ارضان آپی کے نام!

249 views October 30, 2007 | راہبر
No Gravatar

یہ خصوصی تحریر میری آپی جان کے لیے ہے جنہوں نے لوگوں کے رویئے کے سبب یہ عزم کرلیا کہ وہ ورڈ پریس کی تھیمز کو اردو قالب میں ڈھال کر دکھائیں گی اور پھر انہوں نے ایسا کردکھایا صرف دو دن میں!
گریٹ آپی! یہ سب آپ کی ہمت، محنت اور جوش و جذبہ کی وجہ سے ہے۔ میری دعا ہے کہ زندگی کے ہر موڑ پر کامیابی آپ کے قدم چومے اور ڈھیرررررر ساری خوشیاں نصیب ہوں۔ ویسے میں آپ کے بلاگ کا پتہ نہیں دے رہا ہوں لیکن اگر آپ چاہیں کہ دوسرے لوگ بھی‌آپ کی محنت دیکھ سکیں تو تبصروں میں اپنے بلاگ کا پتہ لکھ جایئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :)
(اب جو غلطیاں باقی رہ گئی ہیں اس تھیم میں، وہ کل ٹھیک کرنی ہیں لازمی۔۔۔۔۔۔۔ سمجھ آئی نا)

قدیر کا شکریہ

232 views October 28, 2007 | راہبر
No Gravatar

مجھے لگتا ہے کہ بلاگ پر ایک ایسا سلسلہ بھی شروع کرنا پڑے گا جس میں اپنے مشہور و معروف ۔۔۔۔۔۔ قدیر احمد کا مختلف احسانات پر قسط وار شکریہ ادا کیا جاتا رہے۔۔۔۔۔ ;) میری فرمائش پر میرے بلاگ میں اردو اوپن پیڈ کی پلگ ان شامل کرنے پر بے حد شکریہ۔
اب تو واقعی وقت ہے کہ تمہیں گلاب جامن کا ٹوکرا بھیجا جائے۔۔۔ :)

لعنت اللہ علی الظالمین

261 views October 28, 2007 | راہبر
No Gravatar

میرے پیارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں تعلیم دی تھی کہ کلمہ گو پر تلوار نہ اٹھانا کہ وہ مسلمان ہے لیکن آج مسلمان ہونے کا دعوی کرنے والے یہ انتہا پسند لوگ یہ فرمانِ نبوی کیوں بھول گئے ہیں؟ ایک اسلامی ریاست کی اسلامی فوج کو قتل کرنے کا جواز انہیں اسلام میں کہاں سے ملتا ہے؟ ایک اسلامی مملکت میں خود کش حملوں کی اجازت انہیں قرآن کی کون سی آیت فراہم کرتی ہے؟
اے انتہا پسندو! تم لوگ اسلام اور مسلمانوں کے نام پر سیاہ دھبہ ہو۔ تم لوگ اسلام کی خدمت نہیں، اسلام سے دشمنی کررہے ہو، معصوم لوگوں پر ظلم کررہے ہو اور
لعنت اللہ علی الظالمین

قوم پرستی۔۔۔ مردہ باد

243 views October 28, 2007 | راہبر
No Gravatar

پاکستان پیپلز پارٹی کی چئیر پرسن بے نظیر بھٹو صاحبہ کو تقریبا آٹھ سال کی خود ساختہ جلا وطنی کے بعد پاکستان پہنچے ایک عشرہ گزر چکا ہے اور اتنے عرصہ میں ایک طرف لوگ بہت ہی خوش ہیں تو دوسری طرف کئی لوگ غم و غصہ کے گھیرے میں ہیں، ایک طرف کچھ لوگوں کے دل اجڑے ہیں تو دوسری طرف کئی لوگوں کے گھر۔
اٹھارہ اکتوبر کی صبح جہاں خوشیوں کے شادیانے بج رہے تھے، اسی رات صفِ ماتم بچھی تھی۔ لیکن ابھی مجھے نہ بی بی کی واپسی پر گفتگو کرنی ہے اور نہ اس واپسی کے محرکات پر۔ مجھے تو صرف بی بی کے بیانات پر تشویش کا اظہار اور احتجاج کرنا ہے۔ بیانات بھی وہ نہیں جو ڈاکٹر عبد القدیر خاں یا پاکستان کی سالمیت کے خلاف دیئے گئے، کیونکہ ایسے بیانات کے خلاف تو پاکستانیوں کی اکثریت انگشت بدنداں ہے۔ مجھے بحث ہے تو بی بی کے ان قوم پرستی والے بیانات اور اقدامات پر جن کے سبب پاکستان کی صرف سیاسی نہیں بلکہ عوامی فضا بھی قومیت کے نعروں سے گرد آلود ہورہی ہے۔
میں شاید اس موضوع کو اہمیت نہ دیتا اور نہ اس پر کچھ لکھتا لیکن حسن اتفاق کہئے یا سوئے اتفاق کہ کسی بلاگ پر دوست شاکر عزیز کا ایک تبصرہ نظر سے گزرا جس میں انہوں نے کچھ ایسا لکھا تھا کہ بی بی کے بیانات کی وجہ سے آج انہیں یہ یاد آیا کہ وہ پنجابی ہیں۔
شاکر بھائی اور میرے تمام پاکستانی بھائیو! خدارا ان ملک دشمن قومیت پرست لوگوں کے بیانات کے باعث ہرگز ہرگز ایسا نہ سوچئے۔ میں مانتا ہوں کہ کچھ بیانات مشتعل کرتے ہیں، ایسا سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ہمیں بھی متحدہ قومی مومنٹ کے احمق قائد کی احمقانہ حرکتوں کے سبب بہت بدنامی اٹھانی پڑتی ہے۔ لیکن دیکھئے، ملک دشمنوں نے ہمیں علاقائی اور لسانی عصبیت میں الجھا دیا ہے۔ ہم نے ان کو شکست دینی ہے۔ ہم نے ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرنی ہے۔ ہم نے بتانا ہے کہ ہم سندھی، پنجابی، بلوچی، پٹھان، مہاجر نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔ ہم پاکستانی ہیں۔۔۔ ہم مسلمان ہیں۔
قوم پرستی۔۔۔ مردہ باد!

