اٹھارہ اکتوبر
ایک، ڈیڑھ ماہ سے شور مچا تھا کہ سابق وزیر اعظم پاکستان اور پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو صاحبہ واپس آرہی ہیں۔ مجھے بے نظیر صاحبہ (بحیثیت سیاستدان
) کبھی پسند نہیں رہیں اور پاکستان آنے سے قبل ان کے چند بیانات نے مزید افسردہ کیا۔
اٹھارہ اکتوبر کو ان کی واپسی کی تاریخ مقرر ہوئی۔ ان کے استقبال اور حفاظتی اقدامات کے لیے جس قدر خطیر رقم خرچ کی گئی، وہ اب کوئی راز کی بات تو نہیں رہی۔ لیکن مجھے ان باتوں سے فی الحال کوئی مطلب نہیں، کوئی سروکار نہیں۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ ان کی واپسی پر استقبالیہ جلوس کے ساتھ جو افسوسناک حادثہ پیش آیا، اس کے ذمہ داروں کا جرم شاید بے نظیر صاحبہ کے تمام جرائم سے زیادہ بڑا ہے، تمام مظالم سے زیادہ گھناؤنا ہے۔
اس افسوسناک واقعہ کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا؟ کس نے یہ سب کیا؟ اس کے بارے میں کچھ کہنا اتنا ہی فضول ہے جتنا کہ صدر پرویز مشرف کی یہ بات کہ اس واقعہ کی رپورٹ چوبیس گھنٹوں میں انہیں پیش کی جائے اور اس کے ذمہ دار عناصر کو سخت ترین سزا دی جائے۔
آج، روزنامہ “ایکسپریس” میں عبد اللہ طارق سہیل صاحب نے اپنے کالم کے اختتام میں اڑتالیس گھنٹوں کے حوالہ سے بہت خوبصورت بات لکھی ہے۔ ان کا تجزیہ پڑھیں:
” صدر نے کراچی کے ہولناک سانحے کی رپورٹ چوبیس گھنٹے میں طلب کرلی ہے۔ خبر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ چوبیس گھنٹے کب شروع ہوں گے لیکن ظاہر ہے بتانے کی ضرورت نہیں۔ یہ چوبیس گھنٹے اس وقت شروع ہوں گے جب دو ڈھائی برس قبل کراچی میں سنی تحریک کے جلسہ عام کو بم سے اڑانے کی واردات کے بعد ملزموں کی گرفتاری کے لیے دی گئی ڈیڈلائن کے اڑتالیس گھنٹے ختم ہوں گے۔ ابھی یہ اڑتالیس گھنٹے جاری ہیں اور مزید لامتناہی برسوں تک جاری رہیں گے۔”
ویسے اس تجزیہ میں دو غلطیاں بھی ہیں۔ پہلی یہ کہ صدر نے اس بار بھی اڑتالیس گھنٹے ہی دیے ہیں، چوبیس نہیں۔ دوسری غلطی یہ کہ دو ڈھائی سال قبل جس واقعہ کا ذکر ہے وہ سنی تحریک کا جلسہ عام نہیں بلکہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جلسہ تھا۔ شاید طارق سہیل صاحب اپنی دلی عداوت کو یہاں پوشیدہ نہیں رکھ سکے۔
خیر، تمام مرنے والوں کے لواحقین سے دلی تعزیت۔
ارےےےےے کوئی ہے؟ ان خودکش حملوں کو روکنے والا۔۔۔ سوچتا ہوں کہ ایک تحریر خود کش حملوں کی مخالفت میں بھی لکھ ماروں۔ پتا نہیں کون بے وقوف، بے عقل، گدھے ہیں جو پاکستان میں خود کش حملے جائز سمجھتے ہیں۔
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
October 20, 2007 بوقت 1:12 am
