No Gravatar

دو ساتھی بلاگرز کی طرف سے آج کل اپنے بلاگ کو زبیدہ طارق یا ڈالڈا کے دسترخوان کے مقابلہ پر لانے کی کوشش کی جارہی ہے :smile: (جس کا ثبوت نہاری ، خشک خوبانی کی چٹنی ، گول گپے وغیرہ وغیرہ ہیں)۔ ان کے اس گرانقدر کارنامے کو دیکھتے ہوئے میں نے سوچا کہ میں اس میدان میں کیونکر پیچھے رہوں؟ ساتھی بلاگرز نے تو صرف مختلف کھانوں کی تراکیب پیش کرنے پر اکتفا کیا ہے تاہم میں اس سے بھی زیادہ تفصیل فراہم کرکے اپنے نمبر بڑھانے کی کوشش کروں گا۔۔۔ :wink:
انڈہ!
بہت مشہور اور عام۔۔۔ کسی تعارف کا محتاج تو نہیں لیکن ہم اسے ضرور محتاج کردیں گے۔ انڈہ ایک ایسی چیز ہے جو کہ پارٹی بدلتا رہتا ہے۔۔۔ یعنی کہ اس کے ساتھ لگنے والے افعال اس کے معنی ہی بدل ڈالتے ہیں۔۔۔ عام طور سے انڈہ کھایا جاتا ہے لیکن انڈے مارنا یا انڈے پڑنا بھی بہت مشہور بات ہے جو کہ عموماً مقررین یا سیاسی راہنماؤں کے لیے کہی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک انڈہ وہ بھی ہوتا ہے جو کہ امتحانی کاپیوں پر ملتا ہے۔ کچھ لوگوں کو انڈے کھانے کا اس قدر شوق ہوتا ہے کہ وہ اپنی امتحانی کاپی میں کم سے کم لکھتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کاپی کا زیادہ تر حصہ خالی رکھیں تاکہ زیادہ سے زیادہ انڈے حاصل کرسکیں۔ تاہم انڈے پانے کے اس طریقے پر عمل کرنے کی جرات کم ہی لوگوں میں ہوتی ہے۔
جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، انڈے اور ٹماٹر پڑنا بھی بہت دلچسپ محاورہ ہے لیکن خدا جانے یہ کتنی صدیوں پہلے کی بات ہے۔ آج کل تو انڈے، ٹماٹر کے نرخ اس قدر بلند ہوگئے ہیں کہ لوگ کھانے کے لیے بڑی مشکل سے حاصل کرپاتے ہیں، بھلا ماریں گے کیسے؟ ممکن ہے کہ انڈے مہنگے کرنے میں بھی سیاستدانوں ہی کا ہاتھ ہو تاکہ انڈے پڑنے سے بچے رہیں۔
اب کچھ مختصر ذکر انڈہ کی خصوصیات کا۔
یہ بہت عجیب و غریب شے ہے۔ ہاتھ سے گر جائے تو ٹوٹ جاتا ہے۔ :razz: فریج میں رکھ دیں تو ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور توے پر ڈال دیں تو گرم۔ کچھ لوگ اسے کھاتے ہیں اور کچھ اسے پیتے ہیں۔۔۔ جبکہ کچھ لوگ صرف اسے حسرت بھری نگاہ سے دیکھ کر گزارا کرتے ہیں۔ اس کے چھلکے اتحاد و اتفاق کا درس دیتے ہیں۔ آپ چھلکا توڑیں تو وہ ٹوٹ کر بھی جڑا رہتا ہے۔ کچھ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دنیا گول نہیں، بلکہ انڈہ کی صورت ہے۔۔۔ اگر آپ ان سائنسدانوں کا حوالہ مانگیں جو یہ بات کہتے ہیں تو میں آپ کو پچاس سے زیادہ نام فراہم کرسکتا ہوں ہاں البتہ ان سائنسدانوں کی فہرست میں شروع سے لے کر آخر تک صرف میرا ہی نام لکھا ہوگا۔
چھلکا توڑیں تو اندر سے مائع (liquid) ہوتا ہے، اسے چولہے پر رکھ دیں تو تپ کر ٹھوس (solid) بن جاتا ہے اور پھر اسے تناول فرمالیں تو سمجھیں کہ آپ ایک نئے ذائقہ سے آگہی حاصل کرنے جارہے ہیں۔ (فرائی انڈہ سے منہ سوکھ جاتا ہے، اگر آپ خود کو تیس مار خان سمجھتے ہیں تو ماہِ رمضان میں سحری میں فرائی انڈہ کھاکر دیکھئے، روزہ کے اعلیٰ مدارج تک پہنچ جائیں گے ان شاء اللہ)۔ :smile:
کچھ لوگ انڈے کے ڈانڈے ڈنڈے سے ملاتے ہیں لیکن انڈے اور ڈنڈے میں مشابہت صرف اتنی ہی ہے کہ دونوں ہم قوافی ہیں ورنہ ان کا اختلاف تو بے حد وسیع ہے۔ ڈنڈا کا صرف ایک استعمال ہے، اور وہ ہے ڈنڈا پڑنا۔۔۔ اس کے مقابلہ میں انڈہ کے استعمال کا دائرہ کار بہت بڑا ہے۔
