انڈہ
دو ساتھی بلاگرز کی طرف سے آج کل اپنے بلاگ کو زبیدہ طارق یا ڈالڈا کے دسترخوان کے مقابلہ پر لانے کی کوشش کی جارہی ہے
(جس کا ثبوت نہاری ، خشک خوبانی کی چٹنی ، گول گپے وغیرہ وغیرہ ہیں)۔ ان کے اس گرانقدر کارنامے کو دیکھتے ہوئے میں نے سوچا کہ میں اس میدان میں کیونکر پیچھے رہوں؟ ساتھی بلاگرز نے تو صرف مختلف کھانوں کی تراکیب پیش کرنے پر اکتفا کیا ہے تاہم میں اس سے بھی زیادہ تفصیل فراہم کرکے اپنے نمبر بڑھانے کی کوشش کروں گا۔۔۔ :wink:
انڈہ!
بہت مشہور اور عام۔۔۔ کسی تعارف کا محتاج تو نہیں لیکن ہم اسے ضرور محتاج کردیں گے۔ انڈہ ایک ایسی چیز ہے جو کہ پارٹی بدلتا رہتا ہے۔۔۔ یعنی کہ اس کے ساتھ لگنے والے افعال اس کے معنی ہی بدل ڈالتے ہیں۔۔۔ عام طور سے انڈہ کھایا جاتا ہے لیکن انڈے مارنا یا انڈے پڑنا بھی بہت مشہور بات ہے جو کہ عموماً مقررین یا سیاسی راہنماؤں کے لیے کہی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک انڈہ وہ بھی ہوتا ہے جو کہ امتحانی کاپیوں پر ملتا ہے۔ کچھ لوگوں کو انڈے کھانے کا اس قدر شوق ہوتا ہے کہ وہ اپنی امتحانی کاپی میں کم سے کم لکھتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کاپی کا زیادہ تر حصہ خالی رکھیں تاکہ زیادہ سے زیادہ انڈے حاصل کرسکیں۔ تاہم انڈے پانے کے اس طریقے پر عمل کرنے کی جرات کم ہی لوگوں میں ہوتی ہے۔
جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا، انڈے اور ٹماٹر پڑنا بھی بہت دلچسپ محاورہ ہے لیکن خدا جانے یہ کتنی صدیوں پہلے کی بات ہے۔ آج کل تو انڈے، ٹماٹر کے نرخ اس قدر بلند ہوگئے ہیں کہ لوگ کھانے کے لیے بڑی مشکل سے حاصل کرپاتے ہیں، بھلا ماریں گے کیسے؟ ممکن ہے کہ انڈے مہنگے کرنے میں بھی سیاستدانوں ہی کا ہاتھ ہو تاکہ انڈے پڑنے سے بچے رہیں۔
اب کچھ مختصر ذکر انڈہ کی خصوصیات کا۔
یہ بہت عجیب و غریب شے ہے۔ ہاتھ سے گر جائے تو ٹوٹ جاتا ہے۔
فریج میں رکھ دیں تو ٹھنڈا ہوجاتا ہے اور توے پر ڈال دیں تو گرم۔ کچھ لوگ اسے کھاتے ہیں اور کچھ اسے پیتے ہیں۔۔۔ جبکہ کچھ لوگ صرف اسے حسرت بھری نگاہ سے دیکھ کر گزارا کرتے ہیں۔ اس کے چھلکے اتحاد و اتفاق کا درس دیتے ہیں۔ آپ چھلکا توڑیں تو وہ ٹوٹ کر بھی جڑا رہتا ہے۔ کچھ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دنیا گول نہیں، بلکہ انڈہ کی صورت ہے۔۔۔ اگر آپ ان سائنسدانوں کا حوالہ مانگیں جو یہ بات کہتے ہیں تو میں آپ کو پچاس سے زیادہ نام فراہم کرسکتا ہوں ہاں البتہ ان سائنسدانوں کی فہرست میں شروع سے لے کر آخر تک صرف میرا ہی نام لکھا ہوگا۔