عمار یہ مسئلہ ورڈپریس میں ہے یار۔ اس کا نیا ورژن آئے تو سیٹ ہو۔ بہت سے دوست یہ شکایت کررہے ہیں لیکن ورڈپریس سپورٹ فومز سے بھی کوئی جواب نہیں مل رہا سو :???:
October 20, 2007 بوقت 3:21 pm
پنجاب کے جنوبی علاقے سے تین افراد کو حراست میں لینے اور تفتیش کی خبر تو آئی ہے۔ اب دیکھو، کہ کیا ہوتا ہے۔
ایم کیو ایم اور طالبان جیسے لوگ جب تک ہیں۔ تب تک خود کش حملے ختم نہیں ہوں گے۔ اور بے نظیر کیوں نہیں پسند۔۔؟ ہمارے ملک کی اکلوتی عورت ہی تو پرائم منسٹر ہے۔
October 20, 2007 بوقت 9:20 pm
سآپ کا علم نہیںلیکن میرے مطابق عید ملادالنبی بدعت ہے۔
October 21, 2007 بوقت 10:15 pm
شاکر عزیز! بیسٹ آف لک۔
ماوراء! مجرم نہ کبھی پکڑے گئے ہیں، نہ پکڑے جائیں گے۔ کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہوں میں۔ اور بے نظیر کو کیوں پسند کروں؟ صرف اس لیے کہ وہ واحد خاتون وزیر اعظم ہے ہمارے ملک کی؟
بدتمیز! میرے نزدیک عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم بدعت نہیں البتہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے کے مروجہ طریقے ضرور بدعت ہوسکتے ہیں اور کچھ باتوں میں مجھے سخت اختلاف بھی ہے۔ واللہ اعلم۔
October 22, 2007 بوقت 12:08 am
مسلمانوں میں مقبول عام ہوتی ویب سائٹ http://www.inikah.com
شادی کی اہمیت وافادیت پر کسی فرد کو کلام نہیں ، شادی کے بعد ایک نئی زندگی کی شروعات تصورکی جاتی ہے، اس کے بغیر سماجی زندگی کاتصور نہیں کیاجاسکتا، معاشرے کی ترقی اور فلاح وبہبود اسی میں پنہا ہے، اسی سے خاندانوں میں پروان چڑھتا ہے،اور معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے، اس کے بغیر برائیوں اور بے حیائیوں کے راستے کھلتے ہیں۔
آج سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ کسطرح اس خوبصورت لمحہ کو یادگار اور کامیاب بنایاجائے،کیوں کہ موجودہ دور میں اپنے پسند کے رشتے تلاش کرنابہت مشکل امر ہے، کچھ لوگ رشتہ طے کرانے کا کام انجام دے رہے ہیں ،لیکن اس سماجی اور دینی کام کومشاطہ حضرات نے ایک کاروبار ی شکل دے دی ہے،ایک رشتہ طے کرانے کیلئے اتنے پیسوں کامطالبہ کیاجاتاہے جو ایک عام آدمی اس کی استطاعت نہیں رکھتا، کچھ پڑھے لکھے طبقہ انگریزی اخباروں اور غیر اسلامی ویب سائٹس کاسہارا لیتے ہیں تو ایسی صورت میں غیر مسلم خاندانوں کی طرف سے بھی فون کالز آنے لگتے ہیں ، رشتے طے کرانے کیلئے کئی ویب سائٹس ملک و بیرون ملک کام انجام دے رہے ہیں لیکن ان سب میں لڑکیوں کی تصویروں کی زیادہ سے زیادہ نمائش کیجاتی ہے، اور ان کابیجا استعمال کیاجاتا ہے،اس طرح کے ویب سائٹس آج کل صرف تفریح و طبع کیلئے دیکھا جاتاہے، جہاں اسلامی شریعت کا کو ئی پاس و لحاظ نہیں کیا جاتا ، ان تمام صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے بنگلور کی ایک مسلم سافٹ ویئر کمپنی online mPower labs (p) ltd نے دنیاکا سب سے پہلی اسلامک ویب سائٹ iNikah.com کے نام سے تشکیل دی ہے جو اپنی تشکیل کے روز اوّل ہی سے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مسلمان لڑکے ولڑکیوں کے رشتے طے کرانے کی خدمات سرانجام دے رہی ہے جس سے ایک سال کے مختصر عرصہ میں ملک وبیرون ملک کی ایک کثیر تعداد استفادہ کرچکی ہے۔الحمدللہ
http://www.iNikah.com کے آغاز کا مقصد مسلم سماج میں شادی بیاہ کے حوالے سے موجودہ سماجی برائیوں کو ختم کرتے ہوئے شادی کے لائق مسلم نوجوان لڑکے و لڑکیوں کیلئے اپنی پسند کے رشتے کو آسان عمل بناکر پیش کرنا ہے ۔
http://www.iNikah.com کی خصوصیات یہ ہیں کہ بنیادی طور پر اسلامی تشخص کالحاظ رکھا گیا ہے ۔ اس ویب سائٹ پر لڑکیوں کی تصاویر موجود ہیں لیکن ان کا مشاہدہ اس وقت تک نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ لڑکی کے سرپرست اس کی اجازت نہ دے دے، جب کہ دیگر رشتے لگانے والی ویب سائٹس میں ایسا کچھ نہیں ہے، نتےجتا لڑکیوں کی تصاویر لوگ تفریح و طبع اور بے مقصد بھی دیکھتے ہیں جب کہ iNikah.com میں لڑکے والے کسی لڑکی کا بائیو ڈاٹا دیکھنے کے بعد لڑکی کی تصویر دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنا بائیو ڈاٹا بتلاتے ہوئے لڑکی والو ں کا وہ پاس ورڈ حاصل کر نا ہوتا ہے جس کو ٹائپ کر نے کے بعد ہی لڑکی کی تصویر تک رسائی ہوتی ہے۔ iNikah.com کے ذریعہ لڑکی ڈھونڈنے والے لڑکوں اور ان کے سرپرستوں سے یہ ضمانت لیتی ہے کہ وہ جہیز کامطالبہ نہ کریں ۔ شادی طے ہوجانے کے بعد دوران شادی بے دریغ مال خرچ نہ کریں۔ شادی میں ہونے والی برائیوں کو ختم کرنے کا عہد کریں۔
چونکہ ترقی کے اس دور میں جس طرح دنیا کی ساری چیزوں میں تغیرات ہوئے اور ہورہے ہیں اسی طرح شادی کے سلسلے میں نوجوان طبقہ کے خیالات بھی بدلتے جارہے ہیں ،عام طور پر ہندوستانی لڑکوں کو تعلیم یافتہ اور خوبصورت لڑکیوں کی تلاش رہتی ہے ،تو لڑکیاں ایسےشوہر کی تلاش میں رہتی ہیں جن کی معاشی حالات مستحکم ہوں اوراسلامی تعلیمات سے آراستہ ہوں تاکہ اپنی بیوی کے صحیح حقوق ادا کرسکے، شاید اسی لئے ردا خانم نے اپنی بیٹی کیلئے http://www.inikah.com نامی ویب سائٹ پر رجسٹر کرایا ،کیونکہ یہ ویب سائٹ نہ صرف رشتہ طے کراتی ہے ، بلکہ اسلامی شریعت کے مطابق بنائی گئی یہ ویب سائٹ جہیز جیسی بری لعنت سے بچنے کا عہد بھی لیتی ہے،اس ویب سائٹ کا دعوٰی ہے کہ ان کی بھر پور کوشش سے ایک بہترین ہمسفر مل سکتا ہے۔www.inikah.com کے(چیف ایکزیکٹیو آفیسر)احمد حسن کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں عام آدمی کیلئے انٹرنیٹ پر رشتے تلاش کرنا اب معمولی بات ہے۔