دو حادثات

226 views October 24, 2007 | راہبر
No Gravatar

ماہ جون کے وسط کا تذکرہ ہے۔ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ ایک ولیمہ کی تقریب میں شریک تھا، بس ہمارے ساتھ صرف ابو ہی نہیں تھے کہ وہ تھکن کے باعث گھر پر رک گئے تھے۔ رات ساڑھے بارہ، ایک بجے کا وقت ہوگا جب ہم لوگ اس تقریب سے فارغ ہوکر نکلے۔ ہم نے سڑک پار کرکے دوسری طرف جانا تھا۔ سڑکوں پر برائے نام روشنی تھی۔ ہم نے جب ایک سڑک پار کی تو پتا چلا کہ فٹ پاتھ سارا کھودا ہوا ہے، لہذا اس جگہ سے آگے نہیں جاسکتے۔ ہم نے سوچا کہ واپس ہوجاتے ہیں اور آگے سے جہاں جگہ نظر آئی، سڑک پار کرلیں گے۔ یہ سوچ کر ہم واپس ہونے کے لیے مڑے۔ میں نے دور سے آنے والی گاڑیوں کی طرف نظر ڈالی۔ ایک ہائی۔روف تھی جو کہ کافی فاصلہ پر تھی اور اس کی رفتار بھی تیز نہ تھی۔ ہم آرام سے سڑک پار کرسکتے تھے۔ میں نے سب کو کہا کہ چلو۔ اور ہم جیسے ہی آگے بڑھے تو دیکھا کہ ہائی روف کے پیچھے سے ایک دوسری تیز رفتار ہائی روف اوور ٹیک کرتی ہوئی آگے بڑھی۔ میں آگے ہوچکا تھا پر امی اور تین بہنیں ذرا پیچھے تھیں۔ افففف! کیا منظر تھا وہ۔ میرا ذہن بھک سے اڑ گیا۔ بس مجھے اتنا یاد ہے کہ میں زور سے چینخ رہا تھا تھا کہ جلدی کرو، جلدی۔۔۔۔ پہلی ہائی۔روف تو رُک گئی لیکن اوور ٹیک کرنے والی ہائی۔روف نے بریک لگاتے لگاتے ایک بہن اور امی کو زوردار ٹکر ماری اور قسمت دیکھئے کہ اس بہن کو ٹکر لگی جو کہ بہت کمزور اور نازک ہے۔ ٹکر اس قدر شدید تھی کہ بہن تقریبا دس فٹ دور جاکر گری۔ گاڑی کنٹرول کرتے کرتے ہائی۔روف والے نے پہلی ہائی۔روف کو بھی ٹکر ماردی۔ اچانک ایسی افتاد آن پڑے تو حواس معطل ہوجاتے ہیں۔ کوئی بڑا بھی ساتھ میں نہیں تھا۔ میں بہن کی طرف لپکا۔ وہ بے سدھ پڑی تھی۔ اسامہ (مجھ سے ڈیڑھ سال چھوٹا بھائی) اس ہائی۔روف والے سے الجھ گیا جس نے ٹکر ماری تھی۔ خدا کا شکر کہ پہلی والی ہائی۔روف دراصل چھیپا والوں کی ایمبولینس تھی۔ اس کے ڈرائیور نے جلدی سے میرے ساتھ مل کر بہن کو اٹھایا اور گاڑی کے اسٹریچر پر لٹادیا۔
میں، اپنی دو سب سے چھوٹی (گیارہ سالہ) بہنوں اور امی کے ساتھ ایمبولینس میں بیٹھا۔ اسامہ اور دوسری بہن کو کہا کہ وہ ہائی۔روف والے کو ساتھ لے کر آئیں، ہماری ایمبولینس کے پیچھے پیچھے۔ اس ہائی۔روف میں دو، تین لڑکے تھے۔ چونکہ ایمبولینس کو بھی لگی تھی اس لیے ڈرائیور نے کہا کہ ان کو ساتھ ہی لے کر آؤ۔
ایمبولینس نے سفر شروع کیا۔ میری حالت عجیب تھی۔ ایک طرف بہن درد کے مارے کراہ رہی تھی۔۔۔ اس کے منہ سے صرف ایک ہی بات نکل رہی تھی کہ بس، میں مرجاؤں گی، مجھے بچالو، میں مرجاؤں گی۔ دوسری طرف امی کو دیکھا تھا ان کی ناک سے بے تحاشا خون بہہ رہا تھا۔ میں نے دل سے اللہ کو پکارا۔