چھلکا توڑیں تو اندر سے مائع (liquid) ہوتا ہے، اسے چولہے پر رکھ دیں تو تپ کر ٹھوس (solid) بن جاتا ہے اور پھر اسے تناول فرمالیں تو سمجھیں کہ آپ ایک نئے ذائقہ سے آگہی حاصل کرنے جارہے ہیں۔ (فرائی انڈہ سے منہ سوکھ جاتا ہے، اگر آپ خود کو تیس مار خان سمجھتے ہیں تو ماہِ رمضان میں سحری میں فرائی انڈہ کھاکر دیکھئے، روزہ کے اعلیٰ مدارج تک پہنچ جائیں گے ان شاء اللہ)۔ 
کچھ لوگ انڈے کے ڈانڈے ڈنڈے سے ملاتے ہیں لیکن انڈے اور ڈنڈے میں مشابہت صرف اتنی ہی ہے کہ دونوں ہم قوافی ہیں ورنہ ان کا اختلاف تو بے حد وسیع ہے۔ ڈنڈا کا صرف ایک استعمال ہے، اور وہ ہے ڈنڈا پڑنا۔۔۔ اس کے مقابلہ میں انڈہ کے استعمال کا دائرہ کار بہت بڑا ہے۔
انڈہ تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔۔۔ چھلکا، سفیدی اور زردی۔ تینوں چیزوں کی اپنی اپنی خصوصیات ہیں۔ چھلکا اتار کر اگر صرف مائع کو دیکھیں تو سفیدی اور زردی ساتھ نظر آتی ہے لیکن اگر انڈہ بوائل کرلیں تو حیرت انگیز طور پر زردی صرف مرکز تک محدود ہوجاتی ہے اور اس کو سفیدی گھیر لیتی ہے۔
آخر میں کچھ باتیں انڈہ استعمال کرنے طریقوں پر:
پہلے تو آپ یہ فیصلہ کرلیں کہ آپ نے انڈہ کھانا ہے یا پینا ہے؟ کھانا ہے تو ایک آسان سا طریقہ ہے کہ گرم توے پر مناسب مقدار میں گھی ڈالیں یا یوں کہہ لیں کہ توے پر گھی ڈال کر گرم کرلیں (چولہے کی مدد سے) اور پھر چھلکا توڑ کر اس کا مائع مواد اس گھی میں انڈیل دیں۔۔۔ آپ کی آنکھوں کے سامنے وہ مائع چند لمحوں ہی میں ٹھوس بن جائے گا اور آپ دیکھتے رہ جائیں گے۔ آنکھیں کھلی رکھیں اور اسے پہلے کہ انڈہ براؤن ہونا شروع ہو، سمجھ لیں کہ تیار ہوچکا ہے۔ تھوڑا سا نمک اور پسی ہوئی کالی مرچ ڈال کر کھائیں، مزے اڑائیں (توے پر سے اتارنا مت بھول جایئے گا۔۔۔) یہ فرائی انڈہ کہلاتا ہے۔
انڈہ کھانے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کسی دیگچی میں پانی گرم کریں اور اس میں انڈہ چھلکے سمیت ڈال دیں۔۔۔ دس، پندرہ منٹ اسے اچھی طرح تپانے کے بعد اب احتیاط سے اسے گرم پانی سے نجات دیں، ٹھنڈے پانی میں ڈال کر اس کے چھلکے اتار لیں۔۔۔ (ٹھنڈا پانی میسر نہ ہو تو انڈے کے ٹھنڈے ہونے کا انتظار کریں)۔ اب اندر سے جو صورت برآمد ہوگی وہ بلاشبہ کافی ٹھوس ہوگی۔۔۔ اسے ہمارے ہاں بوائل انڈہ کہتے ہیں، آپ کوئی دوسرا نام بھی دے سکتے ہیں، آزادی ہے۔۔۔
کھانے کا تیسرا طریقہ بھی ہے جو کہ بڑا ظالمانہ ہے۔ وہ یہ کہ چھلکا اتار کر انڈہ کی زردی اور سفیدی ایک چھوٹے کٹورے میں ڈال کر چمچ یا چھری سے اچھی طرح پھینٹئے۔ پھینٹتے ہوئے حسبِ ذائقہ نمک کے ساتھ ساتھ لال مرچ یا ہری مرچ یا پیاز یا یہ تینوں چیزیں بھی ملائی جاسکتی ہیں۔ اچھی طرح پھینٹ کر توے پر ڈال دیں۔۔۔ اور ہلکا براؤن ہونے پر اتار لیں۔۔۔ اسے آملیٹ کہتے ہیں۔۔۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ دو حروف کا مجموعہ ہے “آم” اور “لیٹ” یعنی آم کو لیٹنے کا حکم یا پھر جیسے دشمن کو صدا لگاتے ہیں کہ آ! تجھے ملیا میٹ کردوں گا۔۔۔ لیکن ان معنوں کا حقیقت سے کوئی واسطہ دور دور تک نظر نہیں آتا۔