ہندوستان میں آئی ٹی کے ماہرین نہ صرف ملازمتوں کی مارکیٹ میں مقبولیت حاصل کررہے ہیں بلکہ شادیوں کیلئے بھی انہیں سب سے زیا دہ ترجیح دی جاتی ہے۔
آئی نکاح ڈاٹ کام سے مسلمانوں کی دلچسپی کو دیکھتے ہوے کمپنی کے c.e.o. احمد حسن کا کہنا ہے کہ ” ان شاءاللہ آنے والے دوتین مہینوں کے اندر اس ویب سائٹ میں اردو ،عربی اور ہندی زبان کی سہولیات فراہم کئے جائیں گے۔ “
iNikah.com ملک کے بڑے بڑے شہروں میں سمپل نکاح پوائنٹس کی شروعات کرچکی ہے، جن کے ذریعہ جنہیں انٹر نیٹ کے استعمال سے شناسائی نہیں ہے وہ بھی اپنے رشتوں کا رجسٹریشن آف لائن کراسکیں گے۔
iNikah.com ایک اچھی شروعات ہے جس کی ستائش کی جانی چاہئے۔
ہیڈآفس نمبر 42 ، نندی درگا روڈ بنگلور 46، انڈیا۔91
080-41289572،41285440،009945631954
از: محمد تنویر عالم قاسمی
http://www.inikah.com
October 22, 2007 بوقت 5:59 am
ویسے میرا کوئی ارادہ اس طرح کے اشتہارات کو شائع کرنے کا نہ تھا اور نہ ہے لیکن پھر بھی یہ تنویر عالم قاسمی صاحب کی تحریر شائع کردی ہے کہ شاید کسی کا بھلا ہوجائے. :wink:
October 22, 2007 بوقت 4:16 pm
عمار، اس لیے بھی پسند کرو کہ ہمارے ملک کی واحد بڑی لیڈر یا پارٹی پیپلز پارٹی ہی ہے۔
۔۔۔
آپ کا علم نہیںلیکن میرے مطابق عید ملادالنبی بدعت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بدتمیز، سبحان اللہ۔
عمار، ایسا اشتہار میرے بلاگ پر بھی پوسٹ ہوا تھا۔ لیکن شکر ہے نکاح ، رشتہ وغیرہ کا نہیں تھا۔ کتابوں کا تھا۔ اس سے تم ہی فائدہ اٹھاؤ۔
October 23, 2007 بوقت 3:09 am
یہ شاکر میاں کس مسئلہ کی بات کر رہے ہیں؟
راہبر یہ تھیم لگتا ہے خاص کر آپ کیلیے بنائی گئی ہے. :eek:
October 23, 2007 بوقت 3:38 am
زرا یہ ایس ایم ایس پڑھیے:
Benazir Bhutto is a true leader of Pakistan, Because:
She traveled 9 km in 12 hours, but after the blast
25 km in 5 mins !!!
October 23, 2007 بوقت 5:21 am
دلچسپ ایس.ایم.ایس ہے واقعی. ویسے میں نے کل ایک تقریب میں بی.بی.سی کے حوالہ سے سنا کہ دھماکے کے بعد جب بے نظیر فرار ہوئی تو وہاں پڑے زخمیوں اور لاشوں پر سے اس کی گاڑی گزری… کیا واقعی ایسا ہوا؟ کسی کی نظر سے ایسی کوئی خبر گزری ہے؟
ساجد اقبال! یہ تھیم میرے لیے خاص طور پر کیوں؟ کس بات کی طرف اشارہ ہے؟
ماوراء! عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بدتمیز کے جملے کا اقتباس لے کر سبحان اللہ لکھ کر چھوڑ دینے کا کیا مقصد ہے؟ :cool:
شاکر اس مسئلہ کی طرف اشارہ کررہے ہیں کہ اکثر ان کے بلاگ کا انڈیکس صفحہ نہیں کھلتا.