ایمبولینس والے نے اپنے مرکز سے بذریعہ وائرلیس رابطہ کیا، ساری صورتحال اور اپنے موجودہ مقام سے آگاہ کیا تو اسے عباسی شہید ہسپتال جانے کی ہدایت ملی۔ میں اسامہ کے ساتھ رابطہ میں تھا، اس نے گھر پر ابو کو فون کرکے بتادیا تھا۔ پھر ابو نے مجھے فون کیا، صورتحال معلوم کی۔ میں نے مختصر مختصر گول مول بات کی۔ امی ایسی ہنگامی یا پریشان کن صورتحال کو سب سے چھپانے کی کوشش کرتی ہیں، اس لیے انہوں نے منع کردیا تھا کہ زیادہ تفصیل نہ بتاؤں۔ بس، ابو کو یہ کہہ دیا کہ عباسی ہستپال پہنچ جائیں اور میں نے ان کو یہ ہدایت بھی کی کہ موٹر سائیکل آرام سے چلائیے گا، اتنی کوئی جلدی نہیں ہے۔
ابھی راستہ ہی میں تھے کہ اسامہ کا فون آیا۔ پوچھنے لگا، کہاں ہو؟ میں نے کہا، راستہ میں۔ کہنے لگا، وہ ہائی۔روف والے تو ہمیں پتا نہیں کون سے ہسپتال کے سامنے اتار کر چلے گئے ہیں، اندھیرا ہے یہاں۔ افففف! ان کو کہا کہ ہسپتال کا نام دیکھو، اگر عباسی نہیں ہے تو کسی بھی طرح گاڑی پکڑو اور عباسی پہنچو۔ میں چاہتا تھا کہ ان کو گھر بھیج دوں لیکن سوچا کہ ابو نکل چکے ہوں گے اور شاید انہوں نے تالا لگاکر چابی اپنے ساتھ ہی رکھ لی ہو تو پھر یہ بھائی، بہن گھر جاکر کیا کریں گے؟
ایمبولینس والے کو بتایا کہ ہائی۔روف والے تو راستہ میں اتارکر بھاگ گئے تو اسے بھی بہت غصہ اور افسوس ہوا۔ ایمبولینس والا بے چارا حیدرآباد سے آرہا تھا۔ بہرحال! ہم عباسی شہید ہسپتال پہنچے۔ راستہ میں ایک دو رشتہ داروں کے بھی فون آگئے کیونکہ کچھ لوگوں نے شادی ہال سے نکلتے ہوئے یہ حادثہ دیکھ لیا تھا۔ (افسوس یہ ہوا کہ اس وقت فورا کوئی مدد کے لیے نہیں آیا)۔
اب ہسپتال پہنچ کر بہن کو اسٹریچر پر ڈالا۔ اندر پہنچا۔ ہائے اللہ! یہاں کرنا کیا ہے؟ کس کے پاس لے کر جاؤں؟ کیا کروں؟ مجھے تو کچھ پتا ہی نہیں تھا، پہلے کبھی ایسا نہ دیکھا، نہ سنا۔ پوچھ پوچھ کہ ایمرجنسی وارڈ میں لے پہنچا۔ ڈاکٹرز نے دیکھا، ایکسرے لکھ کر دیئے۔ پیروں اور کمر کا ایکسرے لکھا تھا شاید۔
پھر، پرچی بنوانا، اور وہ کیا ہوتا ہے؟ ایم۔ایل۔او یا ایسا ہی کچھ۔۔۔ کہ حادثہ وغیرہ ہوا ہے تو مقدمہ درج کروانے کا چکررر۔۔۔ ہم نے کہا کہ مقدمہ درج کرواکر کیا کرنا ہے؟ بھاڑ میں جائے۔ اتنے میں چاچا، چاچی اور پھوپھا، پھوپھی پہنچ گئے لیکن میں نے ان کو بٹھائے رکھا۔ خود ہی ساری بھاگ دوڑ کرتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد ابو بھی آگئے۔ اسامہ بھی بہن کے ساتھ پہنچ گیا۔
خیر۔۔۔ آگے کی کاروائی کیا بتانی۔۔۔ بس ایکسرے وغیرہ کلیئر ہوگئے۔ دوائیاں اور انجیکشن لگے۔ ہسپتال میں اگرچہ نرسنگ وغیرہ کے عملہ کی کمی محسوس ہوئی لیکن ڈاکٹرز کی جانب سے مثبت رویہ دیکھنے کو ملا۔ یوں، چار بجے ہم گھر پہنچے۔
بہن، آہستہ آہستہ صحتیاب ہوتی گئی الحمدللہ، امی کی ناک پر کوئی اندرونی چوٹ تھی۔ کئی دن تک خون اچانک بہنا شروع کردیتا، سوج بھی گئی تھی، پھر وہ بھی آہستہ آہستہ ٹھیک ہوگئی۔