اب آخری بات خصوصی طور پر “نام نہاد” صنفِ مخالف کے لیے :wink:
دنیا انڈہ کی صرف دو چیزیں استعمال کرتی ہے، سفیدی اور زردی۔ میں ایک اچھوتی، انوکھی اور انقلابی چیز بتانے لگا ہوں جو کہ انڈہ کی تیسرے حصہ کے بارے میں ہے۔ آخر اس بیچارے چھلکے نے کیا جرم کیا ہے جو ہر کوئی اسے استعمال کئے بغیر پھینک دیتا ہے۔ اب چھلکے کا استعمال بھی کریں اور وہ اس طرح کہ سفیدی اور زردی نکالتے وقت چھلکے کو بالکل صاف نہ کریں اور پھر اس چھلکے کو کھول کر اپنے چہرے پر لگائیں۔۔۔ خوبصورتی میں اضافہ کے لیے۔۔۔ جہاں ہزار بے کار ترکیبیں استعمال ہوتی ہیں، دہی، بالائی، کھیرا، دھنیا، پودینہ، ہری مرچ اور پتا نہیں کیا کیا چہرے پر ملاجاتا ہے تو اگر اس بے چارے چھلکے کو بھی چہرے پر مل لیں تو کیا جائے گا؟ نتیجہ سے آگاہ کرنا مت بھولئے گا۔
چلیں۔۔۔ آج کا دسترخوان کچھ زیادہ ہی طویل ہوگیا ہے۔۔۔ میں نے آپ کا مزید وقت لیا تو آپ لوگ “ساس بھی کبھی بہو تھی” یا “کہانی گھر گھر کی” اور دوسرے اعلیٰ قسم کے ڈراموں سے کب لطف اندوز ہوں گے؟ اس لیے میں آپ سے اجازت چاہتا ہوں۔۔۔ چینل نہ بدلئے گا۔۔۔ آپ کا پسندیدہ ڈرامہ آنے والا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ (روزہ میں ڈرامہ دیکھنا چھوڑ دیں خدا کے لیے!) :cool:
تبصرے
27 تبصرے برائے ”انڈہ“
اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں۔
وضاحت:
ممکن ہے کہ کسی بھی تحریر پر کیا جانے والا تبصرہ منظوری کے بعد شائع ہوتا ہو۔ اس لیے اپنا تبصرہ ایک بار بھیجنے کے بعد دوبارہ بھیجنے کی زحمت نہ کریں۔
اگر آپ کے ویب براؤزر میں جاوا اسکرپٹ فعال ہے تو آپ درج ذیل خانوں میں براہ راست اردو لکھ سکتے ہیں۔ اردو کو بحیثیت قومی زبان فروغ دیں۔
بامر مجبوری انگریزی لکھنے کے لیے Ctrl + Spacebar دبائیں۔
ماوراء! زیادہ پڑھ لیا تھا کیا جو سر میں...
(September 14, 2007 2:56 am )
یہ انڈہ تھا کہ ہزار داستان کی شہزادی جس کی کہانی ختم ہونے کا نام نہیں لیتی ۔
اقتباس(September 14, 2007 5:00 am )
واہ بھئی راہبر انڈہ انڈہ کردیا تم نے پوسٹ میں.
آخری ترکیب جو تم نے صنف نازک کے لیے لکھی ہے وہ تو کمال ہے واقعی یہ استعمال کرکے دیکھنی ضرور چاہیے انہیں کیا خبر کوئی پندرہ دن میں ہو جائے گوری گوری :wink:
اقتباس(September 14, 2007 5:21 am )
عمار ‘
اقتباسانڈے کو ٹھوس حالت میں کھانے کا ایک طریقہ اور بھی ہے۔
کہئیے تو لکھوں؟ :cool:
(September 14, 2007 6:23 am )
بہت خوب عمار!
