No Gravatar

عید آئی اور گزر گئی۔ سال کے چند ہی مواقع تو ایسے ہیں جن کا شدت سے انتظار کیا جاتا ہے اور پھر یہ آکر اتنی جلدی گزر جاتے ہیں کہ پتا ہی نہیں پڑتا۔
عید کے پہلے دن بوریت قسمت میں لکھی ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں۔ میں نے دوستی یاری پالی نہیں ہے۔ جو کچھ ہے وہ انٹرنیٹ تک محدود ہے، لیکن ہمارے ہاں ڈائل۔اپ نیٹ چلنے کے لیے نہیں، تپانے اور خون جلانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے اس کا سوچنا ہی فضول۔ کافی عرصہ سے ارادہ تھا کہ کیبل نیٹ لگوالوں گھر پر بھی لیکن جب جب کوشش کرتا ہوں، عین وقت پر یا تو امی سمجھا بجھا کر ٹھنڈا کردیتی ہیں یا گھر میں کوئی نیا خرچہ نکل آتا ہے۔۔۔ اور دل پر جبر کرکے اپنا ارادہ ملتوی کردیتا ہوں۔ :???: بے چارہ میں معصوم!
عید کے پہلے دن عصر کے بعد نانی کے گھر سارا ننھیال جمع ہوا۔ ہم بھی وہیں پہنچے۔ رات کو اگرچہ سب لوگ بشمول میرے گھر والے واپس چلے گئے لیکن میں اسامہ (اپنے بھائی) کے ساتھ وہیں رک گیا۔ حارث (میرا ماموں زاد بھائی) ٹی۔وی پر فلم دیکھنے لگا، اسامہ چھت والے کمرے میں جاکر فلم دیکھنے لگا اور میں موبائل فون پر مصروف ہوگیا۔ ٹیلی نار کے djuice نائٹ پیکج کا اپنا ہی لطف ہے۔ صبح فجر سے کچھ پہلے موبائل فون کی جان چھوڑی۔ تب تک حارث بھی چھت پر ہی چلا گیا تھا۔ میں بھی اوپر پہنچا۔ اس کے بعد اسامہ اور حارث سونے لیٹ گئے اور میں نیٹ پر بیٹھا۔ صبح آٹھ بجے کے بھی بعد سویا اور گیارہ بجے اٹھ گیا۔ ناشتہ وغیرہ کرکے نانا، نانی کے پاس جا بیٹھا تو حسبِ معمول نانی نے پرانی یادیں تازہ کیں اور میں بہت انہماک اور دلچسپی سے ماضی کے قصے سننے لگا۔ فوٹو البمز نکالے گئے۔۔۔ بہت لطف آیا۔۔۔ بس ایک شاید میں ہی ہوں جو ان باتوں میں دلچسپی لیتا ہوں ورنہ نانا، نانی کے ساتھ ماموں کے گھر والوں کا رویہ بہت افسوس ناک ہے۔ خیر اس موضوع پر پھر کبھی۔
ارادہ تھا کہ عید کے دوسرے دن گھر واپس چلے جائیں گے لیکن اسامہ نے حارث کے ساتھ کہیں گھومنے پھرنے کی بات چھیڑ دی۔ طے ہوا کہ شام میں کہیں نکلیں گے گھومنے۔ مغرب کے بعد نکلے۔ ایک موٹر سائیکل پر حارث کے ساتھ میں اور اسامہ بیٹھے۔ دوسری موٹر سائیکل پر حارث کے دو دوست تھے۔ کچھ طے نہیں تھا کہ جانا کہاں ہے۔ پہلے حارث اپنے دوستوں سے عید ملنے گیا۔ اس کے بعد بہادر آباد کا رخ کیا اور کے۔بی’ز پہنچے۔ اعلی طبقے کے لوگوں کی وہاں اکثریت تھی اور ماشاء اللہ خواتین کے لباس ایسے کہ کچھ لوگ بے شرمی سے گھورتے ہیں اور کچھ لوگ شرم کے مارے سر جھکا لیتے ہیں (اگرچہ ایسے لوگ اب اقلیت ہی میں ہیں۔ موجودہ فیشن اور ہماری خواتین کی عقل پر پڑے پردے کی بحث پھر کبھی سہی۔ بہرحال!) وہاں کھانا پینا کیا اور واپسی کو چلے۔ حارث کو راستہ معلوم نہ تھا، وہ صرف اپنے دوست کی موٹرسائیکل کا تعاقب کررہا تھا لیکن ایک پُل پر پہنچ کر دونوں موٹر سائیکلز کے درمیان فاصلہ ہوگیا، ہم لوگ ان پر نظر نہ رکھ سکے۔ وہ لوگ ایک موڑ کاٹ گئے اور ہم سیدھا نکل گئے۔ پُل سے اترنے کے بعد ہمیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو الٹے سیدھے موڑ کاٹتے ہوئے اپنی دانست میں صحیح سمت کو چلے لیکن کافی آگے چلنے کے بعد پتا چلا کہ ہم تو بالکل مخالف سمت میں بھاگ رہے ہیں۔ :oops: آاااہ! پھر واپس مڑے اور پونے دس بجے تک نانی کے گھر پہنچے۔ اب ظاہر ہے، گھر جانے کی ہمت کیا ہوتی۔ کسی نے جانے بھی نہیں دینا تھا۔ سو، رک گئے۔ حسبِ معمول رات کو حارث اور بھائی کمپیوٹر پر بیٹھے رہے اور میں موبائل پر مصروف۔ فجر کا وقت ہوا تو فون بند کیا اور نماز پڑھی، پھر سونے لیٹا۔ گیارہ بجے سے پہلے ہی آنکھ کھل گئی۔ یہ عید کا تیسرا دن تھا۔ اس دن ہمارا ددھیال دادی کے گھر جمع ہوتا ہے۔ شام کو نانی کے گھر سے نکلے اور دادی کے گھر چلے۔ وہاں سے رات بارہ بجے تک واپسی ہوئی۔ دو، تین دن کی تھکن کے باوجود ہم نے موبائل فون کی جان پھر نہیں چھوڑی۔ صبح فجر پڑھ کر تھوڑی نیند کی۔ دفتر بھی جانا تھا۔ پونے نو بجے کا الارم لگایا تھا موبائل میں۔ امی اور بہن نے ساڑھے آٹھ بجے سے اٹھانا شروع کیا اور پونے دس بجے اٹھا میں۔۔۔۔ پندرہ منٹ میں منہ ہاتھ دھویا، جسم پر پانی ڈالا، تیار ہوا، جیسا تیسا ناشتہ کیا اور ابو کے ساتھ بائیک پر دفتر پہنچا۔ یہ تھی تین دنوں کی مصروفیات۔ اب نیند اور تھکن سے بہت ہی برا حال ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر میں کچھ تذکرہ ہمارے لباس اور حلیے کا۔
اس عید پر میں نے صرف ایک ہی کرتا، پاجامہ لیا اور وہ بھی امی کے اصرار پر ورنہ میرا بچت کا پورا پورا ارادہ تھا۔ نیوی رنگ کی قمیض تھی جس کے کالر اور آستینوں پر ہلکا سا کام ہوا ہے، اور سیاہ رنگ کا پاجامہ۔ امی نے بار بار کہا تھا کہ اب کی بار تم ایک پاجامہ لے کر دیکھو، بہت اچھا لگتا ہے۔ لباس تو سبھی کو پسند آیا۔
چاند رات کو میں نے بالوں پر ویلا ہئیر اسٹریٹر کریم لگائی تھی، اس لیے عید کے دن میں نے شیمپو کیا۔ بال بھی کافی بڑھے ہوئے ہیں تو اب کی بار میرا روپ پہلے سے کافی ہٹ کر تھا۔ ددھیال میں تو کچھ کزنز نے بڑی تعریفیں کیں۔۔۔۔۔ اس لیے میں نے بھی مجبورا اسی طرح بال بنائے رکھے ورنہ بڑے بالوں میں مانگ نکالنے سے جو بال میرے چہرے یا کانوں پر آتے ہیں تو مجھے بہت الجھن ہوتی ہے اس لیے میں بال گیلے کر کے پیچھے کرلیتا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارےےےےے! سب سے اہم بات! میں ہمیشہ کی طرح اپنی سالگرہ بھول گیا۔ ہر بار سوچتا ہوں کہ اسلامی تقویم کے اعتبار سے بھی اپنی سالگرہ مناؤں گا۔۔۔ لیکن عین وقت پر ذہن سے نکل جاتا ہے۔ عید الفطر کے پہلے دن، جمعۃ المبارک کو، شام چھ بج کر دس منٹ پر میری ولادت ہوئی تھی۔ چلیں سب جلدی جلدی مجھے مبارکباد کے پیغامات بھیجیں۔
اتنی طویل اور بور تحریر اگر آپ نے پوری پڑھی ہے تو آپ کا بہت بہت شکریہ اور معذرت کہ میں نے آپ کا اتنا وقت ضائع کیا۔ چلیں، اب جائیں! کوئی ڈھنگ کا کام کریں۔ :razz:

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