بہت دل گرفتہ ہوں
بیک وقت کئی صدمے ایک ساتھ پہنچے ہیں، سمجھ نہیں آتا کہ کس کس کا رونا رویا جائے۔ صدارتی انتخابات کا قدرے متوقع لیکن انتہائی افسوس ناک نتیجہ، پھر (نام نہاد) قومی مصالحتی آرڈیننس۔۔۔ بہت دل گرفتہ ہوں۔ کل تو مجھے یہ خیال بھی آیا کہ اب سیاست، اخبار، انٹرنیٹ، ہر شے سے کچھ عرصہ کے لیے کنارہ کشی اختیار کرلوں اور اپنی ذات تک محدود ہوجاؤں لیکن پھر تھوڑی ہی دیر بعد اس خیال کو رد کردیا۔
ہاں، کچھ دن سے مجھے احساس ہونے لگا ہے کہ جو لوگ میرا یہ وطن چھوڑ کر غیر ممالک میں رہائش پسند کرتے ہیں، وہ کیوں کرتے ہیں؟ میں اداسی کے عالم میں اکثر ابو سے کہنے لگا ہوں کہ کوئی اور ملک چلتے ہیں، اب یہاں گزارا نہیں ہے۔
آپ لوگ دعا کریں کہ میرے دل کو قرار آجائے۔
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
October 8, 2007 بوقت 2:41 am
اگر سب لوگ ملک چھوڑ کر جاتے رہیں گے تو یہاں کون رہے گا؟ ہمیں ہمیشہ سدھار کی کوشش کرتے رہنا چاہئے اور امید کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہئے۔
October 8, 2007 بوقت 3:26 am
عمار
اپنی بتی ذراء دھیمی کرو۔ یہ پہلی دفعہ نہیں ہورہا، ہر دفعہ لوگ کہتے ہیں کہ حد ہوگئی لیکن حد ہوتی نہیں ہے۔ یہ بھی سوچو کہ اگر مشرف ابھی چلا جاتا تو اس قوم پر ان قوتوں کے مکروہ چہرے کیسے عیاں ہوتے؟
بابو چھوڑو باقی دھندے موٹر سائیکل چلانی تو سیکھ لو۔ کام آئے گی :wink:
October 8, 2007 بوقت 4:24 am
ہاں میاں اتنے اداس نہ ہو۔
ویسے یار موٹر سائکل چلانی میں نے بھی سیکھنی ہے۔ :???:
October 8, 2007 بوقت 5:04 am
دل نا امید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام پر شام ہی تو ہے
October 8, 2007 بوقت 5:23 am
جب آدمی جھد مسلسل کو خیرباد کہ دے تو پھر ناکامی اس کا مقدر بن جاتی ھے اسلیے خوف بہی کوشش ترک مت کیجئے اور دوسروں کو بہی ناامید مت ھونے دیجیے۔
یھ موٹر سائیکل سیکہنے کا کیا چکر ھے؟
October 8, 2007 بوقت 8:43 am
ہاں بھائی راہبر ناامید مت ہو بھائی یہ تو جہد مسلسل ہے اور مایوسی گناہ ہے۔ واقعی بہت سے لوگوں کے چہرے عیاں ہونے تھے اس بہانے وہ عیاں ہوگئے۔
October 8, 2007 بوقت 10:30 am
بھائی عمار! مشکل اور کڑا وقت اگر آئے تو دو قسم کے رویے دیکھے جاتے ہیں ایک ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا اور دوسرا فرار۔ اور یہ بات ثابت ہے کہ اول الذکر رویہ ہمیشہ جوانمردوں نے اختیار کیا جبکہ آخر الذکر نامردوں اور بزدلوں کا شیوہ رہا۔ یار تم تو انقلاب کی باتیں کرنے والے آدمی ہو، اتنی جلدی گھبرا گئے، اگر واقعتاً یہی کیفیت ہے تو اس کا مطلب ہے کہ انقلاب کی باتیں صرف باتیں بنانے کی حد تک تھیں عمل سے ان کا تعلق نہ تھا لیکن اگر عملی طور پر کچھ کرنے کی تمنا کبھی بھی دل میں رہی ہے تو اس کو ہر گز ایسے نہیں سوچنا چاہیے۔ اگر ہم معاشرے میں تبدیلی چاہتے ہیں تو اس کے لیے بہت زیادہ قربانیاں دینا پڑتی ہیں اور اتنا میں آپ کو بتادوں کہ ابھی قربانیاں دینے کا آغاز بھی نہیں ہوا۔ ابھی ہمت پکڑو وگرنہ اُس وقت تو پہلے ہی ہلّے میں گھر کا راستہ دیکھنا پڑ جائے گا :???: اس لیے اسے “ابتدائے عشق” سمجھو اور “آگے” کے مراحل کے بارے میں سوچو۔ اور اللہ سے دعا کرو کہ آزمائش سے بچائے۔
October 8, 2007 بوقت 8:33 pm
آپ سب کے اچھے اچھے مشوروں کا بے حد شکریہ۔ ابوشامل! بے فکر رہیں، میں کہیں جانے والا نہیں ہوں۔۔۔ وہ تو بس دل کو تسلی دینے کے بہانے ہیں۔
بس میرے جیسی احمقانہ حرکت نہ کیجئے گا۔۔۔ اب تک پیر پر سیاہ داغ مجھے اپنی بے وقوفی کی یاد دلاتا ہے۔ :wink:
رضوان بھائی! ابھی پتا نہیں کتنی حدیں پار ہونی ہیں۔۔۔ اور موٹر سائیکل۔۔۔۔ :sad: ہائے! کیا یاد دلادیا آپ نے۔۔۔۔ ماہِ رمضان کے بعد سوچیں گے۔۔۔۔
شاکر بھائی! آپ نے بھی سیکھنی ہے؟
میرا پاکستان! موٹر سائیکل کا قصہ بڑا دلچسپ ہے۔ ملاحظہ کریں: قصہ ایک نادانی کا
October 8, 2007 بوقت 9:15 pm
اللہ کا فرمان ہے کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرے ۔ جب ہماری قوم ملک کی بہتری کی کوشش کرنا شروع کرے گی ۔ انشاء اللہ بہتری ہو گی ۔ ابھی تو بھاری اکثریت لوٹ مار میں لگی ہے ۔
October 9, 2007 بوقت 3:22 am
ہیںںںں عمار اللہ معاف کرے۔۔۔یہ آپ اتنی سی بات پر اتنے زیادہ رنجیدہ کیوں ہوئے۔۔۔اور یہ آپ نے چھوٹی چھوٹی باتوں میں اتنی بڑی بڑی باتیں کیوں لکھی ہوئی ہیں۔۔؟؟ :roll:
آپ نے بھی دعاؤں میں یاد رکھنا ہے اچھااااااااااا۔۔۔میری دعائیں آپ سب کے لیے ہیں۔
عمار انکل ایک بات یاد رکھیں ۔۔کوئی بھی آجائے۔۔وہ م سے ہو گا۔۔م سے مطلب۔۔
م سے منافق
م سے مشرف
م سے مولانا
م سے محترمہ
بھائی یہ پاکستان ان کا ہے۔۔ہمارا تو بس پندرہ بیس مرلہ کا گھر ہے۔ ہم بس اسے سجانے سنوارنے کا حق رکھتے ہیں۔ دفع کریں ان سب کو۔۔۔یہ سب انشاءاللہ ج سے جہنم میں جائیں گے۔اللہ تعالیٰ کبھی انھیں معاف نہیں کریں گے۔
October 9, 2007 بوقت 3:29 am
امن مسلمان ہیں کبھی تو معافی مل ہی جائیگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا پتہ پہلے ہی ہلے میں مل جائے۔ :mrgreen:
October 10, 2007 بوقت 9:52 am
یہ تو ہے۔۔۔
وہ تو میں نے بس غصے میں ایویں ہی لکھ دیا تھا۔۔کیا پتہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں مجھ سے کئی گنا اچھے ہوں۔ :???: :sad:
October 10, 2007 بوقت 8:51 pm
امن آنٹی!
یہ اتنی سی بات نہیں ہے نا میرے لیے۔۔۔ پتا نہیں کتنےےےےے سپنے سجائے ہیں میں نے اپنے پیارے دیس کے لیے۔ پورا پاکستان ہمارا گھر ہے۔ ہم سب نے ہی اس کی فکر کرنی ہے نا!