اقتباس(September 14, 2007 6:53 am )
انڈہ پینے کی ترکیب بتانا آپ بھول گئے۔ سنا ہے پہلوان لوگ انڈہ گھی میں ڈال کر کچا پیا کرتے ہیں۔
اقتباسانڈہ صنف نازک کو استعمال کرنے کا مشورہ تو دیا مگر استعمال کا طریقہ نہیں بتایا۔ آپ کو معلوم ہے انڈے کے چھلکے نوک دار ہوتے ہیں کہیں صنف نازک بے احتیاطی میں منہ گورا کرنے کے چکر میں زخمی ہی نہ کر بیٹھے۔
آپ انڈے کے بارے میں سب سے اہم بات بتانا بھول گئے جو صحت کے لحاظ سے بہت ضروری تھی یعنی انڈہ استعمال کرنے سے پہلے یہ ضرور چیک کرلینا چاہیے کہ انڈہ کہیں گندہ تو نہیں۔ اگر انڈہ گندہ نکلے تو اس کے استعمال کے دوسرے طریقے ہیں۔ ویسے کچھ خاص قسم کی جنس کو گندے انڈوں سے تشبیہ بھی دی جاتی ہے۔
(September 14, 2007 8:16 pm )
اجمل صاحب! اس ہزار داستان نما تحریر کی طوالت ہی کو دیکھتے ہوئے میں نے اسے یہیں روک دیا تھا ورنہ لکھنے کو تو ابھی بھی کافی کچھ باقی تھا.
اگر چاہیں تو…..)
اقتباسمحب بھائی جان! صنفِ نازک والی ترکیب پسند کرنے کا شکریہ (ویسے یہ آپ بھی آزما سکتے ہیں
بڑے بھیا! بالکل لکھئے وہ طریقہ.. مجھے بخوبی اندازہ ہے کہ میں کئی پہلوؤں پر روشنی نہیں ڈال سکا ہوں…. :wink:
(September 14, 2007 8:22 pm )
جاناں گل! پسند کرنے کا شکریہ (میرا مطلب ہے تحریر پسند کرنے کا
)
اقتباسمیرا پاکستان! سچ کہا آپ نے. کافی باتیں اب بھی رہ گئی ہیں جو کہ میں نے یہ سوچ کر نہیں لکھیں کہ تحریر مزید طویل کردی تو شاید لوگ بور ہوجائیں… اب تو لگتا ہے کہ دوسری قسط بھی لکھ سکتا ہوں….
انڈہ پینے کے شاید تین طریقے ہیں. ایک تو جو آپ نے بتایا کہ پہلوان گھی میں ڈال کر پیا کرتے تھے… ایک طریقہ کچا انڈہ پینے کا ہے…. اور ایک یہ کہ دودھ میں انڈہ کی زردی ملا کر پی جائے…. سنا ہے یہ طاقت کے لیے بہت مفید ہے…..!
انڈہ کے چھلکوں سے زخمی ہونے کی احتیاط کا تذکرہ میں نے اس لیے نہیں کیا تھا کہ یہ صنفِ نازک پہلے ہی بہت محتاط ہے اپنے معاملہ میں…. ایسا کوئی نقصان نہیں ہونے دے گی…. :wink:
گندے انڈے کے استعمال کی بات آپ نے خوب کہی…. اقبال نے بھی کہا تھا:
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے…..!
(September 14, 2007 8:22 pm )
زبردست عمار۔ بہت اچھا لکھا ہے۔ یہ جملہ “اس کے علاوہ ایک انڈہ وہ بھی ہوتا ہے جو کہ امتحانی کاپیوں پر ملتا ہے۔“ پڑھ کر تو میری ہنسی ہی نکل گئی۔ اور جوں جوں میں پڑھتی جا رہی تھی، مجھے انڈا پینے کا طریقہ جاننے کا تجسس بڑھ رہا تھا۔ کہ انڈا پیا کیسے جاتا ہے۔ میں سوچ رہی تھی شاید کچا انڈا بھی لوگ پی جاتے ہوں گے۔
لیکن تم نے لکھا ہی نہیں۔
اور صنف نازک کے چہرے پر استعمال کرنے والی چیزوں کا تو آپ کو مجھ سے بھی زیادہ معلوم ہے۔ ویسے یہ بات سچ ہے پاکستان میں لڑکیوں اپنے ساتھ جانے کیا کیا ظلم کرتی رہتی ہیں۔ مجھے اکثر خود بڑی حیرت ہوتی ہے۔(قسم سے میں نے زندگی میں ایک بار بھی ایسا کام نہیں کیا۔ :lol: ) اور انڈوں کا چھلکوں والا نسخہ تو پہلے آپ خود آزمائیں نہ اس کے بعد کسی اور کو مشورہ دینا تھا نا۔
ویسے زبردست لکھا ہے۔ (Y)
اقتباس(September 14, 2007 8:28 pm )
راہبر۔ میرے تبصرہ کرتے ہوئے آپ نے بھی پوسٹ کیا۔
یہ کچا انڈا کیسے ، کیوں اور کون لوگ پیتے ہوں گے؟ اور ایسی کون سی طاقت کی ضرورت ہوتی ہے کہ لوگ کچا انڈا پی جاتے ہیں۔؟ :shock:
اقتباس(September 14, 2007 8:29 pm )
ماوراء! چھلکوں والا نسخہ میں نے خصوصی طور پر تمہارے ہی لیے لکھا تھا….