October 23, 2007 بوقت 10:25 am
عمار اس خبر کا تو مجھے پتہ نہیں یہی ہے کہ نہیں لیکن آج شام کو میں اس قسم کی خبر نہایت دکھ کے ساتھ اپنے بلاگ پر پوسٹ کرچکی ہوں۔
October 23, 2007 بوقت 6:25 pm
بچو۔۔۔اپنی جان سب کو عزیز ہوتی ہے۔ اور ٹارگٹ بے نظیر تھی نہ کہ عوام۔ اب اللہ نے بے نظیر کو بچا لیا تو اس کا کیا قصور۔۔!!
عمار، بدتمیز سمجھ جائیں گے کہ اس “سبحان اللہ“ کا کیا مطلب ہے۔
October 23, 2007 بوقت 7:51 pm
چھوٹے بھائی ، ماشاءاللہ کافی علمی باتیں ہو رہی ہیں یہاں پہ۔ اس لئیے آج تو سلام کرنے پہ ہی اکتفا کروں گا۔ :roll:
October 23, 2007 بوقت 10:19 pm
ماوراء! تمہیں بے نظیر سے بہت ہمدردی ہے…..
ہر جگہ دو لفظ لکھ کر سلام کرجاتے ہیں… کیوں جی؟ اپنا بلاگ لکھنا شروع کردیا ہے؟ 
بڑے بھیا! آپ کی علمیت کو کیا ہوا ہے؟
October 24, 2007 بوقت 3:58 am
عمار ،
میں مذہب پر بحث کرنے سے عام طور پر دور رہنا ہی پسند کرتا ہوں۔ اب ایسا بھی نہیں ہے کہ اس موضوع پر بالکل بھی منہ بند رکھتا ہوں ۔ لکھنے کو بہت کچھ ہوتا ہے میرے پاس لیکن مذہب کا موضوع ہمارے معاشرے میں ہمیشہ اتنا حساس رہا ہے کہ “ اک ذرا سی بات پہ برسوں کے یارانے گئے “ والی کیفیت پیدا ہونے میں دیر نہیں لگتی۔
یہ تو بین المذاہب بحث پر میرا نقطہ نظر تھا۔
لیکن اگر بات اپنے ہی مذہب میں پائے جانے والے علمی اور فقہی اختلاف کی ہو تو نہ جانے کیوں میں اس پر لکھنے میں گھبراہٹ محسوس کرتا ہوں۔
میں خود کسی کے مذہب ، عقیدے اور فرقے پر کبھی اور کسی حال میں بھی اعتراض نہیں اٹھاتا۔اور پسند بھی نہیں کرتا کہ کوئی مجھے اپنا مذہب یا عقیدہ سکھانے کی کوشش کرے۔
ہم مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہو گئے تو مسلمان کہلائے ۔ لیکن اگر ہم دین کا مطالعہ کر کے اپنے اسلام کو اپ ڈیٹ کریں تو یہ چھوٹے موٹے اختلافات اپنی موت آپ مر جائیں گے۔
اختصار سے کہوں گا کہ آپ کی بات میں دم ہے کہ میلاد النبی کی خوشی منانا بدعت نہیں لیکن بدعات کا ارتکاب ہم خود کرتے ہیں اس موقع پر۔
اگر ہم اپنے پیاروں کو ان کی سالگرہ پر ہیپی برتھ ڈے کہہ سکتے ہیں تو اس ذات عالیہ کے لئیے کیوں نہیں کہ جو وجہِ وجودِ کائنات ہے۔ اب اس موقع پر جو غیر شرعی اعمال کئیے جاتے ہیں اس کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو ان کا ارتکاب کرتے ہیں۔
اور اس دن کو مذہب کا لازمی حصہ اور حکم سمجھ کر بھی نہیں منانا چاہئیے ۔ آپ کا دل چاہے تو اپنے پیارے نبی کے یوم پیدائش پر ان کو ہدیہ تبریک اور درود و سلام کا نذرانہ زیادہ اہتمام سے پیش کیجئیے ۔ اچھا لباس زیب تن کیجئیے کہ آپ کی خوشی عیاں ہو۔ لیکن اس کو اسراف اور غیر شرعی اعمال کی ادائی کا سبب نہ بنائیے۔
میں اس موضوع پر کسی سے مباحثے کے مُوڈ میں نہیں ہوں۔
اللہ آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔
October 24, 2007 بوقت 4:02 am
ہاں ، چھوٹے بھائی ، میں نے اپنا بلاگ شروع کیا ہے کہ جہاں میں اپنی بے تکی باتوں اور خیالات کا اظہار کرتا ہوں۔
October 24, 2007 بوقت 5:00 am
……….