ویسے ‘م’ والی بات بہت اچھی لکھی ہے۔
October 11, 2007 بوقت 12:34 pm
زندگی اسی کا نام ہے۔۔کبھی حالات ایسے بھی ہو جاتے ہین کہ انسان ۔۔۔اب تو گھبرا کہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے۔۔کی تفسیر بن جاتا ہے لیکن وقت کی ایک خوبی یہ ہے کہ یہ گزر جاتا ہے کتنی ہی اندھیری رات کیوں نہ ہو اس کا انجام ایک نئے سویرے پر ہوتا ہے۔۔امید رکھیے پاکستان کے باسیوں کے لئے بھی ایک نئی سحر ضرور طلوع ہو گی۔۔ اور پتہ کیا وطن سے دور جا بسنے کے باوجود دھڑکنوں کے سُرتال وطن کے حالات سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔۔ محبانِ وطن کو لئے وطن سے دور رہ کر بھی کسی کل چین نہیں پڑتا:(۔۔ بس دعا ہے اللہ ہم سب پر رحم کرے آمین
October 11, 2007 بوقت 1:49 pm
زندگی اسی کا نام ہے۔۔کبھی حالات ایسے بھی ہو جاتے ہین کہ انسان ۔۔۔اب تو گھبرا کہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے۔۔کی تفسیر بن جاتا ہے لیکن وقت کی ایک خوبی یہ ہے کہ یہ گزر جاتا ہے کتنی ہی اندھیری رات کیوں نہ ہو اس کا انجام ایک نئے سویرے پر ہوتا ہے۔۔امید رکھیے پاکستان کے باسیوں کے لئے بھی ایک نئی سحر ضرور طلوع ہو گی۔۔ اور پتہ کیا وطن سے دور جا بسنے کے باوجود دھڑکنوں کے سُرتال وطن کے حالات سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔۔ محبانِ وطن کو لئے وطن سے دور رہ کر بھی کسی کل چین نہیں پڑتا:(۔۔ بس دعا ہے اللہ ہم سب پر رحم کرے آمین
———————————————————————–
بہت اچھا لکھا ہے آپ نے۔
محبانِ وطن ، وطن میں رہیں یا وطن سے باہر وہ وطن کے حالات سے خود کو جُدا نہیں رکھ سکتے۔
October 12, 2007 بوقت 12:44 pm
عمار بھائی، فرحت
بالکل آپ نے ٹھیک کہا۔۔۔پتہ ہے کبھی کبھی یہ سیاست اور سیاستدان اس قدر frustrate کردیتے ہیں کہ غصے میں پھر سمجھ ہی نہیں آتی کہ کس کو کیا کہاجائے۔ جتنا پیار ہم کو اپنے پاکستان سے ہے یہ لوگ اس سے آدھا بھی رکھیں تو شاید کچھ بہتری کی صورت نکل آئے۔:(
عمار یہ م والا سب کچھ میں نے نہیں لکھا تھا۔۔۔جنگ اخبار میں کسی نے احتجاجی پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا۔۔وہاں لکھا ہوا تھا۔۔مجھے بس یاد رہ گیا۔۔ابھی میں شاید اتنی بدتمیز نہیں ہوئی کہ ایسا خود سے سوچ سکوں۔۔
October 13, 2007 بوقت 3:50 pm
میں اداسی کے عالم میں اکثر ابو سے کہنے لگا ہوں کہ کوئی اور ملک چلتے ہیں، اب یہاں گزارا نہیں ہے۔
آپ لوگ دعا کریں کہ میرے دل کو قرار آجائے۔
————————————————————————–
ہائے میرے بچے، قرار تو تمھارا کسی اور ملک جا کر لٹے گا۔
———————————————————————–
سب سے پہلے ۔۔۔
م سے ماوراء
م سے منافق
م سے مشرف
م سے مولانا
م سے محترمہ
اے اللہ۔۔۔اس ملک کا رہنما مجھے بنا دے۔ تاکہ میرے ملک کے بندے سکھ اور چین سے جی سکیں۔ آمین۔
میں نے تو مشرف انکل کے حق میں دعا کی تھی۔
October 15, 2007 بوقت 2:12 am
مشرف انکل کے حق میں دعا کرنے پر میں کچھ صلواتیں ضرور سناتا لیکن اس لیے چھوڑ رہا ہوں کہ اگر محب کی نظر اس جملے پر پڑی تو وہ خود ہی آپ کی اچھی خاصی کلاس لے لیں گے۔ :wink:
امن! م سے اتنی شخصیات گنوائی تھیں، اپنی دوست کو تو بھول ہی گئیں۔۔۔۔ ماوراااا! مستقبل کی ایسی رہنما کہ جس کے برسر اقتدار آنے کے بعد ملک میں بڑی تبدیلی رونما ہوگی۔۔۔ وہ یہ کہ ابھی صرف سیاسی راہنما لڑتے ہیں، ماوراء کے آنے کے بعد عوام بھی لڑنے لگی گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