(مذاق)
اقتباسامتحانی کاپیوں پر ملنے والے انڈہ کا پڑھ کر ہنسی آنے والی بات سے تو مجھے لگتا ہے کہ آپ نے یہ جراتمندانہ قدم کئی بار اٹھایا ہے اور کئی انڈے حاصل کئے ہیں.
انڈہ پینے کا طریقہ میں نے اپنے تبصرہ میں لکھ دیا ہے…. اور سچ ہے کہ کچا انڈہ بھی پیا جاتا ہے…. لیکن بہت کم لوگ ہی پیتے ہیں.
(September 14, 2007 8:32 pm )
انڈہ کی زردی کو دودھ کے ساتھ تو میں نے بھی کئی بار پیا ہے…. بہت ذائقہ دار ہوتا ہے…..! کچا انڈہ پیتے ہوئے تو کسی کو نہیں دیکھا، سنا ہی ہے…. سنی سنائی باتوں پر بھروسہ نہ کریں…. :wink:
اقتباس(September 14, 2007 8:58 pm )
توبہ کرو عمار۔ چھلکوں کا طریقہ میرے لیے۔۔۔؟؟ مجھے تو آج تک کھیرے، ٹماٹروں کی ضرورت نہیں پڑی تو انڈے کے چھلکے دور کی بات ہے۔ تم ایسا کرو، خود آزما کے دیکھو اسے۔
اور مجھے کبھی انڈہ کاپی پر نہیں ملا تھا، اسی لیے ہنسی آئی تھی۔ بلکہ اس سے مجھے ایک بات یاد آ گئی تھی۔ چھوٹے ہوتے میری کلاس میں ایک لڑکی ہوا کرتی تھی۔ ٹیسٹ کے نمبر جب ملتے تھے تو وہ پوری کلاس کے بچوں کے نمبر پوچھتی تھی۔ اور جب اس سے کوئی پوچھتا تو وہ انگلی سے گول دائرہ بناتے ہوئے بولتی “انڈہ“ اور شکل اداس ہوتی تھی اس کی۔
کچے انڈے کی تو سمیل ہی عجیب ہوتی ہے۔ اور تم اس کی زردیاں دودھ میں ڈال کر پیتے ہو۔۔؟
کیا زیادہ کمزوری ہو گئی ہے؟
اقتباس(September 14, 2007 9:11 pm )
ہاہاہا…….. شکر کرو وہ لڑکی تم نہیں تھیں.
اقتباسانڈہ کی زردی، دودھ کے ساتھ پینے کا لطف ہی الگ ہے…. پئے بغیر کیا پتا چلے گا تمہیں؟ ہاں اس کی کیفیت گرم ہوتی ہے، اس لیے گرمیوں میں پینے سے اجتناب کرنا چاہئے…
اور چھلکوں والا طریقہ پر تم نے عمل نہیں کرنا تو نہ کرو… یہاں اور بہت پڑے ہیں… کوئی نہ کوئی تو یقین کرلے گا میرااا
(September 16, 2007 8:46 pm )
کچا انڈہ کھانے کی بات تصدیق کی خاطر میں نے گھر میں پوچھی تو پتا چلا کہ میرے دادا نے ایک بار کسی سے شرط لگالی تھی اور پھر پٹھان تو پٹھان ہوتا ہے نا، سو انہوں نے 12 کچے انڈے پیئے تھے….
اقتباس(شرط جیتنے کے بعد انگلی ڈال کر قے کردی تھی، :wink: انڈے کی کیفیت بہت گرم ہوتی ہے اس لیے طبیعت بگڑ سکتی تھی….)