کچھ باتیں حیرت انگیز تھیں۔ ایک یہ کہ جب ہم تقریب میں جانے کے لیے گھر سے نکلے تو میرے موبائل فون میں زیادہ رقم نہیں تھی، مجھے ضرورت بھی نہیں تھی لیکن میں نے سو روپے ڈلوالیے تھے اور یہ بہت کام آئے کہ مجھے حادثہ کے بعد کئی فون کرنے پڑے۔
دوسری بات یہ کہ حادثہ کے وقت ایمبولینس موجود تھی۔ اگر وہ نہ ہوتی تو کیا ہوتا؟؟
تیسری بات یہ کہ حادثہ کے وقت ابو کی نیند میں اچانک خلل واقع ہوا اور وہ اٹھ گئے تھے۔ اگر وہ سوتے رہتے تو ان کی نیند اتنی گہری ہے کہ فون کرنے پر مشکل ہی سے اٹھ پاتے۔
چوتھی بات یہ کہ گھر سے نکلنے سے پہلے میں نے چند سو روپے اپنی جیب میں رکھ لیے تھے، حالآنکہ عموما میں زیادہ رقم نہیں رکھتا۔
بہرحال! عیادت کرنے والوں کا تانتا بندھا رہا اور پھر ہم لوگ کچھ زیادہ ہی محتاط ہوگئے۔
اب، اس سوموار (22 اکتوبر) کا واقعہ۔
ہمیں اس رات بھی ایک ولیمہ کی تقریب میں شرکت کرنی تھی۔ میں نے شام کو دفتر سے نکلنے سے پہلے گھر فون کرکے پروگرام پوچھا تو امی نے کہا کہ تم دونوں لڑکے چلے جانا۔ میں نے کہا، آپ کیوں نہیں؟ تو کہنے لگیں کہ میں مریضہ ہوگئی ہوں۔ میں نے پوچھا، خیریت؟ تو پتا چلا کہ گاڑی والے نے ٹکر ماردی۔۔۔۔۔۔۔ اففففف!
گھر پہنچ کر تفصیل پوچھی۔ امی دوپہر میں چھوٹی بہن کو لینے اسکول جارہی تھیں۔ وہ صحیح سمت میں دیکھ رہی تھیں لیکن یہ تو پاکستان ہے نا، غلط سمت سے ایک ہائی۔روف والا اپنی گاڑی ریورس کررہا تھا اور اس نے گاڑی دے ماری۔ امی گریں اور ان کے سیدھے پاؤں پر گاڑی چڑھ گئی۔ (ویسے مجھے اب تک سمجھ نہیں آیا کہ یہ حادثہ کس طرح ہوا ہوگا)۔ پاؤں کا برا حال تھا۔ لیکن اب کی بار جن ہائی۔روف والوں سے پالا پڑا، وہ پہلے کی نسبت کچھ اچھے تھے۔ انہوں نے بہت معذرت کی، امی کو گاڑی میں ساتھ لے کر پہلے بہن کو اسکول سے لیا، پھر ڈاکٹر کے لے کر گئے۔ دوائی، پٹی وغیرہ کے اخراجات خود دیئے اور امی کے منع کرنے کے باوجود ڈاکٹر کو اضافی رقم بھی دی کہ شام کو ایک بار پھر ان کی مرہم پٹی کیجئے گا، پھر گاڑی میں گھر تک چھوڑا اور معافی مانگ کر رخصت ہوئے۔
سو، امی کے لیے چلنا پھرنا بھی دشوار۔ لیکن بہنوں کے شوق اور خواہش کے سبب امی چلنے کے لیے راضی ہوگئیں۔ واپسی میں ایک جگہ سڑک پار کرنی تھی تو میں بیان نہیں کرسکتا، میرے دل کی کیا حالت تھی۔ بس۔۔۔ مجھے ایسا خیال آتا تھا جیسے میں سب کو لے کر ایک اور حادثہ کی طرف قدم اٹھارہا ہوں لیکن خدا کا لاکھ لاکھ شکر کہ آرام سے سڑک پار کرلی۔۔۔۔
گھر آکر جب میں سونے لیٹا تو “راز داں” کو اپنے دل کی حالت بتاتے ہوئے میں بے اختیار رو پڑا اور بہت بہت رویا۔ تب جاکر مجھے کچھ سکون ملا۔
اے اللہ! سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھ۔ آمین

