No Gravatar

ایک، ڈیڑھ ماہ سے شور مچا تھا کہ سابق وزیر اعظم پاکستان اور پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو صاحبہ واپس آرہی ہیں۔ مجھے بے نظیر صاحبہ (بحیثیت سیاستدان :razz: ) کبھی پسند نہیں رہیں اور پاکستان آنے سے قبل ان کے چند بیانات نے مزید افسردہ کیا۔
اٹھارہ اکتوبر کو ان کی واپسی کی تاریخ مقرر ہوئی۔ ان کے استقبال اور حفاظتی اقدامات کے لیے جس قدر خطیر رقم خرچ کی گئی، وہ اب کوئی راز کی بات تو نہیں رہی۔ لیکن مجھے ان باتوں سے فی الحال کوئی مطلب نہیں، کوئی سروکار نہیں۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ ان کی واپسی پر استقبالیہ جلوس کے ساتھ جو افسوسناک حادثہ پیش آیا، اس کے ذمہ داروں کا جرم شاید بے نظیر صاحبہ کے تمام جرائم سے زیادہ بڑا ہے، تمام مظالم سے زیادہ گھناؤنا ہے۔
اس افسوسناک واقعہ کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا؟ کس نے یہ سب کیا؟ اس کے بارے میں کچھ کہنا اتنا ہی فضول ہے جتنا کہ صدر پرویز مشرف کی یہ بات کہ اس واقعہ کی رپورٹ چوبیس گھنٹوں میں انہیں پیش کی جائے اور اس کے ذمہ دار عناصر کو سخت ترین سزا دی جائے۔
آج، روزنامہ “ایکسپریس” میں عبد اللہ طارق سہیل صاحب نے اپنے کالم کے اختتام میں اڑتالیس گھنٹوں کے حوالہ سے بہت خوبصورت بات لکھی ہے۔ ان کا تجزیہ پڑھیں:

” صدر نے کراچی کے ہولناک سانحے کی رپورٹ چوبیس گھنٹے میں طلب کرلی ہے۔ خبر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ چوبیس گھنٹے کب شروع ہوں گے لیکن ظاہر ہے بتانے کی ضرورت نہیں۔ یہ چوبیس گھنٹے اس وقت شروع ہوں گے جب دو ڈھائی برس قبل کراچی میں سنی تحریک کے جلسہ عام کو بم سے اڑانے کی واردات کے بعد ملزموں کی گرفتاری کے لیے دی گئی ڈیڈلائن کے اڑتالیس گھنٹے ختم ہوں گے۔ ابھی یہ اڑتالیس گھنٹے جاری ہیں اور مزید لامتناہی برسوں تک جاری رہیں گے۔”

ویسے اس تجزیہ میں دو غلطیاں بھی ہیں۔ پہلی یہ کہ صدر نے اس بار بھی اڑتالیس گھنٹے ہی دیے ہیں، چوبیس نہیں۔ دوسری غلطی یہ کہ دو ڈھائی سال قبل جس واقعہ کا ذکر ہے وہ سنی تحریک کا جلسہ عام نہیں بلکہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جلسہ تھا۔ شاید طارق سہیل صاحب اپنی دلی عداوت کو یہاں پوشیدہ نہیں رکھ سکے۔
خیر، تمام مرنے والوں کے لواحقین سے دلی تعزیت۔
ارےےےےے کوئی ہے؟ ان خودکش حملوں کو روکنے والا۔۔۔ سوچتا ہوں کہ ایک تحریر خود کش حملوں کی مخالفت میں بھی لکھ ماروں۔ پتا نہیں کون بے وقوف، بے عقل، گدھے ہیں جو پاکستان میں خود کش حملے جائز سمجھتے ہیں۔

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