(September 16, 2007 11:13 pm )
:lol:
ماوراء لگتا ہے ہماری کھانے پینے کی ترکیبوں نے کافی سارے لوگوں کو ڈسٹرب کردیا ہے۔۔۔میں نے کہا تھا نا کہ اصل مزا تبھی آئے گا۔۔جب بھوکے بلاگرز اپنے اپنے آفس میں بیٹھے ہمارا چٹ پٹا بلاگ پڑھا کریں گے۔۔ :wink:
ہممم عمار آپ کی پوسٹ انڈہ کے کیا کہنے۔۔۔۔بہت شاندار لکھا ہے۔۔اور لگتا ہے جلدی مرغی کی باری بھی یہاں آ جائے گی۔۔
ماوراء، عمار، جی کچے انڈے پیئے جاتے ہیں۔۔ماوراء جب گرم دودھ میں ڈالتے ہیں تو اس کی ساری سمل ختم ہوجاتی ہے۔۔گاؤں میں تو عورتیں بھی عام پیتی ہیں۔۔۔۔بہت سٹرونگ بنا دیتا ہے۔۔لیکن ہم لوگ یکککککک اس کی خوشبو سے ہی سو فٹ دور بھاگتے ہیں۔
اور ہاں ایک اور بات۔۔۔۔یہ جو آپ مزے مزے کی آئس کریم کھاتی ہیں۔۔۔پتہ ہے آئس کریم کچے انڈوں سے بنتی ہے۔۔۔انڈوں کو پوری طرح بیٹ کیا جاتا ہے اور صرف فریز کرنے سے ہی ساری ہیک ختم ہوجاتی ہے۔
اور ہاں عمار جب چھلکےمنہ پر لگا چکیں تو نتجیہ یہاں لکھنا مت بھولیے گا۔۔۔مجھے بھی انتظار رہے گا۔
اقتباس(September 17, 2007 12:09 am )
امن! چھلکوں والی ترکیب آپ لوگوں کے لیے ہے……..
مجھے بنانا جو نہیں ہوتا!
اقتباسدوسروں کا تو بتادیا، اپنا نہیں بتایا آپ نے کہ کبھی کچا انڈہ یا دودھ کے ساتھ پیا ہے؟؟؟ اور یہ کس نے کہا کہ چٹ پٹا بلاگ پڑھ کر ہم لوگ ڈسٹرب ہوجائیں گے…. ایسی ترکیبوں والی تحاریر تو میں بس ان کی ہیڈنگ پر نظر ڈال کر چھوڑ دیتا ہوں…….
(September 17, 2007 2:17 am )
کمنٹ تو میں نے پہلے بهی کرنے کی کوشش کی مگر پته نهیں که اردو ٹیک کے سسٹم میں کیا گڑبڑ تهی میں کھ کمنٹ نه لکھ سکا
آپ نے تو انڈے پر مضمون هی لکھ دیا اس پر کچھ تو نمبر ملنے چاهیے انڈا نہیں ـ
کچا انڈا پینے بات ہے تو وه تو میں نے بهی کئی دفعه پیا ہے یہاں جاپان میں جاپانی ناشتے میں ابلے چاول کچے انڈے کے ساتھ کهایا جاتا ہے ـ
ابلتے پانی کی آگ بند کرکے اس میں انڈا ڈال کر پورے ڈهائی میں رکهیں اور فوراًٹھنڈے پانی مین ڈال لیں اسطرح سفیدی بهی ادهی کچی ادهی پکی هوتی ہے ان کو چاولوں پر ڈال کر کهانے کا بهی بڑا مزا ہے
دوسری جنگ عظیم میں جاپانی فوج کا ایک بچ جانے والے سپاهی نے مجهے بتایا تها که فلپائین کے جنگلوں میں تیس کے گروپ کا ایک وهی زنده بچا تها کیونکه وه کسی طرح ایک گهر کے قریب پہنچ گیا تها اور ان کے مرغیوں کے ڈربے میں سے انڈے کچے هی پی گیا تها ـ
اقتباس(September 17, 2007 10:05 am )
ہیں اچھاااا میں سمجھی“ ترکیب ہے سب کےلیے“۔۔

اقتباستوبہ توبہ۔۔۔کچا انڈہ اور میں۔۔افففففففف میں تو انڈے کی ہیک سے سو فٹ دور بھاگتی ہوں۔۔ڈسٹرب تو خیر ہوتے ہی ہوں گے۔۔روزے میں نہاری،سموسوں، گول گپوں کی ہیڈنگ بھی کافی ہوتی ہے۔
نہیں بنانا آتا تو سیکھ لیں نا۔۔۔۔ویسے ایک بات ہے کہ بے شک ہر اچھے ریستورنٹ میں شیف ہمیشہ میل ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اگر ان کو کبھی گھر میں کوکنگ کرنی پڑجائے تو کچن کا ایسا کباڑہ کرتے ہیں کہ ہفتوں صاف نہیں ہوتا۔
آپ دیکھ لیجیئے گا اگر کبھی غلطی سے آپ بھی کچن میں گھسے تو ڈانٹ کھا کر ہی نکلیں گے۔
(September 17, 2007 2:54 pm )
واہ جی واہ!۔۔۔۔۔۔۔۔کیا خوب ہے!