انڈہ تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔۔۔ چھلکا، سفیدی اور زردی۔ تینوں چیزوں کی اپنی اپنی خصوصیات ہیں۔ چھلکا اتار کر اگر صرف مائع کو دیکھیں تو سفیدی اور زردی ساتھ نظر آتی ہے لیکن اگر انڈہ بوائل کرلیں تو حیرت انگیز طور پر زردی صرف مرکز تک محدود ہوجاتی ہے اور اس کو سفیدی گھیر لیتی ہے۔
آخر میں کچھ باتیں انڈہ استعمال کرنے طریقوں پر:
پہلے تو آپ یہ فیصلہ کرلیں کہ آپ نے انڈہ کھانا ہے یا پینا ہے؟ کھانا ہے تو ایک آسان سا طریقہ ہے کہ گرم توے پر مناسب مقدار میں گھی ڈالیں یا یوں کہہ لیں کہ توے پر گھی ڈال کر گرم کرلیں (چولہے کی مدد سے) اور پھر چھلکا توڑ کر اس کا مائع مواد اس گھی میں انڈیل دیں۔۔۔ آپ کی آنکھوں کے سامنے وہ مائع چند لمحوں ہی میں ٹھوس بن جائے گا اور آپ دیکھتے رہ جائیں گے۔ آنکھیں کھلی رکھیں اور اسے پہلے کہ انڈہ براؤن ہونا شروع ہو، سمجھ لیں کہ تیار ہوچکا ہے۔ تھوڑا سا نمک اور پسی ہوئی کالی مرچ ڈال کر کھائیں، مزے اڑائیں (توے پر سے اتارنا مت بھول جایئے گا۔۔۔) یہ فرائی انڈہ کہلاتا ہے۔
انڈہ کھانے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کسی دیگچی میں پانی گرم کریں اور اس میں انڈہ چھلکے سمیت ڈال دیں۔۔۔ دس، پندرہ منٹ اسے اچھی طرح تپانے کے بعد اب احتیاط سے اسے گرم پانی سے نجات دیں، ٹھنڈے پانی میں ڈال کر اس کے چھلکے اتار لیں۔۔۔ (ٹھنڈا پانی میسر نہ ہو تو انڈے کے ٹھنڈے ہونے کا انتظار کریں)۔ اب اندر سے جو صورت برآمد ہوگی وہ بلاشبہ کافی ٹھوس ہوگی۔۔۔ اسے ہمارے ہاں بوائل انڈہ کہتے ہیں، آپ کوئی دوسرا نام بھی دے سکتے ہیں، آزادی ہے۔۔۔
کھانے کا تیسرا طریقہ بھی ہے جو کہ بڑا ظالمانہ ہے۔ وہ یہ کہ چھلکا اتار کر انڈہ کی زردی اور سفیدی ایک چھوٹے کٹورے میں ڈال کر چمچ یا چھری سے اچھی طرح پھینٹئے۔ پھینٹتے ہوئے حسبِ ذائقہ نمک کے ساتھ ساتھ لال مرچ یا ہری مرچ یا پیاز یا یہ تینوں چیزیں بھی ملائی جاسکتی ہیں۔ اچھی طرح پھینٹ کر توے پر ڈال دیں۔۔۔ اور ہلکا براؤن ہونے پر اتار لیں۔۔۔ اسے آملیٹ کہتے ہیں۔۔۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ دو حروف کا مجموعہ ہے “آم” اور “لیٹ” یعنی آم کو لیٹنے کا حکم یا پھر جیسے دشمن کو صدا لگاتے ہیں کہ آ! تجھے ملیا میٹ کردوں گا۔۔۔ لیکن ان معنوں کا حقیقت سے کوئی واسطہ دور دور تک نظر نہیں آتا۔
اب آخری بات خصوصی طور پر “نام نہاد” صنفِ مخالف کے لیے :wink:
دنیا انڈہ کی صرف دو چیزیں استعمال کرتی ہے، سفیدی اور زردی۔ میں ایک اچھوتی، انوکھی اور انقلابی چیز بتانے لگا ہوں جو کہ انڈہ کی تیسرے حصہ کے بارے میں ہے۔ آخر اس بیچارے چھلکے نے کیا جرم کیا ہے جو ہر کوئی اسے استعمال کئے بغیر پھینک دیتا ہے۔ اب چھلکے کا استعمال بھی کریں اور وہ اس طرح کہ سفیدی اور زردی نکالتے وقت چھلکے کو بالکل صاف نہ کریں اور پھر اس چھلکے کو کھول کر اپنے چہرے پر لگائیں۔۔۔ خوبصورتی میں اضافہ کے لیے۔۔۔ جہاں ہزار بے کار ترکیبیں استعمال ہوتی ہیں، دہی، بالائی، کھیرا، دھنیا، پودینہ، ہری مرچ اور پتا نہیں کیا کیا چہرے پر ملاجاتا ہے تو اگر اس بے چارے چھلکے کو بھی چہرے پر مل لیں تو کیا جائے گا؟ نتیجہ سے آگاہ کرنا مت بھولئے گا۔
چلیں۔۔۔ آج کا دسترخوان کچھ زیادہ ہی طویل ہوگیا ہے۔۔۔ میں نے آپ کا مزید وقت لیا تو آپ لوگ “ساس بھی کبھی بہو تھی” یا “کہانی گھر گھر کی” اور دوسرے اعلیٰ قسم کے ڈراموں سے کب لطف اندوز ہوں گے؟ اس لیے میں آپ سے اجازت چاہتا ہوں۔۔۔ چینل نہ بدلئے گا۔۔۔ آپ کا پسندیدہ ڈرامہ آنے والا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ (روزہ میں ڈرامہ دیکھنا چھوڑ دیں خدا کے لیے!) :cool:

اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