یہ موت کی آہٹ ہے کہ دل میرے کی دھڑکن؟
گذشتہ دنوں محفل پر وارث بھائی سے بات چیت کے دوران میں نے ان سے عرض کیا کہ اپنا کوئی تازہ کلام ارشاد کیجئے۔۔۔ تو کہنے لگے کہ آمد بالکل بند ہے۔۔ یہی حال یہاں میرا بھی ہے۔ پھر انہوں نے بتایا کہ ایک مصرع ان کے ذہن میں کئی دنوں سے گردش کررہا تھا لیکن آگے کچھ لکھ نہ سکے تو منحوس سمجھ کر چھوڑ دیا۔ مصرع تھا کہ:
یہ موت کی آہٹ ہے کہ دل میرے کی دھڑکن
مصرع تو لاجواب تھا۔۔۔ آخر وارث بھائی کہنہ مشق شاعر جو ٹھہرے۔۔۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ اس مصرع پر زور آزمائی کی جائے۔۔۔۔۔۔ نتیجہ کچھ یوں بر آمد ہوا۔۔۔!
غزل
ہر لمحہ نیا مسئلہ، ہر پل نئی الجھن (مَسُ۔ ءَ۔ لَہُ)
کیا خوب ہے واللہ مِرا آپ سے بندھن
کس منہ سے گلہ کیجئے سرکار خزاں سے؟
اجڑے ہیں بہاروں ہی سے یہ باغ، یہ گلشن
آواز سی سنتا ہوں، ہر اِک سانس کے ہمراہ
یہ موت کی آہٹ ہے کہ دل میرے کی دھڑکن؟
اک چاند سے چہرے سے محبت کا نتیجہ
ڈوبا ہے اندھیرے میں یہ عمار کا آنگن
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
September 10, 2007 بوقت 6:46 am
ابھی آپ کو اصلاحکی بہت زیادھ ضرورت ہے اور امید ہے وارث بھائی آپ کی ضرور مدد کریںگے۔
September 10, 2007 بوقت 8:15 am
واہ۔۔آپ نے ثابت کر دیا کہ آپ میں چھا صحافی بننے کے ساتھ ساتھ اچھا شاعر بننے کے جراثیم بھی موجود ہیں۔۔
آواز سی سنتا ہوں اک سانس کے ہمراہ۔۔۔
بہت خوب
مشق جاری رکھئے
September 10, 2007 بوقت 12:05 pm
اسلام علیکم
رہبر بھائی
آپ کی شاعری میں دم ہے لیکن میری ناقص رائے میں اس مصرعہ کو اگر آپ کچھ یوں کرتے توبہتر تھا
یہ موت کی آہٹ ہے یا دل کی ہے ڈھڑکن؟
September 10, 2007 بوقت 12:22 pm
عمار آپ کو شوق ہے تو اعجاز اختر صاحب سے اصلاح کیوں نہیں لیتے؟
September 10, 2007 بوقت 10:26 pm
میرا پاکستان! اصلاح کی تو یقینا ضرورت ہے اور میں وارث بھائی کے تلامذہ میں شامل ہونے کا خواہشمند بھی ہوں.
ورچوئل رئیلیٹی! سراہنے کا شکریہ.
شعیب خالق صاحب! وعلیکم السلام. تبصرہ کے لیے ممنون ہوں. آپ نے جو مصرع تجویز کیا ہے، اس سے وزن بگڑ جائے گا.
شاکر بھائی! اعجاز اختر صاحب سے اصلاح لینے کا سلسلہ بھی جاری ہے. ابھی غالبا ایک یا دو غزلوں کی اصلاح لی ہے.