اور اس دن کو مذہب کا لازمی حصہ اور حکم سمجھ کر بھی نہیں منانا چاہئیے ۔ آپ کا دل چاہے تو اپنے پیارے نبی کے یوم پیدائش پر ان کو ہدیہ تبریک اور درود و سلام کا نذرانہ زیادہ اہتمام سے پیش کیجئیے ۔ اچھا لباس زیب تن کیجئیے کہ آپ کی خوشی عیاں ہو۔ لیکن اس کو اسراف اور غیر شرعی اعمال کی ادائی کا سبب نہ بنائیے۔
……..
صحیح فرمایا بڑے بھیا! میں آپ کے خیالات سے متفق ہوں. ہمارا دین آسان ہے، ہم نے خود اسے اپنے لیے مشکل کیا ہے. ہم نے ان چیزوں کو خود پر لازم کرلیا ہے جو کہ نہیں ہیں. بہرحال! آپ نے اگرچہ اس موضوع پر لکھنے سے احتراز کیا ہے لیکن میں کچھ باتیں ضرور لکھنا چاہوں گا. بہت جلد ان شاء اللہ.
اور یہ بالکل بھی اچھی بات نہیں. ہم سے بلاگ کیوں چھپا کر رکھا، ہاں؟؟؟ :sad:
October 25, 2007 بوقت 6:20 am
عمار ، فقہی اختلافات پر لکھنے سے احتراز کی وجہ میں بیان کر چکا ہوں ۔ اگرچہ میری تعلیم انگریزی سکول کے ساتھ ساتھ ایک دینی مدرسے میں بھی ہوئی ہے اور دلائل و براہین کا ایک انبار گراں پیش کرنے کا ملکہ بھی اللہ نے اپنی مہربانی سے ودیعت کر رکھا ہے لیکن میری ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ اختلافی مسائل کی بحث میں نہ ہی پڑوں۔
بس اتنا کہہ دوں کہ میں پیدائشی مسلمان تھا ، پھر میرے فطری تجسس نے مجھے اس سے بیگانہ کر دیا اور میں اپنی زندگی کے دو سال اس حال میں رہا کہ نہ مسلم تھا نہ کافر۔
میں دوبارہ سے اسی اسلام کی طرف ( اللہ کی مدد) سے اس وقت لوٹا جب میری آنکھوں اور دل نے حقیقت کو پا لیا۔ اور کافی سے زیادہ شواہد اس بات کے حاصل ہوئے کہ یہی وہ دین ہے جو انسان کی جبلت کے عین مطابق اس کو رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔ اس کی تفصیلات پھر کبھی لکھوں گا۔
اب جو یہ سارا چکر چل رہا ہے اختلافات اور الزامات کا۔ بدعات و مکروہات کے فتاوٰی کا ۔ بشر و نور کے تعین کا۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اس پر بحث علمی نقطہ نظر سے کم بلکہ گروپ بندی اور ہٹ دھرمی کی بنیاد پر زیادہ کی جاتی ہے۔ دلیل نہ ہونے کی صورت میں گالی گلوچ کا سلسلہ چل نکلتا ہے۔ اس سے بھی آگے چلیں تو کفر کے فتوے جاری کئیے جاتے ہیں ایک دوسرے کے خلاف۔ پھر اپنے مخالفین کے قتل کو جائز قرار دینے کے لئیے تاویلیں گھڑی جاتی ہیں ۔ قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کے معانی و مطالب کو توڑ مروڑ کر اپنے حق میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اور پھر وجود میں آتے ہیں وہ لوگ جو ان سب چیزوں سے متاثر ہو کر مسجدوں ، امام بارگاہوں اور دینی محافل پر خود کش حملے کرتے ہیں۔ علماء کرام کا قتل کرتے ہیں ۔ فرقہ بازی کو ہوا دے کر خود کو مسلح رکھنے کا جواز پیدا کرتے ہیں۔ ،،،،اور ایسے گھناؤنے لوگوں کا اپنا علم دین کے بارے میں کیا ہوتا ہے کہ ان کی اکثریت وضو کے فرائض اور غسل کے طریقہ جیسی بنیادی باتوں سے بھی ناواقف ہوتی ہے۔ اور اسی تناظر میں آپ اپنے پاکستان کو دیکھئیے کہ فرقہ بازی نے اس کو کس حد تک کمزور کر دیا ہے اور دنیا میں ہمارا تمسخر اڑایا جاتا ہے۔
ایسی صورت حال میں اگر ہم دوسروں کے ذاتی معاملات کی کھوج اور ان کی ذات میں موجود اسلام کو اپنے خود ساختہ پیمانوں سے ماپنے سے گریز کریں تو یہ اس قوم اور ملک پر ہمارا احسان ہو گا۔
دوستو ، میری اس تحریر کو اپنی ذات پر مت لیں ۔ میں نے ہماری اجتماعی حالت اور مذہبی عدم برداشت پر لکھا ہے کسی پر ذاتی حملہ کرنا اس تحریر کا مقصود نہیں ہے ۔
October 25, 2007 بوقت 10:57 pm
بہت اچھے خیالات ہیں ماشاء اللہ. پہلے میں بھی بہت بحث کرتا تھا، پھر دیکھا کہ کوئی فائدہ نہیں ہوتا. لوگ اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتے. اس لیے میں نے چھوڑ دیا. ہاں، اب بحث کرنے کے بجائے صرف اتنا چاہتا ہوں کہ لوگوں کو ایک معتدل راستہ بتایا جائے….. ایک درمیانی راستہ کی تلاش کی جائے، لوگوں کو الجھنے سے بچایا جائے.
November 2, 2007 بوقت 6:54 am
عمار! بات تو خود کش حملوں کی تھی
اس کے جواب میں یہ کہنا کہ
میرے نزدیک عید میلادالنبی بدعت ہے
اس بات کا کوئی سیاق و سباق سے تعلق ہے؟؟؟؟؟؟
اس کے جواب میں تو یہ سوال بھی کیا جا سکتا ہے کہ جناب اگر یہ بدعت ہے تو کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ایسے اجتماعات جہاں بدعات ہو رہی ہوں وہاں خود کش حملہ کرنا درست ہے ؟؟؟؟؟؟؟
غور کا مقام ہے اور فککر کی جائے ہے
November 2, 2007 بوقت 10:34 pm
خوش آمدید شاکر القادری صاحب! آپ کا تبصرہ میرے لیے باعثِ فخر ہے۔
کچھ دن پہلے میرے ذہن میں یہ بات آئی تھی کہ میں نے یہ تحریر عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تو لکھی نہیں تھی اور نہ ہی میں نے اس پر اپنے مؤقف کا اظہار کیا تھا بلکہ میرا لکھنا صرف اتنا تھا کہ وہ جلسہ سنی تحریک کا نہیں بلکہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا۔ اس پر بدتمیز نے اپنے مؤقف کا اظہار کیا کہ ان کے نزدیک عید میلاد النبی بدعت ہے۔ مجھے امید نہیں تھی کہ بدتمیز دوبارہ اس تحریر پر تبصرے ملاحظہ کریں گے اس لیے میں نے کسی تفصیل میں جائے بغیر جوابآ اپنا مؤقف تحریر کرنے پر اکتفا کی۔
آپ کچھ ارشاد فرمانا چاہیں تو ہمیں ہمہ تن گوش پائیں گے۔