اٹھارہ اکتوبر

236 views October 20, 2007 | راہبر
No Gravatar

ایک، ڈیڑھ ماہ سے شور مچا تھا کہ سابق وزیر اعظم پاکستان اور پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بے نظیر بھٹو صاحبہ واپس آرہی ہیں۔ مجھے بے نظیر صاحبہ (بحیثیت سیاستدان :razz: ) کبھی پسند نہیں رہیں اور پاکستان آنے سے قبل ان کے چند بیانات نے مزید افسردہ کیا۔
اٹھارہ اکتوبر کو ان کی واپسی کی تاریخ مقرر ہوئی۔ ان کے استقبال اور حفاظتی اقدامات کے لیے جس قدر خطیر رقم خرچ کی گئی، وہ اب کوئی راز کی بات تو نہیں رہی۔ لیکن مجھے ان باتوں سے فی الحال کوئی مطلب نہیں، کوئی سروکار نہیں۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ ان کی واپسی پر استقبالیہ جلوس کے ساتھ جو افسوسناک حادثہ پیش آیا، اس کے ذمہ داروں کا جرم شاید بے نظیر صاحبہ کے تمام جرائم سے زیادہ بڑا ہے، تمام مظالم سے زیادہ گھناؤنا ہے۔
اس افسوسناک واقعہ کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا؟ کس نے یہ سب کیا؟ اس کے بارے میں کچھ کہنا اتنا ہی فضول ہے جتنا کہ صدر پرویز مشرف کی یہ بات کہ اس واقعہ کی رپورٹ چوبیس گھنٹوں میں انہیں پیش کی جائے اور اس کے ذمہ دار عناصر کو سخت ترین سزا دی جائے۔
آج، روزنامہ “ایکسپریس” میں عبد اللہ طارق سہیل صاحب نے اپنے کالم کے اختتام میں اڑتالیس گھنٹوں کے حوالہ سے بہت خوبصورت بات لکھی ہے۔ ان کا تجزیہ پڑھیں:

” صدر نے کراچی کے ہولناک سانحے کی رپورٹ چوبیس گھنٹے میں طلب کرلی ہے۔ خبر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ چوبیس گھنٹے کب شروع ہوں گے لیکن ظاہر ہے بتانے کی ضرورت نہیں۔ یہ چوبیس گھنٹے اس وقت شروع ہوں گے جب دو ڈھائی برس قبل کراچی میں سنی تحریک کے جلسہ عام کو بم سے اڑانے کی واردات کے بعد ملزموں کی گرفتاری کے لیے دی گئی ڈیڈلائن کے اڑتالیس گھنٹے ختم ہوں گے۔ ابھی یہ اڑتالیس گھنٹے جاری ہیں اور مزید لامتناہی برسوں تک جاری رہیں گے۔”

ویسے اس تجزیہ میں دو غلطیاں بھی ہیں۔ پہلی یہ کہ صدر نے اس بار بھی اڑتالیس گھنٹے ہی دیے ہیں، چوبیس نہیں۔ دوسری غلطی یہ کہ دو ڈھائی سال قبل جس واقعہ کا ذکر ہے وہ سنی تحریک کا جلسہ عام نہیں بلکہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جلسہ تھا۔ شاید طارق سہیل صاحب اپنی دلی عداوت کو یہاں پوشیدہ نہیں رکھ سکے۔
خیر، تمام مرنے والوں کے لواحقین سے دلی تعزیت۔
ارےےےےے کوئی ہے؟ ان خودکش حملوں کو روکنے والا۔۔۔ سوچتا ہوں کہ ایک تحریر خود کش حملوں کی مخالفت میں بھی لکھ ماروں۔ پتا نہیں کون بے وقوف، بے عقل، گدھے ہیں جو پاکستان میں خود کش حملے جائز سمجھتے ہیں۔

