پیار کہانی (دوسری قسط)
ہماری زندگی میں کبھی ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو ہمیشہ کے لیے یادگار بن جاتے ہیں۔ یا تو وہ خوشگوار یاد کے طور پر ساتھ رہتے ہیں، یا پھر عمر بھر کا روگ۔ اکثر اوقات ہمارے کسی عمل کے نتائج غیر متوقع ثابت ہوتے ہیں۔ بس ایسا ہی ایک واقعہ اس کی زندگی میں ہونے جارہا تھا۔ اس نے بس کچھ بے تکلفی دکھائی، ہر طرف شور مچ گیا۔ دوست، یار چھیڑنے لگے۔ محبت کا احساس پختہ ہونے لگا۔ اس نے جو کچھ سوچا نہ تھا، اب وہ سب بھی ذہن میں آنے لگا۔۔۔ چھ اگست دو ہزار دو۔۔۔ ہاں چھ اگست ہی کو اس کی ایک حرکت۔۔۔ ایک بے اختیاری اور غیر ضروری عمل نے غیر متوقع نتائج دیئے۔۔۔ کچھ بدلنے کا وقت آگیا تھا۔۔۔ زندگی میں انقلاب رونما ہونے کا وقت تھا۔ ایسے میں کسی کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے نپولین بونا پارٹ کے آخری الفاظ اس کی نظروں سے گزرے تو کسی انجانے احساس و خیال کے ساتھ اپنے پاس لکھ لیا۔۔۔ وہ الفاظ کیا تھے۔۔۔؟ لکھا تھا:
’’میں نے محبت کو بڑا تلاش کیا مگر وہ نہ ملی۔ جس سے بھی محبت کی، اس نے بے وفائی کا ثبوت دیا۔ شاید محبت کا جواب ہی دغا ہوتا ہے۔‘‘
کہتے ہیں کہ
عشق جب دونوں طرف ہو تو مزہ دیتا ہے
عشق جب ایک طرف ہو تو سزا دیتا ہے
احساسِ محبت کیا ہوا۔۔۔ دل اظہارِ محبت کو مچلنے لگا۔۔۔ تئیس اگست۔۔۔ شاعرانہ رنگ نے کچھ یوں لکھنے پر مجبور کیا:
تِرا جلوہ نظر آیا ہے جب سے
تِرے جلوے میں گم رہنے لگا ہوں
مِرے مولا! عطا ہو مجھ کو ہمت
میں اس سے حالِ دل کہنے لگا ہوں
اور اس دن حالِ دل کہنے کی کوشش بھی کی۔۔۔ لیکن وہ ناکام رہا۔ اس نے ہزار الفاظ سوچے، جملوں کا انتخاب کیا۔۔۔ پر جب وہ پری چہرہ سامنے آیا تو زبان لڑکھڑانے لگی۔ بمشکل جو کچھ منہ سے نکلا، وہ بے سر و پا تھا جس کا احساس اسے جلد ہی ہوگیا اور اس نے بات ختم کردی۔
وہ کیسا امتحان تھا۔۔۔؟ ہر لمحہ تلوار کی دھار کی مانند۔۔۔ ہر پل یہ خوف کہ
اے دلِ بے قرار! کیا ہوگا؟
جارہی ہے بہار، کیا ہوگا؟
گر انہوں نے یہ کہہ دیا ہم سے
کہ ’’نہیں تم سے پیار‘‘ کیا ہوگا؟
لوٹ کر وہ اگر نہ آئے تو
جن کا ہے انتظار، کیا ہوگا؟
تم نے ڈالا اگر گلے میں مِرے
بے وفائی کا ہار، کیا ہوگا؟
سوچ تو اپنے عشق کا عمار!
آخر انجام کار کیا ہوگا؟
(پیار کہانی جاری ہے۔۔۔۔)۔
اپنا قیمتی وقت دینے کا شکریہ۔
September 5, 2007 بوقت 11:26 pm
اب کی بار بہتر ہے کہ میں خود ہی وضاحت کردوں کہ یہ “پیار کہانی” کیا ہے؟ دراصل نویں، دسویں جماعت کے دوران میں نے بہت شاعری کی. ہر غزل کا ایک موضوع، ایک کہانی ہوتی ہے. میں نے غزلوں کے آپس میں ربط کو جوڑ کر یہ کہانی لکھنے کا سلسلہ شروع کیا ہے… ایک اچھوتی، انوکھی اور شاید بے کار سی کاوش. اگر کوئی غزل کہانی کے تسلسل سے مطابقت نہیں رکھتی تو اسے چھوڑ دیتا ہوں. (اسے شاعری پیش کرنے کا منفرد انداز کہہ سکتے ہیں.)
September 6, 2007 بوقت 2:10 am
شکر ہے وضاحت ہو گئی ورنہ میں ایک پند و نصائح پر مبنی پوسٹ کرنے ہی والا تھا.
September 6, 2007 بوقت 4:19 am
انہی پند و نصائح سے راہِ فرار اختیا رکرنے کے لیے میں نے وضاحت کی تھی.
September 6, 2007 بوقت 7:31 pm
عمار، میں ایک حد تک محبت کے بھی خلاف ہوں۔ پلیز اپنی کہانی جلدی مکمل کرو۔ تاکہ میں اپنی بھڑاس بھی نکال سکوں۔:p اور کتنی قسطیں باقی ہیں؟
September 6, 2007 بوقت 10:37 pm
اچھا! اس تحریر پر بھی دل کی بھڑاس نکالنی ہے؟؟؟
“محبت کی حمایت یا محبت کی مخالفت؟” کبھی اس موضوع پر لکھوں گا پھر اچھی طرح بھڑاس نکالنے کا موقع ملے گا.