اقتباسدور سے دیکھا تو انڈے اُبل رہے تھے
قریب جا کر دیکھا تو گنجے اُچھل رہے تھے!
(September 17, 2007 8:32 pm )
خاور کھوکھر! معلومات اپ.ڈیٹ کرنے کا بے حد شکریہ! آپ نے اچھی بات بتائی جاپانیوں کے بارے میں.
اقتباسامن! اب ہر کوئی مرد ایسا نہیں ہوتا کہ باورچی خانہ میں کباڑا کردے… بالکل اسی طرح جیسے ہر لڑکی سگھڑ نہیں ہوتی اسی طرح ہر مرد بھی تو سگھڑ نہیں ہوتا…..
ہاں یہ بات ضرور ہے کہ جتنے بھی کام لڑکوں کے کرنے والے ہیں (مثلا ڈرائیونگ وغیرہ)، اگر لڑکیاں یہ کریں تو اتنا کچھ خاص نہیں کرتیں لیکن اگر لڑکیوں کے کرنے والے کام (مثلا سلائی، کھانا پکانا وغیرہ) مرد کریں تو لڑکیوں سے کئی درجے اچھا کرتے ہیں…. :wink:
(تحفظِ حقوقِ مرداں کی مہم کا حصہ ہے یہ بھی :mrgreen: )
(September 18, 2007 12:02 pm )
عمار بہت اچھا لکھا
اقتباسبس ایک چیز چھوڑ گئے آپ کہ انڈے سے مرغا یا مرغی بننا۔
(September 18, 2007 7:33 pm )
دوستو ،
اقتباسانڈے پر ہونے والی یہ بحث کافی طویل ہوتی جا رہی ہے ۔ میں نے عمار سے کہا تھا کہ ٹھوس انڈہ کھانے کی ایک ترکیب میں بتاؤں گا اور پھر خاور کھوکھر صاحب نے جاپان میں انڈے کے حشر کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا تو مجھے بھی تحریک ہوئی کہ اس ترکیب کو یہاں لکھ ہی دوں کہ جو میرے پاس ہے۔ اس ترکیب کا تعلق بھی جاپان کے ہمسایہ فلپائن سے ہی ہے لیکن یہ دوسری جنگ عظیم کی بجائے آج کے جدید دور کا شاہکار ہے۔
تو جناب یہ بھی بتا دوں کہ مرغی کے انڈے پر اس ترکیب کے اطلاق سے جو چیز وجود میں آتی ہے اسے تغالو یا تغالوک ( فلپینی زبان) میں بالُوط کہا جاتا ہے۔ تو جناب بالوط کیسے بنایا جاتا ہے اس کو جاننے سے پہلے ٹشو پیپر کا ڈبہ اپنے پاس ضرور رکھ لیجئیے ممکن ہے کچھ دوستوں کو ترکیب پڑھنے کے دوران اس کی ضرورت پڑ جائے۔
دوستو ، مُرغی کا ایک عدد انڈا اس (بالُوط) کا بنیادی جُز ہے لیکن یہ کوئی عام انڈا نہیں ہوتا اس کی خاصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ ان انڈوں میں سے ایک ہوتا ہے کہ جن پر مرغی کو بیٹھے ہوئے دس سے سولہ دن گزر جائیں۔ یعنی اس میں چوزہ بننے کا عمل شروع ہو چکا ہوتا ہے۔ فلپین میں مارکیٹ سے بھی یہ انڈے دستیاب ہوتے ہیں اور یہ خریدنے والے کی مرضی پر منحصر ہے کہ بالُوط بنانے کے لئیے اسے کتنے دن کا سیا ہوا انڈہ چاہئیے۔
جی ، اب اگلے مرحلے میں اس انڈے کے ساتھ دیسی سلوک کیا جاتا ہے یعنی اس کو اُبالا جاتا ہے۔ پانچ سے سات منٹ تک ابالنے کے بعد اسے ابلتے پانی سے نکال کر تھوڑی دیر کے لئیے عام پانی میں رکھا جاتا ہے تا کہ چھلکا ٹھنڈا ہو جائے۔ اب اس کا چھلکا اتارا جاتا ہے اور اندر سے “بالُوط“ تیار حالت میں برآمد ہوتا ہے۔ اس پر حسب ذائقہ نمک یا مصالحہ وغیرہ چھڑکا جاتا ہے اور مزے سے تناول فرمایا جاتا ہے۔