تین دن عید کے

227 views October 17, 2007 | راہبر
No Gravatar

عید آئی اور گزر گئی۔ سال کے چند ہی مواقع تو ایسے ہیں جن کا شدت سے انتظار کیا جاتا ہے اور پھر یہ آکر اتنی جلدی گزر جاتے ہیں کہ پتا ہی نہیں پڑتا۔
عید کے پہلے دن بوریت قسمت میں لکھی ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں۔ میں نے دوستی یاری پالی نہیں ہے۔ جو کچھ ہے وہ انٹرنیٹ تک محدود ہے، لیکن ہمارے ہاں ڈائل۔اپ نیٹ چلنے کے لیے نہیں، تپانے اور خون جلانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے اس کا سوچنا ہی فضول۔ کافی عرصہ سے ارادہ تھا کہ کیبل نیٹ لگوالوں گھر پر بھی لیکن جب جب کوشش کرتا ہوں، عین وقت پر یا تو امی سمجھا بجھا کر ٹھنڈا کردیتی ہیں یا گھر میں کوئی نیا خرچہ نکل آتا ہے۔۔۔ اور دل پر جبر کرکے اپنا ارادہ ملتوی کردیتا ہوں۔ :???: بے چارہ میں معصوم!
عید کے پہلے دن عصر کے بعد نانی کے گھر سارا ننھیال جمع ہوا۔ ہم بھی وہیں پہنچے۔ رات کو اگرچہ سب لوگ بشمول میرے گھر والے واپس چلے گئے لیکن میں اسامہ (اپنے بھائی) کے ساتھ وہیں رک گیا۔ حارث (میرا ماموں زاد بھائی) ٹی۔وی پر فلم دیکھنے لگا، اسامہ چھت والے کمرے میں جاکر فلم دیکھنے لگا اور میں موبائل فون پر مصروف ہوگیا۔ ٹیلی نار کے djuice نائٹ پیکج کا اپنا ہی لطف ہے۔ صبح فجر سے کچھ پہلے موبائل فون کی جان چھوڑی۔ تب تک حارث بھی چھت پر ہی چلا گیا تھا۔ میں بھی اوپر پہنچا۔ اس کے بعد اسامہ اور حارث سونے لیٹ گئے اور میں نیٹ پر بیٹھا۔ صبح آٹھ بجے کے بھی بعد سویا اور گیارہ بجے اٹھ گیا۔ ناشتہ وغیرہ کرکے نانا، نانی کے پاس جا بیٹھا تو حسبِ معمول نانی نے پرانی یادیں تازہ کیں اور میں بہت انہماک اور دلچسپی سے ماضی کے قصے سننے لگا۔ فوٹو البمز نکالے گئے۔۔۔ بہت لطف آیا۔۔۔ بس ایک شاید میں ہی ہوں جو ان باتوں میں دلچسپی لیتا ہوں ورنہ نانا، نانی کے ساتھ ماموں کے گھر والوں کا رویہ بہت افسوس ناک ہے۔ خیر اس موضوع پر پھر کبھی۔
ارادہ تھا کہ عید کے دوسرے دن گھر واپس چلے جائیں گے لیکن اسامہ نے حارث کے ساتھ کہیں گھومنے پھرنے کی بات چھیڑ دی۔ طے ہوا کہ شام میں کہیں نکلیں گے گھومنے۔ مغرب کے بعد نکلے۔ ایک موٹر سائیکل پر حارث کے ساتھ میں اور اسامہ بیٹھے۔ دوسری موٹر سائیکل پر حارث کے دو دوست تھے۔ کچھ طے نہیں تھا کہ جانا کہاں ہے۔ پہلے حارث اپنے دوستوں سے عید ملنے گیا۔ اس کے بعد بہادر آباد کا رخ کیا اور کے۔بی’ز پہنچے۔ اعلی طبقے کے لوگوں کی وہاں اکثریت تھی اور ماشاء اللہ خواتین کے لباس ایسے کہ کچھ لوگ بے شرمی سے گھورتے ہیں اور کچھ لوگ شرم کے مارے سر جھکا لیتے ہیں (اگرچہ ایسے لوگ اب اقلیت ہی میں ہیں۔ موجودہ فیشن اور ہماری خواتین کی عقل پر پڑے پردے کی بحث پھر کبھی سہی۔ بہرحال!) وہاں کھانا پینا کیا اور واپسی کو چلے۔ حارث کو راستہ معلوم نہ تھا، وہ صرف اپنے دوست کی موٹرسائیکل کا تعاقب کررہا تھا لیکن ایک پُل پر پہنچ کر دونوں موٹر سائیکلز کے درمیان فاصلہ ہوگیا، ہم لوگ ان پر نظر نہ رکھ سکے۔ وہ لوگ ایک موڑ کاٹ گئے اور ہم سیدھا نکل گئے۔ پُل سے اترنے کے بعد ہمیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو الٹے سیدھے موڑ کاٹتے ہوئے اپنی دانست میں صحیح سمت کو چلے لیکن کافی آگے چلنے کے بعد پتا چلا کہ ہم تو بالکل مخالف سمت میں بھاگ رہے ہیں۔ :oops: آاااہ! پھر واپس مڑے اور پونے دس بجے تک نانی کے گھر پہنچے۔ اب ظاہر ہے، گھر جانے کی ہمت کیا ہوتی۔ کسی نے جانے بھی نہیں دینا تھا۔ سو، رک گئے۔ حسبِ معمول رات کو حارث اور بھائی کمپیوٹر پر بیٹھے رہے اور میں موبائل پر مصروف۔ فجر کا وقت ہوا تو فون بند کیا اور نماز پڑھی، پھر سونے لیٹا۔ گیارہ بجے سے پہلے ہی آنکھ کھل گئی۔ یہ عید کا تیسرا دن تھا۔ اس دن ہمارا ددھیال دادی کے گھر جمع ہوتا ہے۔ شام کو نانی کے گھر سے نکلے اور دادی کے گھر چلے۔ وہاں سے رات بارہ بجے تک واپسی ہوئی۔ دو، تین دن کی تھکن کے باوجود ہم نے موبائل فون کی جان پھر نہیں چھوڑی۔ صبح فجر پڑھ کر تھوڑی نیند کی۔ دفتر بھی جانا تھا۔ پونے نو بجے کا الارم لگایا تھا موبائل میں۔ امی اور بہن نے ساڑھے آٹھ بجے سے اٹھانا شروع کیا اور پونے دس بجے اٹھا میں۔۔۔۔ پندرہ منٹ میں منہ ہاتھ دھویا، جسم پر پانی ڈالا، تیار ہوا، جیسا تیسا ناشتہ کیا اور ابو کے ساتھ بائیک پر دفتر پہنچا۔ یہ تھی تین دنوں کی مصروفیات۔ اب نیند اور تھکن سے بہت ہی برا حال ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر میں کچھ تذکرہ ہمارے لباس اور حلیے کا۔
اس عید پر میں نے صرف ایک ہی کرتا، پاجامہ لیا اور وہ بھی امی کے اصرار پر ورنہ میرا بچت کا پورا پورا ارادہ تھا۔ نیوی رنگ کی قمیض تھی جس کے کالر اور آستینوں پر ہلکا سا کام ہوا ہے، اور سیاہ رنگ کا پاجامہ۔ امی نے بار بار کہا تھا کہ اب کی بار تم ایک پاجامہ لے کر دیکھو، بہت اچھا لگتا ہے۔ لباس تو سبھی کو پسند آیا۔
چاند رات کو میں نے بالوں پر ویلا ہئیر اسٹریٹر کریم لگائی تھی، اس لیے عید کے دن میں نے شیمپو کیا۔ بال بھی کافی بڑھے ہوئے ہیں تو اب کی بار میرا روپ پہلے سے کافی ہٹ کر تھا۔ ددھیال میں تو کچھ کزنز نے بڑی تعریفیں کیں۔۔۔۔۔ اس لیے میں نے بھی مجبورا اسی طرح بال بنائے رکھے ورنہ بڑے بالوں میں مانگ نکالنے سے جو بال میرے چہرے یا کانوں پر آتے ہیں تو مجھے بہت الجھن ہوتی ہے اس لیے میں بال گیلے کر کے پیچھے کرلیتا ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارےےےےے! سب سے اہم بات! میں ہمیشہ کی طرح اپنی سالگرہ بھول گیا۔ ہر بار سوچتا ہوں کہ اسلامی تقویم کے اعتبار سے بھی اپنی سالگرہ مناؤں گا۔۔۔ لیکن عین وقت پر ذہن سے نکل جاتا ہے۔ عید الفطر کے پہلے دن، جمعۃ المبارک کو، شام چھ بج کر دس منٹ پر میری ولادت ہوئی تھی۔ چلیں سب جلدی جلدی مجھے مبارکباد کے پیغامات بھیجیں۔
اتنی طویل اور بور تحریر اگر آپ نے پوری پڑھی ہے تو آپ کا بہت بہت شکریہ اور معذرت کہ میں نے آپ کا اتنا وقت ضائع کیا۔ چلیں، اب جائیں! کوئی ڈھنگ کا کام کریں۔ :razz:

عید مبارک

242 views October 11, 2007 | راہبر
No Gravatar

میرے بلاگ کے تمام معزز قارئین کو

عید کی ڈھیروں خوشیاں مبارک

اللہ تعالیٰ اس مبارک دن کے سبب ہم پر رحم و کرم کی بارش کا نزول فرمائے۔ آمین
اس موقع پر سامی یوسف ہی کا ایک اور خوبصورت گیت پیش کرتا ہوں جو کہ عید کے حوالہ سے ہے۔ اگرچہ یہ سامی یوسف کی لائیو پرفارمنس ہے لیکن بہت خوب ہے:

Eid Song
————————-
Lyrics :: Bara Kherigi
melody :: Persian Folklore
additions :: Sami Yusuf
————————-

Let us rejoice indeed
For this is the day of Eid

CHORUS:
La ilaha illallah
Muhammad rasulallah
La ilaha illallah
Muhammad rasulallah
‘Alayhi salatullah
‘Alayhi salatullah

Children are wearing new clothes
Bright colours fill the streets
Their faces full of laughter
Their pockets full of sweets
Let us rejoice indeed
For this is the day of Eid

CHORUS

Mosques are full of worshippers
in rows straight and neat
Their Lord they remember, His name they repeat
Their hands are raised to the sky
They supplicate and plead
On this blessed day
Forgive us they entreat
Let us rejoice indeed
For this is the day of Eid

CHORUS

People are giving charity
And helping those in need
In giving they’re competing
Today there is no greed
Let us rejoice indeed
For this is the day of Eid

CHORUS

Enemies embracing each other
All hatred is buried
Everyone is celebrating
Greeting everyone they meet
Let us rejoice indeed
For this is the day of Eid

ممکن ہے کہ اس گیت کے بول کچھ آگے پیچھے ہوجائیں۔۔۔ لائیو پرفارمنس میں کچھ ہٹ کر گایا ہے اور یہ بول اس کے ریکارڈڈ گیت کے ہیں۔

باحجاب خواتین کے لیے

231 views October 8, 2007 | راہبر
No Gravatar

سامی یوسف مسلم دنیا کی ابھرتی ہوئی آواز ہے۔ اس نے اپنے گیتوں کو اسلام تک محدود رکھا ہے جو کہ موجودہ دور میں ایک قابلِ رشک کارنامہ ہے۔ سامی یوسف کے بارے میں تفصیل سے پھر کبھی لکھوں گا، فی الحال اس کا ایک گیت پیشِ خدمت ہے جو کہ باحجاب خواتین کے لیے گایا گیا ہے۔ سن کر لطف اندوز ہوں۔ بہت بہت بہت خوبصورت شاعری ہے اور گایا بھی بہت اچھا ہے۔

Free
————————-
Lyrics :: Sami Yusuf & Bara Kherigi
composition :: Sami Yusuf
————————-

What goes through your mind?
As you sit there looking at me
Well I can tell from your looks
That you think I’m so oppressed
But I don’t need for you to liberate me

My head is not bare
And you can’t see my covered hair
So you sit there and you stare
And you judge me with your glare
You’re sure I’m in despair
But are you not aware
Under this scarf that I wear
I have feelings, and I do care

CHORUS:
So don’t you see?
That I’m truly free
This piece of scarf on me
I wear so proudly
To preserve my dignity…
My modesty
My integrity
So don’t judge me
Open your eyes and see…

“Why can’t you just accept me?” she says
“Why can’t I just be me?” she says
Time and time again
You speak of democracy
Yet you rob me of my liberty
All I want is equality
Why can’t you just let me be free?

For you I sing this song
My sister, may you always be strong
From you I’ve learnt so much
How you suffer so much
Yet you forgive those who laugh at you
You walk with no fear
Through the insults you hear
Your wish so sincere
That they’d understand you
But before you walk away
This time you turn and say:

But don’t you see?
That I’m truly free
This piece of scarf on me
I wear so proudly
To preserve my dignity
My modesty
My integrity
So let me be
She says with a smile
I’m the one who’s free

بہت دل گرفتہ ہوں

208 views October 8, 2007 | راہبر
No Gravatar

بیک وقت کئی صدمے ایک ساتھ پہنچے ہیں، سمجھ نہیں آتا کہ کس کس کا رونا رویا جائے۔ صدارتی انتخابات کا قدرے متوقع لیکن انتہائی افسوس ناک نتیجہ، پھر (نام نہاد) قومی مصالحتی آرڈیننس۔۔۔ بہت دل گرفتہ ہوں۔ کل تو مجھے یہ خیال بھی آیا کہ اب سیاست، اخبار، انٹرنیٹ، ہر شے سے کچھ عرصہ کے لیے کنارہ کشی اختیار کرلوں اور اپنی ذات تک محدود ہوجاؤں لیکن پھر تھوڑی ہی دیر بعد اس خیال کو رد کردیا۔
ہاں، کچھ دن سے مجھے احساس ہونے لگا ہے کہ جو لوگ میرا یہ وطن چھوڑ کر غیر ممالک میں رہائش پسند کرتے ہیں، وہ کیوں کرتے ہیں؟ میں اداسی کے عالم میں اکثر ابو سے کہنے لگا ہوں کہ کوئی اور ملک چلتے ہیں، اب یہاں گزارا نہیں ہے۔
آپ لوگ دعا کریں کہ میرے دل کو قرار آجائے۔