبارکبادی پیغام بھیجا تھا پر شاید وہ لاہور جاکر کچھ زیادہ ہی مصروف تھے، جوابی پیغام نہیں ملا۔ ارے میں نے آپ کو اپنا نمبر دیا تو تھا؟ محفل کے خاص پیغامات دیکھیں ذرا۔
اورررر۔۔۔۔ یہ آخر ایک ایوارڈ میرے پاس ہی آگیا، کسی بھی بلاگ پر آپ کا سب سے بڑا تبصرہ۔ اس کا بھی شکریہ اور آخر میں تھیم کے حوالہ سے ایک مشورہ دینے کا بھی۔
October 19, 2007 بوقت 10:43 pm
ماوراء! ماں کو اچھی طرح پتا ہے کہ میں کتنا بڑا ہوگیا ہے اس لیے وہ جلد سے جلد میرا مستقل بندوبست کرنے کی فکر میں رہتی ہیں۔
اور آپ کا تبصرہ پورا موجود تو ہے۔ کس نے کھایا؟ کہاں سے کھایا؟
عید کے دن کی فوٹو کہاں سے لاؤؤؤں؟؟؟؟ :???: پتا نہیں، میرے کزن کے موبائل میں ایک تصویر تھی، وہ اب محفوظ بھی ہے یا نہیں۔
امن! آپ ماوراء کو شہہ مت دیں۔
October 20, 2007 بوقت 3:05 pm
ماں باپ تو ہر وقت ہی فکر مند رہتے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ وہ صرف فکر کرتے ہی رہ جائیں اور ادھر بچہ اپنا بندوبست خود ہی کر لے۔ اچھا، بتایا نہیں تم نے کہ کس کو رات رات بھر فون کرتے رہے؟

اچھا، اب اگلی عید پر تصویر بنوانا۔ پھر پوسٹ کرنا۔ اگر کیمرہ نہ بھی ہوا تو ایسا کرنا کہ سٹوڈیو میں چلے جانا۔
October 22, 2007 بوقت 5:09 am
ہممم عمار اب تو مجھے یہ کہتے ہوئے بھی بڑا عجیب سا لگ رہا ہے کہ آپ کی اورمیری سوچ (بلاگ پوسٹ کے حوالے سے) سے کافی ملتی ہے۔۔آج صبح ہی اخبار کی ایک نیوز پڑھ کر خود کش حملوں اور بے نظیر صاحبہ کے بارے میں لکھنے کا سوچا تھا لیکن اس سے پہلے ہی آپ میری کافی باتیں چرا کر لے گئے ہیں۔
پوسٹ ابھی لکھی نہیں کیونکہ مجھے نیٹ سے وہ خبر نہیں ملی۔۔رات کو اخبار دے دیکھ کرلکھوں گی۔
عمار ہم لوگ خود باہر نہیں جاتے۔۔اس بار بس اچانک ہی پروگرام بن گیا۔۔لیکن عمار آپ یہ بھی تو سوچیں نا کہ سب ہی لوگ ایسا سوچنے لگے تو کیا ہم لوگ گھروں میں مقید ہوجائیں گی۔۔؟
جی ہمارے ہاں ابھی کرتا اِن ہی ہے۔۔یا شاید صرف عید کی وجہ سے ان تھا اور جو حلیہ آپ نے لکھا ہے۔۔دور کہاں جاؤں۔۔میرے اپنے چھوٹے بھائی سبحان اللہ ہیں۔ ماما اور میں منع کرکرکے تھک جاتیں ہیں۔۔بابا کے سامنے بالکل انسان بن کے رہتے ہیں۔۔وہ نہ ہوں تو دنیا کی ہوا لگ جاتی ہے۔ پتہ نہیں کیا بنے گا اس قوم کا۔ ہم انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح سے بہت بے بس ہیں۔ :sad:
اچھا میاں مٹھو۔۔۔
تین ٹکڑوں میں پوسٹ اس لیے مکمل ہوئی تھی کہ میں اس بلاگ کی ایڈمن نہیں ہوں۔۔۔ورنہ پوسٹ ایڈیٹ کرلیتی۔
:wink:
لیں میں نے کب ماوراء کو شہہ دی۔۔؟ سچ بات ہی تو کی تھی۔
October 22, 2007 بوقت 5:57 am
ماوراء کی بچی ی ی ی!

آپی! میں آپ کی اس بات سے اتفاق کروں گا کہ کیا ایسے لوگوں کی وجہ سے ہمیں گھر میں مقید ہوجانا چاہئے؟؟؟ نہیں، ہرگز نہیں! لیکن ان شریر شیطانوں کو بھی تو کوئی سبق سکھانا ہے نا….!
اب یہ کہنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے کہ ہماری سوچ بہت زیادہ ملنے لگی ہے… ورنہ میں بلاگ پر بڑا بڑا کرکے لکھ دوں گا میری اور میری آپی کی سوچ بہت ملتی ہے اور جس کو ثبوت چاہئے وہ میرا بلاگ پڑھنے کے بعد آپی جان کا بلاگ بھی دیکھ لے…….
میرا چھوٹا بھائی تو اب ابو کے سامنے بھی کچھ خاص انسان بن کر نہیں رہتا. کپڑوں کے معاملہ میں اسے سمجھانا فضول ہے. چاہے جیسے بھی حالات ہوں، اس نے کپڑے لینے ہیں تو مہنگے مہنگے اور فضول واہیات سے.