اتنی “بدبودار“ ڈش ہوتی ہے کہ جب ہمارے ساتھ والے فلیٹ میں مقیم فلپینو فیملی اس کو اپنے گھر میں تیار کرتی ہے تو اس دن ہم اپنے فلیٹ سے باہر بھاگنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں ۔ اور گلی کے جس کُوڑا دان میں اس کے چھلکے پھینکے جاتے ہیں اس کے قریب سے گزرنے والے راہی اپنی سانس روکنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
اللہ خیر کرے ، کیوں کہ ہمارے انہی ہمسایوں نے ہمیں 11 رمضان کو اپنے گھر افطاری پر مدعو کر رکھا ہے۔ اگر وہاں بھی بالوط۔۔۔۔۔اللہ نہ کرے ۔ بصورت دیگر سارے آدابِ ہمسائیگی بالائے طاق رکھتے ہوئے ہم تو ایک دم اڑن چھُو ہو جائیں گے۔ :roll:
(September 19, 2007 8:21 pm )
ماشاء اللہ…..! اتنا کچھ لکھا گیا ہے اس پر کہ سوچتا ہوں کوئی مقالہ لکھ ڈالوں….
اقتباسبڑے بھیا! یہ بالوط کے بارے میں معلومات دینے کا شکریہ… اب آئندہ کبھی اس شے کا نام کہیں سنائی دیا تو کم سے کم اس پر ایک علمی لیکچر اپنی قابلیت کی دھاک تو بٹھا سکوں گا لوگوں پر :wink:
(September 20, 2007 3:14 am )
بہت خوب عمار…بہت خوب لکھا…. انڈے کی اتنی ڈھیر ساری خوبیاں اور استعمال میں ایک جگہ اکٹھا پہلی بار پڑھا ہے…
اقتباسسونے پر سہاگہ آپ کا بیان کردی “نسخہ” ہے..انڈوں کے چھلکوں کے علاوہ “ہری مرچ” کا افزائشِ حسن میں استعمال بھی ایک نئی ٹپ ہے….
(September 20, 2007 1:05 pm )
راہبر، دادا نے 12 کچے انڈے کھائے۔ وہ بھی ایک ساتھ۔ :shock:
امن، میں نے بھی امی سے پوچھا ہے، امی نے یہی طریقہ بتایا کہ پرانے زمانے کی بوڑھیاں کچے انڈے کو گرم دودھ میں ڈال کر پیتی تھیں۔
اور یہ آئس کریم کا بتا کر اچھا نہیں کیا۔ مجھے لگتا ہے کہ اب جب آئس کریم کھانے لگوں گی تو آگے سے کچا انڈا یاد آ جائے گا۔
اقتباس(September 20, 2007 8:32 pm )
شمشاد بھائی جان! اگر میں یہ ذکر کرتا کہ انڈہ سے مرغی بنی یا مرغا تو یہ انڈہ برادری مجھ سے شکایت کرسکتی تھی کہ میں کچھ زیادہ ہی پرسنل ہوگیا ہوں……
اقتباسورچوئل رئیلیٹی! واقعی انڈے کے بارے میں اتنا کچھ تو میں نے بھی پہلے نہیں پڑھا تھا جتنا اب ہوگیا ہے…..
ماوراء! آئس کریم والی بات پر بہت خوشی ہوئی… تھینکس امن! :wink:
(September 2, 2008 10:03 am )
[...] پچھلے سال میں نے رمضان میں ایک بہت دلچسپ تحریر لکھی تھی، اب بھی اس کی یاد تازہ ہے۔ آپ چاہیں تو دوبارہ پڑھ لیں: انڈہ [...]
اقتباس